ممبئی:انصاف نیوز نیٹ ورک
بمبئی ہائی کورٹ نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مرکزی حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کرنا یا اس کے خلاف نعرے بازی کرنا کسی بھی شہری کو شہر بدر (Extern) کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے ممبئی پولیس کے اقدام کو من مانی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے شہری کی شہر بدری کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔
کیس کی سماعت کے دوران سنگل جج بنچ کے جسٹس مادھو جامدار نے ممبئی پولیس اور موجودہ سیاسی نظام پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ
> ’’یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ تمام شہریوں کو حکومتِ ہند کا غلام بنایا جا رہا ہے۔ وہ احتجاج نہیں کر سکتے، وہ دھرنا نہیں دے سکتے ہے۔یہ کیا مذاق ہے؟ آج کل اتنے سارے پیپرز (امتحانات کے سوالنامے) لیک ہو رہے ہیں، اگر لوگ اس پر احتجاج کریں گے تو کیا آپ ان پر مقدمات تھوپ دیں گے؟“
کیس کا پس منظر اور عدالت کی مداخلت
یہ معاملہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے جنرل سکریٹری، 49 سالہ سعید احمد عبدالواحد چودھری کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر سامنے آیا۔ سعید احمد مرکزی حکومت کے مختلف فیصلوں، جیسے شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA) اور گیان واپی مسجد کے تنازع کے خلاف مورچے اور دھرنے منظم کرنے میں سرگرم تھے۔
ممبئی پولیس (ڈپٹی کمشنر آف پولیس، زون 6) نے ان کے خلاف درج 5 ایف آئی آرز (FIRs) کو بنیاد بنا کر انہیں ایک سال کے لیے شہر بدر کرنے کا حکم دیا تھا، جس کی توثیق بعد میں ڈویژنل کمشنر نے بھی کر دی تھی۔ عدالت نے ان دونوں احکامات (مؤرخہ 3 دسمبر 2025 اور 27 مارچ 2026) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا۔
”پولیس وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کی ملازم نہیں ہے“
عدالت میں سماعت کے دوران جب جج کو بتایا گیا کہ عرضی گزار نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے تھے، تو جسٹس جامدار نے پولیس افسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ ”عرضی گزار نے صرف ‘بی جے پی حکومت مردہ باد اور ‘امیت شاہ مردہ باد جیسے نعرے لگائے ہیں۔ شہری ایسے نعرے کیوں نہیں لگا سکتے؟ ایسے نعروں پر شہر بدری کے احکامات کیوں جاری کیے جا رہے ہیں؟“
”پولیس وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کی ملازم نہیں ہے، وہ پبلک سرونٹ (عوام کے خادم) ہیں۔ میں آپ کے افسران پر بھاری جرمانہ عائد کرنے جا رہا ہوں۔
مہاراشٹر کی سیاست اور ”واشنگ مشین“ پر طنز
جسٹس مادھو جامدار نے مہاراشٹر کی موجودہ سیاست میں ایم پیز اور ایم ایل ایز کی طرف سے کی جانے والی وفاداریاں تبدیل کرنے (Horse Trading) پر بھی شدید طنز کیا۔ عرضی گزار کے سیاسی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے جج نے ہلکے پھلکے انداز میں کہاکہ
>’’پرسوں ایک 10 سال کا بچہ حادثے میں مارا گیا اور ریاستی اسمبلی میں اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ پریزائیڈنگ افسر کیسے منتخب ہوتا ہے اور وہ کیسے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں چلا گیا۔آپ (سعید احمد) کو بھی اپنی پارٹی بدل لینی چاہیے۔ ویسے بھی پورے مہاراشٹر میں ہارس ٹریڈنگ چل رہی ہے۔ آپ کے خلاف کچھ ایف آئی آرز ہیں۔پارٹی بدلنے پر غور کریں، وہاں ایک ‘واشنگ مشین موجود ہے (جہاں سارے داغ دھل جاتے ہیں)۔“
آئینی حقوق کی بالادستی: عدالت کا تحریری فیصلہ
اپنے حتمی تحریری حکم نامے میں جسٹس جامدار نے واضح کیا کہ محض حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شہری کو بے دخل کرنے کی وجہ نہیں بن سکتا، اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہوگا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ
> ”درخواست گزار نے اپنے عہدے کی حیثیت سے حکومتِ ہند کے بعض فیصلوں کے خلاف مورچے اور دھرنے منظم کیے تھے۔ مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت یہ کسی شخص کو شہر بدر کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتا۔ یہ کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے۔ آئین ہند کے دفعات 19 (آزادیِ اظہارِ رائے) اور 21 (حقِ زندگی و وقار) کے تحت شہریوں کو نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہے بلکہ وقار کے ساتھ جینے کا بھی حق حاصل ہے۔ حکومت کے فیصلوں کی مخالفت پر کی جانے والی یہ کارروائی درخواست گزار کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہے۔“
اس فیصلے کے ساتھ ہی بمبئی ہائی کورٹ نے سعید احمد کی شہر بدری کا حکم ختم کر دیا، جسے ملک میں آزادیِ اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کے حق میں ایک بڑا فیصلہ مانا جا رہا ہے۔
