کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
اقتدار سے محرومی کا کرب بہت گہرا ہوتا ہے، مگر ایک سنجیدہ سیاست دان جیت کی طرح شکست کے وقت بھی اپنے حوصلے اور توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے بھارت کی موجودہ سیاست کردار، اخلاق اور نظریات کے اعتبار سے زوال کا شکار دکھائی دیتی ہے، اس لیے ایسی مثالی سیاسی روایت اب کم ہی نظر آتی ہے۔
مغربی بنگال میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سیاسی اخلاقیات کے شدید انحطاط کی عکاسی کرتا ہے۔ اخلاق و اقدار تو درکنار، مروّت اور وفاداری جیسی روایات بھی معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ پولیس تحقیقات اور مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں کے خدشات کے درمیان ترنمول کانگریس کے متعدد اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمنٹ نے اسی قیادت کا ساتھ چھوڑ دیا، جسے وہ کل تک اپنی سیاست کا مرکز اور ممتا بنرجی کو ناقابلِ تنقید شخصیت قرار دیتے تھے۔
ممتا بنرجی کو “مسلمانوں کی مسیحا”، “ماں” اور بعض مواقع پر “مقدس گائے” جیسے القابات دینے میں ترنمول کانگریس کے بعض مسلم رہنما پیش پیش رہے۔ ان میں جاوید احمد خان اور فرہاد حکیم کے نام نمایاں ہیں۔ جاوید احمد خان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے ریڈ روڈ پر عید کے مصلیٰ کے تقدس کو سیاسی مفادات کے لیے مجروح کیا۔ دوسری جانب، توپسیا میں خود کو بے تاج بادشاہ سمجھنے والے ان پر یہ بھی الزام رہا کہ انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کو کھلے عام سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی اور پورے علاقے میں خوف کا ماحول قائم رکھا۔
فرہاد حکیم ممتا بنرجی کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دورِ اقتدار میں انہیں حکومت کے اہم اور بااثر محکمے سونپے گئے، جبکہ وہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے میئر بھی رہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ان پر یہ الزام بھی لگتا رہا کہ انہوں نے مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے، بلکہ بعض بااثر بلڈروں کے ساتھ مل کر اپنی سیاسی شبیہ کو “مسلمانوں کے مسیحا” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
مئی 2026 میں انتخابی شکست کے بعد جاوید احمد خان اور فرہاد حکیم نے جس انداز میں سیاسی رخ بدلا، اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ وہ رہنما، جنہوں نے پندرہ برس تک مسلم نوجوانوں سے ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کی حمایت کرائی، اچانک نہ صرف ممتا بنرجی سے الگ ہو گئے بلکہ ان پر سخت تنقید بھی شروع کر دی۔ جاوید احمد خان کے بیٹے، فیض احمد خان، نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی کی سیاسی کامیابی میں ان کے والد کا بنیادی کردار رہا ہے۔
جاوید احمد خان اس وقت باغی گروپ کے نمایاں چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ مسلسل میڈیا میں بیانات دیتے رہے اور انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ باغی گروپ کے “شہید دیوس” پروگرام میں ممتا بنرجی کی ریلی سے زیادہ عوام شریک ہوں گے۔ تاہم آج کی ریلی میں اتنی بھی بھیڑ نظر نہیں آئی جتنی ماضی میں توپسیا کے مقامی جلوسوں میں ان کی موجودگی میں دیکھنے کو ملتی تھی۔
یہاں اہم سوال یہ ہے کہ آخر جاوید احمد خان اور فرہاد حکیم کولکاتا کے مسلم اکثریتی علاقوں سے اپنے حامیوں کو ریلی میں لانے میں کیوں ناکام رہے؟ جبکہ اسی دوران توپسیا، خضرپور اور مٹیابرج سے بڑی تعداد میں نوجوان ممتا بنرجی کی ریلی میں شریک ہوتے دکھائی دیے۔
حقیقت یہ ہے کہ جاوید احمد خان اور فرہاد حکیم شاید یہ سمجھتے رہے کہ وہ مغربی بنگال کے مسلمانوں کے بلاشرکتِ غیرے رہنما ہیں اور مسلمان ہر صورت ان کے ساتھ رہیں گے، خواہ وہ کسی بھی سیاسی اتحاد کا حصہ بن جائیں۔ جاوید احمد خان دو دہائیوں سے توپسیا کی سیاست پر حاوی رہے اور مسلسل کامیاب ہوتے رہے، مگر اس عرصے میں اگرچہ علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کا جال بچھ گیا، لیکن بنیادی شہری سہولیات میں نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ آج بھی معمولی بارش میں توپسیا زیرِ آب آ جاتا ہے۔ اتنے طویل عرصے میں نہ کوئی معیاری تعلیمی ادارہ قائم کیا گیا اور نہ ہی صحت کی نمایاں سہولیات فراہم کی گئیں۔ البتہ ناقدین کے مطابق اس دوران باپ بیٹے کی سیاسی اور مالی حیثیت میں غیر معمولی اضافہ ضرور ہوا۔

اسی طرح فرہاد حکیم نے خضرپور میں ایک میٹرنٹی ہوم اور چند طبی مراکز قائم کیے، مگر ان کے دور میں کئی تعلیمی ادارے بند ہوئے۔ ان پر سرکاری اراضی، جانوروں کی منڈی اور دیگر مقامات پر غیر قانونی قبضوں کی سرپرستی کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ خضرپور اور مٹیابرج میں مقامی کونسلروں کے ذریعے ایک متوازی انتظامی نظام چلانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔ یاد رہے کہ 2024 میں انہی کے حلقے میں ایک غیر قانونی عمارت منہدم ہونے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔
آج جب یہ دونوں رہنما ممتا بنرجی سے الگ ہو کر باغی گروپ کا حصہ بن چکے ہیں تو اپنے اپنے حلقوں سے اتنے افراد بھی نہیں لا سکے جو جلسہ گاہ کی خالی کرسیوں کو بھر سکتے۔ جاوید احمد خان ریلی کے شرکا کی تعداد کے بارے میں جو بھی دعویٰ کریں، زمینی حقیقت یہی دکھائی دیتی ہے کہ باغی گروپ کی ریلی میں شریک افراد کی تعداد ممتا بنرجی کی ریلی کے مقابلے میں بہت کم رہی۔
سوال یہ ہے کہ کولکاتا کے مسلم اکثریتی علاقوں سے منتخب ہونے والے ان دونوں رہنماؤں کے حلقوں سے عوام نے ان کی ریلی میں خاطر خواہ شرکت کیوں نہیں کی؟ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ رہنما خود کو مسلمانوں کا فطری نمائندہ سمجھنے لگے تھے، جبکہ عوام کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ آخر وہ رہنما، جن کی پوری سیاست اقتدار، مفادات اور قیادت کی خوشنودی کے گرد گھومتی رہی ہو، انہیں مسلمان اپنا حقیقی نمائندہ کیوں تصور کریں؟
پندرہ برس اقتدار میں رہنے کے باوجود ان دونوں رہنماؤں نے مسلمانوں کے تعلیمی، معاشی، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل پر کوئی مؤثر اور مستقل سیاسی مہم نہیں چلائی۔
اگر آج خضرپور اور توپسیا کے مسلمانوں نے ان دونوں رہنماؤں سے فاصلہ اختیار کیا ہے تو اسے اس بات کے اشارے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ووٹر اب محض شخصیات کے بجائے اپنی حقیقی ضروریات اور مسائل کی بنیاد پر سیاسی فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔
