بھارت میں مئی تا جولائی 2026 کے دوران 25 مسلمان مبینہ نفرت انگیز جرائم میں ہلاک: انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر
ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کے مطابق، 2026 کے پہلے سات ماہ میں بھارت میں 44 مسلمانوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں 19 ہلاکتوں کا الزام ریاستی انتظامیہ کے ہاتھوں ہویی ہے۔ اور 25 کا الزام ہندوتوا سے وابستہ غیر ریاستی عناصر پر عائد کیا گیا ہے۔
کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کے انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر کے مطابق، مئی سے جولائی 2026 کے درمیان بھارت میں 25 مسلمان مبینہ طور پر مذہبی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم میں ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں 15 افراد پولیس یا سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں میں جبکہ 10 افراد مبینہ ہندوتوا سے وابستہ غیر ریاستی عناصر کے حملوں میں مارے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے پہلے سات ماہ میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 44 تک پہنچ گئی، جن میں 19 ہلاکتوں کو ریاستی انتظامیہ کے ہاتھوں اور 25 کو ہندوتوا سے وابستہ حملہ آوروں سے جوڑا گیا ہے۔
ٹریکر کے مطابق، اگر یہ رجحان برقرار رہا تو 2026، 2022 کے بعد مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیز جرائم کے حوالے سے سب سے زیادہ ہلاکتوں والا سال بن سکتا ہے۔
ریاستی کارروائیوں پر سنگین الزامات
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران مسلمانوں کے خلاف ریاستی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس میں مبینہ پولیس ’’انکاؤنٹرز‘‘، حراست میں ہلاکتیں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، گھروں اور مذہبی مقامات کی مسماری اور بعض افراد کو سرحد کے راستے مبینہ طور پر بنگلہ دیش بھیجے جانے کے واقعات شامل ہیں۔
رپورٹ میں خاص طور پر اتر پردیش، آسام، جموں و کشمیر اور مغربی بنگال کا ذکر کیا گیا ہے۔
ٹریکر کے مطابق، چھ ریاستوں میں دو ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران کم از کم 23 مسلم مذہبی عمارتیں منہدم کی گئیں۔ اسی طرح آٹھ ریاستوں میں کم از کم 21 بلڈوزر کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زائد مسلم گھر، کاروباری مقامات اور مذہبی ڈھانچے مسمار کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2026 میں اب تک مسمار کیے گئے ایسے ڈھانچوں کی مجموعی تعداد 3000سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار اور کارروائیوں کے بارے میں متعلقہ ریاستی حکومتوں اور حکام کا مؤقف بھی اہم ہوگا۔
کشمیر میں گرفتاریاں اور مسماری
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشمیر میں ایک عسکریت پسند حملے کے بعد جولائی میں 48 گھنٹوں کے اندر 2500سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ دو خاندانوں کے گھروں کو مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد سے منہدم کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مختلف ریاستوں میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائیوں میں مسلمانوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ٹریکر کے مطابق، مئی تا جولائی کے دوران ہلاک ہونے والے 25 مسلمانوں میں 15 کی ہلاکت پولیس یا سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں سے اور 10 کی ہلاکتیں پانچ ریاستوں میں مبینہ مذہبی نفرت پر مبنی حملوں سے منسلک ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 11 سالہ لڑکی اور ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل بتایا گیا ہے۔
سیاسی بیانات اور مسلمانوں کے خلاف ماحول
رپورٹ نے بعض سینئر سیاسی رہنماؤں کے مبینہ مخالفِ اسلام بیانات کو بھی مسلمانوں کے خلاف امتیازی ماحول سے جوڑا ہے۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی ان تشویشوں کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں مبینہ ’’دراندازوں‘‘ سے متعلق سیاسی بیانات کے ذریعے بھارتی مسلم شہریوں کو غیر ملکیوں کے ساتھ خلط ملط کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق، ایسے بیانات بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت امتیازی سلوک کو ہوا دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔
گائے کے نام پر تشدد کے مقدمے میں سزا
ٹریکر نے اس سہ ماہی کے اہم عدالتی واقعات میں ایک ایسے مقدمے کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ایک مسلم جج نے گائے کے نام پر تشدد کے الزام میں 14 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی۔رپورٹ کے مطابق، فیصلے کے بعد جج کو مبینہ ہندوتوا عناصر کی دھمکیوں کے باعث پولیس تحفظ فراہم کرنا پڑا۔
مغربی بنگال میں مسلمانوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے الزامات
رپورٹ میں مغربی بنگال کو ان ریاستوں میں نمایاں جگہ دیا گیا ہے جہاں مسلمانوں کے خلاف مبینہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ریاست میں بی جے پی کی پہلی انتخابی کامیابی کے بعد کے دنوں میں مساجد، مسلم ملکیتی کاروباروں اور ہاکروں کی بستیوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک شخص مسجد کی حفاظت کے دوران مارے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں نئی ریاستی حکومت کی بعض پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں فلاحی اسکیموں سے متعلق شہریت کی جانچ، ریزرویشن پالیسی میں تبدیلیاں، اقلیتی امور اور مدارس کے بجٹ میں مبینہ 62 فیصد کمی اور مویشی ذبح سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، پولیس کو مبینہ ’’دراندازوں‘‘ کو عدالت میں پیش کیے بغیر سرحدی فورسز کے حوالے کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حکومت کی جانب سے پہلے ماہ میں4800’’ڈیپورٹیشنز‘‘ کا دعویٰ بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
ٹریکر کے مطابق، 77 مسلم برادریوں کو پسماندہ طبقات کی ریزرویشن فہرست سے خارج کیا گیا اور مدارس کو مزید سرکاری نگرانی میں لایا گیا۔
رپورٹ نے بنگالی بولنے والے مسلمانوں سے متعلق ووٹر فہرستوں میں ناموں کے اخراج اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو بھی اس بحث کا حصہ قرار دیا ہے۔
آسام میں مبینہ ’پش بیک‘ کارروائیاں
آسام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ ’’پش بیک‘‘ کارروائیاں جاری رہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے گزشتہ دو برسوں میں1679افراد کو ’’واپس بھیجے‘‘ جانے کا دعویٰ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ بعض خاندانوں، جن میں بچے بھی شامل تھے، کو رات کے وقت سرحدی باڑ کے راستے ملک سے باہر دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔
قانونی اور عدالتی معاملات
رپورٹ کے مطابق، مسلمانوں کے حقوق سے متعلق قانونی فریم ورک میں بھی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ اس میں آسام اور مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ سے متعلق قوانین اور پارلیمنٹ میں وندے ماترم کی مبینہ ’’توہین‘‘ سے متعلق سزا کے قانون کا ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ نے ایک ہائی کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں صدیوں پرانی کمال مولا مسجد سے متعلق تنازع میں اسے ہندو مندر قرار دیے جانے اور جمعہ کی نماز پر پابندی کا ذکر ہے۔اسی طرح رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چھ ریاستوں میں 23 مسلم مذہبی ڈھانچے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں منہدم کیے گئے۔
پرانے مقدمات میں بریت پر سوالات
ٹریکر نے بعض پرانے مقدمات میں ملزمان کی بریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف مبینہ تشدد کے معاملات میں احتساب کا فقدان برقرار ہے۔
رپورٹ میں 2005 کے ایک مبینہ منصوبہ بند انکاؤنٹر میں 22 ملزمان، جن میں 21 پولیس اہلکار شامل تھے، کی بریت برقرار رکھنے اور 2002 میں ایک مسلم شخص کو زندہ جلانے کے الزام میں پانچ افراد کی بریت کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، نئے مقدمات میں بھی حراستی اموات کو حادثات قرار دینے، متاثرین ہی کو تحقیقات کا ہدف بنانے اور بااثر ملزمان کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کرنے جیسے رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔
مجموعی صورتحال
ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین نے بھارت میں مسلمانوں کے انسانی حقوق کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کا حوالہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور ماہرین نے مظاہرین کے خلاف کارروائیوں، ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کا مجموعی دعویٰ ہے کہ2026 کے پہلے سات ماہ میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ تشدد، گرفتاریوں، مسماری اور امتیازی پالیسیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔تاہم، رپورٹ میں شامل تمام الزامات اور اعداد و شمار کو متعلقہ حکومتوں، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے مؤقف کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ مختلف واقعات کے بارے میں سرکاری وضاحتیں اور قانونی کارروائیاں الگ الگ ہو سکتی ہیں۔
