کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں ایک نابالغ مسلم لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے واقعے پر بھارتی حکومت کی خاموشی کے خلاف، خبر منظرِ عام پر آنے کے بعد گزشتہ تقریباً دو ہفتوں کے دوران عالمی سطح پر شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا ہے۔
کم از کم 30 فیمنسٹ، مسلم اور نسل پرستی کے خلاف سرگرم ڈائاسپورا تنظیموں نے باروئی پور میں پیش آنے والے اس ہولناک واقعے اور بھارت بھر میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے:
“ہم بھارت میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی تشدد اور حملوں پر حکومت کی خاموشی اور بے حسی پر شدید برہم اور گہرے صدمے میں ہیں۔”
تنظیموں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں دو ماہ قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے میں خواتین ووٹروں کا اہم کردار تھا، تاہم ریاست میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کی صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔
بیان کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے خواتین کے تحفظ کے وعدوں کے باوجود گزشتہ دو ماہ کے دوران ریاست میں کم از کم آٹھ سنگین جرائم پیش آ چکے ہیں۔ ان میں تازہ ترین واقعہ باروئی پور کا ہے، جہاں ایک 11 سالہ مسلم لڑکی، جو اپنی سہیلی کے لیے سالگرہ کا تحفہ خریدنے گھر سے نکلی تھی، مبینہ طور پر اغوا، اجتماعی عصمت دری اور تشدد کا نشانہ بنائی گئی، اور بعد ازاں اسے ایک بورے میں بند کرکے تالاب میں پھینک دیا گیا۔
11 سالہ بچی کی لاش 5 جولائی 2026 کو برآمد ہوئی، جو اس کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج ہونے کے ایک دن بعد ملی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی، اس کے سر پر چوٹ کے آثار تھے اور موت کی وجہ ڈوبنا قرار دی گئی۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی، جس کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرے، ہجوم کے تشدد کے واقعات اور ایک مشتبہ شخص پرواش منڈل کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت سامنے آئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ اس کیس کا ایک اہم گواہ بھی تھا۔
مقامی پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر پرواش منڈل کو مشتبہ قرار دیا تھا، جس میں وہ لاپتا ہونے والی لڑکی کے ساتھ جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پرواش منڈل نے جرم میں ایک مقامی بی جے پی رہنما کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس کی حراست میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی اور پولیس پر حکمران جماعت کے دباؤ میں اصل ملزمان کو بچانے کے الزامات عائد کیے گئے۔
ڈائاسپورا تنظیموں نے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے ان مظاہروں کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) مخالف تحریک سے تشبیہ دے کر معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ تنظیموں کے مطابق سی اے اے مخالف تحریک ایک پرامن عوامی مہم تھی، جسے ریاستی سطح پر متنازع انداز میں پیش کیا گیا تھا۔
تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ خواتین کی جسمانی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کی ایک کڑی ہے، جو ملک میں دائیں بازو کی انتہاپسند سیاست کے ماحول میں مزید سنگین صورت اختیار کر رہے ہیں۔
بیان میں راجستھان کے سری گنگا نگر میں پیش آنے والے ایک اور افسوسناک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا، جہاں ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر متعدد افراد نے کئی روز تک اجتماعی زیادتی کی۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ میڈیا میں آنے والے یہ چند واقعات ہیں، جبکہ بے شمار کیسز رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
مزید کہا گیا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر مسلم خواتین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ نازیبا تصاویر کی گردش اور جنسی جرائم میں ملوث افراد کی بعض حلقوں کی جانب سے ستائش بھی تشویش کا باعث ہے۔
ساوتھ ایشیا سالیڈیرٹی گروپ، ہندوز فار ہیومن رائٹس یو کے اور یو کے انڈین مسلم کونسل سمیت متعدد تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ خواتین، خصوصاً مسلم اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد ایک ایسے نظریاتی رجحان کی عکاسی کرتا ہے جو مساوات اور آئینی حقوق کے منافی ہے۔
متاثرہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان تنظیموں نے باروئی پور کی نابالغ لڑکی کے ساتھ ہونے والے جرم کی غیر جانبدار، شفاف اور وقت مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے اہم گواہ پرواش منڈل کی موت کے حالات کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
