نور اللہ جاوید
15 اگست 2026 کو بھارت 80ویں یومِ آزادی کا جشن ایک ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب ملک ایک گہرے تاریخی تضاد سے دوچار ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ ہے کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے، دنیا کی نگاہیں بھارت پر مرکوز ہیں اور دائیں بازو کے سیاسی بیانیے میں ’’وشو گرو‘‘ بننے کا خواب اب تعبیر کے قریب ہے۔ دوسری طرف نوجوانوں میں بے روزگاری، دولت کی بڑھتی ہوئی عدم مساوات، سماجی تقسیم اور مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی ملک کے سامنے گہرے ساختی چیلنجز کھڑے کر رہی ہے۔آزادی کے 79 برسوں میں بھارت نے بلاشبہ کئی شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے، لیکن ایک متحد، کثیرالثقافتی اور جمہوری بھارت کی تعمیر کا خواب آج سوالوں کی زد میں ہے۔ مذہبی، نسلی، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم نے معاشرے کے سماجی تانے بانے کو مکمل طور پر تباہ کردیاہے۔ ثقافتی اور تہذیبی بالادستی کی خواہش نے تعلیمی اداروں میں موجود تنوع اور اختلافِ رائے کوختم کردیاہے۔سوال کرنے اور اختلاف کی جگہ جبر، خوف اور خاموشی نے لے لی ہے۔آزادی کی جدوجہد کرنے والی وہ نسل، جس نے برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں اور غلامی کے استبداد کو براہِ راست محسوس کیا تھا، اب تقریباً رخصت ہو چکی ہے۔ اسی طرح وہ نسل بھی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے جس نے آزاد بھارت کے ابتدائی برسوں میں آنکھ کھولی اور اپنی زندگی میں ایک نئے ملک کو تعمیر ہوتے دیکھا۔
تاریخ کو اپنے مخصوص سیاسی نقطۂ نظر سے دوبارہ لکھنے کی کوششوں نے نئی نسل کے سامنے آزادی کی اصل تاریخ اور اس جدوجہد کے اصل کرداروںکو اوجھل کردیا ہے۔نصابی کتابوں میں مجاہدین کی جگہ وہ افراد نمایاں جگہ پارہے ہیں جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کیا اور معافیاں مانگ کر انگریزی استبداد کو مضبوط کیا۔جنہوں نے آزادی کے بجائے انتہاپسندانہ نظریہ کیلئے کام کرنے کو ترجیح دی اور ملک میں اتحاد و اشتراک کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ۔نصابی کتابوں میں تاریخ کے انتخاب، آزادی کی تحریک کے مختلف کرداروں اور نوآبادیاتی اقتدار کے ساتھ ان کے تعلقات پر بھی نئے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نتیجتاً آج کی نوجوان نسل کے ایک بڑے حصے کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آزادی کی اصل جدوجہد کن نظریات، قربانیوں اور اصولوں کے گرد تشکیل پائی تھی۔ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ معاصر بھارت جن حالات سے دوچار ہے، کیا یہ وہی بھارت ہے جس کا خواب تحریک آزادی کے رہنماؤں اور مجاہدین نے دیکھی تھی؟کیا اسی خواب کے لیے بھگت سنگھ نے عین شباب میں تختۂ دار کو قبول کیا تھا؟ کیا آزادی کا مقصد صرف ایک غیر ملکی اقتدار کو ہندوستان سے نکالنا تھا، یا اس کے پیچھے ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کا خواب تھا جہاں عام شہری کو انصاف، مساوات، وقار، آزادیِ اظہار اور اپنے مستقبل پر اختیار حاصل ہو؟یہی تضاد ہے جس کے درمیان آج بھارت کا نوجوان ایک بار پھر ’’آزادی‘‘ کا نعرہ بلند کر رہا ہے۔حکمراں طبقے اور ملک کی اشرافیہ کے لیے یہ سوال پریشان کن ہے کہ آزادی حاصل کیے 79 برس گزر چکے ہیں، تو پھر آج آزادی کا نعرہ کیوں؟۔لیکن شاید اصل سوال یہ نہیں کہ نوجوان آزادی کا نعرہ کیوں لگا رہا ہے؟اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس آزادی کی بات کر رہا ہے؟۔
ان سوالوں کے جواب کے لیے تاریخ آزادی کے چند اوراق کو جستہ جستہ ایک بار پھر پڑھنے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آزادی کا تصور کن نظریات، اصولوں اور فکری بنیادوں کے گرد تشکیل پایا تھا۔ آزادی کی جدوجہد محض اقتدار کی منتقلی کی تحریک نہیں تھی۔ اس کے اندر ایک ایسے بھارت کی تعمیر کا خواب تھا جہاں سیاسی آزادی کے ساتھ معاشی انصاف، سماجی مساوات اور شہری آزادی بھی یقینی ہو۔بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے سیاسی افکار اس حقیقت کی ایک اہم مثال ہیں۔ بھگت سنگھ نے اس تصور کو مسترد کیا تھا کہ محض انگریز حکمرانوں کی جگہ ہندوستانی حکمرانوں کا آجانا ہی آزادی کا مقصد ہے۔ ان کے نزدیک سوال یہ تھا کہ اقتدار کی تبدیلی سے عام مزدور اور کسان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟۔ بھگت سنگھ نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر ریاست یا اقتدار صرف انگریزوں کے ہاتھ سے ہندوستانیوں کے ہاتھ منتقل ہو جائے تو مزدوروں اور کسانوں کے لیے اس سے کیا فرق پڑے گا؟ ایک کسان کے لیے لارڈ ارون کی جگہ کسی ہندوستانی حکمران کا آ جانا اس وقت تک حقیقی تبدیلی نہیں ہو سکتا جب تک اس کی معاشی اور سماجی زندگی تبدیل نہ ہو۔یہی وہ نقطۂ نظر تھا جس نے آزادی کو محض سیاسی اقتدار کے حصول سے آگے بڑھا کر سماجی اور معاشی انقلاب سے جوڑ دیا۔ بھارت سبھا جوبھگت سنگھ کے ساتھیوں کی ایک انجمن تھی کے کراچی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سبھاش چندر بوس نے کہا تھا کہ’’ حصول آزادی کا حقیقی مقصد ایک سوشلسٹ جمہوریہ کا قیام ہے، جہاں حکومت میں کسانوں اور مزدوروں کی شراکت ہواور ہرایک شہری کو مساوات حاصل ہو۔
1931 کا کراچی کانگریس اجلاس ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس اجلاس میں ’’بنیادی حقوق اور قومی اقتصادی پروگرام‘‘ کے عنوان سے ایک اہم قرارداد منظور کی گئی، جس میںسیاسی آزادی کے تصور کو شہری حقوق اور معاشی انصاف کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔قرارداد کا بنیادی تصور یہ تھا کہ عوام کے استحصال کے خاتمے کے لیے سیاسی آزادی کے ساتھ کروڑوں بھوکے اور محروم ہندوستانیوں کی ’’حقیقی معاشی آزادی‘‘بھی ضروری ہے۔کراچی قرارداد میں بنیادی شہری حقوق کی ضمانت کی بات کی گئی۔ ان میں آزادیِ اظہار، آزادیِ صحافت، پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی، قانون کے سامنے مساوات اور ذات، مذہب یا جنس کی بنیاد پر امتیاز کے خاتمے جیسے اصولوں پر توجہ کی وکالت کی گئی ت۔ مذہب کے معاملے میں ریاست کی غیر جانب داری کوقائم کرنے کا عزم کیا گیا۔اقتصادی میدان میں بھی قرارداد نے واضح اہداف پیش کیے۔ کسانوں پر کرایوں اور محصولات کا بوجھ کم کرنے، غیر منافع بخش زرعی زمینوں کے کرایے معاف کرنے، زرعی قرضوں سے نجات دلانے اور سود خورانہ نظام پر قابو پانے کی بات کی گئی۔مزدوروں کے لیے بہتر حالاتِ کار، مناسب اجرت، کام کے اوقات کی تحدید اور خواتین کارکنوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔ مزدوروں اور کسانوں کو تنظیمیں اور یونین بنانے کا حق دینے کی بات بھی اسی پروگرام کا حصہ تھی۔یہ عزائم اور قرار داد واضح کرتے ہیں کہ سیاسی آزادی معاشی اور سماجی آزادی سے الگ نہیں تھا اور صرف سیاسی آزادی کا حصول تحریک آزادی کا بنیادی مقصد نہیں تھا۔آزادی کی اس جدوجہد میں سماجی اتحاد بھی ایک بنیادی اصول تھا۔رام گڑھ میں کانگریس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندو مسلم اتحاد اور سوراج کے سوال کو جس انداز میں پیش کیا، وہ آج بھی غیر معمولی اہمیت حامل ہے۔ ان کے نزدیک بھارت کی آزادی اور اس کی تعمیر کا خواب مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کے باہمی اتحاد سے الگ نہیں کیا جا سکتا تھا۔مولانا آزاد کے سیاسی فکر کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ہندوستان کی آزادی صرف ایک کمیونٹی یا مذہبی اکثریت کی آزادی نہیں ہو سکتی۔ یہ پورے ہندوستان کے لوگوں کی مشترکہ آزادی ہونی چاہیے۔ان کے نزدیک ہندو مسلم اتحاد محض سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل کی بنیادی ضرورت تھا۔مہاتما گاندھی نے آزادی کے جشن کا حصہ بننے کے بجائے کلکتہ اور بنگال کے دیہی علاقوں میں ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے جدو جہد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
یہ تصور آج کے بھارت کے لیے بھی ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہےگر ایک ملک کے شہری مذہب، ذات، زبان یا شناخت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور ہوجائیں تو کیا صرف سیاسی آزادی اس ملک کو مضبوط اور متحد رکھ سکتی ہے؟یہی سوال ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے سیاسی فلسفے میں بھی ایک مختلف انداز میں سامنے آتا ہے۔دستور ساز اسمبلی میں اپنے اختتامی خطاب میں امبیڈکر نے خبردار کیا تھا کہ’ سیاسی جمہوریت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک اس کی بنیاد میں سماجی جمہوریت موجود نہ ہو۔ان کے لیے سماجی جمہوریت کا مطلب ایسا طرزِ زندگی تھا جس میں آزادی، مساوات اور اخوت بنیادی اصول ہوں۔امبیڈکر کے نزدیک ان تینوں اصولوں کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا تھا۔آزادی کو مساوات سے جدا نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ آزادی اگر مساوات کے بغیر ہو تو اس کا فائدہ معاشرے کے طاقتور طبقات کو ہی ملے گا ۔ اسی طرح مساوات کو آزادی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جبری مساوات بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔اور آزادی و مساوات کو اخوت سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں شہریوں کے درمیان باہمی احترام اور برادری کا احساس ختم ہو جائے تو جمہوری نظام محض اداروں کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے۔امبیڈکر کی یہ تنبیہ آج بھی انتہائی اہم ہے۔اگر آزادی اور مساوات کے درمیان توازن ختم ہو جائے تو آزادی چند لوگوں کو اکثریت پر غلبہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تاریخ کے ان چند اہم ابواب کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیں تو اس سوال کا جواب ہمیں مل جاتا ہے کہ آج کانوجوان ’’آزادی‘‘ کا نعرہ کیوں بلند کررہے ہیں۔آج کا نوجوان کسی بیرونی حکومت سے آزادی کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ وہ ایک ایسے نظام کے اندر آزادی تلاش کر رہا ہے جس کا وہ خود شہری ہے۔وہ سوال کررہا ہے کہ کیا اسے بے روزگاری سے آزادی مل سکتی ہے؟،کیا اسے غربت اور معاشی عدم مساوات سے آزادی مل سکتی ہے؟،کیا اسے مذہبی، ذات پات اور سماجی امتیاز سے آزادی حاصل ہوگی؟۔کیا اسے خوف کے ماحول سے آزادی مل سکتی ہے؟کیا اسے اپنے تعلیمی اور معاشی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی سے نجات مل سکتی ہے؟کیا اسے ایسا معاشرہ مل سکتا ہے جہاں سوال پوچھنا جرم نہ ہو؟۔جہاں اختلافِ رائے کو ملک دشمنی نہ سمجھا جائے؟جہاں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جمہوریت کا حصہ ہو؟یہی وہ سوالات ہیں جن کی بنیادوں پر آزادی کی تحریک کی نظریاتی تشکیل کی گئی تھی ۔نوجوانوں کا ’’آزادی‘‘ کا نعرہ ماضی کو مسترد کرنے کا نہیں بلکہ آزادی کے اصل وعدے کو یاد دلانے کا نعرہ ہے۔1947 میں بنیادی سوال تھاکہ بھارت کو برطانوی اقتدار سے آزادی کب ملے گی؟2026 میں حقیقی آزادی کے حصول کی خواہش ہے۔ یہی سوال آج کے بھارت کے سامنے سب سے بڑا آئینی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی سوال ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت نے گزشتہ 79برسوں میںترقی کے کئی سنگ میل عبور کئے ہیں ، معاشی حجم کے اعتبار سے بھارت کا شمار دنیا کی بڑی معیشت میں ہونے لگا ہے، انفراسٹکچر میں بہتری آئی ہے، مڈل کلاس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔غربت میں کمی آئی ہے۔اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے ۔تکنالوجی کے شعبے میں بھارت نے دنیا میں اپنا مقام حاصل کیا ہے۔بھارت کی جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا جی ڈی کی ترقی خود بخود انسانی ترقی بن جاتی ہے؟۔ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ 2025کے مطابق بھارت 193 ممالک میں 130ویں مقام پر تھا، یعنی معاشی ترقی کے باوجود انسانی ترقی کے میدان میں ابھی کافی فاصلہ باقی ہے۔
بھارت کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی نوجوان آبادی ہے، مگر یہی نوجوان اگر روزگار، تعلیم اور مواقع سے محروم رہیں تویہ نوجوان قیمتی سرمایہ بننے کے بجائے آبادی کیلئے بوجھ بن جاتے ہیں ۔اگر اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2025اور عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹیں بھارت کے نوجوانوں کے بحران کو اوضح کرتی ہے۔عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹ کے کے مطابق بھارت میں 15-29سال کی عمر کے تقریباً 367 ملین نوجوان ہیں، جو working-age population کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں اضافہ ہوا ہے لیکن graduate employment اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔رپورٹ کےمطابق بھارت نے نوجوانوں کو ڈگریاں تو دیں، لیکن انہیں روشن مستقبل فراہم نہیں کرپارہی ہیں ۔آج نوجوانوں میں بے روزگاری اپنے بلند ترین سطح پر ہے۔28 سال کی اوسط عمر کے ساتھ، بھارت دنیا کی سب سے نوجوان معیشتوں میں سے ایک ہے۔ تاہم، نوجوانوں کے تناسب میں کمی کے ساتھ، ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ سے فائدہ اٹھانے کی کھڑکی تنگ ہو رہی ہے۔
سٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026بھارت میں نوجوانوں کی آبادی، ان کی تعلیم، ہنر مندی اور لیبر مارکیٹ (روزگار کے بازار) میں ان کی منتقلی کا ایک جامع جائزہ پیش کرتے ہوئےکہا ہے کہ پچھلی چار دہائیوں میں اعلیٰ تعلیم (ٹرشری ایجوکیشن) میں داخلے کی شرح میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خواتین میں۔ 1983 میں اعلیٰ تعلیم میں خواتین کا تناسب 38 فیصد تھا جو 2023 میں بڑھ کر 68 فیصد ہو گیا۔اگرچہ تعلیم تک رسائی بہتر ہوئی ہے، لیکن طبقاتی اور معاشی تفاوت اب بھی موجود ہے۔ انجینئرنگ اور میڈیکل جیسے پیشہ ورانہ کورسز اتنے مہینے ہیں کہ غریب گھرانوں کے سالانہ اخراجات ان کی فیس سے کم پڑ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غریب طلباء ان منافع بخش شعبوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔حالیہ برسوں (2017 سے 2024 کے درمیان) نوجوان مردوں کا تعلیم میں حصہ 38 فیصد سے کم ہو کر 34 فیصد پر آ گیا ہے، جس کی بڑی وجہ گھریلو معاشی مشکلات کے باعث پڑھائی چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں لگنا ہے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری ملنے کا عمل طویل اور غیر یقینی ہے۔ بھارت میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح عالمی اوسط سے بہت زیادہ ہے۔ہر سال تقریباً 5 ملین (پچاس لاکھ) گریجویٹس سامنے آتے ہیں لیکن ان میں سے بمشکل 2.8 ملین کو نوکری ملتی ہے۔ اس تفاوت کی وجہ سے 2023 تک 20 سے 29 سال کی عمر کے 63 ملین گریجویٹس میں سے 11 ملین (ایک کروڑ دس لاکھ) نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں۔
جو نوجوان نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، ان میں سے بھی صرف ایک چھوٹا سا حصہ (جیسے گریجویٹس میں سے صرف 7 فیصد) ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ دار یا وائٹ کالر ملازمت حاصل کر پاتا ہے۔علاقائی عدم مساوات کی وجہ سے بہار اور اتر پردیش جیسی غریب اور نوجوان ریاستوں سے نوجوان روزگار کی تلاش میں دہلی، ہریانہ اور پنجاب جیسی ترقی یافتہ ریاستوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ اعدادوشمار اس سوال کا جواب فراہم کردیتی ہے کہ بھارت کی ترقی کا فائدہ کن طبقات کو ملا ہے۔عدم مساوات صرف امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا نام نہیں۔ آبادی کے ایک محدود طبقے کی آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ کم اجرت یا غیر یقینی روزگار پر انحصار کرتے ہیں۔ دولت کی عدم مساوات اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے، جہاں زمین، جائیداد، سرمایہ اور کاروباری اثاثے نسبتاً کم لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں۔یہ فرق صرف طبقاتی نہیں بلکہ علاقائی بھی ہے۔ بڑے شہروں اور صنعتی مراکز میں روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے مواقع نسبتاً زیادہ ہیں، جبکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں نوجوانوں کو بہتر مواقع کے لیے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ اسی طرح دیہی اور شہری آمدنی کا فرق بھی بھارت کی ترقی کی ایک بڑی حقیقت ہے۔ذات پات کی تفریق ، لسانی عصبیت اور مذہبی منافرت آج بھی سماجی اور معاشی مواقع پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دلت، آدیواسی اور دیگر محروم طبقات کے لیے تعلیم، زمین، روزگار اور کاروبار تک رسائی کے مسائل پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ صنفی عدم مساوات کے باعث خواتین کی تعلیم میں پیش رفت کے باوجود ان کی افرادی قوت میں شرکت، اجرت، جائیداد کی ملکیت اور فیصلہ سازی میں حصہ اب بھی مردوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔یوں بھارت کی ترقی کی اصل آزمائش صرف یہ نہیں کہ معیشت کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس ترقی کے ثمرات کس حد تک اور کن طبقات تک پہنچ رہے ہیں۔ اگر ترقی کے باوجود کسی نوجوان کا طبقہ، جنس، ذات، مذہب یا پیدائش کی جگہ اس کے مستقبل کا تعین کرتی رہے تو معاشی ترقی کو مکمل سماجی ترقی کہنا مشکل ہوگا۔ایک طرف ارب بتیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری بھارت میں معاشی محرومی اور غیر یقینی روزگارمیں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بھارت کی معیشت تضادات کا شکار ہے۔
دولت میں عدم مساوات ، علاقائی تفریق اور مذہبی منافرت میں اضافہ نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا آزادی صرف ووٹ دینے کا نام ہے؟۔یا پھر تمام شہری کیلئے یکساں مواقع او ر شمولیت کو یقینی بنانے کا نام ہے۔اگر ووٹ دینے کے بعد منتخب حکومت سے سوال کرنے میں شہری خوف محسوس کرنے لگے تو یہ آزادی مکمل نہیں ہوسکتی ہے۔مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے خطرات سے متعلق آگاہ کئے گئے ہیں ۔Freedom House کی 2026 رپورٹ بھارت کو 62/100 اور ’’Partly Free‘‘ قرار دیتی ہے، جبکہ سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں دونوں کو الگ الگ جانچتی ہے۔مختلف بین الاقوامی ادارے بھارت کی جمہوری کارکردگی کو مختلف پیمانوں سے جانچتے ہیں۔ان کی درجہ بندی پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ان رپورٹس میں میڈیا، شہری آزادیوں، ادارہ جاتی checks and balances اور سیاسی آزادی سے متعلق جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، انہیں نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ان سوالات کو کارپوریٹ میڈیا کے شور و غل میں دبا بھی نہیں جاسکتا ہے۔
آزادی کے حصول کیلئے جدو جہد کرنے والوں نے ایک ایسے ملک کا تصور کیا تھا جہاں شہری کی شناخت اس کے حقوق کا تعین نہ کرے۔ آئین نے اسی تصور کو مساوات، مذہبی آزادی اور قانون کے سامنے برابری کی ضمانت کے ذریعے مضبوط کیا۔ لیکن 79 برس بعد مذہب، ذات، زبان اور شناخت کے سوال نے بھارتی جمہوریت کے سامنے ایک پیچیدہ چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ متعدد بین الاقوامی اداروںHuman Rights Watch کی World Report 2026 کے مطابق 2025 میں بھارت میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں، دلتوں اور قبائلی برادریوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک کے واقعات تشویش کا باعث رہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور حملوں میں اضافے، مسلم املاک کی غیر قانونی مسماری اور بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کی مبینہ غیر قانونی ملک بدری کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق منی پور میں جاری نسلی تشدد نے بھی ہزاروں لوگوں کو بے گھر کیا، جبکہ عیسائی دلتوں اور آدیواسی برادریوں کو بھی بعض علاقوں میں تشدد، سماجی بائیکاٹ اور معاشی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔Human Rights Watch کی ایشیا ڈائریکٹر Elaine Pearson نے کہا کہ امتیازی پالیسیوں، نفرت انگیز بیانیے اور سیاسی نوعیت کی کارروائیوں کے ذریعے مذہبی اقلیتوں، محروم گروہوں اور حکومت کے ناقدین کے خلاف تشدد اور امتیاز کو معمول بنانے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔یہ صورتِ حال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر آئین ہر شہری کو مذہب، ذات اور شناخت سے قطع نظر مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے تو عملی زندگی میں ان حقوق کا تحفظ کس حد تک ہو رہا ہے؟ حقیقی آزادی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ اکثریت کتنی آزاد ہے؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک ملک اپنی اقلیتوں کو کتنا محفوظ، باوقار اور برابر کا شہری محسوس کراتا ہے۔اسی تناظر میں نفرت انگیز تقاریر مذہبی منافرت، فرقہ وارانہ تشدد اور شناخت کی سیاست** کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نفرت انگیز بیانیہ جب سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہونے لگے تو اس کا اثر صرف مخالف جماعت یا کسی مخصوص مذہبی گروہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشرے میں باہمی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
ایک جمہوری معاشرے میں اکثریت کا حقِ حکمرانی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن جمہوریت کی اصل آزمائش اس بات سے ہوتی ہے کہ اکثریت اقلیت کے حقوق اور اختلافِ رائے کے ساتھ کس قدر انصاف کرتی ہے۔یہی اصول ذات پات کے سوال پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ آزادی کے باوجود دلتوں اور آدیواسیوں کو تعلیم، زمین، روزگار اور سماجی وقار کے میدان میں تاریخی محرومیوں کا سامنا ہے۔اسی لیے آج کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ بھارت میں اکثریت کو آزادی حاصل ہے یا اقلیت کو؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کا ہر شہری اپنی مذہبی، سماجی، لسانی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ برابر کا ہندوستانی محسوس کرتا ہے؟شاید یہی سوال ’’حقیقی آزادی‘‘ کے مفہوم کو سب سے زیادہ گہرائی فراہم کرتا ہے۔
یہی وہ صورتِ حال ہے جس کا آج کا بھارت سامنا کر رہا ہے۔ جن بنیادوں پر آزادی کی تحریک تشکیل دی گئی تھی اور جو خواب اس نسل نے دیکھے تھے، 79 برس بعد بھی ان کی تکمیل کا سفر باقی ہے۔ ملک کی ترقی اور چمک دمک کے باوجود اس کے ثمرات اب بھی یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے۔ تعلیم سے معیشت تک مواقع کی غیر مساوی تقسیم اور شناخت کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی تقسیم یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آزادی کا اصل وعدہ کہاں تک پورا ہوا ہے۔آج بہت سے بنیادی سوالوں کو ہائبرڈ قوم پرستی اور ہندوتوا کی عظمت کے شور میں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن جمہوریت کا مطلب سوالات سے فرار نہیں، بلکہ سوالات کا سامنا کرنا ہے۔ڈاکٹر امبیڈکر نے خبردار کیا تھا کہ اگر سیاسی جماعتیں ملک سے بالاتر اپنے سیاسی عقیدے کو ترجیح دیں گی تو آزادی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ان کا یہ انتباہ آج بھی ہمارے لیے اہم ہے۔اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادی کو صرف 1947 کے ایک تاریخی واقعے کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے ایک مسلسل جمہوری اور سماجی عمل سمجھا جائے۔اس عمل میں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم ہے۔آج کا نوجوان صرف مستقبل کا شہری نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل کی تشکیل کرنے والی سب سے بڑی طاقت ہے۔اور شاید اسی لیے 2026 کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ بھارت آزاد ہے یا نہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کا ہر شہری خود کو آزاد محسوس کرتا ہے؟۔امبیڈکر نے شہریوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی آزادی کے دفاع کے لیے اپنے خون کے آخری قطرے تک پرعزم رہیں۔
