نئی دہلی: انصاف نیوز نیٹ ورک
سپریم کورٹ نے آدھار کارڈ کو شہریت، ڈومیسائل (رہائش) اور عمر کے ثبوت کے طور پر استعمال کیے جانے کے خلاف دائر ایک عرضی پر مرکز، ریاستی حکومتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے پیر کو سماعت کے دوران نوٹس جاری کیا۔
یہ عرضی وکیل اشونی اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آدھار ایکٹ 2016 کی دفعہ 9 کے مطابق آدھار نمبر نہ تو شہریت کا ثبوت ہے اور نہ ہی ڈومیسائل کا۔ عرضی میں یو آئی ڈی اے آئی (UIDAI) کے 22 اگست 2023 کے نوٹیفکیشن کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ آدھار صرف شناخت (Identity) کا ثبوت ہے، شہریت، پتہ یا تاریخِ پیدائش کا نہیں۔
عرضی کے مطابق اس کے باوجود ملک بھر میں اسکولوں میں داخلے، جائیداد کی خرید و فروخت، پیدائشی سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے آدھار کارڈ کو عمر، شہریت اور رہائش کے ثبوت کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ نئے ووٹر رجسٹریشن فارم (فارم-6) میں بھی آدھار کارڈ کو تاریخِ پیدائش اور رہائش کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر غیر قانونی تارکین وطن اور درانداز مختلف سرکاری دستاویزات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ آدھار کارڈ کو صرف شناختی دستاویز کے طور پر استعمال کیا جائے اور اسے شہریت، رہائش، پتہ یا تاریخِ پیدائش کے ثبوت کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔
اشونی اپادھیائے نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ووٹر رجسٹریشن فارم-6 میں آدھار کو عمر اور رہائش کے ثبوت کے طور پر قبول کرنے کے ضابطے کو آدھار ایکٹ کی دفعہ 9، عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 23(4) اور آئین کے آرٹیکل 14 کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ آدھار کارڈ ایکٹ کے تحت بھارت میں رہنے والا ہر شخص، خواہ وہ غیر ملکی شہری ہی کیوں نہ ہو، مخصوص شرائط پوری کرنے کے بعد آدھار کارڈ حاصل کر سکتا ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی شخص اگر ایک سال کے دوران 182 دن بھارت میں مقیم رہے تو وہ آدھار کے لیے اہل ہو جاتا ہے۔
درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ کرایہ ناموں اور مقامی انتظامیہ کی سفارشات کی بنیاد پر بھی آدھار حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث غیر قانونی تارکین وطن آدھار حاصل کرکے بعد میں ووٹر شناختی کارڈ سمیت دیگر سرکاری دستاویزات بھی حاصل کر لیتے ہیں۔
عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن انتخابی شفافیت، آبادیاتی توازن اور قومی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کر سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے معاملے پر مرکز، ریاستی حکومتوں اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
