اعجاز اشرف
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ 2029 سے پہلے بی جے پی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت والی تمام ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کردیا جائے گا۔ تاہم، اس سے پہلے اتراکھنڈ میں یو سی سی کے اثرات کا جائزہ لینا اہم ہوگا، کیونکہ یہ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں جنوری 2025 میں یو سی سی نافذ کیا گیاتھا۔اس جائزے سے ایک اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یو نیفارم سول کوڈ نے خواتین کے وراثتی حقوق کو عملی طور پر مضبوط کیا ہے، یا بعض صورتوں میں انہیں نئے خطرات سے دوچار کر دیا ہے؟اور محروم کئے جانے کی راہ ہموار کردی ہے۔؟
یونیفارم سول کوڈ کو شادی، طلاق اور وراثت سمیت مختلف معاملات میں تمام مذاہب کے درمیان صنفی برابری قائم کرنے کے ایک اہم قدم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ شادی اور طلاق کے معاملات پر کافی بحث ہو چکی ہے، لیکن اتراکھنڈ میں مسلم خواتین کے وراثتی حقوق پر یونیفارم سول کوڈ کے اثرات بھی توجہ طلب ہیں۔
اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق عام طور پر بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں نصف حصہ ملتا ہے۔ اسی طرح مسلمان اپنی جائیداد کے ایک تہائی تک کی وصیت کر سکتا ہے، جبکہ باقی جائیداد وراثتی اصولوں کے تحت تقسیم ہوتی ہے۔ اگر کسی وارث کو اس کا حق نہ ملے تو وہ قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتا ہے۔
یونیفارم سول کوڈ کے تحت وراثت کے لیے بنیادی طور پر دو صورتیں تسلیم کی گئی ہیں وصیت کے بغیر وراثت اور وصیت کے ذریعے جائیداد کی منتقلی۔
اگر کوئی شخص بغیر وصیت کے فوت ہو جائے تو یو نیفارم کوڈ کے تحت اس کے قانونی وارثوں میں جائیداد تقسیم ہوتی ہے۔ دوسری صورت میںوصیت کے ذریعے جائیداد کی تقسیم کی جا سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر کوئی مسلمان اپنی جائیداد کو اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم کرنا چاہے تو وہ کس حد تک ایسا کر سکتا ہے؟
دہرادون کے ایک مسلم وکیل، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی درخواست کی کے مطابق عملی صورت حال مختلف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پانچ مسلم افراد کے لیے وصیتیں تیار کی ہیں اور ان سب میں بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کیا گیا۔
وکیل کے مطابق تین افراد نے اپنی وصیت میں یہ درج کرایا کہ ان کی بیٹیاں شادی شدہ زندگی میں خوش ہیں اور جائیداد بیٹوں کو منتقل کیے جانے پر رضامند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا رجحان بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ نینی تال کے وکیل محمد یوسف اور بعض مسلم سماجی کارکنوں نے بھی اس رجحان کی تصدیق کی۔
اس صورت حال میں ایک بنیادی خدشہ یہ ہے کہ مسلم خواتین، جنہیں یو نیفارم سول کوڈ کے تحت بھائیوں کے برابر وراثتی حقوق حاصل ہوئے ہیں، وصیت کے ذریعے اپنے اس قانونی حق سے بھی محروم ہو سکتی ہیں۔
وصیت کی رجسٹریشن میں اضافہ؟
دہرادون کے مذکورہ وکیل نے بتایا کہ ان کے زیادہ تر مؤکل غیر مسلم ہیں۔ انہوں نے ہندو خاندانوں کے حوالے سے بھی ایک تبصرہ بیان کیا
ان کے مطابق انہوں نے تقریباً 30 وصیتیں تیار کی ہیں، جن میں سے لگ بھگ 20 میں زرعی زمین میں بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا گیا۔ بعض معاملات میں انہیں صرف غیر زرعی جائیداد میں حصہ دیا گیا اور وہ بھی بیٹوں کے برابر نہیں تھا۔
ان کے مطابق جن خاندانوں میں بیٹے نہیں تھے، وہاں بعض والدین نے بیٹیوں کو زرعی زمین میں حصہ دیا۔
دہرادون سیشنز کورٹ اور نینی تال میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے وکیل سنکلپ چترویدی نے بھی کہا کہ یو نیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے بعد وصیتوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے۔
ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے وکیل ششانک پانڈے نے بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایسا ہو رہا ہے۔
دہرادون کی وکیل اور اتراکھنڈ مہلا منچ کی سینئر رہنما چندرکلا نے بھی وصیتوں میں اضافے کا ذکر کیا۔ ان کا مشاہدہ ان کے ذاتی تجربے اور جونیئر وکلا سے گفتگو پر مبنی تھا۔
وصیت کی رجسٹریشن میں اضافے کے معاملے کو یو نیفارم کی دفعہ 390 سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جس کے مطابق اگر کسی دوسرے قانون سے تصادم ہو تو یو نیفارم کی دفعات کو فوقیت حاصل ہوگی۔
اس کا خاص اثر خواتین کے زرعی زمین میں وراثتی حقوق پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ جنوری 2025 تک اتراکھنڈ میں زرعی زمین کی وراثت پر اتر پردیش زمینداری خاتمہ و اراضی اصلاحات قانون، 1951 کے تحت قواعد نافذتھے، نہ کہ ہندو سکسشن ایکٹ، 1956 کے تحت۔
کی دفعہ 171 کے تحت زرعی زمین کی وراثت بنیادی طور پر مرد نسبی اولاد تک محدود تھی۔ تاہم مئی 2021 میں اس قانون میں ترمیم کی گئی، جس کے بعد متوفی کی بیوی، غیر شادی شدہ بیٹیوں اور بعض حالات میں طلاق یافتہ یا پھر بیوہ بیٹیوں کو بھی بیٹے کے برابر حقوق دیے گئے۔
ترک شدہ بیٹی سے مراد ایسی بیٹی تھی جو طلاق یافتہ ہو یا اپنے شوہر سے علیحدہ رہ رہی ہو اور اس کے بچے نہ ہوں۔ وراثت کی اگلی ترجیحی سطح پر متوفی کے والدین آتے تھے، جبکہ شادی شدہ بیٹیاں اس کے بعد کی سطح پر تھیں۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ شادی شدہ بیٹی کو زرعی زمین میں وراثت اسی وقت مل سکتی تھی جب اس سے پہلے درج تمام وارث موجود نہ ہوں۔
یہ نظام اس روایتی تصور سے جڑا ہوا تھا کہ شادی کے بعد بیٹی اپنے آبائی خاندان کی مستقل رکن نہیں رہتی۔
یو سی سی نے اس فرق کو ختم کر دیا ہے۔ اب شادی شدہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کے درمیان وراثت کے معاملے میں فرق نہیں کیا جاتا اور زرعی و غیر زرعی جائیداد کے حوالے سے بھی الگ اصول نہیں ہیں۔
یو سی سی کے تحت اگر کوئی باپ بغیر وصیت کے فوت ہو جائے تو اس کی بیٹیاں زرعی اور غیر زرعی دونوں طرح کی جائیداد میں اپنے بھائیوں کے برابر حصہ حاصل کر سکتی ہیں۔
لیکن بعض والدین کو یہ خدشہ ہے کہ بیٹی کے سسرال والے بالواسطہ طور پر آبائی جائیداد میں حق حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے باعث بعض والدین وصیت کے ذریعے بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صرف ایک تہائی جائیداد کی وصیت کی تجویز
اس صورت حال کو روکنے کے لیے سماجی کارکن خورشید احمد، جو یو سی سی کے خلاف ہائی کورٹ میں دائر کیے گئے مقدمے کے درخواست گزاروں میں شامل ہیں، نے یو سی سی کمیٹی کی سربراہ رنجنا پرکاش دیسائی کو تجویز دی تھی کہ والدین کو اپنی جائیداد کے صرف ایک تہائی حصے کی وصیت کرنے کی اجازت دی جائے، جبکہ باقی جائیداد ان کی اولاد میں لازمی طور پر تقسیم ہو۔
تاہم یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔ ممکنہ طور پر اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کسی شخص کی اپنی کمائی ہوئی جائیداد کے بارے میں اس کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی تھی۔
یو سی سی کمیٹی کے رکن منو گور سے جب وصیتوں کی رجسٹریشن میں اضافے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس دعوے کو ایک مختلف تناظر میں پیش کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اتراکھنڈ میں تقریباً 25 سے 30 لاکھ خاندان ہیں اور جنوری 2025 میں یو سی سی کے نفاذ سے 24 ستمبر 2026 تک 70007وصیتیں رجسٹر ہوئی تھیں۔
ان کے مطابق یہ تعداد اپنے آپ میں کسی بڑے رجحان کا ثبوت نہیں ہے اور اس کا درست جائزہ لینے کے لیے یو سی سی سے پہلے کے برسوں کے اعداد و شمار سے موازنہ ضروری ہے۔
وصیت کرنے کی وجوہات کے بارے میں گور نے کہا کہ ہندوستان میں عمر رسیدہ افراد کے لیے مغربی ممالک کی طرح اولڈ ایج ہومز اور دیگر ادارہ جاتی سہولتیں محدود ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے یہ فطری بات ہے کہ وہ اپنی جائیداد اس شخص کے نام کریں جو ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ان کے مطابق ایسے معاملات میں عموماً بیٹے والدین کی دیکھ بھال کرتے ہیں، کیونکہ بیٹیاں شادی کے بعد اکثر اپنے سسرال میں رہتی ہیں۔
اتراکھنڈ یو سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق، تقریباً 21 ماہ کے عرصے میں صرف 17 بغیر وصیت وراثت کی رجسٹریشن ہوئی، جن میں قانونی وارثوں کا اعلان کیا گیا۔
یہ تعداد اس لیے قابل توجہ ہے کہ اسی عرصے میں ہزاروں وصیتیں رجسٹر ہوئیں۔ 24 ستمبر تک وصیتوں کی تعداد7007 تھی، جو 28 ستمبر تک بڑھ کر7740ہو گئی۔
بغیر وصیت وراثت کے معاملات میں بیٹیوں کو بھی قانونی طور پر بیٹوں کے برابر حصہ ملنے کا امکان ہوتا ہے، تاہم عملی سطح پر بعض خاندانوں میں اس حق سے دستبرداری کے معاملات بھی سامنے آتے ہیں۔
چندرکلا کے مطابق بعض بھائی اپنی بہنوں کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ دینے پر آمادہ کر لیتے ہیں، جس کے بعد ریونیو ریکارڈ سے ان کے نام ہٹا دیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض بہنیں صرف بھائیوں سے جذباتی وابستگی کی وجہ سے ایسا نہیں کرتیں بلکہ اس خدشے کے تحت بھی اپنے حق سے دستبردار ہوتی ہیں کہ اگر ان کی شادی شدہ زندگی مستقبل میں خراب ہو جائے تو انہیں اپنے آبائی خاندان کی حمایت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
پرانے طریقے بھی برقرار
یو سی سی کے نفاذ کے باوجود جائیداد کی منتقلی کے بعض پرانے طریقے بھی جاری ہیں۔ مثال کے طور پر بعض والدین گفٹ ڈیڈ کے ذریعے اپنی جائیداد بیٹوں کے نام کر دیتے ہیں۔
وکیل چترویدی نے ڈیجیٹل رجسٹریشن سے متعلق ممکنہ مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی۔
ان کے مطابق، یو سی سی کے تحت آن لائن رجسٹریشن کا نظام، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں، ممکنہ طور پر ہیرا پھیری کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے گواہوں کی تصدیق کے طریقہ کار کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق، اگر اس نظام میں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہوں تو خواتین کے وراثتی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
’ذہنیت صرف قانون سے نہیں بدلتی‘
نینی تال میں پریکٹس کرنے والے وکیل ششانک پانڈے کے مطابق یو سی سی محض قانون سازی کے ذریعے صنفی برابری یقینی نہیں بنا سکتا۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی ذہنیت صرف قوانین سے تبدیل نہیں ہوتی، اس کے لیے سماجی اصلاح اور عوامی شعور کی بھی ضرورت ہے۔
چندرکلا نے اپنے 2015 کے ایک سروے کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے چھ اضلاع کی 300 خواتین سے بات کی تھی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ ہندو سکسشن ایکٹ، 1956 میں 2005 کی ترمیم سے کتنی واقف ہیں۔
اس ترمیم کے ذریعے ہندو خواتین کو آبائی جائیداد میں بیٹوں کے برابر حقوق دیے گئے تھے۔
ان کے مطابق، سروے میں صرف تقریباً 25 فیصد خواتین اس قانونی تبدیلی سے واقف تھیں۔
چندرکلا نے بتایا کہ بعض پڑھے لکھے مرد بھی خواتین کے وراثتی حقوق کے بارے میں سوال کیے جانے پر ناراض ہو جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو زمین میں حصہ دینے سے خاندان اور معاشرہ تقسیم ہو جائے گا۔
چھ اضلاع میں انہیں صرف پانچ ایسی مثالیں ملیں جہاں والد نے وصیت یا گفٹ ڈیڈ کے ذریعے بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دیا تھا۔
ان کے مطابق، ’’یو سی سی جادوئی طریقے سے پدرشاہی نظام کو ختم نہیں کر سکتا۔‘‘
اتراکھنڈ کا تجربہ اس بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے کہ قانون میں مساوی حقوق دینے کے باوجود کیا سماجی رویوں، خاندانی دباؤ اور جائیداد کی ملکیت سے متعلق روایتی تصورات خواتین کو ان حقوق سے عملی طور پر فائدہ اٹھانے سے روک سکتے ہیں؟
یہ سوال صرف یو سی سی یا اتراکھنڈ تک محدود نہیں، بلکہ ہندوستان میں خواتین کے وراثتی حقوق اور شخصی قوانین پر جاری وسیع تر بحث کا بھی حصہ ہے۔
