کولکاتا: انصاف نیوز نیٹ ورک
آج کا میڈیا ٹیلی ویژن پر ہونے والے مباحثوں، سوشل میڈیا کے وائرل رجحانات، غلط معلومات، الگورتھم اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فراہم کی جانے والی معلومات پر تیزی سے منحصر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی، جنہوں نے بھارت کی آزادی کی تحریک کے دوران صحافت کے ذریعے بھارتی عوام میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی، معاصر بھارت میں ان کی صحافت کی کیا اہمیت ہے اور آج کے میڈیا میں ان کے صحافتی نظریات کس حد تک ہماری نمائندگی کرتے ہیں؟
مشہور انگریزی ویب سائٹ ’’ای نیوز روم کانکلیو 2026‘‘ کے زیر اہتمام یہ پروگرام 3 اکتوبر کو نیشنل لائبریری، کولکاتا کے بھاشا بھون میں سہ پہر 3 بجے منعقد ہوگا۔ اس کانکلیو میں اس اہم سوال پر نہ صرف غور کیا جائے گا بلکہ ’’گاندھی بحیثیت صحافی: ہندوستان کو آج ان کے میڈیا وژن کی ضرورت کیوں ہے؟‘‘ کے موضوع کو بھی عوامی گفتگو کا حصہ بنایا جائے گا۔
ای نیوز روم، ڈیجی پرزم میڈیا فاؤنڈیشن کا ایک عوامی مفاد پر مبنی آزاد میڈیا پلیٹ فارم ہے۔
تحریکِ آزادی کے دوران اپنی سرگرم سیاسی زندگی کے باوجود گاندھی نے ’’انڈین اوپینین‘‘، ’’ینگ انڈیا‘‘، ’’نوجیون‘‘ اور ’’ہریجن‘‘ جیسے اخبارات و جرائد کی اشاعت و ادارت کی اور ان کے ذریعے عوام تک براہِ راست پہنچنے کی کوشش کی۔ ان کی صحافت میں عوامی مفاد، خدمتِ خلق اور عام شہریوں کے مسائل کو نمایاں اہمیت حاصل رہی۔
سوشل میڈیا کے رجحانات، الگورتھم، غلط اطلاعات اور تجارتی دباؤ کے تحت کام کرنے والی معاصر صحافت ایک طرح سے عوام سے دور ہوتی چلی گئی ہے۔ میڈیا عوامی جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرنے کے بجائے حکومت، کارپوریٹ اداروں اور طاقتور لابیوں کے ترجمان کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ایسے میں گاندھی کے صحافتی نظریات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور ان کے صحافتی نظریات کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ آزاد میڈیا کی رہنمائی کی جا سکے۔
موضوع کی اہمیت کے پیش نظر کانکلیو کے لیے صحافت، سنیما اور عوامی زندگی سے وابستہ کئی اہم شخصیات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ معروف اداکار اور ہدایت کار پرمبرتا چٹرجی اس کانکلیو کے پہلے مقرر ہوں گے۔ وہ بنگالی اور ہندی سنیما میں اداکاری اور ہدایت کاری کے ساتھ ساتھ تحریر اور پروڈکشن کے شعبے سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
ان کے علاوہ معروف صحافی عارفہ خانم شیروانی، سابق راجیہ سبھا رکن اور سابق سی ای او، پرسار بھارتی جواہر سرکار، سینئر صحافی و مصنف رشید قدوائی اور فیکٹ چیکر و آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا بھی گفتگو میں حصہ لیں گے۔
ای نیوز روم کے ڈائریکٹر و ایڈیٹر محمد شاہنواز اختر نے پروگرام سے متعلق کہا کہ کانکلیو کے ذریعے اس بات پر گفتگو کی جائے گی کہ صحافت کے بنیادی مقاصد کیا ہیں؟ صحافی کی عام شہریوں کے تئیں کیا ذمہ داری ہے؟ میڈیا کو اقتدار کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے؟ اور ایسے وقت میں جب خبریں سوشل میڈیا اور الگورتھم سے متاثر ہو رہی ہیں، سچائی اور عوامی خدمت کو صحافت میں کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے اور حاشیے پر پہنچ گئے افراد کی آواز کس طرح بلند کی جا سکتی ہے؟
صحافت سے وابستہ افراد کو اعزاز
محمد شاہنواز اختر نے بتایا کہ ای نیوز روم کانکلیو کے موقع پر ڈیجی پرزم میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے دو صحافتی اعزازات بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔
’’این ڈی شرما میموریل لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ معروف صحافی عبدالعزیز اور کمل نین چھپریا کو دیا جائے گا۔
77 سالہ عبدالعزیز کولکاتا کے سینئر اردو صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک صحافت سے وابستہ رہ کر میڈیا کے بدلتے ہوئے دور کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان کی صحافت میں سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل کو نمایاں جگہ حاصل رہی ہے۔
کمل نین چھپریا 1992 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے پربھات خبر، رانچی ایکسپریس، ہندوستان سماچار، دیش پران اور راشٹریہ ساگر سمیت مختلف اداروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ 1993 سے 2016 تک رانچی ایکسپریس سے وابستہ رہے۔
دوسری جانب بسواجیت رائے میموریل ایمرجنگ جرنلسٹ ایوارڈ صحافی روکیب الزماں کو دیا جائے گا۔
روکیب الزماں کی رپورٹنگ بالخصوص آسام اور شمال مشرقی ہندوستان سے متعلق رہی ہے، جہاں انہوں نے شہریت، شناخت، بے دخلی اور پیچیدہ قانونی و انتظامی معاملات سے متاثرہ لوگوں کے مسائل کو اپنی رپورٹنگ کا موضوع بنایا ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال میں بھی شہریت سے متعلق معاملات اور ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) پر رپورٹنگ کی ہے۔
این ڈی شرما اور بسواجیت رائے کی یاد میں اعزاز
یہ دونوں صحافتی اعزازات سینئر صحافی این ڈی شرما اور بسواجیت رائے کی یاد میں قائم کیے گئے ہیں، جو ای نیوز روم انڈیا سے وابستہ رہے تھے۔
دونوں صحافیوں نے ادارے کے سفر میں اہم کردار ادا کیا اور ایسی صحافت پر یقین رکھتے تھے جو عام لوگوں اور ان کے روزمرہ مسائل سے جڑی رہے۔ ان اعزازات کے ذریعے ڈیجی پرزم میڈیا فاؤنڈیشن ان دونوں صحافیوں کی خدمات کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ ایسے صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے جنہوں نے طویل عرصے تک صحافت سے وابستگی برقرار رکھی۔
دو کتابوں کی بھی رونمائی
پروگرام کے دوران مرحوم سینئر صحافی بسواجیت رائے کی رابندر ناتھ ٹیگور اور یہودی-عرب تعلقات سے متعلق کتاب کی رونمائی بھی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ مرحوم سینئر صحافی این ڈی شرما کی کتاب ’’چور کا اشتر شستر‘‘ بھی جاری کی جائے گی۔
دونوں کتابوں کی رونمائی پروگرام کو ایک خاص معنوی حیثیت دے گی اور ان دونوں صحافیوں کے کام کو نئی نسل اور وسیع تر قارئین تک پہنچانے کا موقع فراہم کرے گی۔
صرف ایک اور گاندھی جینتی پروگرام نہیں
ای نیوز روم کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد محض گاندھی جینتی کے موقع پر گاندھی کو یاد کرنا نہیں بلکہ ان کے صحافتی نظریات کو موجودہ دور کے تناظر میں سمجھنا ہے۔
گاندھی کا ماننا تھا کہ اخبار کی معاشرے کے تئیں ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے صحافت کو لوگوں کو سمجھانے، سوال اٹھانے، قائل کرنے اور ضرورت پڑنے پر اپنے قارئین کو چیلنج کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔
آج صحافت کو غلط اطلاعات، سیاسی و سماجی تقسیم، تجارتی دباؤ، عوامی اعتماد میں کمی اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ گاندھی کے صحافتی نظریات آج کے صحافیوں کو کیا سکھا سکتے ہیں۔
ای نیوز روم انڈیا کے مینیجنگ ایڈیٹر شاہنواز اختر نے کہا کہ گاندھی صرف اخبارات میں لکھنے والی شخصیت نہیں تھے بلکہ انہوں نے اس بات پر گہرائی سے غور کیا کہ صحافت کیوں موجود ہے اور اسے کس کی خدمت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اس سوال کو آج کے صحافتی منظرنامے میں دوبارہ عوامی گفتگو کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
شبینہ اختر اور بمل شرما بھی ڈیجی پرزم میڈیا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹرز کی حیثیت سے ادارے اور کانکلیو سے وابستہ ہیں۔
اس موقع پر صحافیوں، ایڈیٹروں، میڈیا پروفیشنلز، طلبہ، اساتذہ، محققین اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
پروگرام کی تفصیلات دعوت نامے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
