حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے پولیس پر من مانی کرنے کی الزامات لگایے
بنگلور:
حقوقِ انسانی گروپوں نے بنگلور پولیس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بنگلہ دیشیوں کی شناخت کے نام پر شہر بھر میں کیے گئے جانچ آپریشن کے دوران سینکڑوں مہاجر مزدوروں، بشمول خواتین اور بچوں، کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
ہفتہ کے روز بنگلور بھر میں سینکڑوں مہاجر مزدوروں کو حراست میں لیا گیا، جب پولیس نے مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کے لیے ’تصدیقی‘ آپریشن کرنے کا دعوی کیا۔ یہ دعویٰ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز آل انڈیا لائرز ایسوسی ایشن فار جسٹس ڈومیسٹک ورکرز رائٹس یونین اور آل انڈیا سینٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز کی جانب سے کرناٹک کے وزیرِ داخلہ، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور بنگلور کے پولیس کمشنر کو 8 اگست کو دی گئی شکایت میں کیا گیا ہے۔
شکایت میں آپریشن کے دوران مزدوروں کو ’غیر قانونی طور پر حراست میں لینے، تشدد کرنے اور غیر انسانی سلوک‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔
شکایت کے مطابق، ہفتہ کی صبح سویرے پولیس کی ٹیموں نے بنگلور کے مختلف علاقوں میں واقع جھونپڑی بستیوں میں داخل ہو کر سینکڑوں افراد، بشمول خواتین اور بچوں، کو حراست میں لیا۔ تنظیموں کے مطابق یہ کارروائی بظاہر ’بنگلہ دیشیوں کی شناخت‘ کے لیے کیے جانے والے آپریشن کا حصہ تھی۔شکایت میں کہا گیا، ’’حراست میں لیے گئے افراد کی اکثریت غریب، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور مہاجر مزدور ہیں۔‘‘
تنظیموں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد نے انہیں بتایا کہ پولیس صبح 6سے7بجے کے درمیان ان کے گھروں میں داخل ہوئی اور رہائشیوں سے شناختی دستاویزات پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ دستاویزات دکھانے کے باوجود لوگوں کو پولیس جیپوں اور بسوں میں بٹھا کر تھانوں، کنونشن سینٹرز، شادی ہالوں اور دیگر نجی مقامات پر لے جایا گیا۔
شکایت کے مطابق مذکورہ حقوق انسانی کے وکلا اور کارکنوں کی ٹیموں نے بعد میں ان پولیس اسٹیشنوں، کنونشن سینٹرز اور شادی ہالوں کا دورہ کیا جہاں لوگوں کو مبینہ طور پر حراست میں رکھا گیا تھا اور وہاں موجود حکام سے ملاقات کی۔
ورتھر پولیس اسٹیشن میں حکام نے مبینہ طور پر 41 افراد، بشمول خواتین، کو حراست میں لیا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم از کم چھ افراد سے بات کی، جنہوں نے الزام لگایا کہ انہیں لاٹھیوں سے مارا گیا اور زبردستی گاڑیوں میں بٹھایا گیا۔ان میں ایک 60 سالہ شخص، ایک ایسا شخص جو پہلے ہی زخمی اور بیمار تھا، اور ایک 30 سالہ شخص شامل تھا۔ شکایت کے مطابق، 30 سالہ شخص کو چار پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ بانڈے پالیا پولیس نے چار مختلف جھونپڑی بستیوں سے 200 سے زائد افراد، بشمول خواتین اور بچوں، کو حراست میں لیا۔
ہیباگوڈی میں تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا کہ پولیس نے ایک بستی میں دروازے اور سی سی ٹی وی کیمرے توڑنے کے بعد تقریباً 150 افراد کو حراست میں لے لیا۔ دورہ کرنے والی ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ اس نے 50 سے زائد موبائل فون ضبط کیے گیے ہیںأ
پرپنا اگراہارا پولیس نے مبینہ طور پر کڈلو، رایا سندرا، شانتی پورہ اور چوڈا سندرا سے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔ شکایت کے مطابق لوگوں کے موبائل فون ضبط کیے گئے اور تقریباً 20 افراد کے ایک گروپ کو الگ کمرے میں بند کر دیا گیا۔ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر مشتبہ غیر ملکی شہری قرار دیا۔
شکایت میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ سوما سندرا پالیا پولیس نے تقریباً 75 افراد،ہیل پولیس نے تقریباً 40، وائٹ فیلڈ پولیس نے 4، مہادیوپورہ پولیس نے 15 اور مراٹھاہلی پولیس نے 30 افراد کو حراست میں لیا۔
کارروائی کے دوران پولیس نے لوگوں کے دستاویزات کی جانچ کی اور مبینہ طور پر کئی موبائل فون ضبط کرکے ان کے نجی پیغامات اور کال لاگز کا بھی جائزہ لیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ افراد کو محض اس بنیاد پر فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) بھیج دیا گیا کہ ان کے کال ریکارڈز میں بین الاقوامی نمبرز موجود تھے۔
تنظیموں نے کہا، ’’فون میں کسی غیر ملکی نمبر کی موجودگی نہ تو غیر ملکی شہریت ثابت کرتی ہے اور نہ ہی اس بنیاد پر غیر ملکی شہری ہونے کا ابتدائی شبہ قائم کیا جا سکتا ہے۔‘‘
شکایت گزار تنظیموں نے اس آپریشن کو ’مکمل طور پر غیر قانونی اور آئینی طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو قانون کے ذریعے مقرر کردہ طریقہ کار کے بغیر اس کی آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
شکایت میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS)، 2023 کی دفعہ 35 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی شخص کو صرف اسی صورت میں گرفتار یا حراست میں لیا جا سکتا ہے جب اس کے بارے میں یہ یقین کرنے کی معقول وجہ موجود ہو کہ اس نے قابلِ شناخت جرم کیا ہے، اور پولیس افسر کو گرفتاری کی وجوہات ریکارڈ کرنا ضروری ہے۔
شکایت میں کہا گیا، ’’شہر بھر میں سینکڑوں افراد کو اس انداز میں من مانے طریقے سے حراست میں لینا مذکورہ قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘
تنظیموں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حراست میں لیے گئے کئی افراد نے انہیں بتایا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انہیں اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے پولیس کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
شکایت میں کہا گیاکہ ’’شہریت کی تصدیق کے بہانے پولیس ایک کھلی غیر قانونی کارروائی کر رہی ہے، جس کے تحت سینکڑوں حراست یافتگان کو بلاجواز شک کے دائرے میں لا کر من مانے طریقے سے ’مشتبہ افراد‘ قرار دیا جا رہا ہے۔‘‘
شکایت میں پولیس اہلکاروں پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حراست میں لیے گئے مزدوروں سے ملاقات کی کوشش کرنے والے وکلا کے ساتھ بھی مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا۔
تنظیموں کا کہنا ہے کہ پولیس نے معلومات فراہم کرنے یا حراست میں لیے گئے افراد کو وکلا سے بات کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا اور آپریشن پر سوال اٹھانے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کرنے کی دھمکی دی۔ شکایت کے مطابق، پولیس نے ان پر تصدیقی عمل میں ’رکاوٹ‘ اور ’خلل‘ ڈالنے اور اس طرح ’غیر قانونی تارکینِ وطن‘ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔
تنظیموں نے بتایا کہ شکایت دائر کیے جانے تک کچھ افراد کو رہا کر دیا گیا تھا، جبکہ دیگر افراد ’تصدیق‘ کے نام پر بدستور حراست میں تھے۔ ان کے خلاف مزید کیا کارروائی کی جائے گی، اس بارے میں بھی کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’’حتیٰ کہ اگر پولیس کسی فرد کی شناخت یا دستاویزات کی تصدیق کرنا چاہتی ہے تو یہ عمل قانونی طریقۂ کار، مناسب نوٹس، انسانی وقار اور اپنا مؤقف پیش کرنے کے موقع کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ اسے کسی محنت کش آبادی کو ان کے رہائشی مقام، پیشے یا مبینہ شناخت کی بنیاد پر اجتماعی طور پر حراست میں لینے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘
تنظیموں نے بدستور حراست میں موجود تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے ساتھ ساتھ زخمی افراد کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے آپریشن کی آزادانہ تحقیقات، اس میں ملوث پولیس اہلکاروں کی شناخت، ان کے خلاف محکمانہ اور تادیبی کارروائی اور مبینہ جرائم کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
شکایت میں آپریشن سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، اسٹیشن ڈائری کے اندراجات اور دیگر تمام ریکارڈ محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کو معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جسے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
تنظیموں نے پولیس اسٹیشنوں کو واضح ہدایات جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ ایسا کوئی ’تصدیقی‘ آپریشن بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS)، آئینِ ہند اور سپریم کورٹ کی مقرر کردہ قانونی ہدایات کی سختی سے پابندی کے بغیر نہ کیا جائے۔
