سماجی سرگرم کارکن سونم وانگچک، جو 21 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں، نئی دہلی کے جنتر منتر سے ایک ہسپتال منتقلی کے دوران ہاتھ لہراتے ہویے۔
نئی دہلی: لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن اور اصلاحات کے مطالبات کے لیے بھوک ہڑتال کرنے والے سونم وانگ چُک کو ہفتہ کی صبح جنتر منتر سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد احتجاجی تحریک میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ پولیس نے اس اقدام کو ان کی صحت سے متعلق احتیاطی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ مظاہرین نے اس پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے طریقۂ کار پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ہفتہ کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے چند افراد جنتر منتر پر قائم احتجاجی اسٹیج کی جانب بڑھے، جہاں سونم وانگ چُک اپنی بھوک ہڑتال کے بیسویں دن موجود تھے۔ کچھ ہی دیر بعد انہیں وہاں سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سیئٹل سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر پروفیسر پرشانت مشرا، جو گزشتہ ایک ماہ سے احتجاجی مقام پر موجود ہیں، نے بتایا کہ ابتدا میں بعض افراد نے خود کو طبی عملے کا رکن بتایا، تاہم ان کی آمد مقررہ وقت سے پہلے ہونے کے باعث وہاں موجود کارکنوں میں تشویش پیدا ہوئی۔
پرشانت مشرا کے مطابق، ’’صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہوئی۔ چند لمحوں میں اسٹیج کو گھیر لیا گیا اور سونم وانگ چُک کو وہاں سے منتقل کر دیا گیا۔‘‘
دہلی پولیس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سونم وانگ چُک کی صحت اور متعلقہ عدالتی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق بھوک ہڑتال کے باعث ان کی طبی حالت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی اور ضروری سمجھنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
ادھر احتجاجی تحریک سے وابستہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ وانگ چُک کی صحت تشویش ناک نہیں تھی اور انہیں منتقل کرنے کا طریقہ غیر ضروری طور پر سخت تھا۔ احتجاج کی حمایت کرنے والے کارکن ابھیجیت ڈپکے نے دعویٰ کیا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق وانگ چُک کے بنیادی صحت اشاریے معمول کے مطابق تھے۔
سونم وانگ چُک کی منتقلی کے بعد ڈپکے نے اعلان کیا کہ وہ احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوگی اور احتجاج جاری رہے گا۔
واقعے کے بعد جنتر منتر پر موجود مظاہرین نے احتجاجی اجتماع منعقد کیا، جس میں متعدد سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو بھی احتجاجی مقام پر پہنچے اور مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
کچھ مظاہرین نے الزام لگایا کہ کارروائی کے دوران ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا اور انہیں اسٹیج کے قریب جانے سے روکا گیا۔ تاہم ان دعوؤں پر پولیس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اتر پردیش سے احتجاج میں شریک ایک نوجوان سونو نے بتایا کہ جب وہ اسٹیج کی جانب پہنچے تو سونم وانگ چُک کو پہلے ہی وہاں سے منتقل کیا جا چکا تھا۔ ان کے مطابق پوری کارروائی چند ہی منٹوں میں مکمل ہو گئی۔
سونم وانگ چُک گزشتہ کئی دنوں سے اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال پر تھے۔ ان کی اچانک اسپتال منتقلی نے نہ صرف احتجاجی حلقوں میں بحث کو تیز کر دیا ہے بلکہ پرامن احتجاج، شہری آزادیوں اور انتظامیہ کے اختیارات کے حوالے سے بھی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
فی الحال سونم وانگ چُک صفدرجنگ اسپتال میں زیرِ نگرانی ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک مختلف شکلوں میں جاری رکھی جائے گی۔
سونم وانگ کی اہلیہ نے الزام عاید کیا ہے کہ انہیں ملاقات کرنے نہیں دیا جارہاہے۔
