مشی گن سے امریکی سینیٹ کے امیدوار عبدالسید، کانگریس کی رکن پرمیلا جے پال اور کانگریس کے رکن رو کھنہ | وکیمیڈیا کامنز
ہفتے کے روز ایک طرف راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں خطاب کر رہے تھے، تو دوسری طرف تقریباً 90 امریکی سیاست دانوں کا ایک گروپ ایک مختلف نوعیت کے عہد کی تیاری کر رہا تھا۔ ان سیاست دانوں نے عہد کیا کہ وہ آر ایس ایس اور اس سے منسلک اداروں سے سیاسی عطیات قبول نہیں کریں گے۔
ہندوز فار ہیومن رائٹس ایکشن اور سیکرڈ ایکٹس (SACRED Acts) کی جانب سے پیر کو اعلان کیے گئے اس عہد میں آٹھ امریکی ریاستوں کے منتخب عہدیداروں اور امیدواروں نے آر ایس ایس اور اس سے منسلک اداروں سے وابستہ عطیات مسترد کرنے کا عہد کیا ہے۔
دستخط کنندگان میں کانگریس کے ارکان، ریاستی مقننہ کے ارکان، میئرز، مقامی منتخب عہدیدار اور ڈیموکریٹک و ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں۔
چھ صفحات پر مشتمل اس عہد نامے میں سیاست دانوں سے سیاسی تشدد اور دھمکیوں کو مسترد کرنے کے علاوہ آر ایس ایس سے منسلک اداروں اور ان کے حامیوں سے موصول ہونے والی رقوم واپس کرنے یا انہیں جمہوریت کی حمایت کرنے والی تنظیموں کو منتقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
سب سے نمایاں دستخط کنندگان میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن پرمیلا جے پال، کیلیفورنیا سے کانگریس کے رکن رو کھنہ اور الینوائے سے رابن کیلی شامل ہیں۔
مشی گن سے امریکی سینیٹ کی دوڑ کے لیے نو منتخب ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید بھی دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔ اسی طرح نیویارک کے ڈیموکریٹک کانگریسی امیدوار بریڈ لینڈر نے بھی ہفتے کے روز شہر میں موہن بھاگوت کے خطاب کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی۔
رو کھنہ نے کہا:’’مجھے اس عہد کی قیادت کرنے پر فخر ہے اور میں آر ایس ایس اور عالمی جمہوریت پر اس کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔‘‘
عطیات واپس کرنے کا اعلان
کچھ سیاست دانوں کے لیے اس عہد کے ساتھ فوری مالی اقدام بھی سامنے آیا۔ان میں سب سے نمایاں رو کھنہ تھے، جنہوں نے کہا کہ وہ 6,600 ڈالر کا عطیہ واپس کر رہے ہیں جو انہیں حال ہی میں موصول ہوا تھا۔ ان کے مطابق، انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ یہ رقم ’’آر ایس ایس سے وابستہ ایک پرو-MAGA ارب پتی‘‘ کی جانب سے دی گئی تھی۔کھنہ نے کہا کہ وہ آر ایس ایس کو ’’پی اے سی (PAC) بنانے یا امریکہ میں انتخابات پر اثر انداز ہونے‘‘ کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکہ میں پی اے سی (Political Action Committee) ایک ایسا نجی سیاسی گروپ ہوتا ہے جو سیاسی مہمات کی مالی معاونت کے لیے اپنے اراکین، عطیہ دہندگان یا ملازمین سے رقوم جمع کرتا ہے۔
2016 میں کانگریس کے لیے منتخب ہونے کے بعد سے کھنہ کے ہندو-امریکی کمیونٹی اور اس کے مختلف وکالتی گروپوں کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، اپنے سیاسی کیریئر کے ابتدائی دور میں انہوں نے ہندو امریکن فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام اجتماعات میں شرکت کی تھی۔
ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے امریکی قانون میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو واضح طور پر تسلیم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی ہے۔ تاہم، وہ خود کو ایک غیر جانب دار ہندو شہری حقوق کی تنظیم قرار دیتی ہے اور آر ایس ایس کے ساتھ کسی بھی وابستگی کی تردید کرتی رہی ہے۔
کھنہ کو ایسے ہندو-امریکی عطیہ دہندگان کی جانب سے بھی نمایاں انتخابی عطیات موصول ہوئے ہیں جنہوں نے ہندوتوا سے متعلق مقاصد کی حمایت کی ہے۔
2023 میں دی نیشن (The Nation) نے رپورٹ کیا تھا کہ کھنہ، جنہوں نے اسی سال وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکی کانگریس سے خطاب کے لیے حمایت کی تھی، نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران امریکہ میں ہندوتوا کے حامیوں سے 110,000 ڈالر سے زیادہ وصول کیے تھے۔ان انکشافات کے جواب میں کھنہ نے کہا تھا کہ ان کے ہزاروں جنوبی ایشیائی عطیہ دہندگان ہیں اور انہوں نے ان میں سے ہر ایک سے ہندوستانی سیاست کے بارے میں ان کے خیالات نہیں پوچھے۔
کیلیفورنیا کا سینیٹ بل 403
اسی سال کھنہ نے ایک ایسے معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا جو ہندوتوا سے وابستہ تنظیموں اور ذات پات کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کے درمیان ایک بڑی خلیج کا باعث بن گیا تھا
: کیلیفورنیا کا سینیٹ بل 403۔اس قانون کا مقصد کیلیفورنیا کے شہری حقوق کے قوانین میں ذات پات کو واضح طور پر ایک محفوظ زمرے کے طور پر شامل کرنا تھا۔
دلت اور ذات پات کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کا مؤقف تھا کہ موجودہ قانونی تحفظات ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق، ذات پات کو قانون میں واضح طور پر شامل کرنا ایسے امتیازی سلوک کی شناخت اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ضروری ہے۔
ہندو امریکن فاؤنڈیشن سمیت بعض ہندو-امریکی تنظیموں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’’امتیازی‘‘ اور ’’غیر آئینی‘‘ قرار دیا۔
رو کھنہ نے اس بل کی توثیق نہیں کی۔
2023 میں جب ان سے اس معاملے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ’’ذات پات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی سخت مخالفت کرتے ہیں‘‘، تاہم ان کے مطابق قانون سازی کو ’’منصفانہ طور پر نافذ‘‘ کیا جانا چاہیے تاکہ ’’کسی بھی کمیونٹی کو منتخب طور پر پروفائل نہ کیا جائے‘‘۔
یہ بل بالآخر کیلیفورنیا کی ریاستی مقننہ سے منظور ہو گیا، تاہم اکتوبر 2023 میں گورنر گیون نیوزوم نے اسے ویٹو کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قانونی تحفظات پہلے ہی ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتے ہیں۔
آر ایس ایس کے خلاف امریکی دباؤ
موہن بھاگوت کی آمد سے چند روز قبل امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ آر ایس ایس کے ارکان کے خلاف پابندیوں پر غور کرے اور آر ایس ایس کے رہنماؤں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے امکان کا جائزہ لے۔
تاہم، کمیشن کی یہ سفارش غیر پابند نوعیت کی تھی۔اب آر ایس ایس کے اثر و رسوخ کے خلاف مہم ایک اور میدان میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے: امریکی انتخابی مہمات کی فنڈنگ۔تاہم، یہ کوشش نئی نہیں ہے۔
سیکرڈ ایکٹس (SACRED Acts)، جو امریکہ میں ’’انتہا پسند جنوبی ایشیائی نژاد امریکی گروپوں‘‘ کو بے نقاب کرنے کے لیے کام کرنے والا ایک گروپ ہے، نے انڈین امریکن مسلم کونسل، ایشین امریکن مڈویسٹ پروگریسیوز، انڈیا سول واچ انٹرنیشنل اور ہندوز فار ہیومن رائٹس کے تعاون سے 2023 میں الینوائے میں اپنے عدم تشدد کے عہد کا آغاز کیا تھا۔
اس کے بعد سے وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر تقریباً 90 عہدیداروں اور امیدواروں نے اس عہد پر دستخط کیے ہیں۔سیکرڈ ایکٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پشکر شرما نے خط میں کہا:
’’گزشتہ ایک دہائی کے دوران، صرف الینوائے میں، آر ایس ایس سے وابستہ افراد نے دونوں جماعتوں، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، کی سیاسی مہمات میں کم از کم 2.5 ملین ڈالر لگائے ہیں، تاکہ ان کے غیر جمہوری اور انتہا پسندانہ ایجنڈے کو فروغ دیا جا سکے، جو جنوبی ایشیائی نژاد امریکیوں کی اکثریت کے عقائد کی نمائندگی نہیں کرتا۔‘‘
عہد کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف اس بات تک محدود نہیں کہ آیا کوئی انفرادی سیاست دان باضابطہ طور پر آر ایس ایس سے فنڈز قبول کرتا ہے۔
ان کے مطابق، یہ عہد آر ایس ایس سے ملحقہ اداروں اور ان افراد تک بھی پھیلتا ہے جنہیں وہ تنظیم سے وابستہ سمجھتے ہیں۔
سیاسی فنڈنگ کا سراغ لگانا مشکل
تاہم، یہ سراغ لگانا آسان نہیں کہ اس نوعیت کی رقوم امریکی سیاسی اور سماجی نظام میں کس طرح منتقل ہوتی ہیں۔امریکہ میں سیاسی عطیات پولیٹیکل ایکشن کمیٹیوں، انفرادی عطیہ دہندگان، وابستہ تنظیموں اور دیگر اداروں کے ذریعے منتقل ہو سکتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں، کسی سیاست دان کی انتخابی مہم کے مالیاتی ریکارڈ میں محض کسی تنظیم کا نام تلاش کرکے آر ایس ایس سے منسلک تمام فنڈز کی شناخت نہیں کی جا سکتی۔
ہندوز فار ہیومن رائٹس ایکشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریا چکرورتی نے کہا:
’’بہت طویل عرصے سے آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں اور افراد نے امریکی سیاست میں خود کو ہندو امریکیوں کے واحد وکیل کے طور پر پیش کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ عہد اور تقریباً 100 سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اسے اپنایا جانا ’’آر ایس ایس کی جانب سے جنوبی ایشیائی اور ہندو امریکی کمیونٹیز کی غلط نمائندگی کی ایک تاریخی سرزنش‘‘ ہے۔
کینیڈا میں بھی شکایت
اسی روز جب یہ عہد جاری کیا گیا اور موہن بھاگوت اپنے سفر کی اگلی منزل کینیڈا کے لیے روانہ ہوئے، وہاں ایک گروپ نے آر ایس ایس سے متعلق فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔
کینیڈا کی انسانی حقوق کی تنظیم جسٹ پیس ایڈووکیٹس نے کہا کہ اس نے کینیڈا کی ریونیو ایجنسی میں شکایت درج کرائی ہے۔شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 21 رجسٹرڈ کینیڈین خیراتی اداروں کی خیراتی حیثیت کا جائزہ لیا جائے۔ان میں ہندو سویم سیوک سنگھ کینیڈا، ایکل ودیالیہ فاؤنڈیشن آف کینیڈا اور وشوا ہندو پریشد آف اونٹاریو شامل ہیں۔
اس اعلان میں سائنسز پو کے سینٹر فار انٹرنیشنل ریسرچکی ایک تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینیڈا میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے درمیان تقریباً 46 ملین ڈالر کی رقوم منتقل ہوئی ہیں، جبکہ ہندوتوا سے وابستہ تنظیموں کی جانب سے بیرونِ ملک آر ایس ایس سے منسلک گروپوں کو تقریباً 21.5 ملین ڈالر بھیجے گئے ہیں۔
