گوہاٹی : انصاف نیوز نیٹ ورک
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اڈانی پاور کے مجوزہ تھرمل پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد اس زمین پر رکھا ہے، جہاں سے گزشتہ سال بنگالی نژاد مسلمانوں کے تقریباً 1,400 خاندانوں کو بے دخل کیا گیا تھا۔ اس بے دخلی کے نتیجے میں تقریباً 10,000 افراد بے گھر ہوئے تھے۔
انگریزی ویب سائٹ اسکرول کی ایک رپورٹ کے مطابق، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اتوار کے روز ضلع دھوبری میں اڈانی پاور لمیٹڈ کے مجوزہ 3,200 میگاواٹ کے تھرمل پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پروجیکٹ اسی زمین پر تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں جولائی 2025 میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے تقریباً 1,400 خاندانوں کے مکانات مسمار کیے گئے تھے۔
یہ پروجیکٹ چاپار ریونیو سرکل کے تحت آنے والے دیہات چاروا باکھرا، چیرا کوٹا اول و دوم اور سنتوش پور کی زمین پر محیط ہے۔ جولائی 2025 میں آسام حکومت نے اس علاقے میں تقریباً 1,157 ایکڑ سرکاری زمین پر آباد بنگالی نژاد مسلمانوں کے 1,400 سے زائد خاندانوں کے مکانات مسمار کر دیے تھے۔ ان میں سے بیشتر خاندان تقریباً چار دہائیوں سے اس علاقے میں آباد تھے۔
یہ زمین ابتدا میں ریاستی حکومت کی زیرِ انتظام کمپنی آسام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کو الاٹ کی گئی تھی، جس کے بعد مجوزہ پاور پروجیکٹ کے لیے اسے اڈانی پاور کے حوالے کر دیا گیا۔
شرما نے اس پروجیکٹ کو آسام کا ’’اب تک کا سب سے بڑا پاور پروجیکٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ریاست کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ بجلی پیدا ہوگی۔ اڈانی گروپ کے مطابق، پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران تقریباً 20,000 اور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد تقریباً 5,000 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
شرما کے مطابق، رواں سال آسام میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 3,240 میگاواٹ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے ہندوستان میں بجلی کی طلب میں سالانہ تقریباً 6 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آسام میں یہ اضافہ تقریباً 9 فیصد سالانہ ہے۔
یہ پروجیکٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی کی زیرِ اقتدار حکومتوں کی جانب سے اڈانی گروپ کو مبینہ طور پر ترجیحی سلوک دیے جانے کے حوالے سے تنقید جاری ہے۔ اس تنقید میں ٹینڈر کی شرائط میں مبینہ غیر معمولی رعایتوں اور طویل مدتی بجلی معاہدوں سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دی رپورٹرز کلیکٹو کی مارچ 2026 کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، آسام اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت نے اڈانی گروپ کو اضافی بجلی کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا، جس کا ایک حصہ ممکن ہے کہ ریاست استعمال بھی نہ کر سکے۔ سرکاری دستاویزات کے تجزیے کی بنیاد پر رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا کہ اس معاہدے سے ریاست کو پانچ برسوں میں 12,500 کروڑ روپے سے زیادہ کا ممکنہ مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
اڈانی گروپ کے ڈائریکٹر جیت اڈانی نے کہا کہ آسام اور وسیع تر شمال مشرقی خطہ گزشتہ چند برسوں میں بڑی تبدیلی سے گزرا ہے اور اقتصادی ترقی، جدید بنیادی ڈھانچے اور بڑے منصوبوں کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’گزشتہ پانچ برسوں میں میں 40 مرتبہ آسام آیا ہوں، لیکن آج اس خوبصورت سرزمین پر آپ سب کے درمیان کھڑا ہونا میرے لیے باعثِ فخر ہے۔‘‘
جیت اڈانی نے مزید کہا کہ آسام کی شناخت یہاں کے لوگوں کی گرمجوشی اور ان کے غیر معمولی عزم میں پنہاں ہے۔ ان کے مطابق شمال مشرقی خطہ، جو روایتی طور پر اپنی قدرتی خوبصورتی اور بھرپور ثقافت کے لیے جانا جاتا تھا، اب جدید بنیادی ڈھانچے اور قومی سطح کے بڑے منصوبوں کے ایک متحرک مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور آسام اس تبدیلی کی قیادت کر رہا ہے۔
تاہم، اس منصوبے کے لیے بے دخل کیے گئے خاندانوں کی بحالی اور معاوضے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماحولیاتی منظوری کے لیے جمع کرائی گئی درخواست میں اڈانی پاور نے مرکزی وزارتِ ماحولیات کو بتایا تھا کہ پروجیکٹ کی جگہ پر کوئی آبادی موجود نہیں تھی اور بحالی یا نقل مکانی سے متعلق کوئی دعویٰ بھی موجود نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق، تقریباً 3,500 بیگھہ سرکاری زمین مبینہ طور پر بے دخل کرکے حاصل کی گئی، جبکہ مزید 1,700 بیگھہ زمین ایسی تھی جہاں زمین کے قانونی مالکان رہتے تھے۔ ان مالکان میں سے تقریباً نصف کو تمام ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے باوجود اب تک معاوضہ نہیں ملا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے بائزر الگا گاؤں میں 300 بیگھہ زمین مختص کی تھی اور ان کا سامان منتقل کرنے کے لیے فی خاندان 50,000 روپے کی یکمشت مالی امداد کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، بعض رہائشیوں نے وہاں منتقل ہونے سے انکار کیا، کیونکہ ان کے مطابق یہ علاقہ دریائے برہم پتر کے وسط میں واقع نشیبی اور ریتلا چار ہے، جہاں رہائش کے لیے بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔
30 مارچ 2025 کو ضلعی انتظامیہ نے پاور پروجیکٹ کے لیے گاؤں کی چرنی کی زمین، یعنی مویشیوں کے چرنے کے لیے مختص سرکاری زمین، کے استعمال میں تبدیلی کی تجویز پیش کی تھی۔ 2 اپریل کو منعقدہ ضلع سطح کی لینڈ ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی میں بھی اس تجویز کا ذکر کیا گیا۔
اس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے بے دخلی کے نوٹس جاری کیے اور متاثرہ خاندانوں کے مکانات مسمار کر دیے۔
رواں سال 14 جولائی کو مرکزی وزارتِ ماحولیات کے تحت ماہر جائزہ کمیٹینے اڈانی پاور کے مجوزہ کوئلے سے چلنے والے تھرمل پاور پلانٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کی سفارش کی تھی۔
شرما نے اس سے قبل فروری میں منعقدہ ایک بزنس سمٹ کے دوران پیش کی گئی تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اڈانی گروپ نے آسام میں 50,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔
یہ پروجیکٹ اور اس سے قبل ہونے والی بے دخلیاں 2016 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے آسام میں اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری بے دخلی اور مسماری کی کارروائیوں کے سلسلے کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ ان کارروائیوں میں بڑی تعداد میں بنگالی بولنے والے مسلم خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ 2016 کے بعد سے شروع کی گئی مختلف بے دخلی مہمات کے دوران پولیس فائرنگ میں کم از کم آٹھ مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں 7 ستمبر کو آسام میں مسلم خاندانوں کے خلاف کی گئی ایک بے دخلی مہم کے دوران ضلع گولپارہ کے پانچ دیہات میں انتظامیہ نے 73 مسلم خاندانوں کو صرف 24 گھنٹے کے اندر مکانات خالی کرنے کا نوٹس دیا، جس کے بعد یہ خاندان بے گھر ہو گئے۔
گوہاٹی ہائی کورٹ نے اس کارروائی کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران مسماری کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ بادی النظر میں یہ کارروائی قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی معلوم ہوتی ہے۔
