نوراللہ جاوید
بارہویں صدی میں مسلمانوں کے عہد سے قبل، بنگال اپنی جغرافیائی حدود میں مقید ایک ایسی ریاست تھی جس کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع تھا۔ سین خاندان کی سخت گیر پالیسیوں نے بنگال کو ایک ایسے جزیرے میں تبدیل کر رکھا تھا جہاں دوسری تہذیب و تمدن سے استفادہ کرنے کی خواہش مفقود تھی اور پورا معاشرہ ذات پات کے سخت نظام میں جکڑا ہوا تھا۔ سماجی انصاف، رواداری اور ہم آہنگی، جو آج بنگالی معاشرے کی پہچان ہے، اس وقت بالکل نہیں تھی۔
مسلم دور میں بنکروں (Weavers) کو مراعات دی گئیں اور کارخانے قائم کیے گئے۔ مغل دور میں بنگال اکیلا پوری دنیا کی ٹیکسٹائل کی مانگ کا ایک بڑا حصہ پورا کرتا تھا۔ قرونِ وسطیٰ میں بنگال محض ایک زرعی خطہ نہیں تھا، بلکہ یہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں کا مرکز بن چکا تھا۔ مسلم سلاطین نے بنگال کی بندرگاہوں کو وہ وسعت عطا کی کہ اسے ’’مشرق کی دکان‘‘ کہا جانے لگا۔ بنگال کی دو بڑی بندرگاہیں، چٹاگانگ(Porto Grande) اورستگاؤں، عالمی تجارت کی شہ رگ تھیں۔ چٹاگانگ کے ذریعے خلیجِ بنگال کا رابطہ جنوب مشرقی ایشیا، چین اور مالدیپ سے تھا۔ عرب اور ایرانی تاجر یہاں سے چاول، ململ، چینی اور ادرک خرید کر عدن اور ہرمز کی منڈیوں تک پہنچاتے تھے۔ پرتگالی مورخین نے چٹاگانگ کی رونق کو دیکھ کر اسے ’’عظیم بندرگاہ‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ پندرہویں صدی میں الیاس شاہی خاندان کے دور میں بنگال اور چین کے منگ (Ming) خاندان کے درمیان قریبی تعلقات استوار ہوئے۔ چینی سیاح ماہوان (Ma Huan) اور بحری قزاق سے ایڈمرل بننے والے ژینگ ہے (Zheng He) نے بنگال کا دورہ کیا۔ چینی دستاویزی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ بنگال کے سلطان نے چینی شہنشاہ کو افریقی زرافے اور بیش قیمت تحائف بھیجے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بنگال کی سیاسی اور تجارتی پہنچ افریقہ سے لے کر مشرقِ بعید تک پھیلی ہوئی تھی۔
بنگال کی معیشت، جو کبھی مغل سلطنت کا 50 فیصد جی ڈی پی (GDP) فراہم کرتی تھی، برطانوی پالیسیوں کی وجہ سے محض چند دہائیوں میں قحط اور غربت کا شکار ہو گئی۔ اس تباہی کے پیچھے درج ذیل عوامل کارفرما تھے: مسلم دور میں ڈھاکہ کی ململ اور ریشم پوری دنیا میں مشہور تھے۔ انگریزوں نے اپنے ’’صنعتی انقلاب‘‘ (Industrial Revolution) کو کامیاب بنانے کے لیے بنگال کی صنعت کو تباہ کیا۔ بنگال کے کپڑے پر برطانیہ میں بھاری درآمدی ڈیوٹی (70 سے 80 فیصد) لگا دی گئی، جبکہ برطانوی مشینوں کا بنا ہوا سستا کپڑا بغیر کسی ٹیکس کے بنگال کی منڈیوں میں بھر دیا گیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ڈھاکہ کے ململ بننے والے ماہر کاریگروں کے انگوٹھے تک کاٹ دیے گئے تاکہ وہ برطانوی کپڑے کا مقابلہ نہ کر سکیں اور یہ فن ختم ہو جائے۔
1793ء میں لارڈ کارنوالس نے “دائمی بندوبست” (Permanent Settlement) نافذ کیا جس نے صدیوں پرانے زرعی ڈھانچے کو بدل دیا۔ پرانے رحم دل مسلم اور ہندو زمین داروں کی جگہ ایسے سنگدل ٹھیکیداروں کو دے دی گئی جن کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ لگان (Tax) وصول کرنا تھا۔ کسانوں سے ان کی پیداوار کا 50 فیصد سے 90 فیصد تک بطور ٹیکس لیا جانے لگا، جس سے وہ قرضوں کے جال میں پھنس کر اپنی ہی زمین پر مزارع بن گئے۔ انگریزوں نے اناج (چاول) کے بجائے ایسی فصلوں پر زور دیا جن سے انہیں نقد منافع ہو، جیسے نیل (Indigo)۔ کسانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی بہترین زمینوں پر نیل اگائیں، جس سے زمین بنجر ہو جاتی تھی اور اناج کی کمی پیدا ہو گئی۔ اس جبری کاشت نے بنگال کے کسانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا۔
برطانوی بدانتظامی کا سب سے بڑا ثبوت بنگال کے وہ قحط ہیں جنہوں نے کروڑوں جانیں لیں۔ 1770ء کا قحط: اس میں بنگال کی ایک تہائی آبادی (تقریباً ایک کروڑ لوگ) ہلاک ہو گئی۔ اس دوران بھی ایسٹ انڈیا کمپنی نے لگان کی وصولی میں کوئی رعایت نہیں دی۔ 1943ء کا عظیم قحط: دوسری جنگ عظیم کے دوران ونسٹن چرچل کی پالیسیوں کی وجہ سے بنگال کا اناج برطانوی فوجیوں کے لیے ذخیرہ کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں 30 سے 40 لاکھ بنگالی بھوک سے تڑپ کر مر گئے۔ مشہور ماہرِ معاشیات دادا بھائی نوروجی کے مطابق، برطانیہ نے بنگال سے دولت نچوڑ کر لندن منتقل کی۔ بنگال سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں سے ہی انگریزوں نے اپنی فوجیں پالیں اور پوری دنیا (بشمول ہندوستان) کو فتح کیا۔ یعنی بنگال کی دولت ہی بنگال کو غلام بنانے کے لیے استعمال ہوئی۔

