انصاف نیوز نیٹ ورک

مغربی بنگال کے ضلع ہگلی میں 71 سالہ مسلم بزرگ شیخ شاہ عالم کی مبینہ طور پر بی جے پی حامیوں کے ہاتھوں پٹائی کے بعد موت ہو گئی۔ بی جے پی ورکروں نے 70سالہ بزرگ پر الزام لگایا تھا کہ وہ ترنمول کانگریس کے حامی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ترنمول کانگریس کا حامی ہونا کوئی جرم ہے۔

تاہم، اہلِ خانہ نے ترنمول کانگریس سے کسی بھی وابستگی کی تردید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شیخ شاہ عالم کو بی جے پی کارکنوں نے قتل کیا ہے۔

یہ واقعہ 15 جون کو ہگلی ضلع کے پرشورا تھانہ علاقے کے کیلے پاڑا گاؤں میں پیش آیا۔شدید زخمی حالت میں شیخ شاہ عالم کو آرام باغ میڈیکل کالج و اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں کے مطابق پیر کی دوپہر بی جے پی کارکنوں کا ایک گروپ شیخ شاہ عالم کے گھر کے باہر جمع ہوا اور انہیں باہر آنے کے لیے آواز دی۔

گھر میں موجود شیخ شاہ عالم شور سن کر باہر نکلے تو مبینہ طور پر 7 سے 8 بی جے پی کارکنوں نے انہیں گھیر لیا اور حملہ کر دیا۔خاندان کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے بانس کی لاٹھیوں، اینٹوں اور لوہے کی سلاخوں سے ان پر تشدد کیا۔

جب ان کی اہلیہ مرجینہ بیگم اور گھر کی دیگر خواتین نے مداخلت کی کوشش کی تو انہیں بھی مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔اہلِ خانہ کے مطابق شدید زخمی ہونے کے بعد شیخ شاہ عالم زمین پر گر پڑے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور اہلِ خانہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔متوفی کی رشتہ دار ریشمہ خاتون نے الزام لگایا کہ شیخ شاہ عالم سیاست میں سرگرم نہ ہونے کے باوجود تشدد کا نشانہ بنے۔

انہوں نے کہاکہ ’’میرے سسر نے کبھی سیاست نہیں کی۔ انہوں نے کسی سیاسی جماعت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ انہیں ترنمول کارکن نہیں کہا جا سکتا، پھر بھی بی جے پی کے غنڈوں نے انہیں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ ہم ملزمان کو سخت سزا دلوانا چاہتے ہیں۔

شیخ شاہ عالم کے بیٹے شیخ رفیق الاسلام نے بھی اسی الزام کو دہرایا اور سوال کیا کہ اگر ان کا خاندان کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تو پھر ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔

انہوں نے کہاکہ ’’ہمارا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم سیاست میں شامل نہیں ہیں، پھر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا‘‘

رفیق الاسلام نے مزید کہا کہ ان کے والد کا نہ تو بدعنوانی سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی وہ کبھی تشدد میں ملوث رہے تھے۔پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق شیخ شاہ عالم حکمراں ترنمول کانگریس کے فعال کارکن نہیں تھے، البتہ وہ طویل عرصے سے پارٹی کے حامی سمجھے جاتے تھے۔ان کے بڑے بیٹے شیخ سیف الاسلام نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں سے ان کے والد کا ترنمول کانگریس سے کوئی فعال تعلق نہیں تھا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق شیخ شاہ عالم چمپاڈانگا کے ایک ہوٹل میں کام کرتے تھے اور ایک سڑک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد زیادہ تر وقت گھر پر گزارتے تھے۔ان کی اہلیہ، جو مبینہ طور پر حملے کی چشم دید گواہ ہیں، نے پولیس کو واقعے کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اگرچہ خبر منظر عام پر آنے تک اہلِ خانہ نے کوئی تحریری شکایت درج نہیں کرائی تھی، تاہم پرشورا پولیس نے از خود مقدمہ درج کرکے موت کے اسباب کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ادھر ترنمول کانگریس نے ایک بیان میں کہاکہ بی جے پی بنگال کی نفرت اور تشدد کی سیاست مزید کتنی جانیں لے گی؟ پرشورا میں شیخ شاہ عالم کو بی جے پی سے وابستہ غنڈوں نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا، اس کے نتیجے میں ان کی جان چلی گئی۔ ایک بزرگ کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا، خواتین کو دھکے دے کر ہٹا دیا گیا اور گھر کے اندر دہشت پھیلائی گئی۔ یہی بی جے پی کے طرزِ حکمرانی کی تلخ حقیقت ہے۔

دوسری جانب پرشورا سے بی جے پی کے رکن اسمبلی بیمان گھوش نے متوفی کے اہلِ خانہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی اچھی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔ اس واقعے سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اگر بی جے پی کارکنوں کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو قانون اپنا کام کرے گا اور کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔”

بیمان گھوش نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں پر سیاسی مقاصد کے تحت الزامات لگائے جا رہے ہیں اور انہوں نے غیر جانبدارانہ پولیس تحقیقات کا مطالبہ کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔