یوٹیوب، میٹا اور اسپاٹی فائی بھارت میں نفرت انگیز ہندوتوا موسیقی کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپے کمارہی ہےمسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کو فروغ دینے کا انکشاف: رپور

hATE

واشنگٹن ڈی سی
انصاف نیوز نیٹ ورک

دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور میوزک اسٹریمنگ سروسز، بشمول یوٹیوب (YouTube)، میٹا (Meta)، اسپاٹی فائی (Spotify) اور ایپل میوزک (Apple Music)، بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے اور انہیں نشانہ بنانے والی موسیقی کی میزبانی، تشہیر اور اس سے مالی منافع حاصل کرنے میں ملوث ہیں۔

یہ سنسنی خیز انکشافات سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کی جانب سے جاری کردہ ایک جامع تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کا عنوان “Profiting from Hate Music: The Role of YouTube, Meta, Spotify and Apple Music in Hosting and Monetizing India’s Hate Music Industry” ہے۔

یہ رپورٹ بھارت میں تیزی سے فروغ پانے والی نفرت انگیز موسیقی (Hate Music) کی صنعت اور اسے فروغ دینے میں عالمی ٹیک کمپنیوں کے کردار کا پہلا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔

HATE 6

رپورٹ کے کلیدی اور چونکا دینے والے انکشافات

تحقیق کے لیے جنوری 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان کا ڈیٹا جمع کیا گیا، جس سے درج ذیل اہم حقائق سامنے آئے:

523 نفرت انگیز گانوں کی نشاندہی

رپورٹ میں ہندوتوا پاپ (H-Pop) کے 523 ایسے گانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو متعلقہ پلیٹ فارمز کی اپنی پالیسیوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔

کروڑوں ویوز اور شیئرز

صرف یوٹیوب پر ان گانوں کو 19 کروڑ 80 لاکھ (198 ملین) سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، جبکہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر انسٹاگرام ریلز (Instagram Reels) میں انہیں 59 لاکھ سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا گیا۔

تشدد پر اکسانے والا مواد

رپورٹ کے مطابق ان میں سے تقریباً ہر دوسرا گانا مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، بائیکاٹ اور بے دخلی پر اکساتا ہے۔

فرقہ وارانہ فسادات سے تعلق

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذہبی جلوسوں اور ریلیوں میں بجائے جانے والے بعض ہندوتوا پاپ گانوں کا تعلق ماضی میں رونما ہونے والے مہلک فرقہ وارانہ فسادات سے بھی جوڑا گیا ہے۔

نفرت کی کمائی: عالمی برانڈز کے اشتہارات

رپورٹ کے مطابق ان پلیٹ فارمز نے نفرت انگیز مواد سے منافع کمانے کا ایک ایسا نظام قائم کر رکھا ہے جس میں نہ صرف کمپنیاں خود مالی فائدہ حاصل کرتی ہیں بلکہ نفرت انگیز مواد تخلیق کرنے والوں کو بھی آمدنی فراہم کی جاتی ہے۔

یوٹیوب پر اشتہارات

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تشدد پر اکسانے والی 83 فیصد ویڈیوز پر اشتہارات چل رہے تھے۔ ان اشتہارات میں اوپن اے آئی (OpenAI)، گوگل، ایمیزون پرائم، ایڈوب، کینوا، ڈیل، موٹرولا اور لیوائز (Levi’s) سمیت 103 عالمی برانڈز شامل تھے۔

فیس بک مونیٹائزیشن

میٹا کے پلیٹ فارم پر زیرِ مطالعہ 30 نمایاں ہندوتوا پاپ گلوکاروں میں سے 20 کے فیس بک اکاؤنٹس مونیٹائزڈ پائے گئے، یعنی وہ اپنے مواد کے ذریعے براہِ راست آمدنی حاصل کر رہے تھے۔

روانڈا اور میانمار جیسے خطرات: ماہرین کی وارننگ

سی ایس او ایچ (CSOH) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رقیب نائک نے کہا:

“نفرت انگیز موسیقی اجتماعی تشدد کے قدیم ترین اور خطرناک ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔ ہم روانڈا سے لے کر میانمار تک اس کے ہولناک نتائج دیکھ چکے ہیں۔ بھارت میں ہندوتوا پاپ کی سب سے تشویشناک بات اس کی وسیع رسائی ہے۔ امریکہ میں قائم ان کمپنیوں نے ایسے فنکاروں کو عالمی پلیٹ فارم، کروڑوں سامعین اور مسلسل آمدنی کے ذرائع فراہم کر دیے ہیں۔”

معروف آزاد صحافی اور رپورٹ کے شریک مصنف کنال پوروہت نے کہا:

“ہندوتوا پاپ موسیقی بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دینے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔ اس رپورٹ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایک طرف حکومتِ مودی پر تنقید کرنے والے مواد کو محدود کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والے مواد کو فروغ، سرپرستی اور مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔”

رپورٹ کی شریک مصنف اور جنوبی ایشیا کی محقق تاویشی نے کہا:

“ان پلیٹ فارمز نے ایسا کاروباری ماڈل تشکیل دے دیا ہے جس میں نفرت بھی فروخت ہوتی ہے اور منافع بھی پیدا کرتی ہے۔”

ہندوتوا پاپ (H-Pop) کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق بھارت میں نفرت انگیز تقاریر (Hate Speech) کے واقعات میں 2023 کے بعد 97 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اب یہ رجحان موسیقی کی شکل اختیار کر چکا ہے جسے ہندوتوا پاپ (H-Pop) کہا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ موسیقی ہندوتوا نظریے کو فروغ دیتی ہے، بھارت کے کثرت پسند آئینی تصور کو چیلنج کرتی ہے اور مسلمانوں و عیسائیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ہندو

بالادستی کے نظریے کی حمایت کرتی ہے۔

رپورٹ میں پہلی بار دنیا کے چار سب سے بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز—اسپاٹی فائی اور ایپل میوزک (بطور لائسنس یافتہ کیٹلاگ)، یوٹیوب (بطور ویڈیو ہوسٹ) اور میٹا کی میوزک لائبریری (انسٹاگرام اور فیس بک ریلز کے لیے)—پر ہندوتوا پاپ (H-Pop) نفرت انگیز موسیقی کے پھیلاؤ کی دستاویز پیش کی گئی ہے۔ نشان دہی کیے گئے 523 گانے نفرت کے ایک منظم اور پھلتے پھولتے ماحولیاتی نظام (Ecosystem) کی نمائندگی کرتے ہیں، جسے ان پلیٹ فارمز نے اپنی ہی سخت پابندیوں کے باوجود بغیر کسی روک ٹوک کے بڑھنے کی اجازت دی۔

اس نظام کے اثرات انتہائی بھیانک ہیں:

  • یوٹیوب کا کردار: صرف یوٹیوب پر مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دینے والے 210 گانوں کو 19 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا۔ یوٹیوب پر موجود ہندوتوا پاپ میوزک کا تقریباً 40 فیصد حصہ صرف تین یوٹیوب چینلز سے اپ لوڈ کیا گیا ہے، جو بغیر کسی کارروائی کے کام کر رہے ہیں۔ اگر کسی چینل کو بند بھی کیا جائے تو فنکار نیا چینل بنا کر دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں۔

  • HATE MUSIUCE
  • میٹا (انسٹاگرام/فیس بک): میٹا پر 103 خلاف ورزی کرنے والے گانوں کا استعمال کرتے ہوئے 59 لاکھ (5.9 ملین) سے زیادہ ریلز (Reels) بنائی گئیں، جس سے اس نفرت انگیز مواد کی پہنچ میں کروڑوں کا اضافہ ہوا۔

  • اسپاٹی فائی اور ایپل میوزک: دونوں پلیٹ فارمز پر مشترکہ طور پر 210 گانے موجود ہیں جو ان کی مواد سے متعلق پالیسیوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان گانوں میں مسلمانوں کے قتل عام کی ترغیب، مساجد کو گرانے کی دھمکیاں، تذلیل آمیز الفاظ، خطرناک سازشی نظریات، اور ہندوؤں کو مذہبی جنگ کے لیے ہتھیار اٹھانے پر اکسایا گیا ہے۔

  • HATE 7

نفرت کی سرپرستی اور مالی معاونت

رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ پلیٹ فارمز صرف نفرت کی اجازت ہی نہیں دے رہے، بلکہ ان فنکاروں کے سب سے بڑے مالی سرپرست بن چکے ہیں۔

  • یوٹیوب پر تقریباً 78 فیصد نفرت انگیز ویڈیوز پر 100 سے زائد برانڈز کے اشتہارات چل رہے تھے۔

  • 54 فیصد گانوں پر “Super Thanks” کا فیچر آن تھا، جس کے ذریعے تخلیق کاروں کو براہ راست فنڈز ملتے ہیں۔ پانچ چینلز پر ناظرین کے لیے ماہانہ ‘پریمیم سبسکرپشن’ کی سہولت بھی موجود تھی۔

  • حد تو یہ ہے کہ یوٹیوب نے پالیسیوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے ایک بڑے چینل کو “کریٹر ایوارڈ” (Creator Award) سے بھی نوازا، جسے وہ چینل فخر سے اپنی توثیق کے طور پر دکھاتا ہے۔

  • اسپاٹی فائی، ایپل میوزک اور میٹا (ریلز کے ذریعے) بھی ان گانوں کی اسٹریمنگ پر فنکاروں کو رائلٹی (Royalty) ادا کرتے ہیں، جس سے حاصل ہونے والا پیسہ یہ فنکار مزید نفرت انگیز موسیقی بنانے میں لگاتے ہیں۔

  • HAT8

رپورٹنگ کے نظام کی ناکامی

جب سی ایس او ایچ (CSOH) کی ٹیم نے باقاعدہ طور پر ان پلیٹ فارمز کو 225 خلاف ورزی کرنے والے گانوں کی رپورٹ کی، تو ان کا سسٹم مکمل طور پر ناکام پایا گیا۔ رپورٹنگ کے ٹولز پیچیدہ اور خراب تھے، اور رپورٹ کیے جانے کے کئی مہینوں بعد بھی 92 فیصد سے زائد گانے انٹرنیٹ پر فعال (Active) رہے۔

ڈیجیٹل دنیا کی یہ نفرت زمین پر حقیقی خون خرابے کا باعث بن رہی ہے۔ بھارت میں جب یہ گانے مذہبی جلوسوں کے دوران بجائے جاتے ہیں تو اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور تشدد کو شہہ ملتی ہے۔

رپورٹ کی سفارشات

رپورٹ کے اختتام پر یوٹیوب، میٹا، اسپاٹی فائی اور ایپل میوزک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کریں، نفرت انگیز گانوں کو فوری طور پر ہٹائیں اور ان کی مونیٹائزیشن بند کریں۔

رپورٹ میں عالمی ریگولیٹرز اور اشتہارات دینے والی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان ٹیک کمپنیوں کو جوابدہ بنائیں اور نفرت انگیز مواد سے منافع کمانے کے عمل کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

رپورٹ میں یوٹیوب، میٹا، اسپاٹی فائی اور ایپل میوزک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے درج ذیل 10 ٹھوس اقدامات اٹھانے کی سفارش کی گئی ہے:

1. پلیٹ فارم گائیڈلائنز پر مؤثر عمل درآمد

تمام پلیٹ فارمز (سوائے ایپل میوزک کے، جس کی تحریری پالیسی نہیں ہے) مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک، انسانی تذلیل اور تشدد پر اکسانے والے مواد کو روکنے کی پالیسی رکھتے ہیں۔ انہیں اب اس پالیسی پر سختی اور مستقل مزاجی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔

2. بار بار خلاف ورزی کرنے والوں (Repeat Offenders) کے خلاف کارروائی

بار بار نفرت پھیلانے والے چینلز (جیسے ‘سنگم دھن’ چینل، جس پر 46 نفرت انگیز گانے موجود ہیں اور اس نے 13,000 نئے سبسکرائبرز حاصل کیے) کو مستقل طور پر بند (Terminate) یا ڈی مونیٹائز (Demonetize) کیا جائے۔

3. نفرت کی بدلتی ہوئی کوڈ زبان (Coded Language) کی شناخت

ہندوتوا پاپ کے فنکار آٹومیٹڈ سسٹم (AI) سے بچنے کے لیے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے کوڈ ورڈز استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ “سانپ”، “ٹوپی والے”، “غدار” اور “ملک دشمن”۔ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ مقامی زبانوں کے ماہر انسانی ماڈریٹرز (Human Moderators) کی خدمات حاصل کریں جو اس علامتی زبان کو سمجھ کر مواد بلاک کر سکیں۔

4. مکمل مڈریشن (بلاکنگ) کا عزم

اگر کسی نفرت انگیز گانے کو ایک چینل سے ہٹایا جائے، تو اسے پلیٹ فارم کے پورے سسٹم سے ہٹایا جائے، کیونکہ شرپسند فنکار (جیسے سندیپ آچاریا) ایک چینل بند ہونے پر دوسرے چینلز سے وہی گانے دوبارہ اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔

5. میٹا میوزک لائبریری اور ریلز کی سخت نگرانی

میٹا اپنے ریلز (Reels) کے ماحولیاتی نظام کا آڈٹ کرے اور جیسے ہی کوئی آڈیو ٹریک نفرت انگیز پایا جائے، تو اس سے بننے والی تمام ریلز کو فوری طور پر ڈیلیٹ کیا جائے تاکہ اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

6. رپورٹنگ کے طریقہ کار کو آسان اور جوابدہ بنانا

اسپاٹی فائی اور ایپل میوزک پر عام صارف کے لیے کسی گانے کی رپورٹ کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اسپاٹی فائی پر ایک گانے کی رپورٹ میں آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔ رپورٹنگ کے نظام کو آسان، مقامی زبانوں میں اور واضح بنایا جائے، اور صارف کو ای میل کے ذریعے بتایا جائے کہ اس کی رپورٹ پر کیا کارروائی ہوئی۔

7. مانیٹرنگ کی باقاعدہ شفافیت رپورٹ (Transparency Reporting)

میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارمز (ایپل میوزک اور اسپاٹی فائی) کو بھی سوشل میڈیا کی طرح باقاعدہ رپورٹ جاری کرنی چاہیے کہ انہوں نے کتنے گانے ہٹائے۔ اسپاٹی فائی یورپ کے لیے تو یہ رپورٹ دیتا ہے، لیکن بھارت کے لیے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی جاتی۔

8. ریکمنڈیشن ایلگورتھم (Recommendation Algorithms) کا احتساب

ان کمپنیوں کے خودکار سسٹمز (Algorithms) زیادہ ویوز اور منافع کے چکر میں نفرت انگیز گانوں کو صارفین کو خود تجویز (Recommend) کرتے ہیں۔ ان سسٹمز کا کسی تیسرے فریق (Third-party) سے آزادانہ آڈٹ کروایا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ نفرت کو کتنا فروغ دے رہے ہیں۔

9. میوزک اسٹریمنگ اور ڈسٹری بیوٹرز کے نظام میں شفافیت

اسپاٹی فائی اور ایپل میوزک گانے براہ راست نہیں لیتے بلکہ تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹرز (Music Aggregators) کے ذریعے لیتے ہیں۔ ان ڈسٹری بیوٹرز کے اسکریننگ کے عمل اور ان کے مابین ہونے والے خفیہ مالی معاہدوں کو پبلک کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ نفرت سے کون کما رہا ہے۔

10. سوشل میڈیا پر مونیٹائزیشن (کمائی) کی شفافیت

سوشل میڈیا کمپنیاں اربوں ڈالر کے اشتہارات کا پیسہ ان فنکاروں میں تقسیم کرتی ہیں۔ کمپنیوں کو عوامی سطح پر یہ ریکارڈ جاری کرنا چاہیے کہ کس چینل یا قانونی ادارے کو نفرت انگیز مواد پر کتنا پیسہ دیا گیا۔ اشتہار دینے والے عالمی برانڈز کو بھی کمپنیوں سے جواب طلبی کرنی چاہیے کہ ان کے اشتہارات ایسے خونی مواد پر کیوں چلائے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *