ابو عفان قاسمی

گجرات اور اتراکھنڈ کے بعد اب آسام اسمبلی میں بھی یکساں سول کوڈ بل پاس ہو گیا ہے۔ اس طرح یہ ملک کی تیسری ریاست بن گئی ہے جہاں یکساں سول کوڈ سے متعلق قانون سازی کی گئی ہے۔ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ چناں چہ اسمبلی انتخابات میں بڑی جیت کے چند ہفتوں بعد ہی اس بل کو قانون کی شکل دینے کے لیے اسمبلی سے پاس کرا لیا گیا۔ تاہم، جس ماحول اور جلد بازی میں یہ قانون آسام میں پاس کیا گیا، وہ قانون سازی کے پورے عمل پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ایک ایسا قانون، جس کا دائرہ کار وسیع ہے اور جس سے کئی طبقات متاثر ہو سکتے ہیں، اس کے لیے بڑے پیمانے پر صلاح و مشورے اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے لیے بغیر قانون سازی کرنا جمہوریت کی روح کے سراسر خلاف ہے۔ جمہوریت میں اگرچہ فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، مگر آئین سازوں نے اس عمل میں اقلیت کی رائے اور ان کے احساسات و جذبات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا ہے۔ اسمبلی یا پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی موجودگی دراصل اقلیت کی رائے کے احترام کا ہی ایک تنظیمی مظہر ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں قانون سازی کا عمل محض اکثریت کی مرضی و منشا کے تابع بنا دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین تو بن رہے ہیں لیکن ان کے حقیقی فوائد زمین تک نہیں پہنچ پاتے اور وہ محض کاغذات تک محدود رہتے ہیں۔آسام میں بھی یکساں سول کوڈ کی قانون سازی خالصتاً عددی اکثریت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یہ قانون ووٹ بینک کی سیاست، اکثریت کی خوشامد اور خود کو مسلم مخالف ثابت کرنے کی کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے دائرہ کار سے قبائلیوں کو مکمل طور پر مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، ‘لو-ان ریلیشن شپ کو لازمی رجسٹریشن کے ذریعے قانونی جواز بخشنے کی کوشش کی گئی ہے، جس نے شہریوں کی نجی زندگی میں ریاستی مداخلت کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔ علاوہ ازیں، وصیت کی مکمل آزادی دے کر مسلم پرسنل لا کے برعکس ایک ایسا چور دروازہ بھی کھول دیا گیا ہے جس کے ذریعے والدین (اگر چاہیں تو) اپنی جائیداد سے بیٹیوں کو محروم کر سکتے ہیں۔

آسام میں یکساں سول کوڈ ’ایک ملک، ایک قانون‘ کا نعرہ اور تضادات کی سیاست

پرسنل لا (معاملاتِ شادی و وراثت) اگرچہ آئین کے تحت ‘سمورتی فہرست (Concurrent List) کا حصہ ہے جس پر مرکز اور ریاست دونوں کو قانون سازی کا اختیار ہے، لیکن اس کے باوجود ریاستوں کا اپنے اپنے طور پر الگ الگ قوانین بنانا آئین کی اصل روح کے منافی ہے۔ یہ عمل ہندوتوا کے اس بیانیے کے بھی سراسر خلاف ہے جس میں ہمیشہ ’’ایک ملک، ایک قانون‘‘کی دہائی دی جاتی ہے۔ اس وقت جن ریاستوں میں یکساں سول کوڈ کے قوانین پاس کیے گئے ہیں، اگر ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے درمیان کئی نمایاں فرق اور تضادات نظر آتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال لازمی بنتا ہے کہ جب آپ خود اپنے ہی بیانیے سے سیاسی مفادات کی خاطر انحراف کر رہے ہیں، تو کسی دوسرے سے اس اصول کی تعمیل کی امید کیوں کر رکھی جائے؟دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جب قبائلی بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، تو انہیں اس قانون سے کیوں مستثنیٰ کیا جا رہا ہے؟ آسام میں جب پہلے سے ہی ایک سے زائد شادیوں پر پابندی، نکاح کی لازمی رجسٹریشن اور کم عمری کی شادی کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں، تو پھر وہاں یکساں سول کوڈ جیسے قانون کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ایک طرف خود کو روشن خیال ثابت کرنے کی لغو کوشش میں’’ ‘لو-ان ریلیشن شپ ‘‘کو قانونی جواز فراہم کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف ‘لو جہاد جیسے من گھڑت اور مضحکہ خیز پروپیگنڈے کے نام پر سماج میں خوف اور بھرم پھیلانے کا دھندا بھی جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک بالغ لڑکا اور لڑکی شادی جیسے مقدس سماجی ادارے کے بغیر (لو-ان میں) ساتھ رہ سکتے ہیں، تو پھر دو مختلف مذاہب، برادریوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے بالغ جوڑے باہم رضا مندی سے شادی کیوں نہیں کر سکتے؟ واضح رہے کہ ‘لو جہاد ہندوتوا سیاست کی طرف سے اچھالا جانے والا ایک فرضی پروپیگنڈا (Bogey) ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور جس کا مقصد محض مسلم مردوں کو نشانہ بنانا اور اکثریتی طبقے میں خوف پیدا کرنا ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے قبائلیوں کو استثنیٰ دینے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان کے یہاں مضبوط اور مستحکم خاندانی نظام پہلے سے موجود ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے‘‘۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قبائلیوں کا روایتی نظام اتنا ہی مثالی اور مستحکم ہے، تو حکومت ان کے پورے ماڈل کو قومی دھارے کے لیے کیوں نہیں اختیار کر لیتی؟ قبائلی برادریوں میں مرکزی دھارے کے پدری (Patriarchal) نظاموں کے مقابلے میں زیادہ مساوات پائی جاتی ہے، جہاں جہیز اور تعددِ ازدواج جیسے طریقے مقامی سطح پر ممنوع ہیں۔ کئی قبائلی علاقوں میں (خاص طور پر شمال مشرقی بھارت میں) جائیداد یا زمین کی مالک برادری یا قبیلہ ہوتا ہے، نہ کہ کوئی فردِ واحد۔ وہاں مادری خاندانی نظام رائج ہے جہاں نسل اور جائیداد ماں سے بیٹی کی طرف، اور اکثر سب سے چھوٹی بیٹی کو منتقل ہوتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قبائلی نظام میں خواتین کی حالت سو فیصد مستحکم ہے؟ قبائلی معاشرت پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وہاں روایتی فیصلہ ساز اداروں، پنچایتوں اور عدالتوں میں خواتین کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ یہاں تک کہ مادری نظام والے معاشروں میں بھی، خواتین کو اکثر جائیداد کی حتمی فیصلہ ساز کے بجائے صرف ایک ‘نگران یا امین (Custodian) کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حالات میں خود قبائلی خواتین نے امتیازی مقامی رسوم و رواج کے خلاف تحفظ کے لیے مدون قوانین (Codified Laws) کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ 
اصل حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جب بھی یکساں سول کوڈ کی بات کی گئی ہے، ملک بھر کی قبائلی برادریوں نے متحد ہو کر اس کی سخت مخالفت کی۔ اس احتجاج کے بعد ’’ایک ملک، ایک قانون‘‘ کا نعرہ لگانے والوں کو احساس ہوا کہ قبائلی عوام اپنی شناخت اور ثقافت کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔ ان نسلی اور مقامی گروہوں پر کوئی بھی یکساں کوڈ مسلط کرنا شدید سماجی بدامنی کو جنم دے سکتا ہے اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اسی سیاسی خوف اور انتخابی نقصان کے باعث داخلی قبائلی طریقوں میں اصلاحات کے پیچیدہ کام کو خود انھی برادریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تو پھر آخری اور سب سے بنیادی سوال یہی بچتا ہے کہ اگر قبائلیوں کے روایتی قوانین کے احترام میں انہیں مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے، تو مسلمانوں کے پاس تو قرآن و سنت پر مبنی ایک مکمل، عادلانہ اور مدون الٰہی پرسنل لا موجود ہے، پھر مسلمانوں کو اس استثنیٰ سے باہر رکھ کر نشانہ کیوں بنایا گیا؟ آرٹیکل 29 کے تحت ہر برادری کو اپنی ثقافت کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن صرف قبائلیوں کی خودمختاری کا ہی تحفظ کیوں کیا جا رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ شیڈولڈ ٹرائبز (قبائل) اب بھی ان قانونی فریم ورکس کے بڑے حصے سے باہر ہیں۔ اگر یہ تحفظات اہم ہیں، تو پھر قبائلی خواتین کو ان سے کیوں محروم رکھا جائے؟ شیڈولڈ ٹرائب برادریوں کی بیٹیاں بھارت کی کسی بھی دوسری بیٹی کے مقابلے میں مختلف قانونی تحفظ کی مستحق کیوں ہونی چاہئیں؟
آسام اسمبلی میں جب یہ بل پیش کیا جا رہا تھا، تو بی جے پی کی حلیف جماعت ‘آسام گن پریشد (AGP) کے قانون ساز پرتھوی راج رابھانے کہا کہ یو سی سی ایکٹ ریاست میں بدلتے ہوئے آبادیاتی ڈھانچے (Demographic Pattern) کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد کرے گا۔ایک سے زیادہ شادیاں کرنا اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ متعدد شادیوں سے پیدا ہونے والے کئی بچے ہیں، جو آبادی کے دھماکے اور آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔ان کا واضح اشارہ اسی روایتی پروپیگنڈے کی طرف تھا کہ مسلمان ایک سے زائد شادیاں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں اور ان کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر ان کے اس دعوے کا ‘نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS) کی سرکاری رپورٹوں کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ایک سے زائد شادیوں کے ذریعے مسلمانوں کی آبادی میں غیر معمولی اضافے کا واویلا محض ایک سیاسی پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
بھارت میں تعددِ ازدواج (Polygyny) یا ایک سے زائد بیویاں رکھنے کا عمل قانونی طور پر صرف مسلمانوں کے لیے جائز ہے، لیکن خود حکومتِ ہند کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ رواج دیگر برادریوں میں بھی تقریباً اسی تناسب سے رائج ہے، اگرچہ اب تمام ہی طبقات میں اس رجحان میں تیزی ڪسے کمی آ رہی ہے۔ 2019-20 کے تازہ ترین NFHS ڈیٹا کے مطابق مسلمانوں میں تعددِ ازدواج کی شرح1 .9فیصد، ہندوؤں میں 1.3فیصد اور دیگر مذہبی گروہوں میں 1.6 فیصد ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تعددِ ازدواج کا یہ عمل سب سے زیادہ درج فہرست قبائل (Scheduled Tribes – ST) میں پایا جاتا ہے، جہاں یہ شرح 2.4فیصد ہے (جو کہ 2005-06 میں3 .1فیصد تھی)۔ اس کے بعد درج فہرست ذاتیں (Scheduled Castes – SC) ہیں جہاں یہ شرح 1.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس طرح، جن ریاستوں میں قبائلی آبادی کا تناسب زیادہ ہے، وہاں تعددِ ازدواج کا رواج سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ تاہم، اس عمومی رجحان میں کچھ حیرت انگیز استثنیٰ (Exceptions) بھی ہیں۔ مثلاً چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں مسلمانوں کے مقابلے خود ہندوؤں میں تعددِ ازدواج کا رواج زیادہ ہے۔
‘ٹائمز آف انڈیا کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ملک کے ان 40 اضلاع کا جائزہ لیا گیا جہاں تعددِ ازدواج کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ان اضلاع کی فہرست کا موازنہ جب خواتین کی شرحِ خواندگی (Literacy) اور مجموعی آبادی میں مختلف مذہبی و قبائلی گروہوں کے تناسب (Census Data) سے کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ اس اعلیٰ شرح کے لیے کسی ایک مذہب یا پس منظر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ البتہ، بنیادی طور پر قبائلی اضلاع میں یہ رواج کافی زیادہ ہے، جس میں میگھالیہ کا مسلم اور عیسائی اکثریتی ضلع ‘ایسٹ جینتیا ہلز 20 فیصد کی شرح کے ساتھ سب سے اوپر ہے، جبکہ مدھیہ پردیش کا ضلع ‘انوپ پ 3.9 فیصد کے ساتھ 40 ویں نمبر پر ہے۔ مذہبی گروہوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تعددِ ازدواج سب سے زیادہ “دیگر” (Others) میں2 .5فیصد پایا گیا، اس کے بعد عیسائیوں میں 2.1فیصد، مسلمانوں میں 1.9فیصد اور ہندوؤں میں 1 .3فیصد ہے۔ سروے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایک سے زائد بیویوں والی شادیاں اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والے طبقات کے بجائے غریب ترین اور بنا کسی باقاعدہ تعلیم والی خواتین میں زیادہ رائج ہیں۔اب ذرا اصل سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔ ایک طرف مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی آبادی بڑھانے کے لیے ایک سے زائد شادیاں کرتے ہیں، تو دوسری طرف ہندو برادری ہے جہاں قانوناً دوسری شادی کی بالکل اجازت نہیں ہے، اس کے باوجود ان کے یہاں تعددِ ازدواج کی شرح 1.3 فیصد ہےجو قانونی اجازت کے حامل مسلمانوں سے محض0 .6فیصد ہی کم ہے۔ (یاد رہے کہ اس سرکاری ڈیٹا میں شادی کے قانونی دائرے سے باہر قائم کیے جانے والے غیر قانونی تعلقات کی شرح شامل ہی نہیں ہے)۔ ایسے میں، ایک طرف ہندوؤں میں قانون کے بغیر بھی اس رواج کا موجود ہونا اور دوسری طرف قبائلیوں کوجہاں تعددِ ازدواج کی شرح سب سے زیادہ ( 2.4فیصد) ہےیکساں سول کوڈ سے مکمل طور پر مستثنیٰ کر دینا، موجودہ حکومت کے دوہرے معیار اور سنگین تضادات کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ 
اتراکھنڈ اور آسام جیسی ریاستوں میں نافذ کردہ یکساں سول کوڈ (UCC) کے تحت وراثت کے نظام کو بہت حد تک ہندو پرسنل لا کے طرز پر ڈھال دیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے مطابق شریکِ حیات (بیوی/شوہر)، بچے اور والدین کلاس-1 (Class-1) کے وارثوں کے طور پر برابر کے حقدار قرار دیے گئے ہیں، جہاں بیٹوں اور بیٹیوں کو مساوی حصے ملیں گے۔ اس قانون کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ چونکہ مسلم پرسنل لا میں بیٹے کے مقابلے بیٹی کو نصف حصہ ملتا ہے، اس لیے وہ امتیازی ہے؛ لیکن اگر اس تقسیم کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے پیچھے ایک گہرا فطری اور معاشی توازن پوشیدہ ہے۔اسلام میں مرد اور عورت کی مالی ذمہ داریوں کا واضح فرق اس تقسیم کی اصل بنیاد ہے۔ مرد پر پورے خاندان کے اخراجات کی قانونی اور شرعی ذمہ داری عائد کی گئی ہے، جبکہ عورت ان تمام معاشی بوجھ سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہے۔ اسلام میں مرد گھر کا نگران اور کفیل ہے، جس پر بیوی، بچوں، والدین اور گھر کی دیگر محتاج خواتین کا نان و نفقہ (کھانا، کپڑا اور رہائش) فراہم کرنا لازم ہے۔ اس کے علاوہ، شادی کے موقع پر بھی مرد پر لازم ہے کہ وہ عورت کو ‘حقِ مہر’ ادا کرے، جو کہ مکمل طور پر عورت کی ذاتی ملکیت بن جاتا ہے۔ عورت کو وراثت میں ملنے والا حصہ، حقِ مہر، یا اس کی اپنی ذاتی کمائی سو فیصد اسی کی ملکیت ہوتی ہے، اور اس پر شرعاً یہ کوئی پابندی نہیں کہ وہ گھر کے اخراجات میں ایک روپیہ بھی خرچ کرے۔ اس کے برعکس، عورت کو ہر حال میں مالی تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے۔ لہٰذا، اگرچہ بظاہر کاغذ پر بیٹے کا حصہ بیٹی سے دگنا نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت اسے خاندانی اخراجات کی مد میں مسلسل خرچ کرنا ہوتا ہے، جبکہ بیٹی کا نصف حصہ اس کی غیر مشروط اور محفوظ بچت (Net Saving) کے طور پر باقی رہتا ہے۔اسلامی قانونِ وراثت کا ایک اور اہم اور عادلانہ پہلو یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی کل جائداد کے محض ایک تہائی (1/3) حصے سے زیادہ کی وصیت (Will) نہیں کر سکتا، تاکہ قانونی وارثوں کے حقوق پامال نہ ہوں۔ اس کے برعکس، ان ریاستوں کے یکساں سول کوڈ میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی جائز وصیت موجود ہو، تو یو سی سی اس میں مداخلت نہیں کرے گا۔ یہ قانون صرف ‘بلا وصیت انتقالِ جائداد (Intestate Succession) پر لاگو ہوتا ہے، یعنی جب کوئی شخص وصیت کیے بغیر مر جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت جیسے روایتی پدرسری (Patriarchal) معاشرے میں، جہاں بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینے کا رجحان عام ہے، کیا اس بات کی کوئی گرانٹی ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنے اور دولت مکمل طور پر بیٹوں کو منتقل کرنے کے لیے سو فیصد جائداد کی وصیت نہیں کر دیں گے؟ چونکہ یو سی سی مکمل جائداد کی وصیت کی اجازت دیتا ہے، اس لیے یہ قانون بیٹیوں کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں محروم کرنے کا قانونی راستہ کھول دیتا ہے، جبکہ اسلامی نظام میں کوئی بھی شخص اپنی من مانی سے بیٹیوں کو محروم نہیں کر سکتا۔
اسی طرح، یکساں سول کوڈ کے وراثت کے قوانین (جیسے اتراکھنڈ یو سی سی کا سیکشن 15) اب بھی ایک انتہائی امتیازی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ اس کے تحت اگر کوئی شادی شدہ عورت وصیت کیے بغیر مر جائے اور اس کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو، تو اس کی چھوڑی ہوئی جائداد پر اس کے اپنے بوڑھے والدین کے مقابلے میں اس کے شوہر کے وارثوں (سسرال والوں) کو ترجیح دی جائے گی۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں پائے جانے والے یہ سنگین تضادات واضح کرتے ہیں کہ جن ‘خواتین کے حقوق اور اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا، وہ مقاصد کہیں بھی کارفرما نظر نہیں آتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ریاستی سطح پر یہ ادھورے اور تضادات سے بھرپور قوانین صرف اس لیے عجلت میں نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ اکثریتی ووٹروں کو خوش کیا جا سکے اور انتخابی فائدے کے لیے پولرائزیشن (سیاسی و مذہبی دُھرویکرن) کی راہ ہموار کی جا سکے۔