قریبی ساتھی چندریما بھٹاچاریہ مستعفی، میری شخصیت ہی میرا انتخابی نشان ہے؟
کلکتہ : انصاف نیو ز نیٹ ورک
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور آل انڈیا ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی نے پارٹی میں بغاوت کرنے والے رہنماؤں کو سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں غدارقرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارٹی کی قیادت جاری رکھیں گی اور ان کے نزدیک رہنماؤں سے زیادہ اہمیت پارٹی کارکنوں کی ہے۔
فیس بک لائیو خطاب میں 71 سالہ ممتا بنرجی نے کہاکہـ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو لوگ پارٹی چھوڑ گئے، میں انہیں نظر انداز کرتی ہوں۔ میرے لیے لیڈروں سے زیادہ کارکن اہم ہیں۔ وہ غدار ہیں۔ اگر ہمت ہے تو بی جے پی میں شامل ہو جائیں۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ میں مر گئی ہوں یا ترنمول کانگریس کے کارکن ختم ہو گئے ہیں؟ جو لوگ گئے ہیں، وہ اپنی جائیدادیں اور مفادات بچانے کے لیے گئے ہیں، جبکہ ہمیں اپنی پارٹی کا خاندان بچانا ہے۔
ممتا بنرجی کے بیان سے چند گھنٹے قبل ان کی قریبی ساتھی اور سابق وزیر چندریما بھٹاچاریہ نے ترنمول کانگریس کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ انہیں صرف ایک ماہ قبل پارٹی میں تقسیم کے بعد مغربی بنگال یونٹ کا صدر مقرر کیا گیا تھااپنے استعفیٰ نامے میں انہوں نے لکھا کہ وہ ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیتی ہیں۔پارٹی کے تمام دیگر عہدے چھوڑ رہی ہیں۔ پارٹی کے بینک اکاؤنٹس کی مجاز دستخط کنندہ (Authorized Signatory) کی حیثیت بھی واپس لے رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سامنے پارٹی کی مجاز نمائندہ بھی نہیں رہیں گی۔
استعفیٰ دینے کے فوراً بعد چندریما بھٹاچاریہ مغربی بنگال اسمبلی پہنچیں، جہاں انہوں نے ٹی ایم سی کے باغی رہنماؤں، جن میں قائد حزب اختلاف ریتابرتا بنرجی، فرہاد حکیم اور سندیپن ساہا شامل تھے، کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔ اس سے ان کے باغی دھڑے میں شامل ہونے کے امکانات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق جمعہ کی شام چندریما بھٹاچاریہ کولکاتا میں ترنمول کے مرکزی دفتر ترنمول بھون میں موجود تھیں، لیکن باغی اراکین اسمبلی کے دفتر پر قبضہ کرنے کے بعد وہ وہاں سے چلی گئیں۔
باغیوں نے دفتر کے تالے تبدیل کر دیے اور وہاں اروپ رائے کو پارٹی کا نیا چیئرمین قرار دیتے ہوئے بینر آویزاں کر دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ممتا بنرجی چندریما کی اس معاملے میںمزاحمت نہیں کرنے پر ناراض تھیں۔
باغی گروپ کی جانب سے الیکشن کمیشن میں ٹی ایم سی کے اصل ہونے کا دعویٰ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہاکہ پارٹی کا انتخابی نشان حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں کبھی نہیں ملے گا۔ یاد رکھیں، آپ نے جس نشان پر الیکشن لڑا، اس پر میرے دستخط تھے۔ پارٹی میں نے قائم کی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن، جو بی جے پی کے لیے کام کرتا ہے، انہیں نشان دے بھی دے تو ہم عوام کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔”
ممتا بنرجی نے کہا کہ چندریما نے چند روز قبل ہی انہیں استعفیٰ دینے کی اطلاع دے دی تھی۔
انہوں نے کہاکہ ان کے بیٹے نے پہلے ہی باغی گروپ کا ساتھ دے دیا تھا۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ صرف دو ماہ پہلے ہی پارٹی انتخابات میں ہاری ہے، اور اتنی جلدی صبر ختم ہو گیا؟ آپ پندرہ سال تک ایم ایل اے اور وزیر رہے، تب باغی کیوں نہیں تھے؟”
ممتا بنرجی نے اعلان کیا کہ اب وہ خود مغربی بنگال میں پارٹی کی تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ انہوں نے کنال گھوش اور مدن متراکو ریاستی جنرل سیکریٹری مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ترنمول بھون پر قبضہ برقرار رہا تو ان کی رہائش گاہ 30-B ہریش چٹرجی اسٹریٹ ہی پارٹی کا نیا مرکزی دفتر ہوگی۔
ممتا بنرجی نے وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر ریاستی دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ترنمول رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہوا موئترا۔ابھیشیک بنرجی ۔کلیان بنرجی۔سمیت کئی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور کارکنوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔سوویندو ادھیکاری سے مخاطب ہوتے ہوئے ممتا نے کہاکہآپ آج وزیراعلیٰ ہیں، لیکن پہلے کانگریس میں تھے، پھر دس گیارہ سال تک ترنمول کانگریس میں رہے، ایم ایل اے اور وزیر بھی رہے۔ ہمارے کارکنوں پر ظلم نہ کریں۔ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ حکومت کو صحیح طریقے سے چلائیں۔
ممتا بنرجی نے اعلان کیا کہ ترنمول کانگریس ہر سال کی طرح اس بار بھی 21 جولائی یومِ شہدامنائے گی، چاہے پولیس اجازت نہ دے۔انہوں نے کہاکہ پولیس اجازت نہیں دیتی تو بھی ہم رکشے پر کھڑے ہو کر اپنا پروگرام کریں گے۔ میں ہر مشکل کا مسکرا کر مقابلہ کروں گی۔ جدوجہد میری زندگی کا حصہ ہے اور یہ جاری رہے گی۔
چندریما بھٹاچاریہ کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹی ایم سی پہلے ہی شدید سیاسی بحران سے دوچار ہے۔پارٹی کے 80 میں سے 60 ایم ایل ایزرتبرتا بنرجی کی قیادت میں باغی دھڑے کے ساتھ کھڑے ہیں۔باغی گروپ پارٹی کے نام، انتخابی نشان اور بینک اکاؤنٹس پر دعویٰ کر چکا ہے۔28 لوک سبھا اراکین میں سے 20 بھی کاکولی گھوش دستیدار کی قیادت میں الگ ہو کر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (NCPI) میں شامل ہو چکے ہیں۔
استعفیٰ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چندریما بھٹاچاریہ نے کہاکہ آپ کی وفاداری پر سوال اٹھایا جائے تو پھر وہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ واپسی کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔کہ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یہ الزام دیا گیا کہ انہوں نے باغیوں کو پارٹی دفتر پر قبضہ کرنے دیا، جس کے بعد وہ خود کو ناکام محسوس کرنے لگیں اور پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، چندریما بھٹاچاریہ کی علیحدگی ممتا بنرجی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف ان کی قریبی ساتھی تھیں بلکہ ریاستی صدر کی حیثیت سے پارٹی کی تنظیمی قیادت بھی ان کے پاس تھی۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ باغی دھڑا الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی قانونی لڑائی میں ان کی موجودگی کو اپنے حق میں استعمال کرے گا۔
