عبادات اور مذہبی شعار پر کھلے عام حملے: مستقبل کے لیے ایک سنگین اور وجودی خطرہ
نوراللہ جاوید
عید الاضحیٰ کے عین موقع پر اتر پردیش سے لے کر مغربی بنگال تک’’نماز‘‘ کو جس طرح موضوعِ بحث بنا دیا گیا، وہ بھارتی جمہوریت کے بدلتے ہوئے خطرناک رخ کا واضح عکاس ہے۔ ایک طرف اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دھمکی آمیز اور جارحانہ زبان استعمال کی، تو دوسری طرف بنگال کی نئی بی جے پی حکومت نے بھی کم و بیش اسی طرح کے لہجے اور تیور کا مظاہرہ کیا۔ کئیه دنوں تک ملک کے ہائی ٹی آر پی (TRP) ٹی وی چینلوں پر اس ہنگامی مسئلے پر زہر اگلتے اور اشتعال انگیز مباحثے ہوتے رہے، گویا اس وقت ملک کا سب سے بڑا، سب سے اہم اور سب سے فوری حل طلب مسئلہ سڑک پر چند منٹ کی نماز پڑھنا ہی ہے۔اس پورے میڈیا مینوفیکچرڈ پروپیگنڈے کے ذریعے ملک کے عام شہریوں کو یہ تاثر دینے کی منظم کوشش کی گئی کہ جیسے سڑک پر نماز کی وجہ سے ہی بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار یکسر رک گئی ہے، روپے کی قدر عالمی مارکیٹ میں دن بدن تاریخی زوال کا شکار ہے، ملک کی جی ڈی پی (GDP) چھ فیصد سے آگے نہیں بڑھ پا رہی، اور ملک میں پھیلی بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی، گرتی ہوئی معیشت، یہاں تک کہ حال ہی میں قومی سطح پر ہونے والے امتحانات کے پرچے (Paper Leaks) کی سنگین بدانتظامی کی ذمہ دار بھی یہی نماز ہی ہے!سیاسی نااہلیوں اور معاشی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلمانوں کی عبادت کو قربانی کا بکرا بنانا موجودہ اکثریتی سیاست کا بنیادی مہرہ بن چکا ہے۔ اسی منظم مہم کے تحت ملک بھر میں قربانی کے فریضے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ردعمل میں مسلمانوں نے ہمیشہ کی طرح امن و امان، سماجی رواداری اور ملک کے ماحول کو پرامن رکھنے کی خاطر رضاکارانہ طور پر یہ تک اعلان کیا کہ وہ گائے کا ذبیحہ نہیں کریں گے اور قانون کا احترام کریں گے۔ اس تاریخی سمجھوتے اور دستبرداری کے باوجود، ممبئی سے لے کر بنگال تک بکروں اور دیگر قانونی جانوروں کی قربانی میں بھی دانستہ، انتظامی اور سماجی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ نیت کسی قانون کا نفاذ نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کو ذہنی و نفسیاتی اذیت دینا ہے۔ممبئی کے ‘میرا روڈ کا حالیہ واقعہ اس ذہنیت کی بدترین مثال ہے، جہاں مسلم متوسط طبقے (Middle Class) کی ایک بہت بڑی، تعلیم یافتہ اور پیشہ ور آبادی رہتی ہے۔ وہاں ہندوتوا عناصر نے مسلم اکثریتی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اندر زبردستی خنزیر لانے کی کوشش کی، تاکہ مذہبی جذبات کو بھڑکایا جائے اور ماحول کو انتہائی اشتعال انگیز بنا کر فساد کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ایسے سنگین حالات میں آج ہر بھارتی مسلمان کے سامنے یہ وجودی سوال کھڑا ہے کہ اگر ملک کے اکثریتی طبقے کے ایک ہٹ دھرم دھڑے اور پورے ریاستی نظام کو اذان، نماز، حجاب اور قربانی جیسے بنیادی ترین مذہبی شعائر سے بھی اتنی نفرت ہے، تو بھارت کا آئین جس مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اس کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ اب مسلمان اپنی عبادات کیسے اور کہاں کریں گے؟ المیہ یہ ہے کہ اس پورے غیر آئینی عمل میں ملک کی حکمران جماعت کے رہنما اور انتظامیہ خود صفِ اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ صورت حال جہاں بھارتی جمہوریت کے سکڑتے ہوئے دائرے اور فاشسٹ طرزِ حکومت کو ظاہر کرتی ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بھارت کی سیکولر شناخت داغدار ہو رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہو رہی ہے، وہیں یہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے مستقبل، بالخصوص اس کی مذہبی شناخت اور شہری آزادی کے حوالے سے شدید اور گہری تشویش پیدا کر رہی ہے۔





Leave a Reply