پوربائن چکرورتی
بھارت میں حقِ زندگی اور حقِ خوراک تمام افراد کو حاصل ہے، نہ کہ صرف شہریوں کو۔ مغربی بنگال حکومت کا حالیہ اقدام نہ صرف آئین کی روح کے منافی ہے بلکہ لاکھوں افراد، خصوصاً ایسے تارکِ وطن مزدوروں کی غذائی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے جو ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کے بعد اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کر سکے۔
جدید آئینی جمہوریتوں کی بنیاد ایک بنیادی اصول پر قائم ہے کہ مختلف حقوق مختلف مقاصد کے لیے ہوتے ہیں، اس لیے ان پر مختلف قانونی نظام نافذ ہوتے ہیں۔ حقِ رائے دہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں کون شریک ہو سکتا ہے، جبکہ حقِ خوراک اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی شخص باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری بنیادی وسائل سے محروم نہ رہے۔ ایک حق سیاسی شرکت سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا انسانی بقا سے۔
اگرچہ دونوں حقوق یکساں اہم ہیں، لیکن آئین نے دانستہ طور پر انہیں ایک دوسرے سے الگ رکھا ہے۔
مغربی بنگال حکومت نے حال ہی میں ایک ایسا انتظامی حکم جاری کیا ہے جو اس بنیادی فرق کو ختم کرتا ہے۔ 4 جون 2026 کو ریاست کے محکمہ خوراک و رسدنے ایک سرکلر جاری کیا، جس میں حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ الیکشن کمیشن کی خصوصی جامع نظرِ ثانی کے نتائج کو عوامی تقسیم کے نظام سے مستفید ہونے والے افراد کے راشن کارڈوں کی جانچ اور ممکنہ منسوخی کی بنیاد بنائیں۔
انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے افراد کی بوتھ وار فہرستیں حاصل کریں، ان کے راشن کارڈوں کی جانچ کریں اور ضرورت پڑنے پر انہیں منسوخ کرنے کی سفارش کریں۔ البتہ اس سے صرف وہ افراد مستثنیٰ ہوں گے جن کی اپیلیں ایس آئی آر ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہیں یا جنہوں نے شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کے تحت درخواست دی ہے۔
اس طرح اس حکم نامے نے غذائی تحفظ کے حق کو انتخابی تصدیقی عمل سے مشروط کر دیا ہے، حالانکہ پارلیمنٹ نے ان دونوں قانونی نظاموں کو بالکل مختلف مقاصد کے لیے تشکیل دیا تھا۔
انتظامی الجھاؤ کی انسانی قیمت
عوامی تقسیم کا نظام محنت کش غریب طبقے کے لیے سستے اناج کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خصوصاً غیر منظم شعبے کے مزدوروں، زرعی کارکنوں، بزرگ شہریوں، بیواؤں اور ان پسماندہ خاندانوں کے لیے جن کی زندگی معاشی ترقی کے باوجود غیر یقینی اور کمزور ہے۔
6 اپریل 2026 تک تقریباً 91 لاکھ ووٹروں یعنی مغربی بنگال کے کل ووٹروں کے11.9فیصدکے نام ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج کیے جا چکے تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً 27 لاکھ اخراج کے خلاف اور 7 لاکھ شمولیت کے خلاف اپیلیں خصوصی ٹریبونلوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
اس کے نتیجے میں لاکھوں ایسے افراد، جن کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو چکے ہیں اور جو حکومت کی مقررہ محدود استثنائی فہرست میں شامل نہیں، اپنے غذائی تحفظ کے حق سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔یہ خطرہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ مغربی بنگال سے ہر سال لاکھوں افراد روزگار کی تلاش میں ملک کے مختلف حصوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ تعمیراتی منصوبوں، کارخانوں، اینٹوں کے بھٹوں، چھوٹی صنعتوں، ٹرانسپورٹ اور ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے مزدور ایس آئی آر کی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکے اور انہیںحذف شدہ ووٹروں زمرے کے تحت ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔
اندیشہ ہے کہ ایسے ووٹر، جنہوں نے اپیل نہیں کی یا جن کی اپیل کی مدت ختم ہو چکی ہے، مغربی بنگال حکومت کے اس حکم کے تحت راشن کی سہولت سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔
یہ صورتِ حال مرکزی حکومت کی ون نیشن، ون راشن کارڈاسکیم کے مقصد کے بھی منافی ہے، جس کا مقصد یہ تھا کہ روزگار کے لیے نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کی غذائی سلامتی متاثر نہ ہو۔عدالتیں بھی قرار دے چکی ہیں کہ راشن کارڈ رکھنے والے تارکِ وطن مزدور **قومی غذائی تحفظ ایکٹ، 2013کے تحت ملک میں جہاں بھی ہوں، راشن حاصل کرنے کے حق دار ہیں۔
اس لیے راشن کے حق کو ووٹر لسٹ سے اخراج کے ساتھ جوڑنا دراصل معاشی مجبوری کے تحت نقل مکانی کرنے والوں کو سزا دینے کے مترادف ہے، جو قومی غذائی تحفظ ایکٹ کے بنیادی مقصد سے متصادم ہے۔
حقِ خوراک ووٹر لسٹ پر منحصر نہیں
قومی غذائی تحفظ ایکٹ میں کہیں بھی یہ شرط موجود نہیں کہ کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا ضروری ہے۔ اس قانون کی دفعہ 3 کے مطابق، ایک مرتبہ کسی شخص کو مستحق قرار دے دیا جائے تو وہ رعایتی نرخوں پر اناج حاصل کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے یہ حق افرادکو دیا ہے، نہ کہ صرف شہریوں کو۔ یہ الفاظ اس آئینی اصول کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھوک سے تحفظ ہر انسان کے بنیادی وقار کا حصہ ہے۔
اسی طرح آئین بھی ان حقوق میں واضح فرق کرتا ہے جو تمام افراد کو حاصل ہیں اور ان حقوق میں جو صرف شہریوں کے لیے مخصوص ہیں۔ جہاں آرٹیکل 15، 16 اور 19 صرف شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں، وہیں آرٹیکل 21 بھارت میں موجود ہر شخص کو حقِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔
سپریم کورٹ بھی متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ حقِ خوراک، آرٹیکل 21 کے تحت حقِ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔
سپریم کورٹ کا مؤقف
الیکشن کمیشن بنام اے پی ڈی آر میں سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ ایس آئی آر کے دوران کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہونا اس کی شہریت کا فیصلہ نہیں کرتا۔عدالت کے مطابق، الیکشن کمیشن کی جانچ صرف انتخابی مقاصد تک محدود ہے اور اس کے نتائج دیگر قوانین کے تحت کسی شخص کے حقوق کا تعین نہیں کرتے۔اس کے باوجود مغربی بنگال حکومت کا حکم نامہ ایس آئی آر کی بنیاد پر ایک نئی نااہلی پیدا کرتا ہے، حالانکہ انتظامیہ محض ایک سرکلر کے ذریعے پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون میں کوئی نئی شرط شامل نہیں کر سکتی۔
آرٹیکل 14 اور مساوات کا اصول
4 جون کا حکم آئین کے آرٹیکل 14 کے بھی منافی معلوم ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کے مطابق کسی بھی درجہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد معقول اور واضح فرق پر ہو اور اس کا متعلقہ قانون کے مقصد سے منطقی تعلق بھی ہو۔قومی غذائی تحفظ ایکٹ کے تحت تمام مستحق افراد ایک ہی قانونی زمرے میں آتے ہیں، کیونکہ ان کی شناخت معاشی کمزوری اور غذائی عدم تحفظ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔لیکن مغربی بنگال حکومت نے انہیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے: ایک وہ جن کے نام ووٹر لسٹ میں برقرار ہیں، اور دوسرے وہ جن کے نام ایس آئی آر کے بعد حذف ہو گئے ہیں۔یہ درجہ بندی نہ تو معقول ہے اور نہ ہی غذائی تحفظ کے قانون کے مقصد سے اس کا کوئی منطقی تعلق ہے۔
قانون کی حکمرانی اور مستقبل کے خدشات
رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی اصول اب دیگر فلاحی اسکیموں، مثلاً **انّاپورنا کیش ٹرانسفر اسکیم، ریڑھی فروشوں کے سرٹیفکیٹس اور ادارہ جاتی قرضوں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے۔اگر مستقبل میں انتخابی حیثیت کو سماجی و معاشی حقوق تک رسائی کی شرط بنا دیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ہندوستان کا آئینی نظام دانستہ طور پر انتخابی حقوق اور سماجی و معاشی حقوق کو الگ رکھتا ہے، کیونکہ دونوں کے مقاصد مختلف ہیں۔ ایک جمہوری نمائندگی کو منظم کرتا ہے، جبکہ دوسرا انسانی وقار اور باعزت زندگی کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے اس بنیادی فرق کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
پوربائن چکرورتی، کولکاتا میں مقیم وکیل
