نئی دہلی:
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز واضح کیا کہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) مہم کے دوران کسی شخص کا نام انتخابی فہرست (ووٹر لسٹ) سے حذف کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی بھارتی شہریت خود بخود ختم ہو گئی ہے۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کو شہریت کا فیصلہ کرنے کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔تاہم سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا کہ ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے افراد کو مبینہ طور پر راشن، پنشن اور دیگر فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے اس سلسلے میں وضاحت اور عبوری تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے اس مرحلے پر اس حوالے سے کوئی الگ عبوری حکم جاری نہیں کیا۔
جب کہ ماہرین قانون کی رائے ہے کہ غذائی تحفظ آرٹیکل25سے تعلق ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن کی بنچ مغربی بنگال میں ایس آئی آر مہم کے دوران ووٹر لسٹوں سے نام خارج کیے جانے والے افراد کے لیے اپیل کے طریقۂ کار میں اصلاحات سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کر رہی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس جوئے مالیا باگچی نے سپریم کورٹ کے سابقہ ’’بہار ایس آئی آر‘‘ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا دائرۂ کار انتخابی فہرستوں کی تیاری اور دیکھ بھال تک محدود ہے، جبکہ شہریت سے متعلق معاملات کا حتمی فیصلہ شہریت ایکٹ کے تحت مرکزی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے:
> ’’الیکشن کمیشن شہریت کے معاملے میں کوئی آئینی اتھارٹی نہیں ہے۔ وہ کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہ کرنے یا حذف کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، لیکن اس سے اس شخص کی شہریت خود بخود ختم نہیں ہوتی۔‘‘
عدالت نے مزید کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کسی شخص کی مشتبہ شہریت کی بنیاد پر اس کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ معاملہ شہریت ایکٹ کے تحت فیصلہ کرنے والی مجاز اتھارٹی یا مرکزی حکومت کو بھیجا جائے۔ جب تک متعلقہ اتھارٹی کوئی حتمی فیصلہ نہ کرے، اس شخص کی شہریت برقرار رہے گی۔
درخواست گزار پرسین جیت بوس کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ گوپال سنکر نارائنن نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی سابقہ وضاحت کے باوجود، جن افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے نکالے گئے ہیں، انہیں اپیلیں زیر التوا ہونے کے دوران مختلف فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 19 اپیلیٹ ٹربیونلز کے سامنے تقریباً 34 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں، جبکہ اب تک صرف 38 ہزار کے قریب اپیلوں کا فیصلہ ہو سکا ہے۔ ان کے مطابق جن اپیلوں کا فیصلہ ہوا ہے، ان میں تقریباً 70 فیصد درخواست گزاروں کے حق میں فیصلے آئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں ناموں کے اخراج کے فیصلے بعد میں کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں۔
گوپال سنکر نارائنن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال حکومت نے مبینہ طور پر پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS)، اناپورنا یوجنا اور بعض دیگر فلاحی سہولیات کے ساتھ ساتھ ذات پات کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے میں بھی ان افراد کے لیے رکاوٹیں پیدا کی ہیں جن کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے ہیں، حالانکہ ان کی اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ واضح کیا جائے کہ جب تک شہریت سے متعلق دعوے اور اپیلیں زیر غور ہیں، تب تک متعلقہ افراد کو شہری حقوق اور فلاحی مراعات سے محروم نہ کیا جائے۔
سینئر وکیل نے اپیل کے نظام میں مزید شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد کے پیش نظر سماعتوں کو زیادہ مؤثر اور تیز رفتار بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایک درست اور مؤثر پاسپورٹ کو عام طور پر شہریت کے مضبوط ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
تاہم بنچ نے یاد دلایا کہ ’’بہار ایس آئی آر‘‘ فیصلے میں یہ اصول پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونا شہریت کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے اور الیکشن کمیشن کا کردار صرف مشتبہ معاملات کو متعلقہ اتھارٹی کے پاس بھیجنے تک محدود ہے۔
بعد ازاں عدالت نے اس عرضی کو مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر مہم کو چیلنج کرنے والی دیگر زیر سماعت درخواستوں کے ساتھ منسلک (ٹیگ) کر دیا۔
ایڈوکیٹ آن ریکارڈ نیہا راٹھی کے ذریعے دائر کی گئی اس عرضی میں اپیل کے طریقۂ کار کو زیادہ شفاف، قابلِ رسائی اور مؤثر بنانے کے لیے متعدد ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اپیل کنندگان کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ٹربیونلز میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے، سماعت کے نوٹس الیکٹرانک اور فزیکل دونوں ذرائع سے بروقت فراہم کیے جائیں، اور آئندہ انتخابات سے قبل تمام اپیلوں کے فیصلے کے لیے ایک مقررہ ٹائم لائن طے کی جائے۔
اس کے علاوہ عرضی میں بنگلہ، ہندی اور انگریزی زبانوں میں اپیل کے طریقۂ کار سے متعلق ایک آسان رہنما کتابچہ شائع کرنے، انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اندراج اور اخراج سے متعلق حلقہ وار اعداد و شمار عام کرنے، ٹربیونلز کی کارکردگی کے اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع کرنے اور ایس آئی آر عمل کے لیے تیار کردہ معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار (SOP) کو عوامی سطح پر جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، مغربی بنگال حکومت نے ریاست میں اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے نتائج کی بنیاد پر پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS) کے مستفیدین کی اہلیت کی جانچ شروع کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں ایسے ہزاروں افراد متاثر ہو سکتے ہیں جن کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے جا چکے ہیں۔
ادھر صابر انسٹی ٹیوٹ (Sabar Institute) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، مغربی بنگال میں ایس آئی آر مہم کے دوران ’’زیرِ التوا جانچ‘‘ (Under Adjudication) کے زمرے میں ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے 27 لاکھ سے زائد افراد میں 70.17 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ خواتین کا تناسب 51 فیصد بتایا گیا ہے۔
صبر انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری ایک تجزیاتی مطالعے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے دوران ’’زیرِ التوا جانچ‘‘ (Under Adjudication) کے زمرے میں رکھے گئے 27 لاکھ سے زائد ووٹروں میں تقریباً 70فیصد مسلمان ہیں، جبکہ خواتین کا تناسب 51 فیصد بتایا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق، ان ووٹروں کی بڑی تعداد کو مبینہ ’’منطقی تضادات‘‘ (Logical Discrepancies) کی بنیاد پر مشکوک قرار دیا گیا۔ ان تضادات میں والدین اور بچوں کے ناموں کے اندراج میں فرق، والدین اور بچوں کے درمیان عمر کے فرق کا غیر معمولی طور پر کم ہونا، یا ایک ہی خاندان میں چھ سے زائد بچوں کا اندراج شامل تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری میں شائع ہونے والی ابتدائی حتمی انتخابی فہرستوں سے 61 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام خارج کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں ضمنی فہرستوں اور ’’مشکوک‘‘ یا ’’زیرِ التوا‘‘ قرار دیے گئے تقریباً 60 لاکھ معاملات کی جانچ کا عمل جاری رہا۔
صابر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 6 اپریل تک مجموعی طور پر تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جا چکے تھے، جو نظرثانی کے عمل کے آغاز سے قبل ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 11.9 فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل تقریباً 34 لاکھ اپیلیں اپیلیٹ ٹربیونلز کے سامنے زیرِ سماعت تھیں۔ ان میں سے تقریباً 27 لاکھ اپیلیںایسے افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کر دیے گئے تھے۔ خصوصی نظرثانی کے عمل کے تحت قائم ٹربیونلز اب تک صرف۱۶۰۷ افراد کے نام دوبارہ انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی اجازت دے سکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایس آئی آر مہم کے اثرات اور اس کے سماجی و سیاسی نتائج کے حوالے سے جاری بحث کو مزید اہمیت دیتے ہیں، جبکہ اس پورے عمل کی شفافیت، جانچ کے معیارات اور اپیل کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
