کانگریس کے زیر اقتدر ریاست کرناٹک میں بھی بنگالی مسلمانوں کو تعصب کا سامنا
رفیق بسواس کو حراستی مرکز میں بھیج دیا گیا اور بعد میں کرناٹک ہائی کورٹ نے انہیں ہندوستانی قرار دے دیا
کولکاتا: انصاف نیوز نیٹ ورک
بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں بنگالی مسلمانوں کو مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے اور بنگلہ دیش واپس بھیجے جانے کے کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم، بنگالی مسلمانوں کو زبان اور شناخت کی بنیاد پر مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات صرف بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ کانگریس کے زیرِ اقتدار کرناٹک میں بھی ایسے الزامات سامنے آئے ہیں۔
حال ہی میں ممبئی میں برسوں سے مقیم شہیدہ فقیر کو ممبئی پولیس نے حراست میں لے کر بی ایس ایف کی مدد سے بنگلہ دیش واپس بھیج دیا، حالانکہ ان کا تعلق مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع سے بتایا جاتا ہے۔
اب کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں بھی بنگالی مسلمانوں، خصوصاً کچی بستیوں میں رہنے والے مزدوروں کے خلاف پولیس کارروائی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گزشتہ سال اگست میں رفیق الاسلام بسواس کو بنگلورو میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والا غیر قانونی تارکِ وطن ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بسواس کا تعلق مغربی بنگال کے ضلع نادیہ سے ہے۔ انہوں نے بنگلورو کے ایک حراستی مرکز میں تقریباً چار ماہ گزارے، جبکہ ان کے اہلِ خانہ اور وکلا انہیں رہا کرانے کی کوشش کرتے رہے۔
پاسپورٹ سمیت متعدد دستاویزات موجود ہونے کے باوجود بسواس کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے ایک طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی۔ ان کے مطابق حراستی مرکز میں قیام کے دوران انہیں دل کے دو دورے بھی پڑے۔
بسواس نے ’اسکرول‘ کو بتایا کہ 4 اگست کو کرناٹک ہائی کورٹ نے انہیں ہندوستانی شہری قرار دیا اور کہا کہ ان کا خاندان ’’نسلوں‘‘ سے ہندوستان میں مقیم ہے۔
لیکن ان کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔
چار دن بعد، 8 اگست کی صبح تقریباً 6 بجے پولیس دوبارہ بسواس کے گھر پہنچی اور انہیں ان کی اہلیہ کے ساتھ حراست میں لے لیا۔
یہ کارروائی بنگلورو سٹی پولیس کی جانب سے شہر میں مقیم ممکنہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے لیے چلائی جانے والی خصوصی مہم ’’آپریشن مکُت‘‘ کے تحت کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے دوران تقریباً 3 ہزار بنگالی مزدوروں کو حراست میں لیا گیا، جن میں بسواس بھی شامل تھے۔
پولیس نے شہر کے تقریباً 90 مقامات پر چھاپے مارے۔ ان میں بڑی تعداد ان علاقوں کی تھی جہاں بنگالی بولنے والے مزدور رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد بنگلورو میں روزانہ پیدا ہونے والے ٹنوں کچرے اور قابلِ استعمال مواد کو جمع کرنے اور الگ کرنے کا کام کرتے ہیں۔
بسواس نے کہا:
’’ہر شخص کو اٹھا لیا گیا اور بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا دیا گیا۔ میرے علاقے سے تقریباً 230 افراد کو، جو ہندوستانی شہری ہیں، تھانے لے جایا گیا۔‘‘
بسواس کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس میں انہیں ہندوستانی شہری قرار دیا گیا تھا۔
’’میری لمبی داڑھی اور لنگی دیکھ کر بنگلہ دیشی کہا گیا‘‘

مغربی بنگال کے ضلع نادیہ سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ شیخ قادر گزشتہ 21 برس سے بنگلورو میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 8 اگست کی صبح پولیس اہلکاروں کے ایک گروپ نے انہیں ان کے گھر کے قریب سے حراست میں لے لیا۔
انہوں نے ’اسکرول‘ کو بتایا:
’’میری لمبی داڑھی ہے اور میں لنگی پہنتا ہوں۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور کہا، ’آپ پورے بنگلہ دیشی ہیں۔‘‘‘
قادر کے مطابق پولیس نے انہیں حراست میں لینے سے پہلے ان کی کسی دستاویز کی جانچ نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق، سیکڑوں مزدوروں کو حراستی مراکز، میرج ہالز اور ہوٹلوں میں 12 سے 14 گھنٹے تک روکے رکھا گیا، جس کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔
’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، حراست میں لیے گئے تقریباً 3 ہزار افراد میں سے صرف 105 افراد ایسے پائے گئے جنہیں بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن قرار دیا گیا۔
اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیے جانے پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے کرناٹک میں اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ قرار دیا ہے۔
بنگلورو کی انسانی حقوق کی کارکن اوِشکتہ، جو بے دخل کیے گئے افراد اور تارکینِ وطن آبادی کے ساتھ کام کرتی ہیں، نے ’اسکرول‘ کو بتایا کہ اس مہم کے دوران سیکڑوں ہندوستانی شہریوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔
ان کے مطابق:
’’کرناٹک میں پہلے ہی بنگالی مزدوروں کے خلاف نسل پرستانہ اور نفرت انگیز بیانیہ عام ہے۔ ہر بنگالی بولنے والے غیر رسمی مزدور کو بنگلہ دیشی سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دائیں بازو کے اس بیانیے نے کانگریس حکومت کو آئینی اصولوں کی پیروی کرنے کے بجائے سخت کارروائی پر مجبور کیا ہے۔‘‘
گزشتہ 12 برس سے زیادہ عرصے سے بنگلورو میں مقیم رفیق الاسلام بسواس نے بھی اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
’’سرکار کانگریس کی، لیکن رویہ بی جے پی کا ہے۔‘‘
پولیس سے وضاحت طلب، جواب کا انتظار
’اسکرول‘ نے بنگلورو کے پولیس کمشنر اور کرناٹک کے وزیرِ داخلہ پریانک کھرگے سے ای میل اور فون کے ذریعے اس مہم کی منطق اور ہندوستانی شہریوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
رپورٹ کے مطابق، اگر ان کی جانب سے جواب موصول ہوتا ہے تو خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
رفیق الاسلام کی طویل قانونی جنگ
رفیق الاسلام بسواس بنگلورو کے سوما سندرا پالیا علاقے کی ایک جھونپڑی میں اپنی 30 سالہ اہلیہ انگوری خاتون بسواس اور 11 سالہ بیٹی کے ساتھ رہتے ہیں۔
حراست میں لیے جانے سے قبل وہ ایک نجی اسکول میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے اور کباڑ کا کاروبار بھی کرتے تھے۔
28 اگست 2025 کی شام باندی پالیا پولیس اسٹیشن کے اہلکار ان کے گھر پہنچے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
اگلے روز فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) نے بسواس کو حراستی مرکز بھیجنے کا حکم جاری کیا۔
بسواس نے ’ بتایا:’’مجھے نہ تو کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی ابتدا میں میری حراست کی وجہ بتائی گئی۔‘‘
بسواس کے مطابق، بعد میں پولیس نے انہیں بنگلہ دیشی شناخت سے متعلق کچھ دستاویزات دکھائیں اور دعویٰ کیا کہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی شہری ہیں۔
ان کے اہلِ خانہ اور دوست متعدد دستاویزات لے کر پولیس کے پاس گئے، جن میں ان کا پاسپورٹ، اسکول سرٹیفکیٹ، ووٹر شناختی کارڈ، انتخابی فہرست میں ان کا نام، شناختی کارڈ اور گرام پنچایت کا سرٹیفکیٹ شامل تھا۔
بسواس اور ان کی اہلیہ انگوری خاتون کا دعویٰ ہے کہ حکام نے ان دستاویزات کی جانچ کرنے سے انکار کر دیا۔
انگوری خاتون نے کہا کہ ’’ہمیں بتایا گیا کہ یہ تمام دستاویزات جعلی ہیں۔‘‘
دو دن بعد، بسواس کے آبائی ضلع نادیہ کی پولیس نے تحقیقات کی اور FRRO کو ایک رپورٹ پیش کی، جس میں تصدیق کی گئی کہ بسواس ہندوستانی شہری اور دھنانجوئے پور گاؤں کے مستقل رہائشی ہیں۔اس کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔FRRO نے اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ بسواس کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات اور مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے قومی شناختی کارڈ اور وہاں جاری کیے گئے پیدائشی سرٹیفکیٹ جیسے دستاویزات کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا۔
بسواس کے وکیل کلفٹن ڈی روزاریو نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں مبینہ بنگلہ دیشی دستاویزات جعلی تھیں اور FRRO نے قانونی طریقہ کار کی مکمل پیروی کیے بغیر حراست کا حکم جاری کیا۔
انہوں نے کہاکہ’’حکام نے ان دستاویزات کی صداقت کی تصدیق کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ کسی شخص کی شہریت کو اس طرح لاپروائی سے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
بالآخر بسواس کی اہلیہ نے کرناٹک ہائی کورٹ میں FRRO کے حراستی حکم کو چیلنج کیا۔
4 اگست کو کرناٹک ہائی کورٹ نے انہیں ہندوستانی شہری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں حالیہ خصوصی نظرِ ثانی کے بعد جاری کیا گیا ان کا ووٹر کارڈ ’’اصلی‘‘ تھا اور ان کا خاندان ’’نسلوں‘‘ سے ہندوستان میں مقیم ہے۔
بسواس نے کہاکہ’’کرناٹک ہائی کورٹ نے مجھے ہندوستانی قرار دیا۔ لیکن انصاف کہاں ہے؟ پولیس کو مجھے پھنسانے کے لیے یہ دو مبینہ جعلی بنگلہ دیشی دستاویزات کہاں سے ملیں؟ مجھے اس کا جواب چاہیے۔‘‘
’’ہم ہندوستانی ہیں، بنگلہ دیشی نہیں‘‘
اس سال کی پولیس مہم کے دوران چھاپوں اور حراست کا سامنا کرنے والے کئی بنگالی مزدوروں نے بھی اپنے خلاف کارروائی پر سوال اٹھائے۔
ایک مزدور نے بتایاکہ’’میرے خلاف کوئی ایف آئی آر یا شکایت نہیں تھی۔ لیکن مجھے اگلے دن FRRO جانا پڑا اور اپنے بائیومیٹرکس دینے پڑے، کیونکہ انہیں شک تھا کہ میں بنگلہ دیشی ہوں۔‘‘
آزاد نامی ایک شخص نے کہا کہ اسے کبھی توقع نہیں تھی کہ کانگریس حکومت اس کی ہندوستانی شہریت پر شک کرے گی۔انہوں نے کہا:’’یہ بالکل درست نہیں ہے۔‘‘الیکٹرانک سٹی میں کباڑ کا کام کرنے والے 47 سالہ ایجول شیخ نے بتایا کہ 8 اگست کو ہونے والے چھاپے کے دوران کچرا الگ کرنے والے ان کے کئی مزدوروں کو روکا گیا اور مبینہ طور پر ان کے ساتھ مارپیٹ بھی کی گئی۔شیخ نے کہاکہ’’پولیس ہماری دستاویزات چیک کر سکتی ہے، لیکن وہ ہمارے ساتھ چوروں اور مجرموں جیسا سلوک نہیں کر سکتی۔ ہم ہندوستانی ہیں، بنگلہ دیشی نہیں۔‘‘
بنگلورو میں بنگالی مزدور پہلے ہی دباؤ میں
بنگلورو کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہر میں مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کی موجودگی کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد کچرے کو جمع کرنے اور الگ کرنے کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔آل انڈیا شرمک سوراج مرکز کے رکن آر کلیم اللہ، جو کئی دہائیوں سے بنگلورو میں بنگالی مسلمانوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، نے کہاکہ’’انہیں اکثر مغربی بنگال اور آسام سے آنے والے مزدوروں کے مقابلے میں کم اجرت پر کام دیا جاتا ہے اور ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔‘‘
کارکنوں کا الزام ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی پولیس یا سیاسی جماعتوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔کلیم اللہ نے کہاکہ’’پولیس اچھی طرح جانتی ہے کہ کون سی بستی بنگلہ دیشی شہریوں کی ہے اور کہاں ہندوستانی بنگالی مزدور رہتے ہیں۔‘‘ان کے مطابق، کانگریس حکومت دائیں بازو کے کارکنوں کے دباؤ کے باعث غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف مہم شروع کرنے پر مجبور ہوئی۔
پولیس کارروائی سے قبل دائیں بازو سے وابستہ متعدد کارکنوں نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، تارکینِ وطن مزدوروں کا گھیراؤ کیا، ان سے پوچھ گچھ کی، ان پر غیر قانونی بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگایا اور ان واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔
کلیم اللہ نے الزام لگایاکہ ’’کانگریس دباؤ میں آ گئی اور اب غریب تارکینِ وطن مزدوروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘‘اوِشکتہ نے کہا کہ اس صورتحال میں ہندوستانی بنگالی مسلمان ’’ضمنی نقصان‘‘ (Collateral Damage) بن گئے ہیں۔
حراست کے اثرات: نوکری گئی، گھر جلا دیا گیا
رفیق الاسلام بسواس کا کہنا ہے کہ شہریت کے تنازع سے ان کی زندگی کئی برس پیچھے چلی گئی ہے۔ان کی اسکول ڈرائیور کی ملازمت چلی گئی۔ اپریل میں ان کے کباڑ کے گودام اور جھونپڑی پر حملہ کر کے مبینہ طور پر آگ لگا دی گئی۔اپنی بیٹی کی اسکول فیس ادا کرنے کے لیے انہیں مغربی بنگال کے ایک سود خور سے قرض لینا پڑا۔بسواس نے الزام لگایا کہ حراستی مرکز میں انہیں الگ تھلگ رکھا گیا، جس سے ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں نے مہینوں سورج نہیں دیکھا۔ ہر ایک گھنٹہ ایک سال کی طرح محسوس ہوتا تھا۔‘‘بسواس نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کانگریس حکومت کے دور میں صرف بنگالی مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کی ہندوستانی شہریت پر سوال اٹھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ’’اگر مجھے موقع ملا تو میں راہل گاندھی سے سوال کروں گا۔ آپ میں اور بی جے پی میں کیا فرق ہے؟‘‘
اصل سوال
بنگلورو میں مبینہ طور پر ہزاروں بنگالی مزدوروں کو حراست میں لیے جانے، ان میں سے بڑی تعداد کے ہندوستانی شہری ہونے کے دعووں اور صرف 105 افراد کےغیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن پائے جانے کی رپورٹ نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے:غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت ضروری ہے، لیکن کیا اس عمل میں ہندوستانی شہریوں کو صرف ان کی زبان، لباس، نام یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر مشتبہ سمجھا جا سکتا ہے؟اور اگر ہندوستانی شہری واقعی اس کارروائی کا شکار ہوئے ہیں تو ذمہ داری کس کی ہوگی؟یہ سوال اب صرف بنگالی مسلمانوں کا نہیں، بلکہ شہریت، آئینی مساوات اور قانون کے یکساں اطلاق کا بھی ہے۔
