کلکتہ:انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال سے متعلق ایک اہم معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے منگل کے روز اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت میں دائر ایک مفادِ عامہ کی عرضی میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ریاست میں پولیس حکام مبینہ طور پر مسجد کمیٹیوں کو زبانی طور پر لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ متعلقہ مساجد نے مقررہ صوتی حد یعنی ڈسی بل کی قانونی حد کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ معاملہ قائم مقام چیف جسٹس تپابرتا چکرورتی اور جسٹس اتروپ بنرجی کی ڈویژن بنچ کے سامنے زیر سماعت تھا۔ عدالت نے اس سے قبل ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت دی تھی کہ وہ پولیس کی جانب سے مسجد کمیٹیوں کو مبینہ زبانی ہدایات دیے جانے کے الزامات کے بارے میں حکومت سے واضح ہدایات حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔
ریاست کا دعویٰ: پولیس نے کچھ نہیں کیا
ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سورجیت ناتھ مترانے عدالت کو بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے جو ہدایات ملی ہیں، ان کے مطابق پولیس انتظامیہ نے کہا کہ کچھ بھی نہیں کیاایڈووکیٹ جنرل کے اس بیان کے بعد عدالت نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا پولیس اور مسجد نمائندوں کے درمیان مبینہ ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔
عدالت نے سوال کیاکہ
کیا ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی؟
ایڈووکیٹ جنرل نے اس کا جواب نفی میں دیا۔
اس کے بعد ریاستی حکومت نے اس مفادِ عامہ کی عرضی کے قابلِ سماعت ہونے پر ہی ابتدائی اعتراض اٹھایا۔
حکومت کا اعتراض: زبانی حکم کس نے دیا؟
ایڈووکیٹ جنرل نے دلیل دی کہ عرضی گزار، جو خود ایک وکیل ہیں، نے اپنی درخواست ایک ایسے مبینہ زبانی حکم کی بنیاد پر دائر کی ہے جسے کسی مخصوص سرکاری افسر یا اتھارٹی سے منسوب نہیں کیا گیا۔
انہوں نے عدالت سے کہاکہ
یہ عرضی اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک زبانی حکم کی بنیاد پر ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ہدایات کس اتھارٹی نے جاری کیں۔ریاست کا کہنا تھا کہ عرضی میں ایسا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ کسی قانونی ضابطے یا مقررہ صوتی حد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ عرضی میں عائد الزامات مبہم اور غیر واضح ہیں۔
ریاست نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ عرضی میں اماموں اور مسجد نمائندوں سے مبینہ طور پر حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کیا گیا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی شخص عدالت کے سامنے خود پیش نہیں ہوا۔
اخباروں کی خبروں پر انحصار کا بھی اعتراض
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عرضی میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے مطالبے سے متعلق اخباری رپورٹس پر بھی کافی حد تک انحصار کیا گیا ہے۔ریاست کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ درخواست گزار نے کسی مخصوص پولیس افسر کا نام نہیں بتایا اور نہ ہی یہ واضح طور پر کہا ہے کہ کسی پولیس افسر نے مسجد انتظامیہ کو دھمکی دی یا کوئی تحریری حکم جاری کیا۔ریاست کے مطابق، صرف یہ الزام لگانا کہ پولیس اہلکار مسجد کمیٹیوں سے لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں بات کر رہے تھے، کسی قانونی کارروائی کے لیے کافی نہیں ہے۔
عدالت نے لاؤڈ اسپیکر کے صوتی معیار سے متعلق سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا
سماعت کے دوران عدالت نے خود ایک اہم قانونی نکتے پر وضاحت طلب کی۔ بنچ نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق اپنے ایک سابقہ فیصلے میں دی گئی ہدایات کا حوالہ دیا۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ موجودہ قانونی رہنما اصولوں کے مطابق اگر کسی جگہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز مقررہ ڈسی بل کی حد سے تجاوز کرتی ہے تو پولیس اور انتظامیہ کو کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس پس منظر میں عدالت نے ریاست سے درخواست گزار کے اس دعوے پر جواب طلب کیا کہ اگر مقررہ صوتی حد کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی تو کیا پولیس انتظامیہ ان حدود سے آگے بڑھ کر مساجد کے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی ہدایت دے سکتے ہیں؟
ریاست نے تاہم اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پولیس اور مسجد کمیٹیوں کے درمیان مبینہ ملاقاتوں کا دعویٰ ہی مناسب طریقے سے عرضی میں درج نہیں کیا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے ان الزامات کو محض بے بنیاد الزام قرار دیتے ہوئے مفادِ عامہ کی عرضیوں میں الزامات اور حقائق پیش کرنے سے متعلق متعدد عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عرضی ان قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔
درخواست گزار کی جانب سے پی آئی ایل کے بنیادی تصور پر زور
درخواست گزار کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ کلیان بندیوپادھیائےنے ریاست کے اعتراض کی مخالفت کی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مفادِ عامہ کی عرضی کو عام دیوانی یا فوجداری مقدمے کی طرح دیکھا جاسکتا ہے، جہاں ہر الزام کے لیے ابتدائی مرحلے ہی میں مکمل ثبوت پیش کرنا ضروری ہو؟
انہوں نے عدالت سے کہاکہ
آئیے پی آئی ایل کو سمجھتے ہیں۔ کیا یہ دیوانی یا فوجداری مقدمے کی طرح ہے؟ کیا اس میں 100 فیصد ثبوت پیش کرنا ضروری ہے؟
سینئر وکیل نے کہا کہ مفادِ عامہ کی عرضی کا تصور سپریم کورٹ کے عدالتی فیصلوں کے ذریعے ارتقا پذیر ہوا ہے، خاص طور پر جسٹس پی این بھگوتیکے دور میںپی آئی ایل کے دائرہ کار کو وسعت ملی۔ان کے مطابق ابتدائی دور کی پی آئی ایل میں وہ تفصیلی حقائق موجود نہیں ہوتے تھے جو عام دیوانی مقدمات میں ضروری سمجھے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پی آئی ایل فریقین کے درمیان روایتی تنازع نہیں ہے۔ اصل اہمیت شکایت یا عوامی مسئلے کی ہے۔ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شکایت کا جائزہ لے۔
اگر امام خود عدالت آجائیں تو پی آئی ایل کا کردار ہی بدل جائے گا
کلیان بندوپادھیائے نے ریاست کی اس دلیل کا بھی جواب دیا کہ کسی امام یا مسجد کے نمائندے نے عدالت سے رجوع نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ افراد خود عدالت میں آکر اپنے ذاتی حقوق کے تحفظ کے لیے مقدمہ دائر کریں تو معاملہ مفادِ عامہ کی عرضی کے بجائے ایک مخصوص فریق کے مقدمے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ
بار بار یہ پوچھا جا رہا ہے کہ امام عدالت میں کیوں نہیں آئے۔ اگر وہ آجاتے ہیں تو یہ پی آئی ایل ہی نہیں رہتی۔”سینئر وکیل کے مطابق پی آئی ایل کا مقصد ہی یہ ہے کہ کوئی شخص وسیع تر عوامی مفاد یا کسی ایسے مسئلے کو عدالت کے سامنے لائے جس سے متاثرہ افراد براہ راست عدالت سے رجوع کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔
’مسئلہ لاؤڈ اسپیکر کے غیر محدود استعمال کا نہیں‘
درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ عرضی میں لاؤڈ اسپیکر کے غیر محدود استعمال کا حق نہیں مانگا گیا ہے۔
سینئر وکیل نے کہاکہ
میں مقررہ حدود کے اندر لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کا حق رکھتا ہوں۔
ان کا استدلال تھا کہ اگر قانون نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے مخصوص صوتی حدود مقرر کی ہیں تو پولیس کو انہی حدود کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص مقررہ ڈسی بل کی حد سے تجاوز کرتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے، لیکن محض مذہبی مقام ہونے کی وجہ سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی ہدایت نہیں دی جاسکتی۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال کیا ہے؟
سماعت کے دوران دونوں فریقوں کی بحث کا مرکزی نکتہ یہ بن گیا کہ کیا عرضی میں پیش کیے گئے ابتدائی حقائق اتنے ہیں کہ عدالت اس معاملے کی باقاعدہ جانچ کرسکے؟ ریاست کا مؤقف ہے کہ عرضی مبہم الزامات، اخباری رپورٹس اور نامعلوم ذرائع کی معلومات پر مبنی ہے، جبکہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پی آئی ایل میں عام مقدمات جیسے سخت تکنیکی معیار لاگو نہیں کیے جاسکتے۔درخواست گزار کے مطابق عدالت کے سامنے اس مرحلے پر یہ ثابت کرنا ضروری نہیں کہ ہر واقعے کا مکمل ثبوت موجود ہے، بلکہ یہ دیکھنا کافی ہے کہ آیا شکایت میں ایسے بنیادی حقائق موجود ہیں جن کی بنیاد پر عدالت معاملے کی تحقیقات یا وضاحت طلب کرسکتی ہے۔
فیصلہ محفوظ
دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔اس معاملے کا فیصلہ اس لیے بھی اہم سمجھا جارہا ہے کہ اس سے یہ واضح ہوسکتا ہے کہ مغربی بنگال میں پولیس لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق کارروائی کرتے وقت کن قانونی حدود کی پابندی کرنے کی پابند ہے، اور کیا مقررہ ڈسی بل کی خلاف ورزی ثابت کیے بغیر کسی مذہبی مقام سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی زبانی ہدایت دی جاسکتی ہے۔فی الحال عدالت نے یہ طے نہیں کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے مساجد کو ایسی کوئی ہدایت دی گئی تھی یا نہیں۔ ریاست نے اس الزام کی تردید کی ہے، جبکہ درخواست گزار نے اسے مفادِ عامہ کا اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ اب اس معاملے میں عدالت کے محفوظ فیصلے کا انتظار ہے۔
