انصاف نیوز نیٹ ورک
دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز حقوق انسانی کے سرگرم کارکن ندیم خان کو راحت دیتے ہوئے، دہلی پولیس سے ان الزامات پر جواب طلب کیا ہے کہ ایس آئی آر مخالف احتجاج میں شرکت کے خدشے کے تحت انہیں غیر قانونی اور بلا جواز طریقے سے محصور رکھا گیا۔
کارگزار چیف جسٹس نتن سامبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل بینچ نے شاہین باغ پولیس اسٹیشن کے عمل درآمد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زبانی طور پر دریافت کیاکہ ”آپ اس شخص کے گھر میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں؟ آپ کو اپنے فرائض انجام دینے کا حق ہے، لیکن آپ اسے اس انداز میں کیسے کر سکتے ہیں؟“
شہری حقوق کے تحفظ کی تنظیم ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سویل رائٹس’ کے صدر ندیم خان نے گزشتہ ہفتے ہائی کورٹ میں فوری سماعت کی درخواست دائر کی تھی۔ پولیس نے انہیں 8 اکتوبر کو اطلاع دی تھی کہ انہیں اگلے دن حراست میں لیے جانے اور 10 اکتوبر تک گھر میں نظر بند رکھے جانے کا امکان ہے۔
اس سے قبل، 29 ستمبر کو بھی انہیں ان کی رہائش گاہ اور دفتر (جو ایک ہی احاطے کا حصہ ہیں) میں محصور کر دیا گیا تھا۔ ندیم خان نے نشان دہی کی کہ ان کی حراست یا نظر بندی کے لیے کوئی تحریری حکم نامہ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔
ندیم خان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شاہ رخ عالم نے کہا کہ پولیس 29 ستمبر کو صبح9:30بجے ان کے گھر اور دفتر پہنچی اور شام 5:30بجے تک وہیں رہی۔’انہوں نے دوپہر کے کھانے اور چائے کی فرمائش کی، جو میں نے فراہم کی… وہ نظر بندی کی تصدیق کے لیے کوئی حکم نامہ نہیں دکھا سکے۔ اس وقت سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔“
عالم نے مزید بتایا کہ 2 اکتوبر کو جب ندیم خان اپنی بیمار والدہ کی عیادت کے لیے گھر سے نکل رہے تھے، تو پولیس نے صبح7:30بجے فون کر کے ان کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کی۔”انہوں نے مجھے روکا تو نہیں، لیکن مسلسل نگرانی برقرار رکھی… ایک پولیس اہلکار نے اپنا تعارف انسپکٹر نشات کے طور پر کرایا۔ یہ ہراسانی اور من مانا رویہ ہے۔“
وکیل صفائی نے سپریم کورٹ کے 11 اکتوبر کے اس حکم کا حوالہ دیا جس میں ہدایت دی گئی تھی کہ”کسی کو بھی غیر قانونی طور پر حراست میں نہ لیا جائے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں لوگ پرامن اور بغیر اسلحہ کے جمع ہوئے ہوں (ان علاقوں کے علاوہ جہاں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ ہو)۔ اس کے علاوہ وکلا ، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے کسی بھی صورت میں نہ روکا جائے۔“
دوسری جانب، شاہین باغ پولیس اسٹیشن کی نمائندگی کرنے والے کونسل (وکیل) نے موقف اختیار کیا کہ ندیم خان 29 ستمبر کو احتجاج کے لیے جا رہے تھے جبکہ اس کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ وہ اجازت نہ ملنے کے باوجود احتجاج کے لیے آگے بڑھیں گے، اسی پس منظر میں ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے اس سلسلے میں کوئی رسمی تحریری جواب یا اسٹیٹس رپورٹ دائر کی ہے؟ جس کا جواب نفی میں ملا۔
کارگزار چیف جسٹس سامبرے نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ”جب آپ کو پہلے ہی نوٹس بھیج دیا گیا تھا، تو آپ کا جواب کہاں ہے؟ کیا آپ عدالت سے صرف وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ آپ اس شخص کے گھر میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں؟ آپ کو اپنے فرائض انجام دینے کا حق ہے، لیکن آپ ایسا طریقہ کیسے اپنا سکتے ہیں؟ آپ کے پاس انہیں محصور کرنے کا کیا جواز ہے؟ احتجاج کی اجازت نہ دینا آپ کا اختیار ہے… لیکن قانون کے تحت ہمیں دکھائیں کہ آپ انہیں اس طرح محصور کیسے کر سکتے ہیں؟“
