ترنمول کانگریس کے باغی ممبران پارلیمنٹ کا’’این سی پی ‘’ میں انضمام۔قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کی کوشش مگر نااہلی کا خطرہ برقرار

ترنمول کانگریس کے باغی ممبران پارلیمنٹ کا’’این سی پی ‘’ میں انضمام۔قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کی کوشش مگر نااہلی کا خطرہ برقرار

نئی دہلی:

ترنمول کانگریس کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے اتوار (14 جون) کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ وہ کم معروف علاقائی جماعت ’’نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا‘‘ (این سی پی آئی) میں ضم ہو رہے ہیں۔ مبصرین اس اقدام کو دل بدل مخالف قانون (اینٹی ڈیفیکشن لا) کے تحت نااہلی سے بچنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

یہ قدم ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کو ایک خط بھیجے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ قانون کسی سیاسی جماعت کے ٹکڑے ہونے یا اس کے اندر متوازی دھڑوں کے قیام کو تسلیم نہیں کرتا۔

این سی پی آئی 2022 کے اواخر میں قائم ہوئی تھی اور اس نے آخری بار 2023 کے تریپورہ اسمبلی انتخابات میں تین نشستوں پر انتخاب لڑا تھا۔ اس کے مقابلے میںترنمول کانگریس لوک سبھا میں 28 ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت اور ایوان کی تیسری بڑی اپوزیشن پارٹی ہے۔

باغی ارکان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ٹی ایم سی کے 28 میں سے 20 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جولائی میں پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران وہ ترنمول کانگریس پر اپنا دعویٰ پیش کریں گے کیونکہ ان کے پاس پارٹی کے دو تہائی ارکان کی حمایت موجود ہے۔

اگرچہ اس اقدام کا مقصد دل بدل مخالف قانون کی زد سے بچنا ہے، تاہم آئینی امور کے ماہر اور لوک سبھا کے سابق جنرل سکریٹری پی ڈی ٹی اچاریہ کا کہنا ہے کہ یہ تصور درست نہیں کہ اگر کسی جماعت کے دو تہائی ارکانِ پارلیمنٹ یا اسمبلی کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں تو وہ دسویں شیڈول کے پیراگراف 4 کے تحت نااہلی سے بچ جائیں گے۔ ان کے مطابق قانون اصل سیاسی جماعت کے انضمام کو تسلیم کرتا ہے، نہ کہ اس کے منتخب نمائندوں کے انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی دوسری جماعت میں شامل ہونے کو۔

باغی ارکانِ پارلیمنٹ اس سے قبل یہ اعلان کر چکے تھے کہ وہ لوک سبھا میں ایک الگ دھڑے کی حیثیت سے کام کریں گے۔

تاہم اتوار کی شام باغی ارکان کی اسپیکر اوم برلا سے ملاقات سے قبل ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی، جو ممتا بنرجی کے بعد پارٹی میں دوسرے سب سے بااثر رہنما سمجھے جاتے ہیں، نے اسپیکر کو ایک خط ارسال کیا۔

یہ خط ترنمول کانگریس کے دو ارکانِ پارلیمنٹ، ساگاریکا گھوش اور کیرتی آزادکے ذریعے پہنچایا گیا۔ خط میں اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا کہ ترنمول کانگریس کو ایک واحد اور ناقابلِ تقسیم سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور پارٹی کے اندر کسی بھی متوازی گروپ یا دھڑے کو قانونی حیثیت نہ دی جائے۔

بعد ازاں، اسپیکر سے ملاقات کے بعد باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے علیحدہ دھڑا بنانے کے بجائے این سی پی آئی میں انضمام کا اعلان کر دیا۔ یہ ملاقات ان کی مرکزی وزیر بھوپیندر یادو سے ملاقات کے چند گھنٹے بعد ہوئی، جو مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق انتخابی انچارج رہ چکے ہیں۔

ترنمول کانگریس کی پارلیمانی بغاوت کے اہم رہنماؤں میں شامل رکنِ پارلیمنٹ کاکولی گھوش دستیدار نے کہاکہ

ترنمول کے 20 ارکانِ پارلیمنٹ، جو پارٹی کے دو تہائی ارکان بنتے ہیں، نے لوک سبھا اسپیکر کو الگ نشستوں کے انتظام کے لیے خط دیا ہے۔ ہم یہ 20 ارکان اب نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی میں ضم ہو جائیں گے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں این ڈی اے کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔”

سابق پارلیمانی لیڈر سدیپ بندوپادھیائے نے کہا کہ اگرچہ باغی ارکان این سی پی آئی میں ضم ہو رہے ہیں، لیکن وہ جولائی میں ٹی ایم سی پر اپنا دعویٰ بھی پیش کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں، جو ایک تسلیم شدہ علاقائی جماعت ہے۔ یہی قانونی طریقۂ کار ہے۔ جب آپ پارٹی کے دو تہائی ارکان کے ساتھ الگ ہوتے ہیں تو پہلے ہی دن پارٹی کے نام پر دعویٰ نہیں کر سکتے۔ جولائی میں پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے پر ہم ترنمول کانگریس کے نام کا مطالبہ کریں گے کیونکہ ہمارے پاس دو تہائی ارکان کی حمایت موجود ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے اور حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔

پی ڈی ٹی اچاریہ نے لکھا کہ اگر کسی جماعت کے دو تہائی ارکان کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں تو اسے آئینی معنوں میں انضمام نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے لکھاکہ ’’پیراگراف 4 کے تحت استثنیٰ صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے جب اصل سیاسی جماعت کسی دوسری جماعت میں ضم ہو جائے اور اس کے دو تہائی ارکانِ پارلیمنٹ یا اسمبلی اس انضمام سے اتفاق کرتے ہوئے نئی جماعت کا حصہ بن جائیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انضمام سیاسی جماعت کا ہوتا ہے، ارکانِ پارلیمنٹ یا اسمبلی کا نہیں۔

اچاریہ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں ’’ڈاکٹر مہا چندر پرساد سنگھ بنام چیئرمین، بہار قانون ساز کونسل‘‘ (2004) اور ’’سبھاش دیسائی بنام پرنسپل سکریٹری، حکومتِ مہاراشٹر‘‘ (2023) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ نااہلی سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے اصل سیاسی جماعت کا انضمام ضروری ہے۔
ان کے مطابقاگر چند ارکانِ پارلیمنٹ یا اسمبلی کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں تو یہ انضمام نہیں بلکہ سیدھا سادہ دَل بدل ہے۔
ادھر باغی گروپ کی جانب سے علیحدہ دھڑا بنانے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ابھیشیک بنرجی نے بھی سپریم کورٹ کے 2023 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر اوم برلا سے مطالبہ کیا کہ ٹی ایم سی کو ایوان میں صرف اس کے مجاز رہنما اور وہپ کے ذریعے نمائندگی کرنے والی واحد سیاسی جماعت تسلیم کیا جائے اور کسی مبینہ علیحدہ گروپ یا دھڑے کو کوئی سرکاری حیثیت یا سہولت نہ دی جائے۔
اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ اگرچہ ترنمول کانگریس کے بعض ارکانِ پارلیمنٹ نے یا آئندہ ایسا خط بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں خود کو قانون ساز پارٹی سے الگ گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم ٹی ایم سی ایک واحد اور ناقابلِ تقسیم جماعت ہے۔
اطلاعات کے مطابق خط میں کہا گیاہے کہ اے آئی ٹی سی ایک واحد اور ناقابلِ تقسیم سیاسی جماعت ہے۔ لوک سبھا میں اس کی پارلیمانی پارٹی کا وجود اسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہے۔ قانون کی نظر میں صرف ایک ہی اے آئی ٹی سی ہے، ایوان میں ایک ہی پارلیمانی لیڈر اور ایک ہی وہپ ہے، اور یہ تمام عہدے پارٹی کی مجاز تنظیمی اتھارٹی کی منظوری سے قائم ہیں۔
خط میں مزید کہا گیاکہ ’’کوئی بھی رکن یا ارکان کا گروپ اپنی مرضی سے اسی جماعت کے اندر ایک متوازی گروپ یا دھڑا قائم نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایوان کے اندر الگ شناخت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
خط میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے 2023 کے فیصلے اور دسویں شیڈول کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قانون کسی سیاسی جماعت کے ’’ٹکڑے ہونے‘‘ یا ’’متوازی دھڑوں میں تقسیم ہونے‘‘ کو تسلیم نہیں کرتا۔
پی ڈی ٹی اچاریہ نے کہاکہ “کوئی ایسی قانونی شق موجود نہیں جو اسپیکر کو یہ اختیار دے کہ وہ ناراض یا باغی ارکانِ پارلیمنٹ کے کسی گروپ کو ایوان میں الگ بلاک یا علیحدہ گروپ کی حیثیت سے تسلیم کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *