کولکاتا: انصاف نیوز نیٹ ورک
کیا مغربی بنگال میں سرکاری عہدوں پر تعینات مسلم افسران کو محض ان کے مذہب کی بنیاد پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی شرکت والی سرکاری تقریبات سے دور رکھا گیا تھا؟
یہ سوال ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا کے ان سنگین الزامات کے بعد اٹھ کھڑا ہوا ہے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امیت شاہ کی موجودگی والی بعض سرکاری تقریبات میں مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے ساتھ مبینہ طور پر امتیازی سلوک کیا گیا۔
موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سلی گوڑی کے پولیس کمشنر وقار رضا کا نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ امیت شاہ کی موجودگی میں انہیں استقبالیہ صف میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔
ان کا ایک اور دعویٰ ریاست کے اسپیشل ٹاسک فورس کے ڈائریکٹر جنرل جاوید شمیم سے متعلق ہے۔ موئترا کے مطابق، جاوید شمیم کو مرکزی وزیر داخلہ کی شرکت والی تقریبات میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔
یہیں معاملہ ختم نہیں ہوتا۔
موئترا نے مزید الزام عائد کیا کہ آئی اے ایس افسر خلیل احمد کو ایک اجلاس سے باہر جانے کے لیے کہا گیا۔
ان تینوں واقعات کو ایک ساتھ رکھتے ہوئے موئترا نے سوال اٹھایا کہ کیا مغربی بنگال میں امیت شاہ کی موجودگی کے دوران مسلم افسران کے ساتھ الگ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے؟
آئی اے ایس اور آئی پی ایس ایسوسی ایشنز کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے ان مبینہ واقعات پر احتجاج کا مطالبہ کیا اور اس رویے کو ’’بیمار فرقہ وارانہ بکواس‘‘ قرار دیا۔
سوال صرف ایک افسر کا نہیں
اگر موئترا کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض کسی ایک سرکاری تقریب کے پروٹوکول یا انتظامی فیصلے تک محدود نہیں رہے گا۔
یہ سوال اٹھے گا کہ کیا آئینی عہدوں پر فائز افسران کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر مختلف سلوک کیا جا رہا ہے؟
آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران ریاستی حکومت اور انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری کسی سیاسی جماعت یا مذہبی شناخت کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔ ایسے میں کسی افسر کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی سرکاری تقریب سے دور رکھنے کا الزام ایک سنگین آئینی سوال پیدا کرتا ہے۔
تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے، اور متعلقہ سرکاری حکام یا نامزد افسران کی جانب سے اس معاملے پر وضاحت سامنے آنا ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی بحث تیز
مہوا موئترا کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے نے بحث چھیڑ دی۔
متعدد صارفین نے آئی اے ایس اور آئی پی ایس ایسوسی ایشنز کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اگر کسی افسر کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتا گیا ہے تو کیا متعلقہ تنظیمیں اس کے خلاف آواز اٹھائیں گی؟
کچھ صارفین نے مبینہ رویے کو ’’شرمناک‘‘ اور ’’زہریلی مذہبی سیاست‘‘ قرار دیا، جبکہ بعض نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سرکاری افسران کی تنظیموں کی اولین وفاداری آئین کے ساتھ ہے یا کسی سیاسی و نظریاتی دباؤ کے ساتھ۔
بنگال میں مسلم نمائندگی کا سوال
مہوا موئترا کے الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مغربی بنگال میں مسلمانوں کی سیاسی اور انتظامی نمائندگی کو لے کر پہلے ہی بحث جاری ہے۔
بنگال حکومت کی 41 رکنی وزارت میں کوئی مسلم نمائندگی نہ ہونے پر اپوزیشن اور مختلف اقلیتی حلقے سوال اٹھاتے رہے ہیں۔
اسی طرح ریاستی اسمبلی کی جانب سے دیگر پسماندہ طبقات کی فہرست میں ترمیم کے بعد 77 برادریوں کو فہرست سے خارج کیے جانے کا معاملہ بھی سیاسی تنازع کا سبب بنا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان میں متعدد مسلم برادریاں شامل تھیں۔
اقلیتی اسکیموں اور پالیسیوں پر بھی سوال
حکومت کی جانب سے جون 2026 سے ائمہ اور مؤذنین کو مذہب کی بنیاد پر دیے جانے والے اعزازیوں کو بند کیے جانے کے فیصلے پر بھی مختلف حلقوں نے سوال اٹھائے ہیں۔
اس کے علاوہ اقلیتوں سے متعلق بعض اسکیموں اور محکموں کے لیے مختص بجٹ میں مبینہ کمی بھی سیاسی بحث کا موضوع رہی ہے۔
مویشیوں کے ذبح سے متعلق قواعد کا سخت نفاذ، عوامی سڑکوں پر نماز کی ادائیگی کے حوالے سے پابندیاں اور مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے خلاف ’’ڈیٹیکٹ، ڈیلیٹ، ڈیپورٹ‘‘ مہم بھی اپوزیشن اور اقلیتی تنظیموں کی تنقید کی زد میں رہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کو الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کے حوالے سے حکومت کی مجموعی پالیسی اور سیاسی رویے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
حکومت یا اس کے حامی، تاہم، ان اقدامات کو انتظامی، قانونی اور عوامی مفاد سے متعلق فیصلے قرار دے سکتے ہیں۔
جیوتی نگر کا پانی کا تنازع
اسی دوران کولکاتا کی جیوتی نگر کالونی سے بھی ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے سیاسی انتقام اور شہری سہولیات کے استعمال پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔
کالونی کے رہائشیوں نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کے بعد ان کی پانی کی فراہمی منقطع کر دی گئی۔
رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ مقامی بی جے پی ایم ایل اے رتیش تیواری نے مبینہ طور پر ان سے کہا کہ پانی کی فراہمی بند کرنے کی کارروائی بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کا ’’انتقام‘‘ ہے۔
رہائشیوں نے اس معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔
اس الزام کی بھی قانونی اور آزادانہ جانچ ضروری ہے، کیونکہ اگر کسی شہری علاقے میں سیاسی وابستگی یا ووٹ کے انتخاب کی بنیاد پر بنیادی سہولت روکے جانے کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے تو یہ شہری حقوق اور حکمرانی کے اصولوں سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہوگا۔
اصل سوال اب بھی باقی ہے
مہوا موئترا کے الزامات نے ایک بنیادی سوال دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے:
کیا سرکاری اداروں میں افسر کی شناخت اس کے عہدے اور آئینی ذمہ داری سے زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے؟
اگر امیت شاہ کی شرکت والی سرکاری تقریبات میں مسلم افسران کو واقعی ان کے مذہب کی بنیاد پر نظرانداز کیا گیا ہے تو یہ صرف پروٹوکول کی خلاف ورزی نہیں ہوگی، بلکہ ریاستی اداروں کی غیر جانب داری، مساوات اور آئینی اقدار پر بھی سنگین سوال ہوگا۔
اور اگر یہ الزامات درست نہیں ہیں تو حکومت اور متعلقہ افسران کے لیے ضروری ہے کہ وہ واضح طور پر سامنے آ کر حقیقت بیان کریں۔
کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ کس افسر کو استقبالیہ صف میں جگہ ملی یا نہیں ملی۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری اداروں میں مذہب کی بنیاد پر کسی کے لیے جگہ کم کی جا رہی ہے؟
اور اس سوال کا جواب سیاسی بیانات سے نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات اور حقائق سے ملنا چاہیے۔
