جواہر سرکار
17 اکتوبر کی شام شمالی کلکتہ کے ایک درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں 19 افراد کی ہلاکت کی خبر سامنے آتے ہی پورے کلکتہ میں صدمے کی لہر دوڑ گئی۔ ہمیں جو معلومات موصول ہوئی ہیں، ان کے مطابق شام تقریباً 7 بج کر 40 منٹ پر بارش شروع ہوتے ہی لوگوں نے تیزی سے پنڈال کا رخ کیا تاکہ وہاں پناہ لے سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پنڈال کا ایک راستہ انتہائی تنگ تھا، جس کی وجہ سے لوگوں کی آمدورفت کی رفتار کافی سست ہو گئی۔ انہی حالات میں بھگدڑ مچی۔ ٹی وی کیمروں کے سامنے لوگوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس بار پولیس کی جانب سے بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے، حالاں کہ گزشتہ برسوں میں ایسا ہوتا رہا تھا۔
کلکتہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں، جہاں تقریباً 25 زخمیوں کو داخل کرایا گیا تھا، پریشان لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔ ہم نے وزیرِ اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کو یہ یقین دہانی کراتے ہوئے سنا کہ تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ اسپتال سے باہر آئے اور اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کہا، ’’ہم دوسری حکومتوں کی طرح نہیں ہیں۔‘‘ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے اس جملے کا اصل مقصد کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق، حکومت نے زیرِ علاج افراد کے اہلِ خانہ سے کہا ہے کہ وہ ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لیے مریضوں کو شہر سے دور کسی پرائیوٹ اسپتال میں منتقل کر دیں۔ یہ اسپتال ملک کےقدیم ترین میڈیکل کالجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تجویز سے بالواسطہ طور پر یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ یہ تاریخی ادارہ اب مطلوبہ معیار کی طبی سہولتیں فراہم نہیں کر پا رہا۔ اس بات نے عام لوگوں کے حساس جذبات کو متاثر کیا، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مہنگے پرائیوٹ اسپتالوں میں علاج کا خرچ برداشت کرنا ان کے بس میں نہیں۔
اس خوف ناک صورتِ حال سے عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے ادھیکاری نے علاج اور معاوضے کی مد میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ادھر وزیرِ اعظم نے بھی ہلاک شدگان کے
لواحقین کے لیے بھاری معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، پورے شہر اور ریاست میں غم کے ساتھ ساتھ عوامی غصہ بھی نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔

ایک بات واضح ہے کہ ادھیکاری حکومت سے پہلے کسی بھی حکومت کو اس نوعیت کے کسی بڑے عوامی سانحے کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ کلکتہ اپنی درگا پوجا اور بڑی سیاسی ریلیوں کے دوران لاکھوں لوگوں کے ہجوم کو بغیر کسی بڑے افسوس ناک حادثے اور ناقص انتظامات کے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے مشہور رہا ہے۔ گزشتہ سال درگا پوجا کے بعد کلکتہ میٹرو ریل نے صرف پانچ دنوں کے دوران تقریباً 42 لاکھ مسافروں کے سفر کرنے کی اطلاع دی تھی۔
یہ صرف میٹرو کے مسافروں کے اعداد و شمار ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی مستند ریکارڈ نہیں کہ کتنے لوگوں نے لوکل ٹرینوں، بسوں، ٹراموں، ٹیکسیوں اور ذاتی گاڑیوں کا استعمال کیا۔ تاہم، اگر تہوار کے اس موسم میں سڑکوں پر موجود لوگوں کی تعداد کا تخمینہ ایک کروڑ کے قریب لگایا جائے تو اسے مبالغہ آرائی نہیں کہا جا سکتا۔ تجربہ کار پولیس افسران کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ یہ تخمینہ حقیقت سے کم ہو سکتا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران اس پیمانے کا کوئی بڑا بھگدڑ کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ کلکتہ پولیس نے ہجوم کے مؤثر انتظام کے معاملے میں ایک شاندار ساکھ قائم کی تھی۔ تو پھر اس بار ایسا کیا غلط ہو گیا؟
سب سے نمایاں حقیقت یہ ہے کہ مغربی بنگال میں اب حکومت کا تمام تر اختیار ایک ہی شخص کے ہاتھ میں سمٹ گیا ہے۔ نئے وزیرِ اعلیٰ نہ صرف انتہائی نمایاں ہیں بلکہ ان کا مزاج بھی قدرے جارحانہ ہے، اور وہ ریاست کے بیشتر معاملات خود چلانا چاہتے ہیں۔ کابینہ کے 41 وزرا میں صرف ایک خاتون وزیر کبھی کبھار سرخیوں میں آتی ہیں، لیکن اکثر غلط وجوہات کی بنا پر۔ بدقسمتی سے وہ ایسے متنازع فیصلوں کے لیے مشہور ہو چکی ہیں جو بعد میں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ محض چار دن پہلے انہوں نے اہم فلائی اوورز کی سڑکوں پر قوسِ قزح کے رنگوں سے پینٹنگ کرانے کی نگرانی کی، لیکن گاڑیوں کے پھسلنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد اگلے ہی دن ادھیکاری کو ان رنگوں کو ہٹانے کا حکم دینا پڑا۔
اس کے علاوہ کسی دوسرے وزیر کا بیان شاذونادر ہی سننے کو ملتا ہے۔ کسی کو اپنے کام کی تشہیر کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ ایک معروف وزیرِ خزانہ نے بھی اپنی سیاسی بقا کی خاطر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ چنانچہ، جب تمام اختیارات ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہوں تو وہی ہر معاملے کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتا ہے، اور وزیرِ اعلیٰ ہر وقت غصے میں دکھائی دیتے ہیں۔
وہ طلبا، سیکولر حلقوں، ’کاکروچ مظاہرین اور پوری اپوزیشن، بشمول بائیں بازو کی جماعتوں اور ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، کے سخت مخالف ہیں۔ ممتا بنرجی کے مزاج میں بھی جارحیت کے لمحات آتے تھے، لیکن وہ اگلے ہی لمحے مسکرا بھی سکتی تھیں۔ نئے وزیرِ اعلیٰ کے رویے میں اس نرمی کا دور دور تک کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا۔
مدنی پور کے ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے کبھی ممتا بنرجی کے ایک کٹر حامی کی حیثیت سے بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کی تھی۔ اس دور کی ان کی تقاریر اور ویڈیوز آج بھی سماجی ذرائع ابلاغ پر گردش کرتی ہیں، حالاں کہ اب وہ اپنا سیاسی مؤقف یکسر تبدیل کر چکے ہیں اور بی جے پی پر تنقید کرنے والوں کو کھلے عام دھمکیاں دیتے ہیں۔

2016 میں ایک خفیہ کیمرے سے کیے گئے اسٹنگ آپریشن کے دوران انہیں مبینہ طور پر نقد رقم لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد مودی حکومت کے حلقوں نے ان کے خلاف بدعنوانی کے معاملات اٹھائے تھے اور خود وزیرِ اعظم نے بھی انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن 2021 میں وہ اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کرکے بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ ممتا بنرجی کے بااثر بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو اپنا سیاسی سربراہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، جب کہ دوسری جانب وہ زیادہ سیاسی مراعات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مقامی بی جے پی قیادت اس تبدیلی سے خوش نہیں تھی، لیکن امت شاہ کے حکم پر اسے یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔
اس هکے بعد بی جے پی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی، بے تحاشا پیسہ خرچ کیا اور ریاست میں چھوٹے سے چھوٹے رہنما کی حفاظت کے لیے بھی مرکزی فورسز تعینات کیا گیا۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس بھی بدعنوانی اور متکبرانہ طرزِ عمل سے باز نہیں آئی، جس نے بی جے پی کے لیے سیاسی زمین ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس پس منظر میں ریاست کے چیف الیکشن کمشنر نے مبینہ طور پر مغربی بنگال کے تقریباً ایک کروڑ ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کر دیے۔ انہیں سپریم کورٹ کی مکمل پشت پناہی بھی حاصل تھی، اور انتخابات کے دوران مرکزی فورسز کی ایسی بڑی تعداد تعینات کی گئی، جس کی ریاست نے اس سے پہلے مثال نہیں دیکھی تھی۔
مئی 2026 میں ادھیکاری نے ایک اور غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے تقریباً ایک ماہ تک بغیر کابینہ کے اکیلے ہی پوری ریاستی حکومت چلائی۔ کابینہ کی حلف برداری کے بعد بھی انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام اہم اختیارات انہی کے پاس رہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ریاست کی 27 فیصد مسلم آبادی کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنارہے ہیں۔ فلاحی اسکیموں میں کٹوتی کی گئی، مسلمانوںکو بنگلہ دیشی قرار دے کر ہراساں کیا گیا، تہواروں کے دوران پابندیاں عائد کیں گئیں اور اقلیتی تعلیمی و مذہبی اداروں پر چھاپے مارنے جیسے الزامات لگے۔ اس طرح وہ بی جے پی کے ایک سخت گیر ہندوتوا چہرے کے طور پر ابھرکر سامنے آئے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے وہ ارکانِ اسمبلی، جو عوامی غصے کے باوجود بمشکل کامیاب ہوئے تھے، ان میں سے تقریباً 90 فیصد کو ادھیکاری نے اپنی جماعت میں شامل کر لیا، تاکہ انہیں مجرمانہ الزامات سے تحفظ فراہم کیا جا سکے اور حکومت پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو۔
مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ بی جے پی وزیرِ اعلیٰ کی اگلی حکمتِ عملی سخت زبان اور انتظامیہ کے مبینہ جانبدارانہ فیصلوں کے ذریعے پورے معاشرے میں خوف کا ماحول پیدا کرنا تھی۔
جب جادو پور یونیورسٹی کے طلبا نے غنڈوں کے حملے کے خلاف احتجاج کیا تو ادھیکاری نے زعفرانی بریگیڈ کے ہمراہ ایک بڑا جلوس نکالا، جس میں نیم برہنہ ناگا سادھو بھی شامل تھے۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر کھڑے ہو کر طلبہ اور اساتذہ کو ذاتی طور پر دھمکیاں دیں اور یوں ایک اور غلط مثال قائم کی۔
ان کی ترجیحات میں ریلوے کی زمینوں سے غریب خوانچہ فروشوں کو زبردستی ہٹانا بھی شامل تھا۔ یہ ایک انتہائی متنازع قدم تھا، کیوں کہ ریاست کی بڑی آبادی اس سستے معاشی نظام سے وابستہ ہے اور اسی کے ذریعے اپنا روزگار چلاتی ہے۔
وہی پولیس فورسیس جسے ادھیکاری برسوں تک ممتا بنرجی کی حکومت کا آلۂ کار قرار دے کر تنقید کا نشانہ بناتے تھے، اب ان کی خدمت میں حاضر دکھائی دیتی ہے اور ان کے ہر چھوٹے بڑے حکم کی پیروی کرتی ہے۔ انہوں نے ریاست بھر میں احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے پولیس کو کھلی چھوٹ دے رکھی۔ پہلے ’کاکروچز‘ یعنی مظاہرین پر وحشیانہ حملوں کے الزامات سامنے آئے، پھر بائیں بازو کی جماعتوں اور ترنمول کانگریس کے خلاف پوری طاقت استعمال کی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ادھیکاری نے درگا پوجا کے ان ایام میں اپنی تمام تر توانائیاں اختلافِ رائے کو دبانے اور روایتی پوجا پنڈالوں کے قریب بائیں بازو کی جماعتوں کے کتابوں کے اسٹال بند کرانے میں صرف کر دیں، حالاں کہ یہ جماعتیں برسوں سے وہاں اسٹال لگاتی رہی ہیں۔ ان کے حامی اس بات کو یقینی بنانے میں بھی سرگرم رہے کہ گیانیش کمار کی قیادت میں جاری خصوصی نظرثانیٔ فہرستِ رائے دہندگان (ایس آئی آر) کے خلاف منعقد ہونے والا عوامی کنونشن کسی ڈھکے چھپے ہال میں بھی نہ ہو سکے۔ کھلے آسمان تلے ہونے والا یہ بڑا عوامی اجتماع حکومت کے لیے ایک سنگین انتباہ تھا، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
ادھیکاری نے مغربی ہندوستان سے ایک نوجوان بابا جی کو بھی مدعو کیا اور ان کی بھرپور سرپرستی کی۔ اسی دوران انہوں نے درگا پوجا اور نوراتری کے دنوں میں غیر سبزی خور کھانا کھانے پر ریاست کے عام لوگوں کی سرعام مذمت کی۔ پوری ریاست میں اس غیر ضروری مداخلت کے خلاف احتجاج ہوا، لیکن ادھیکاری نے پولیس کو ان لوگوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جنہوں نے مبینہ طور پر اس بابا جی کی تصویر کی ’تذلیل‘ کی تھی۔
انہوں نے باہر سے آنے والی ہندوتوا روایت کو مسلط کرتے ہوئے بنگال کے صدیوں پرانے کثرت پسند ثقافتی مزاج اور روایتی تہواروں کو ایک سخت گیر ہندو رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ مطلق العنان طاقت کے نشے میں ادھیکاری اور ان کی پولیس رفتہ رفتہ بنگال کی اس روایت کو فراموش کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے احترام پر مبنی ہے۔
شوبھندو اور ان کے وزرا کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ ان کی ہندی کتنی کمزور اور مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ مسلسل اسی زبان میں بیانات دینے پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ رویہ مقامی لوگوں میں ناگواری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اس سخت گیر حکومت کے دور میں طنز و مزاح کا ایک ذریعہ بھی بن گیا ہے۔
ان تمام واقعات کا نچوڑ اور واحد پیغام یہ ہے کہ جو پولیس فورس اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کے لیے جانی جاتی تھی، وہ اب اس بات میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے کہ اپنے نئے سیاسی آقاؤں کے غصے سے کیسے بچا جائے اور سابقہ حکومت کے مقابلے میں اپنی وفاداری کیسے ثابت کی جائے۔ پولیس اہلکار عوام کے امڈتے ہوئے سمندر کو سنبھالنے کے بجائے بائیں بازو کی جماعتوں کے اسٹال اکھاڑنے اور سیاسی پسند و ناپسند کی تکمیل میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
شمالی کلکتہ کا یہ دل دہلا دینے والا سانحہ آسانی سے ٹالا جا سکتا تھا، اگر پولیس کو زیادہ پیشہ ورانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں کام کرنے کی اجازت دی جاتی اور وزیرِ اعلیٰ انتظامی سربراہ کی حیثیت سے غیر جانب دارانہ طرزِ عمل اپناتے، نہ کہ ایک نوآموز مذہبی انتہا پسند فسادی کی طرح۔
یہاں تک کہ ہندوستان کے اب تک کے سخت گیر ترین وزرائے داخلہ میں شمار ہونے والے مرکزی وزیرِ داخلہ بھی اپنے تمام سرکاری اور عوامی پروگرام منسوخ کرکے کلکتہ پہنچ گئے۔ اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے بعد وہ واپس روانہ ہو رہے ہیں۔ ہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے اس چہیتے شاگرد ادھیکاری کو کچھ مخلصانہ مشورہ دیں گے کہ سیاسی انتقام اور جارحیت کبھی بھی اچھی اور مؤثر حکمرانی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
*جواہر سرکار ترنمول کانگریس کے سابق رکنِ راجیہ سبھا ہیں۔ وہ اس سے قبل حکومتِ ہند میں سکریٹری اور پرساد بھارتی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔*
