بی آر امبیڈکر احتیاطی حراست کے حامی تھے، تاہم انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ ’’اگر اس کے بعد حالات خراب ہوتے ہیں تو ہمارے پاس اپنے سوا کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرانے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔‘‘
مغربی بنگال میں نئی بی جے پی حکومت نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے، جو حکومت کو کسی بھی ایسے شخص کو ایک سال تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیتا ہے، جو ’’عام طور پر معاشرے کے لیے خطرناک یا امنِ عامہ کے لیے نقصان دہ‘‘ سمجھا جاتا ہو۔ اس قانون کے تحت زیرِ حراست شخص کی اپنے وکیل تک رسائی بھی محدود کر دی گئی ہے۔ اپوزیشن نے اس قانون کو ’’خوفناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عدالتی جانچ کی کسوٹی پر پورا نہیں اترے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہمارے آئین سازوں نے احتیاطی حراست کی شق کو آئین کا حصہ بنایا تھا، تو ان کے پیشِ نظر کیا سوچ تھی؟
’’روک تھام‘‘ ایک ایسا سادہ لفظ ہے جو شہریوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعے کو ٹال دیا گیا ہے یا ٹال دیا جائے گا۔ لیکن ہمارے جیسے مبہم اور غیر شفاف نظامِ قانون اور نفاذِ قانون میں یہ جانچنے کا کیا مؤثر طریقۂ کار موجود ہے کہ آیا سرکاری اہلکار واقعی عوام کے بہترین مفاد میں کام کر رہے ہیں؟ دہشت گردانہ اور تخریبی سرگرمیوں (روک تھام) ایک )، 1987، جو درحقیقت یو اے پی اے ہی کی ایک دوسری شکل تھا، نے بھی ریاست کو بے پناہ اختیارات دے دیے تھے۔ اے جی پیراریولن کو راجیو گاندھی قتل کیس میں بطورِ سازشی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر محض 19 سال تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تین دہائیاں جیل میں گزار دیں۔ ان کے خلاف واحد ثبوت ان کا نام نہاد اعترافی بیان تھا، جسے مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا۔ اس بیان سے وہ حصے آسانی سے حذف کر دیے گئے تھے، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ان دو نو وولٹ بیٹریوں کے استعمال کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، جنہیں خریدنے کے لیے ان سے کہا گیا تھا۔
اس حقیقت کی تصدیق 2017 میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کے تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے سے بھی ہوئی تھی۔ 2015 میں پیراریولن نے تمل ناڈو کے گورنر کے پاس اپنی سزا میں معافی کی درخواست دائر کی۔ گورنر آتے رہے اور جاتے رہے، لیکن ان کی درخواست برسوں تک فائلوں میں دبی رہی۔ سپریم کورٹ اور حکومتِ ہند نے بھی ایک عرصے تک اس معاملے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر ان کی زندگی کے ساتھ گویا فٹ بال کھیلا۔ ریاست کی شدید انا نے اسے پیراریولن کی آزادی، زندگی اور ذاتی خودمختاری کے ضیاع کی ذمہ داری قبول کرنے سے روکے رکھا۔ بالآخر 2022 میں سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے غیر معمولی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا۔ ریاست آسانی سے اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتی، اور یہی وجہ ہے کہ آئین میں اس نوعیت کا یہ قانونی شگاف انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یو اے پی اے ( پہلی بار 1967 میں منظور کیا گیا تھا، لیکن بھارت کی آئینی تاریخ احتیاطی حراست سے متعلق متعدد قوانین سے بھری پڑی ہے، جن میں آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورز) ایکٹ 1958، مینٹیننس آف انٹرنل سیکیورٹی ایکٹ ، 1971، نیشنل سیکیورٹی ایکٹ 1980، ٹاڈا ، 1987، پریوینشن آف ٹیررازم ایکٹ=، 2002، اور مختلف خطوں و ریاستوں میں نافذ دیگر قوانین شامل ہیں۔ ان میں سے ہر قانون اپنے پیش رو سے زیادہ سخت اور جابرانہ ثابت ہوا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ آئین ساز اس بات سے ناواقف تھے کہ بنیادی حقوق کے باب میں احتیاطی حراست کی شق شامل کرکے وہ کیا کر رہے ہیں۔ آخرکار، ان میں سے بہت سے افراد خود بھی برطانوی دور میں احتیاطی حراست کے قوانین کے تحت گرفتار ہو چکے تھے۔ یہ قانون برطانوی ہند کے مختلف حصوں میں نافذ تھا، جس کا آغاز 1818 کے بنگال اسٹیٹ پرزنرز ریگولیشن III سے ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آزادی کے متوالوں اور دستور ساز اسمبلی کے اراکین نے آزاد بھارت میں بھی اس شق کو برقرار رکھنا کیوں ضروری سمجھا۔ مؤرخین کے مطابق اس کی ایک وجہ تقسیمِ ہند کے نفسیاتی اثرات اور وہ بے شمار چیلنجز تھے، جن سے اس وقت نئی حکومت ملک کے مختلف حصوں میں نبرد آزما تھی۔
ان تاریخی حالات کے اُس وقت کے فیصلہ سازوں پر مرتب ہونے والے اثرات سے انکار کیے بغیر، میرا استدلال یہ ہے کہ احتیاطی حراست کی یہ شق براہِ راست ان بنیادی اصولوں سے متصادم ہے، جن کی وکالت انہی رہنماؤں نے دستور ساز اسمبلی کے مباحثوں کے دوران کی تھی۔
ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، جو ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین تھے، نے 25 نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی میں اپنی آخری تقریر کے دوران کہا تھاکہ
’’کوئی آئین خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اگر اسے نافذ کرنے والے لوگ برے ہوں تو وہ یقیناً برا ثابت ہوگا۔ اور کوئی آئین خواہ کتنا ہی ناقص کیوں نہ ہو، اگر اسے نافذ کرنے والے لوگ اچھے ہوں تو وہ بھی کامیاب ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
پھر یہ بات حیران کن ہے کہ امبیڈکر احتیاطی حراست کے حامی تھے۔ وہ یقیناً جانتے ہوں گے کہ اس شق کا استعمال مظلوموں کو ان کے وقار سے محروم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ پسماندہ اور محروم طبقات یعنی وہی لوگ جن کے حقوق کے تحفظ کے لیے امبیڈکر نے پوری زندگی جدوجہد کی احتیاطی حراست کے قوانین سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس شق کے حق میں امبیڈکر کی حمایت کا دفاع کرنا مشکل ہے، اگرچہ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ اس معاملے پر دستور ساز اسمبلی میں عمومی اتفاقِ رائے موجود تھا۔ اسی طرح، امبیڈکر اس قانون کے ممکنہ غلط استعمال کے بارے میں بھی فکرمند تھے اور قانون کے جائز طریقۂ کار کے معاملے میں خاصے محتاط تھے۔ 15 ستمبر 1949 کو انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں کہا تھا:
>وہ لوگ جو فرد کی مطلق ذاتی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، وہ تسلیم کریں گے کہ احتیاطی حراست کے اس اختیار کو دو حدود کے ذریعے محدود کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ حکومت شق (3) کے تحت کسی شخص کو صرف تین ماہ تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔ اگر وہ اسے تین ماہ سے زیادہ نظر بند رکھنا چاہے، تو اس کے لیے ایک مشاورتی بورڈ کی رپورٹ ضروری ہوگی، جو انتظامیہ کی طرف سے پیش کیے گئے ریکارڈ کا جائزہ لے گا اور ممکن ہے کہ زیرِ حراست شخص کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دے۔ اگر بورڈ اس نتیجے پر پہنچے کہ نظر بندی جائز ہے، تب ہی انتظامیہ اسے تین ماہ سے زیادہ عرصے تک حراست میں رکھ سکے گی۔ دوسری حد یہ ہے کہ نظر بندی میں تین ماہ سے زیادہ کی توسیع صرف اس صورت میں کی جا سکتی ہے جب پارلیمنٹ ایک عمومی قانون بنائے، جس میں واضح کیا جائے کہ کن معاملات میں نظر بندی تین ماہ سے زیادہ ہو سکتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت کیا ہوگی۔
کیا وہ یہ امید کر رہے تھے کہ بھارتی حکومت انگریز حکومت سے بہتر طرزِ عمل اختیار کرے گی؟ میں نہیں جانتا، لیکن وہ اس بارے میں ضرور غیر یقینی کا شکار تھے کہ بھارتی شہری اور سیاسی جماعتیں مستقبل میں کس طرح کا رویہ اختیار کریں گی۔
> اب میں بغیر کسی انکوائری یا مقدمے کے تین ماہ کی نظر بندی کے سوال پر آتا ہوں۔ بعض اراکین نے کہا ہے کہ یہ مدت 15 دن سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، جبکہ دوسروں نے مختلف مدت تجویز کی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ آئین کے نافذ ہونے کے بعد اس ملک میں حالات کس رخ اختیار کریں گے، ملک کو کن مشکلات کا سامنا ہوگا، اور آیا اس ملک کے عوام اور سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے آئینی طریقۂ کار اختیار کریں گی یا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے غیر آئینی ذرائع اپنائیں گی۔ اگر ہم سب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صرف آئینی راستے اختیار کریں، تو میرے خیال میں صورتِ حال مختلف ہوگی اور شاید احتیاطی حراست کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔”
امبیڈکر نے اس شق کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی حراست ساتویں شیڈول کی یونین اور کنکرنٹ (مشترکہ) دونوں فہرستوں (بالترتیب فہرست I اور III) میں پہلے ہی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا یہ آرٹیکل درحقیقت اس اختیار کو محدود کرتا ہے، ورنہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس کا بے دریغ غلط استعمال کر سکتی تھیں، اور “پھر کوئی آزادی باقی نہ رہتی۔”
>ئئمیرا مؤقف یہ ہے کہ اگر واقعی ان کی رائے یہی تھی کہ ایسا کوئی انتظام سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے، تو انہیں فہرست I اور فہرست III میں موجود ان اندراجات پر اعتراض کرنا چاہیے تھا۔ ہم تو اس اختیار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کو احتیاطی حراست سے متعلق قانون سازی کا اختیار دیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہے کہ اس اختیار پر حدود و قیود عائد کی جائیں۔ میں صورتحال کو بدتر نہیں بنا رہا، بلکہ آپ نے خود اسے بدتر بنایا ہے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ فہرستیں کس نے تیار کی ہیں، تو امبیڈکر نے جواب دیا کہ یہ فہرستیں انہی کی تیار کردہ ہیں اور ایوان نے انہیں منظور کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ
’’ان حدود کا تصور ابتدا ہی سے میرے ذہن میں موجود تھا‘‘۔ انہوں نے ٹی ٹی کرشنماچاری کی اس ترمیم کی بھی حمایت کی، جو دستور ساز اسمبلی کے آخری مراحل میں پیش کی گئی تھی، جس کے تحت پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ احتیاطی حراست کے زمروں کا تعین کرے اور بعض حالات میں بغیر کسی مشاورتی بورڈ کی نگرانی کے نظر بندی کی مدت میں توسیع کی اجازت دے۔ یہی شق بعد میں آئین کے آرٹیکل 22(7) کا حصہ بنی۔
امبیڈکر کا ماننا تھا کہ ایک لبرل آئین سے جنم لینے والی ریاست سماجی تبدیلی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ شاید سماجی اور ثقافتی تحریکوں کے بارے میں محتاط تھے، اور غالباً اس کی وجہ ان کے اپنے ذاتی تجربات تھے۔ ایسی تحریکیں اکثر اونچی ذات کے مراعات یافتہ طبقے کے زیرِ اثر، ان کے کنٹرول میں اور انہی کے ذریعے چلائی جاتی تھیں، جبکہ پسماندہ طبقات کو حاشیے پر رکھا جاتا تھا یا انہیں صرف خیرات لینے والوں کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اگر یہی محروم طبقات اپنے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکلتے، تو انہیں یا تو کچل دیا جاتا یا نظر انداز کر دیا جاتا۔ امبیڈکر کے نزدیک اس کا حل ان آئینی ضمانتوں میں تھا جنہیں قابلِ نفاذ بنایا گیا تھا۔ وہ ریاستی آئین پسندی کے قائل تھے۔ امبیڈکر اونچی ذاتوں اور اشرافیہ پر اعتماد نہیں کرتے تھے، لیکن میرے خیال میں اسی وجہ سے انہوں نے اس مخصوص معاملے میں ریاستی مقتدرہ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کر لیا، حالانکہ وہ مقتدرہ خود بھی بڑی حد تک اسی اشرافیہ پر مشتمل تھی۔
17 دسمبر 1946 کو امبیڈکر نے نہرو کی ’’مقاصد کی قرارداد‘‘پر اس بنیاد پر تنقید کی کہ اس میں حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کا کوئی واضح ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’
’ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ حقوق کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، جب تک ایسے مؤثر ذرائع فراہم نہ کیے جائیں جن کے ذریعے لوگ اپنے حقوق کی پامالی کی صورت میں انصاف حاصل کر سکیں۔ مجھے یہاں قانونی چارہ جوئی کا مکمل فقدان نظر آتا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ امبیڈکر ایک جابر ریاست کے خطرات سے پوری طرح آگاہ تھے۔ اسی تقریر میں انہوں نے مزید کہاکہ
> ظاہر ہے، قانون کیا ہے اور اخلاقیات کیا ہیں، اس کا فیصلہ اُس وقت کی انتظامیہ کرے گی۔ ایک انتظامیہ ایک نقطۂ نظر اختیار کرے گی، جبکہ دوسری انتظامیہ اس سے مختلف نقطۂ نظر اپنا سکتی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اگر یہ معاملہ وقت کی انتظامیہ پر چھوڑ دیا گیا، تو بنیادی حقوق کے حوالے سے اصل صورتِ حال کیا ہوگی۔
اس کے باوجود، احتیاطی حراست کے معاملے میں انہوں نے انتظامیہ کو بہت زیادہ اختیارات دے دیے۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس ضمن میں ان کی تجویز کردہ پابندیاں ناکافی ثابت ہوئیں۔ تاہم، آخر میں انہوں نے ہمیں خبردار ضرور کیا تھاکہ
> اگر اس کے بعد حالات خراب ہوتے ہیں، تو ہمارے پاس اپنے سوا کسی اور کو ملامت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔
وہ بالکل درست تھے۔ ’’اے کے گوپالن بنام ریاستِ مدراس (1950)‘‘کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے کمیونسٹ رہنما اے کے گوپالن کی پریوینشن آف ڈیٹینشن ایکٹ، 1950کے تحت نظر بندی کو برقرار رکھا۔ اس فیصلے نے آزاد بھارت کی آئینی سمت متعین کر دی۔ 2015 سے 2019 کے درمیان یو اے پی اے کے تحت5, 102افراد کو گرفتار کیا گیا، جب کہ3, 902افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔سزا کی شرح محض22.8فیصد رہی۔ اس سے بڑا ثبوت شاید ہی کوئی ہو سکتا ہے کہ ان مقدمات میں سے بڑی تعداد قانون کی بالادستی کے بجائے دیگر محرکات کے تحت قائم کی گئی تھی۔
ایک آئینی شق کا مقصد اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی ممکنہ زیادتیوں کے خلاف شہریوں کے لیے ڈھال فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ دہشت گردی جیسے سنگین خطرات کے دور میں یقیناً بہت سے لوگ ایسے قانونی ہتھیار کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، جو ہولناک جرائم کی روک تھام کر سکے۔ لیکن ایسی صورتِ حال میں بھی ریاست کو صرف ایک نہایت محدود، واضح، مخصوص اور سخت شرائط پر مبنی قانون بنانے کی اجازت ہونی چاہیے، جو صرف غیر معمولی حالات تک محدود ہو اور ہر مرحلے پر عدالتی نگرانی کے تابع رہے۔ **آج ہمارے پاس جو قانونی ڈھانچہ موجود ہے، وہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی صریح نفی اور اس کی تضحیک کے مترادف ہے۔
