انصاف نیوز نیٹ ورک
بشکریہ اسکرول
مغربی بنگال کے ضلع شمالی دیناج پور سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ مچھلی کے تاجر عبدالباری کو رائے گنج پولیس نے مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکِ وطن ہونے کے شبہ میں حراست میں لینے کے بعد بنگلہ دیش بھیج دیا۔ ان کے اہلِ خانہ نے یہ دعویٰ کیا ہے۔پولیس نے گوپال پور گاؤں کے رہائشی عبدالباری کو جون میں حراست میں لیا تھا۔
اہلِ خانہ نے بتایا کہ ریاست میں خصوصی جامع نظرثانی کی کارروائی کے بعد ووٹر فہرست میں عبدالباری کا نام برقرار رہا اور انہوں نے مئی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی ڈالا، اس کے باوجود پولیس نے ان دستاویزات اور انتخابی ریکارڈ کو نظر انداز کیا۔ عبدالباری کے پاس 2021 میں جاری کیا گیا بھارتی پاسپورٹ بھی ہے۔ اہل خانہ نے ووٹر فہرست میں شمولیت، ووٹر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی نقول پیش کیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق، 2 جون کو دوپہر تقریباً 3 بجے پولیس عبدالباری کے گھر پہنچی اور ان کی شناختی دستاویزات کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
عبدالباری کے 24 سالہ بیٹے زاہد الاسلام نے بتایاکہ ’’میرے والد ہمارے گھر کے قریب ایک دکان پر بیٹھے تھے کہ پولیس کی ایک ٹیم وہاں پہنچی اور انہیں بھٹول پولیس چوکی لے گئی۔ میں تمام دستاویزات لے کر وہاں گیا۔ دستاویزات کی جانچ کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔‘‘اسلام کے مطابق، پولیس نے عبدالباری سے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر انہیں پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا ہوگا۔
تقریباً 15 دن بعد پولیس نے عبدالباری کو دوبارہ طلب کیا۔اسلام نے بتایاکہ ’’اس مرتبہ انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ پہلے رائگنج پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور بعد میں ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔‘‘ان کا الزام ہے، ’’پولیس نے ہمارے کاغذات کی کوئی جانچ نہیں کی۔ انہوں نے ہم سے بات تک نہیں کی۔ وہ انہیں زبردستی لے جا رہے تھے۔‘‘
چند دن بعد اہلِ خانہ کو بنگلہ دیش سے ایک فون کال موصول ہوئی۔
اسلام نے بتایا، ’’تب ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے والد کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔ ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور ہم نے انہیں نہیں دیکھا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور بنگلہ دیش میں کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ کبھی کبھار فون کرتے ہیں، لیکن ہم انہیں واپس لانے سے قاصر ہیں۔‘‘
اسلام کے مطابق، پولیس نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ عبدالباری کے بنگلہ دیشی ہونے کی ’’تصدیق‘‘ ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں نے پولیس سے کہا کہ وہ کوئی ایسی دستاویز دکھائیں جس سے ان کا بنگلہ دیشی ہونا ثابت ہوتا ہو، لیکن پولیس نے کوئی دستاویز نہیں دکھائی۔ ان کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں؟ وہ کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے، کیونکہ میرے والد بھارتی شہری ہیں۔‘‘اسلام نے بتایا کہ ان کے والد بھارت میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا پورا خاندان بھی بھارت میں ہی رہتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’ان کے پاس بھارتی پاسپورٹ ہے اور ایس آئی آر کے بعد ووٹر فہرست میں نام برقرار رہنے کے بعد انہوں نے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی دیا تھا۔‘‘ ان کے مطابق پولیس نے ان دستاویزات کو خاطر میں نہیں لایا۔
عبدالباری تقریباً 23 افراد پر مشتمل خاندان کے واحد کفیل ہیں۔ وہ مچھلی کے کاروبار سے روزی کماتے ہیں اور زمین کے بھی مالک ہیں۔ ان کے بنگلہ دیش بھیجے جانے کے بعد خاندان کو شدید مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔
اسلام نے کہا، ’’میرا خاندان شدید پریشانی میں ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ایک غیر ملک میں کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بہت تکلیف میں ہیں۔ میری والدہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ پولیس نے انہیں بنگلہ دیش کیسے بھیج دیا؟‘‘
رائےہگنج پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر انچارج نے آفیشل سیکریٹس ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے پر معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ معلومات کے لیے انہیں ای میل کی جائے۔ ’اسکرول‘ نے پولیس کو ای میل بھیجی ہے۔ جواب موصول ہونے کی صورت میں رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
یہ معاملہ بدھ کے روز اس وقت سامنے آیا جب انسانی حقوق کی تنظیم ’بنگلار مانبادھیکار سرکشا منچ‘ نے ریاست کے محکمہ داخلہ میں شکایت درج کراتے ہوئے عبدالباری کی ’’مبینہ غیر قانونی گرفتاری، غیر قانونی حراست اور پراسرار گمشدگی‘‘ کے معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے ان کے موجودہ مقام کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
تنظیم کے سیکیورٹی سیکریٹری کیریٹی رائے نے کہا کہ عبدالباری کا خاندان غیر یقینی کی صورتِ حال سے دوچار ہے۔
رائے نے کہاکہ ’ان کا فوری خدشہ صرف ذمہ داری طے کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک بنیادی سوال کا جواب حاصل کرنا ہے: عبدالباری کہاں ہیں؟‘‘
رائے کے مطابق جس شخص کے پاس بھارتی شناختی دستاویزات موجود ہوں، جن میں پولیس کی تصدیق کے بعد جاری کیا گیا بھارتی پاسپورٹ بھی شامل ہے، اسے محض انتظامی یا پولیس کے دعوے کی بنیاد پر غیر ملکی شہری قرار دے کر ملک سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ عبدالباری کی شہریت سے متعلق کسی بھی تنازع کا فیصلہ قانون کے مطابق اور مناسب قانونی و عدالتی تحفظات کے ساتھ ہونا چاہیے۔
رائے نے مزید کہاکہ ’قانون کی حکمرانی پر مبنی آئینی جمہوریت میں ریاستی حکام کے ہاتھوں لے جائے جانے کے بعد کوئی شخص اچانک لاپتا نہیں ہو سکتا۔ پولیس کو ہر اس شخص کے بارے میں جواب دینا ہوگا جسے وہ گرفتار یا حراست میں لیتی ہے۔ کسی شہری کا وجود، آزادی اور ٹھکانا انفرادی پولیس افسران کے رحم و کرم یا خاموشی پر منحصر نہیں ہو سکتا۔‘‘
اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی متعدد ریاستوں میں پولیس کی جانب سے بنگالی بولنے والے افراد—جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے—کو حراست میں لیے جانے اور ان سے بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات طلب کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
متعدد افراد کو بھارتی شہریت ثابت نہ کر پانے کے الزام میں بنگلہ دیش بھیجے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض ایسے معاملات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں غلطی سے بنگلہ دیش بھیجے گئے افراد کو بعد میں بھارتی حکام کی جانب سے ان کی بھارتی شہریت کے ثبوت فراہم کیے جانے کے بعد واپس لایا گیا۔
مئی میں، مغربی بنگال میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد، ریاستی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو رکھنے کے لیے ہولڈنگ سینٹر قائم کرے گی۔ اس اقدام کو حکومت نے ’’پہچان کرو، نام حذف کرو اور ملک بدر کرو‘‘ پالیسی سے جوڑا تھا۔
’اسکرول‘ کی رپورٹ کے مطابق، جون سے اب تک مغربی بنگال پولیس نے کم از کم 16 مسلم مردوں اور دو بچوں کو حراست میں لیا ہے اور ان پر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ عبدالباری کا معاملہ ایسے حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد کو 17 تک پہنچا دیتا ہے۔
