نور اللہ جاوید
گزشتہ مہینے جون میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے مسلسل تیسری بار اقتدار سنبھالنے کے تاریخی ریکارڈ کی برابری کا جشن منایا۔ اس موقع کو موجودہ حکومت نے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور ملک کے گودی میڈیا اور نیوز چینلز میں بھی اس پر گھنٹوں بحث و مباحثے ہوتے رہے۔ تاہم اس جشنِ اقتدار کے متوازی چلنے والے واقعات جیسے میڈیکل امتحانات کے پیپر لیک، رام مندر ٹرسٹ میں مالی بدعنوانی کے الزامات، پٹرولیم مصنوعات میں ایتھینول کی ملاوٹ کا اسکینڈل، اور گزشتہ سال پاکستان کے خلاف بھارتی افواج کی کارروائی ’’آپریشن سیندور‘‘کے دوران فوجی جوانوں کی شہادت سے پہلے انکار اور اب اس کے اعتراف نے مودی حکومت پر بدعنوانی اور بداعتمادی کا ایسا سایہ ڈالا ہے جس کی وجہ سے مودی کا ذاتی اقبال تاش کے پتوں کی طرح بکھرتا نظر آ رہا ہے۔
معاشی بحران اب ملک کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ داخلی سلامتی کے سنگین مسائل اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی اس اعتماد شکنی کو گرچہ فرقہ واریت پر مبنی نعرے بازی، یا پھر مرکزی ایجنسیوں کا خوف دلا کر اپوزیشن پارٹیوں کی خرید و فروخت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خود کو ‘پاور فل دکھایا جا سکے؛ مگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی طاقت اخلاقی بحران اور عوامی بے اعتمادی کا شکار ہوتی ہے، تو وہ اپنی بقا کے لیے مزید غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدامات کا سہارا لیتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں حکومت خود احتسابی کے ذریعے اپنی خامیوں اور غلطیوں کا تدارک کر سکتی تھی، مگر طاقت کا غرور انہیں ایسا کرنے سے روکے رکھتا ہے، اور ملک آہستہ آہستہ ایک گہرے داخلی بحران کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
مودی حکومت جن دو بنیادی نعروں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی—ایک بدعنوانی سے پاک نظام اور دوسرا ہندوتوا پر مبنی قوم پرستی—آج وہ دونوں ہی شدید سوالات کی زد میں ہیں۔ بدعنوانی اب اس نظام کا حصہ بن چکی ہے، جہاں جواب دہی اور احتساب کا ترازو صرف اپوزیشن کو تولنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اخلاقی زوال کا یہ سلسلہ صرف دہلی کے ایوانوں تک محدود نہیں، بلکہ بی جے پی کی زیرِ اقتدار ریاستوں میں بھی اس کا عکس صاف دیکھا جا سکتا ہے۔اس کی تازہ ترین اور بدترین مثال مدھیہ پردیش کا شہر اجین ہے، جہاں 2028ء میں تاریخی ‘کنبھ میلہ منعقد ہونے والا ہے۔ ایک طرف جہاں اس مہا پروجیکٹ کے نام پر اربوں روپے کی اوقافی (وقف) املاک اور سرکاری زمینوں پر مبینہ قبضے اور خرد برد کی کہانیاں منظرِ عام پر آ چکی ہیں—جس پر بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹ ‘الجزیرہ کی انگریزی ویب سائٹ نے 25 مارچ 2025ء کو کاشف علوی کی ایک تفصیلی انویسٹی گیٹو رپورٹ کے عنوان سے شائع کی تھی تو دوسری طرف خود یہاں کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور ان کے اہلِ خانہ پر یہ سنگین الزامات عائد ہو رہے ہیں کہ وہ اس مجوزہ وی آئی پی زون اور اس کے اطراف میں جائیداد پر جائیداد خرید رہے ہیں۔ انگریزی اخبار ‘دی انڈین ایکسپریس نے اس سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے اور آج تک حکومت کی جانب سے ان حقائق کو چیلنج نہیں کیا جا سکا ہے۔اسی طرح اجودھیا، جو بھارت کے ایک ارب سے زائد ہندوؤں کا مرکزِ عقیدت ہے اور جس کے گرد بی جے پی کی پوری سیاست گھومتی رہی ہے، وہاں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ بابری مسجد کے انہدام سے لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے اور پھر رام مندر کی تعمیر تک، بدعنوانی اور زمینوں کے گھوٹالوں کی کئی کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ اب مندر کے عقیدت مندوں کی جانب سے چڑھائے جانے والے چندے کی رقم میں چوری کا جو نیا معاملہ سامنے آیا ہے، اس نے بی جے پی کی ہندوتوا سیاست کے اخلاقی دعووں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ عبادت خانوں میں مالی بے ضابطگی اور بدعنوانی کا یہ پہلا واقعہ ہے بلکہ اس سے قبل بھی ہوئے مگر رام مندر کا تعلق ہندتو کے نظریات سے ہے ۔اس لئے یہ معاملہ انتہائی سنگین ہوجاتاہے۔چناںچہ رام مندر ٹرسٹ کے تنازعات ہوں یا اجین میں کنبھ میلے کی زمینوں کے سودےیہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دائیں بازو کی نظریاتی سیاست کا چہرہ اب اندر سے کتنا کاروباری اور مصلحت پسند ہو چکا ہے۔
مودی حکومت کے دور میں ہندوتوا کا اخلاقی بحران
اجودھیا میں رام مندر کے اطراف زمینوں کی خرید و فروخت سے متعلق تنازعات، رام مندر ٹرسٹ میں چندے کی رقم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات، کاشی (بنارس) میں مذہبی و شہری ترقیاتی منصوبوں کے دوران مقامی آبادی کی بے دخلی اور استحصال پر اٹھنے والے سوالات، اور اجین میں مہاکال کاریڈور و آئندہ کنبھ میلے کی تیاریوں کے دوران وزیر اعلیٰ موہن یادو کے اہلِ خانہ پر زمینوں کی خریداری سے متعلق مبینہ مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات—یہ سب محض بدعنوانی کے چند الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ ایک ایسے اخلاقی بحران کی علامت ہیں جس نے ہندوتوا کے سیاسی بیانیے کو کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔یہ بحران اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے جب ان معاملات میں شفاف اور غیر جانبدار احتساب کے بجائے خاموشی، تاخیر یا سیاسی مصلحت کا تاثر پیدا ہو۔ جس نظریے نے خود کو بدعنوانی کے خاتمے، جواب دہی اور اخلاقی سیاست کے علمبردار کے طور پر پیش کیا تھا، اس کے لیے اصل امتحان مخالفین کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ اپنے دائرۂ اقتدار میں اٹھنے والے سوالات کو اسی معیار پر پرکھنا ہے جس معیار کا مطالبہ وہ دوسروں سے کرتا رہا ہے۔
ہندوتوا کی سیاست میں ’’رام راجیہ‘‘ کو ہمیشہ انصاف، دیانت، شفاف حکمرانی اور عوامی خدمت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسی لیے بارہ برس کی حکمرانی کے بعد بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ حکومت نے کتنے منصوبے مکمل کیے یا کتنے انتخابات جیتے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا موجودہ طرزِ حکمرانی ان اخلاقی اصولوں پر پورا اتر رہی ہے جنہیں ’’رام راجیہ‘‘کے تصور کے ساتھ جوڑا گیا تھا؟ اگر مذہبی عقیدت کے مراکز بھی مالی بے ضابطگیوں، زمینی تنازعات اور سیاسی و معاشی مفادات کی کشمکش سے محفوظ نہ رہ سکیں تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اس اخلاقی سرمائے پر بھی سوال ہے جس کی بنیاد پر ہندوتوا نے خود کو ایک متبادل سیاسی نظریے کے طور پر پیش کیا تھا۔مودی حکومت کے بارہ برس کے دورِ اقتدار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہندوتوا کو انتخابی اور سیاسی اعتبار سے غیر معمولی طاقت فراہم کی، لیکن اسی کے ساتھ اس نظریے کے اخلاقی دعوے بھی پہلے سے کہیں زیادہ سخت عوامی جانچ کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ اجودھیا، کاشی یا اجین سے متعلق موجودہ تنازعات وقتی طور پر سیاسی مباحث سے اوجھل ہو جائیں، مگر ایسے معاملات اکثر کسی بھی نظریے کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس کی اخلاقی ساکھ پر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔حکومت اور اس کے حامی حلقے مسلسل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر بھارت کی حیثیت مضبوط ہوئی ہے، اس کی سفارتی طاقت میں اضافہ ہوا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت نے بھارت کو ایک بااثر عالمی طاقت کے طور پر قائم کیا ہے۔ تاہم اسی عرصے میں متعدد بین الاقوامی اداروں اور نگرانی کرنے والی تنظیموں کی رپورٹوں میں مذہبی آزادی، اظہارِ رائے، تعلیمی آزادی، میڈیا کی آزادی اور جمہوری اداروں کی خودمختاری کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ یہی تضاد اس وقت بھارت کی عالمی شبیہ کے بارے میں جاری بحث کا بنیادی نکتہ بن چکا ہے۔ کسی بھی جماعت یا نظریے کا بحران صرف انتخابی شکست سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس وقت جنم لیتا ہے جب اس کے اخلاقی دعوے عوام کی نظر میں کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ یہی اصول ہر سیاسی نظریے پر لاگو ہوتا ہے۔ کسی بھی نظریے کی اصل طاقت اس کی انتخابی کامیابیوں سے زیادہ اس کی اخلاقی ساکھ میں ہوتی ہے۔ اگر اقتدار اس ساکھ کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرنے لگے، تو بحران صرف حکومت کا نہیں رہتا بلکہ اس نظریے کا بھی بن جاتا ہے جس کے نام پر اقتدار حاصل کیا گیا تھا۔
پیپر لیکس سے تعلیمی نظام پر اعتماد کا بحران
قومی دارالحکومت دہلی میں ’’ککروچ جنتا پارٹی‘‘ جیسے طنزیہ بینرز تلے پیپر لیک کے خلاف بھوک ہڑتال گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ اگرچہ اس احتجاج کو وہ میڈیا کوریج حاصل نہیں ہے جو کبھی انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک یا اروند کیجریوال کی عوامی مہم کو ملی تھی، اور بظاہر اس کا دائرہ بھی محدود نظر آتا ہے، مگر اس میں شریک نوجوان ملک کے اسی تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جسے ایک دہائی قبل نریندر مودی کی سب سے بڑی سیاسی طاقت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپر لیک کے خلاف اٹھنے والی آواز محض چند طلبہ کا احتجاج نہیں، بلکہ اس نسل کی مایوسی کا اظہار ہے جس نے میرٹ، شفافیت اور بہتر مستقبل کے وعدوں پر اندھا اعتماد کیا تھا۔اس احتجاج کو صرف پیپر لیک کے خلاف ردِعمل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل، یہ پورے تعلیمی نظام پر بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کی علامت ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف مسابقتی امتحانات کے بار بار پیپر لیک ہونے اور امتحانی بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ایک ملک، ایک امتحان کا نعرہ تو لگایا گیا، لیکن نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی جیسے اداروں کو کرپشن پروف نہیں بنایا جا سکا۔ جب تعلیمی نظام کے محافظ ہی مشکوک ہو جائیں، تو کروڑوں طلباء کی برسوں کی محنت اور ان کے والدین کی جمع پونجی ضائع ہو جاتی ہے۔ یہ صرف پیپر لیک نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل کا لیک ہونا ہے۔ دو برس قبل ہی ‘نیٹ امتحان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے، مگر اس کے باوجود 2026ء میں دوبارہ پیپر لیک کے واقعات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ حکومت نہ تو نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی خوہاں ہے۔ جب لاکھوں نوجوان برسوں کی محنت، کوچنگ پر بھاری اخراجات اور مسلسل جدوجہد کے باوجود اپنے مستقبل کو غیر یقینی دیکھتے ہیں، تو ان میں مایوسی کا پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
دہلی میں جاری احتجاج کا فوری مطالبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور پیپر لیک کی شفاف تحقیقات سے متعلق ہے، لیکن اس کے پسِ منظر میں تعلیمی پالیسیوں سے متعلق ایک وسیع تر بے چینی بھی موجود ہے۔ طلبہ کا یہ نعرہ کہ ’’ہمیں ہندو اور مسلمان کا بیانیہ نہیں چاہیے، ہمیں تو تعلیم چاہیے‘‘ موجودہ حالات کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ تعلیمی نظام پر نظر رکھنے والے ماہرین مانتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے تعلیمی اداروں کی خودمختاری، نصاب اور جامعات کی قیادت میں نظریاتی مداخلت کو بے تحاشا بڑھایا ہے۔ جبکہ بنیادی مسائئ مثلاً امتحانی نظام کی شفافیت، اساتذہ کی کمی، تحقیقی ماحول اور سرکاری تعلیمی اداروں کی مضبوطی—پسِ پشت چلے گئے ہیں۔ حکومت ان اقدامات کو تعلیمی اصلاحات اور ہندوستانی علم و تہذیب کی بازیافت کا حصہ قرار دیتی ہے، لیکن متعدد ماہرینِ تعلیم کے نزدیک ان پالیسیوں نے آزاد علمی ماحول کا گلا گھونٹ دیا ہے۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، سماجی انصاف اور مواقع کی برابری کی بنیاد ہوتی ہے۔ مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ملک کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ تعلیم پر ملک کی جی ڈی پی (GDP) کا 6 فیصد خرچ کیا جائے گا، مگر 12 برس بیت جانے کے باوجود یہ خرچ آج بھی بمشکل 3 فیصد کے آس پاس رینگ رہا ہے۔ اس دوران نجی تعلیمی اداروں کے کردار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے معیاری تعلیم غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ مختلف ریاستوں میں سرکاری اسکولوں کی بندش اور انضمام کے فیصلوں نے یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ ریاست بتدریج تعلیم کی اپنی بنیادی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔اکیڈمک فریڈم انڈیکس: بین الاقوامی سطح پر گرتی ساکھان برسوں میں ملک میں کوئی تعلیمی انقلاب تو برپا نہیں ہو سکا، مگر تعلیمی آزادی محدود ہونے کی وجہ سے تعلیمی ادارے اب اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک بین الاقومی رپورنکے مطابق، گزشتہ ایک دہائی میں دنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں تعلیمی آزادی میں کمی آئی ہے۔ بھارت بھی ان ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے جہاں 2013ء کے بعد سے تعلیمی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری مسلسل زوال پذیر ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اس وقت تعلیمی آزادی کے لحاظ سے دنیا کے نچلے 10 سے 20 فیصد ممالک میں شمار ہوتا ہے۔اس بین الاقوامی رپورٹ کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ تعلیمی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کے درمیان تعلق 0.91 ہے، جو سماجی علوم میں غیر معمولی حد تک مضبوط تعلق سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں جامعات کو تقرریوں، نصاب، تحقیق اور مالی ترجیحات کے تعین میں آزادی حاصل ہوتی ہے، وہاں تحقیق اور تنقیدی فکر بھی پروان چڑھتی ہے۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ تعلیمی آزادی پر قدغن ہمیشہ براہِ راست پابندیوں کی صورت میں نہیں لگتی، بلکہ قیادت کی تقرریوں، فنڈنگ میں کٹوتی اور خود ساختہ سنسرشپ کے ذریعے ایک ایسا خوف کا ماحول تشکیل دیا جاتا ہے جہاں اساتذہ اور محققین حساس موضوعات سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے ہو رہا ہے تاکہ ملک کے تعلیمی نظام کا مکمل بھگوا کرن (Saffronization) کیا جا سکے اور ہندوتوا کو دنیا کا سب سے بڑا نظریہ ثابت کیا جا سکے۔ ظاہر ہے، یہ ہدف تعلیمی آزادی اور سائنسی طرزِ فکر پر قدغن لگائے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ان تمام عوامل کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پیپر لیک کا مسئلہ محض ایک امتحان کی ناکامی نہیں بلکہ پورے تعلیمی ڈھانچے میں پیدا ہونے والے بحرانِ اعتماد کی علامت ہے۔ جب امتحانات کی شفافیت مشکوک ہو، جامعات کی خودمختاری چھن چکی ہو، اور نوجوان اپنے مستقبل کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں، تو یہ صرف تعلیمی بحران نہیں رہتا، بلکہ ریاست اور اس کے اداروں پر عوامی اعتماد کے مکمل زوال کی علامت بن جاتا ہے۔
ڈگریوں کا بوجھ اور ‘جاب لیس گروتھ کی حقیقت خستہ حال اور نظریاتی کشمکش کے شکار تعلیمی نظام سے جو نوجوان کسی طرح ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں، ان کا سامنا ایک ایسے روزگار کے بازار سے ہوتا ہے جہاں نوکریاں مسلسل سکڑ رہی ہیں۔ مودی حکومت کے پچھلے بارہ برسوں میں ’’میک ان انڈیا‘‘اور ’’اسٹارٹ اپ انڈیا‘‘جیسے خوشنما نعروں کی گونج تو بہت سنائی دی، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک اس وقت خوفناک ‘جاب لیس گروتھ(بغیر روزگار کے معاشی ترقی) کا شکار ہے۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی ‘انڈیا ایمپلائمنٹ رپورٹ 2024’آئی ایل او اور انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن ڈیولپمنٹ کی اس مشترکہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں کل بے روزگار افراد میں سے 83 فیصد نوجوان ہیں۔ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ پڑھے لکھے (سیکنڈری یا اس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ) نوجوانوں کی بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2000 میں کل بے روزگاروں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کا تناسب35.2فیصد تھا، جو 2022 تک بڑھ کر65.7فیصد ہو چکا ہے۔ یعنی بے روزگاروں کی فوج میں سب سے بڑی تعداد ان کی ہے جن کے پاس ڈگریاں ہیں۔رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ایک اَن پڑھ یا کم پڑھے لکھے شخص کے مقابلے میں گریجویٹ نوجوان کے بے روزگار ہونے کے امکانات 9 گنا زیادہ ہیں۔
اسی طرح عظیم پریم جی یونیورسٹی کی ‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2023’ رپورٹ لیبر مارکیٹ کی خستہ حالی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے بحران کی بالکل درست عکاسی کرتی ہے:رپورٹ کے مطابق، 25 سال سے کم عمر کے گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح42.3فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی ہر 100 میں سے 42 نوجوان ڈگری ہاتھ میں ہونے کے باوجود نوکری سے محروم ہیں۔رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ ملک کی جی ڈی پی (GDP) میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ ترقی روزگار پیدا نہیں کر رہی۔ کارپوریٹ سیکٹر کا منافع تو بڑھ رہا ہے، لیکن وہ نئی نوکریاں پیدا کرنے کے بجائے آٹومیشن یا سستے کنٹریکٹ لیبر پر انحصار کر رہے ہیں۔ نوجوان مجبوری میں کم تنخواہ والی عارضی نوکریوں (Gig Economy جیسے ڈیلیوری بوائے) یا سیلف ایمپلائمنٹ کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں، جسے حکومت ‘انٹرپرینیورشپ کا نام دے کر پیش کرتی ہے۔یہ محض معاشی اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسے سماجی بحران کی دستک ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے پاس پکوڑے تلنے یا گیگ اکانومی (Gig Economy) میں ڈیلیوری بوائے بننے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ جب صلاحیت اور میرٹ کی جگہ مایوسی لے لے، تو ملک کا ‘ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ (نوجوان آبادی کا فائدہ) ایک ‘ڈیموگرافک ڈزاسٹر (آبادیاتی تباہی) میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریوں کے فقدان کے بعد نوجوانوں کی آخری امید سرکاری نوکریاں ہوتی تھیں، لیکن حکومت نے اخراجات کم کرنے کے نام پر مستقل نوکریوں کو بھی رفتہ رفتہ کنٹریکٹ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ فوج جیسی مستحکم اور قابلِ فخر ملازمت کو 4 سال کے عارضی معاہدے میں تبدیل کرنے سے نہ صرف نوجوانوں میں شدید معاشی عدم تحفظ پیدا ہوا، بلکہ اس نے دیہی معیشت (Rural Economy) کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں فوج کی نوکری سماجی اور معاشی استحکام کی علامت تھی۔
مودی حکومت کی سیاسی شناخت صرف معاشی اصلاحات یا انتظامی تبدیلیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ قوم پرستی اس کی سب سے طاقتور سیاسی قوت بن کر ابھری۔ سرجیکل اسٹرائیک، بالاکوٹ اور بعد کے فوجی اقدامات کو انتخابی سیاست میں غیر معمولی اہمیت دی گئی۔قوم پرستی (Nationalism) کے بیانیے میں فوج کے مضبوط کردار اور دفاعی بالادستی کی خوب وکالت کی گئی ہے۔ عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ ملک کی سرحدیں اور فوج کے فیصلے اب مکمل طور پر آزاد اور محفوظ ہیں۔ لیکن زمینی سطح پر، ڈوکلام میں چین کے خلاف محاذ ہو یا پھر پاکستان کے خلاف حالیہ ‘آپریشن سیندور، فوج کی اسٹریٹجک آزادی اور حکومتی دعووں کے درمیان ٹکراؤ کے سوالات مسلسل اٹھتے رہے ہیں۔آپریشن سیندور کو بھارتی فوجی تاریخ کے کامیاب ترین آپریشنز میں شمار کر کے پیش کیا گیا تھا، لیکن اس کارروائی کے دوران طیاروں کی تباہی اور فوجی جوانوں کی شہادت سے متعلق جو حقائق ابتدا میں چھپائے گئے، وہ اب خود حکومت کے اعتراف کے بعد بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے دفاع کی خاطر اپنی جان نچھاور کرنے والے جوانوں کی عظیم قربانی کو محض ایک ‘نام نہاد سیاسی بیانیےاور ‘پاور فل امیج کو بچانے کے لیے کیوں چھپایا گیا؟ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور ضرورت پڑنے پر شہادت نوش کرنا فوج میں شامل ہونے والے ہر نوجوان کی تمنا اور سب سے بڑا افتخار ہوتا ہے۔ لیکن اگر جان قربان کرنے کے بعد اس شہادت کو قوم کے سامنے تسلیم کرنے کے بجائے سیاسی مصلحتوں کے تحت چھپا دیا جائے، تو اس سے ملک کے نوجوانوں اور خود مسلح افواج کے مورال کو کتنا مایوس کن پیغام جائے گا؟ جب جوانوں کی شہادت کا اعتراف بھی حکومتی نفع و نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگے، تو قوم پرستی کا یہ بیانیہ محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ جس حکومت نے فوج کے نام پر سب سے زیادہ سیاسی مائلیج حاصل کیا ہو، اس کے دور میں حقائق کی یہ پردہ پوشی قومی سلامتی کے ساتھ سب سے بڑا اخلاقی کھلواڑ ہے۔
بدعنوانی، پیپر لیکس، بے روزگاری، اور سکیورٹی حقائق کی پردہ پوشی کا یہ پورا منظرنامہ ایک انتہائی سنگین سوال کو جنم دیتا ہے، جس سے ہم نے اس تجزیے کا آغاز کیا تھا’’ کیا کوئی بھی حکومت محض دائیں بازو کے نظریات، ہندو مسلم پولرائزیشن اور سسٹم کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر طویل عرصے تک اقتدار میں رہ سکتی ہے‘‘؟ اور اگر وہ سیاسی جوڑ توڑ سے اپنا اقتدار بچا بھی لے، تو کیا اس سے ملک کا داخلی استحکام برقرار رہ سکے گا؟۔
نظریاتی نعرے اور جذباتی اپیلیں کسی بھی سیاسی جماعت کو الیکشن تو جتوا سکتی ہیں، لیکن وہ ریاست کو چلانے کے لیے درکار اخلاقی جواز اور عوامی اعتماد کا متبادل کبھی نہیں ہوسکتیں۔ جب نظام کی خامیاں روزمرہ کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرنے لگیں۔جب نوجوان کا مستقبل پیپر لیک کی نذر ہو جائے، جب اعلیٰ ڈگریاں روزگار کی ضمانت نہ رہیں، جب عقیدت کے مراکز اقربا پروری اور کرپشن کی آماجگاہ بن جائیں، اور جب سرحدوں پر جوانوں کی شہادت کو سیاسی بیانیے کی مصلحتوں کے تحت چھپایا جانے لگے تو پولرائزیشن کا جادو ٹوٹنے لگتا ہے۔ بھوکے پیٹ، بے روزگار ہاتھ اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کو کسی بھی فرقہ وارانہ نعرے سے زیادہ دیر تک بہلایا نہیں جا سکتا۔کسی بھی ملک کا داخلی استحکام (Internal Stability) محض حزبِ اختلاف کو مرکزی ایجنسیوں کے زور پر خاموش کرانے، ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت، یا میڈیا کو کنٹرول کر کے خود کو ‘پاور فل دکھانے سے نہیں آتا۔ ایک مضبوط، پرامن اور مستحکم معاشرہ ہمیشہ اداروں کی شفافیت، غیر جانبدارانہ احتساب اور ریاست کے اداروں پر عوام کے غیر متزلزل اعتماد کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ جب نظام سے یہ تینوں ستون کھسک جائیں، تو سماجی تانے بانے بکھرنے لگتے ہیں اور ملک آہستہ آہستہ ایک گہرے داخلی بحران کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
پنڈت جواہر لعل نہرو کے مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے ریکارڈ کی برابری یقیناً ایک بڑی سیاسی کامیابی ہے، لیکن تاریخ حکمرانوں کا فیصلہ محض اس بنیاد پر نہیں کرتی کہ وہ کتنے برس اقتدار میں رہے، بلکہ اس بنیاد پر کرتی ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کو کتنا مضبوط کیا، جمہوری اقدار کو کس حد تک فروغ دیا، عوام کے اعتماد کو کیسے برقرار رکھا اور اختلافِ رائے کو ریاست کی طاقت سمجھا یا کمزوری۔ اگر آزاد بھارت کی سیاست میں پنڈت نہرو آج بھی مسلسل بحث کا موضوع ہیں تو اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ان کے دور میں قائم ہونے والے متعدد جمہوری، آئینی، سائنسی اور تعلیمی ادارے آج بھی ملک کے ریاستی ڈھانچے کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی وزیر اعظم کی میراث کا اصل پیمانہ صرف انتخابی کامیابیاں نہیں بلکہ وہ ادارے ہوتے ہیں جو اس کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔
اسی تناظر میں نریندر مودی کی بارہ سالہ حکمرانی بھی تاریخ کے اسی معیار پر پرکھی جائے گی۔ مودی حکومت بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل نظام اور فلاحی اسکیموں جیسے متعدد اقدامات کو اپنی بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی خودمختاری، جواب دہی، تعلیمی آزادی، بے روزگاری، بدعنوانی کے الزامات اور بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم جیسے سوالات مودی کاپیچھا کررہی ہیں۔ یہی وہ پہلو ہیں جو آنے والے برسوں میں اس عہد کی تاریخی تشخیص کو متعین کریں گے۔
اقتدار کی طوالت اور اقتدار کی ساکھ دو الگ حقیقتیں ہیں۔ طویل عرصے تک حکومت کرنا ایک سیاسی کامیابی ضرور ہو سکتا ہے، لیکن عوام کا اعتماد برقرار رکھنا، اداروں کو مضبوط بنانا اور تنقید کو اصلاح کا ذریعہ سمجھنا ہی کسی بھی جمہوری حکومت کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔ اگر طاقت کے احساس میں خود احتسابی کے دروازے بند ہو جائیں، شفافیت کمزور پڑ جائے اور اختلافِ رائے کو محض سیاسی مخالفت یا دشمنی کے زاویے سے دیکھا جانے لگے، تو یہ کسی بھی نظریاتی حکومت کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا ہے۔بدعنوانی، تعلیمی بحران، بے روزگاری، ادارہ جاتی کمزوری، عوامی اعتماد میں کمی اور سماجی تقسیم جیسے سوالات اگر بروقت اور سنجیدگی سے حل نہ کیے گئے، تو جشنِ اقتدار کی یہ داستان رفتہ رفتہ بحرانِ اعتماد کی تاریخ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
