بھارتی جمہوریت کا سکڑتا ہوا دائرہ اور حالات کے گرداب میں مسلمان

عبادات اور مذہبی شعار پر کھلے عام حملے: مستقبل کے لیے ایک سنگین اور وجودی خطرہ

نوراللہ جاوید

عید الاضحیٰ کے عین موقع پر اتر پردیش سے لے کر مغربی بنگال تک’’نماز‘‘ کو جس طرح موضوعِ بحث بنا دیا گیا، وہ بھارتی جمہوریت کے بدلتے ہوئے خطرناک رخ کا واضح عکاس ہے۔ ایک طرف اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دھمکی آمیز اور جارحانہ زبان استعمال کی، تو دوسری طرف بنگال کی نئی بی جے پی حکومت نے بھی کم و بیش اسی طرح کے لہجے اور تیور کا مظاہرہ کیا۔ کئیه دنوں تک ملک کے ہائی ٹی آر پی (TRP) ٹی وی چینلوں پر اس ہنگامی مسئلے پر زہر اگلتے اور اشتعال انگیز مباحثے ہوتے رہے، گویا اس وقت ملک کا سب سے بڑا، سب سے اہم اور سب سے فوری حل طلب مسئلہ سڑک پر چند منٹ کی نماز پڑھنا ہی ہے۔اس پورے میڈیا مینوفیکچرڈ پروپیگنڈے کے ذریعے ملک کے عام شہریوں کو یہ تاثر دینے کی منظم کوشش کی گئی کہ جیسے سڑک پر نماز کی وجہ سے ہی بھارت کی معاشی ترقی کی رفتار یکسر رک گئی ہے، روپے کی قدر عالمی مارکیٹ میں دن بدن تاریخی زوال کا شکار ہے، ملک کی جی ڈی پی (GDP) چھ فیصد سے آگے نہیں بڑھ پا رہی، اور ملک میں پھیلی بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی، گرتی ہوئی معیشت، یہاں تک کہ حال ہی میں قومی سطح پر ہونے والے امتحانات کے پرچے (Paper Leaks) کی سنگین بدانتظامی کی ذمہ دار بھی یہی نماز ہی ہے!سیاسی نااہلیوں اور معاشی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلمانوں کی عبادت کو قربانی کا بکرا بنانا موجودہ اکثریتی سیاست کا بنیادی مہرہ بن چکا ہے۔ اسی منظم مہم کے تحت ملک بھر میں قربانی کے فریضے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ردعمل میں مسلمانوں نے ہمیشہ کی طرح امن و امان، سماجی رواداری اور ملک کے ماحول کو پرامن رکھنے کی خاطر رضاکارانہ طور پر یہ تک اعلان کیا کہ وہ گائے کا ذبیحہ نہیں کریں گے اور قانون کا احترام کریں گے۔ اس تاریخی سمجھوتے اور دستبرداری کے باوجود، ممبئی سے لے کر بنگال تک بکروں اور دیگر قانونی جانوروں کی قربانی میں بھی دانستہ، انتظامی اور سماجی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ نیت کسی قانون کا نفاذ نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کو ذہنی و نفسیاتی اذیت دینا ہے۔ممبئی کے ‘میرا روڈ کا حالیہ واقعہ اس ذہنیت کی بدترین مثال ہے، جہاں مسلم متوسط طبقے (Middle Class) کی ایک بہت بڑی، تعلیم یافتہ اور پیشہ ور آبادی رہتی ہے۔ وہاں ہندوتوا عناصر نے مسلم اکثریتی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اندر زبردستی خنزیر لانے کی کوشش کی، تاکہ مذہبی جذبات کو بھڑکایا جائے اور ماحول کو انتہائی اشتعال انگیز بنا کر فساد کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ایسے سنگین حالات میں آج ہر بھارتی مسلمان کے سامنے یہ وجودی سوال کھڑا ہے کہ اگر ملک کے اکثریتی طبقے کے ایک ہٹ دھرم دھڑے اور پورے ریاستی نظام کو اذان، نماز، حجاب اور قربانی جیسے بنیادی ترین مذہبی شعائر سے بھی اتنی نفرت ہے، تو بھارت کا آئین جس مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اس کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ اب مسلمان اپنی عبادات کیسے اور کہاں کریں گے؟ المیہ یہ ہے کہ اس پورے غیر آئینی عمل میں ملک کی حکمران جماعت کے رہنما اور انتظامیہ خود صفِ اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ صورت حال جہاں بھارتی جمہوریت کے سکڑتے ہوئے دائرے اور فاشسٹ طرزِ حکومت کو ظاہر کرتی ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بھارت کی سیکولر شناخت داغدار ہو رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہو رہی ہے، وہیں یہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے مستقبل، بالخصوص اس کی مذہبی شناخت اور شہری آزادی کے حوالے سے شدید اور گہری تشویش پیدا کر رہی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفرت انگیز جرائم (Hate Crimes) میں اس بھیانک اضافے، حکمران طبقے کی کھلی تنگ نظری اور اکثریت پسند ہندوتوا کی اس جارحانہ مہم کے مقابلے میں اقلیتوں کے پاس اپنی مذہبی شناخت اور آئینی حقوق کی حفاظت کے لیے آخر کیا راستے بچتے ہیں؟ صورت حال اس بدترین اور تشویشناک دہانے پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ بھارت کا ہر وہ شخص خود کو اقلیت، غیر محفوظ اور حاشیے پر محسوس کر رہا ہے جو موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں یا اکثریتی مائنڈ سیٹ پر تنقید کرنے کی ذرا سی بھی جرأت کرتا ہے۔ اسکول میں ایک معصوم طالب علم نے سسٹم کی بدانتظامی کے خلاف آواز بلند کی تو اس کوبھی ‘پاکستانی ایجنٹ بتا کر خاموش کرنے کی کوشش کی گئی ۔اس سنگین آئینی جرم اور فاشسٹ پروپیگنڈے میں بھارتی مین اسٹریم میڈیا (جسے اب عوامی زبان میں ‘گودی میڈیا کہا جاتا ہے) برابر کا شریک اور مجرم ہے۔ عدم برداشت کا یہ زہریلا اور گھٹتا ہوا ماحول جہاں بظاہر اقلیتوں کے لیے خطرہ نظر آتا ہے، وہیں یہ حقیقت میں بھارتی جمہوریت کی صحت، اس کے اداروں کی خودمختاری اور خود اس ملک کے بقا و مستقبل کے لیے ایک مہلک اور لاعلاج کینسر بن چکا ہے جو اندر ہی اندر پورے ملک کو کھوکھلا کر رہاہے۔ 
یہاں یہ تاریخی اور زمینی حقیقت انتہائی قابلِ غور ہے کہ بھارت کے مسلمانوں نے تقسیمِ ہند سے لے کر آج تک، کبھی بھی ریاست یا اکثریتی سماج کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں چنا، بلکہ ہمیشہ مصالحت، امن پسندی، قانون کے احترام اور تزویراتی حکمتِ عملی کی راہ اختیار کی ہے۔ اس کی تازہ ترین اور زندہ مثال یہ ہے کہ مغربی بنگال، دہلی، اور ملک کی دیگر کئی ریاستوں میں مساجد کے اندر جگہ کی تنگی اور سڑکوں پر نماز کے تنازع سے بچنے کے لیے مسلمانوں نے خود قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے جمعہ کی نماز کے لیے ایک ہی مسجد میں دو دو شفٹوں (دو الگ الگ اوقات میں جماعتوں) کا اہتمام شروع کر دیا ہے، تاکہ نمازیوں کو سڑک پر نہ بیٹھنا پڑے اور کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔اسی طرح، گؤ ذبیحہ (Cow Slaughter) کے انتہائی حساس اور جذباتی معاملے میں تو مسلمانوں نے ایک تاریخی اسٹریٹجک قدم آگے بڑھ کر گائے کو باقاعدہ ‘قومی جانور (National Animal) قرار دینے کا مطالبہ تک کر ڈالا ہے۔ مسلمانوں کے اس ہوشمندانہ مطالبے نے ہندوتوا نواز حکومت اور ان کی مربی تنظیموں کے سامنے ایک بہت بڑا سیاسی اور اخلاقی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے کہ اگر وہ واقعی گائے کا اتنا ہی احترام کرتے ہیں اور اسے متبرک مانتے ہیں، تو پھر اسے قومی سطح پر مکمل تحفظ دینے کے لیے ایک جامع مرکزی قانون سازی سے گریز کیوں کر رہے ہیں؟ جانوروں کے ذبیحہ اور زراعت کا معاملہ آئینی طور پر ریاستوں کے دائرہ اختیار (State List) میں آتا ہے۔ لیکن یہاں حکمراں جماعت بی جے پی کا دہرا معیار اور سیاسی منافقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law) یا شادی و وراثت کے قوانین، جو کہ آئین کے تحت ایک قومی اور مرکزی موضوع ہیں، اس کے باوجود بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستیں (جیسے اتراکھنڈ، گجرات اور آسام) مرکزی قانون کا انتظار کیے بغیر اپنے اپنے طور پر یکساں سول کوڈ (UCC) پر دھڑا دھڑ قانون سازی کر رہی ہیں۔تو پھر بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستیں مرکزی قانون کا انتظار کئے بغیر اپنے طور گائے کو قومی جانور قرار دینے کیلئے کیوں نہیں قانون سازی کررہی ہے؟۔ظاہر ہے کہ وہ اس مہم کو کبھی حل نہیں کرنا چاہتے، بلکہ اسے صرف ایک سیاسی ہتھکنڈے اور انتخابی ہتھیار کے طور پر ہمیشہ زندہ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہندو مسلم پولرائزیشن کی فصل کاٹی جا سکے۔
تاہم، اگر یہ پورا تنازع صرف گؤ ذبیحہ تک محدود رہتا، تو کسی حد تک یہ مانا جا سکتا تھا کہ اس سے اکثریت کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں (اگرچہ خود گائے کے ساتھ ان کا سلوک، دودھ نہ دینے والی گائے کو سڑکوں پر پلاسٹک کھانے کے لیے لاوارث چھوڑ دینا، اور بھارت سے بیف/فلش کی عالمی برآمدات کے اربوں ڈالر کے تجارتی اعداد و شمار ایک الگ ہی منافقانہ کہانی بیان کرتے ہیں)۔ مگر حالیہ برسوں کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاملہ صرف گائے تک محدود ہی نہیں تھا۔مغربی بنگال اور دیگر مقامات پر قانون کی آڑ میں بیل، پاڑا اور بھینس جیسے دیگر بڑے قانونی جانوروں کی قربانی سے بھی روکا گیا، جبکہ ممبئی اور پونے کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بکرے کی قربانی پر منظم ہنگامہ آرائی کی گئی اور مسلم خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان واقعات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اعتراض گائے پر ہے ہی نہیں، بلکہ فاشسٹ قوتوں کو سرے سے ‘مسلم شعائر، اسلامی علامات اور عوامی مقامات پر مسلمانوں کی موجودگی (Muslim Visibility) ہی سے شدید پریشانی ہے۔ کم و بیش یہی صورت حال اب نماز اور اذان کے ساتھ بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ایسے میں یہ بنیادی، گہرا اور وجودی سوال اٹھنا لازمی ہے کہ اگر مسلمان اسی طرح مبینہ ‘سماجی امن اور مصالحت کے نام پر آئین کے فراہم کردہ اپنے بنیادی اور دستوری حقوق سے ایک ایک کر کے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہوتے رہے، تو مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری (Second-class citizen) بنانے کی خواہشمند ہندوتوا قوتوں کا حوصلہ، اشتہا اور تکبر مزید بڑھتا چلا جائے گا۔ کیا مسلمانوں کا یہ مسلسل معذرت خواہانہ رویہ (Apologetic Attitude) اور ہر محاذ پر پسپائی خودکشی کے مترادف نہیں ہے؟ کیا طویل المیعاد بنیادوں پر اس پسپائی کے مستقبل میں انتہائی سنگین، بھیانک اور ناقابلِ تلافی اثرات مرتب نہیں ہوں گے؟ فاشسٹ قوتیں کبھی بھی مظلوم طبقے کی پسپائی یا سمجھوتے سے مطمئن نہیں ہوتی ہیں، بلکہ وہ ہر جھکی ہوئی کمر پر مزید سوار ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 25 (Article 25) ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تشہیر کرنے اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ لیکن یہ آزادی مطلق (Absolute) نہیں ہے، بلکہ یہ عوامی امن (Public Order)، اخلاقیات اور صحت کے اصولوں کے تابع ہے۔ عدالتوں نے بھی ماضی میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران یہ تسلیم کیا ہے کہ پبلک راستوں یا سڑکوں کو مستقل یا طویل وقت کے لیے بلاک کرنا کسی بھی برادری کے بنیادیحق کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ تاہم اصل آئینی سوال یہ ہے کہ یہ قوانین، یہ نظائر اور یہ انتظامی سختیاں صرف ایک ہی برادری پر کیوں نافذ کی جاتی ہیں اور سب پر برابر نافذ کیوں نہیں ہوتیں؟ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی نماز پر یہ پابندیاں اور کریک ڈاؤن محض انتظامی اصلاحات یا ٹریفک کی روانی کے لیے نہیں ہیں، بلکہ ان کا اصل گہرا اور سیاسی مقصد عوامی جگہوں سے مسلم شناخت اور موجودگی کو غائب کرنا (Erasure of Muslim Visibility) ہے۔ بھارت میں دہائیوں سے عیدین یا جمعہ کی نماز کے لیے چند منٹوں کی رعایت دی جاتی رہی ہے، جو اس ملک کی صدیوں پرانی کثیر الثقافتی، مشترکہ تہذیب اور سیکیولر روایت کا ایک خوبصورت حصہ تھی۔ اس کے برعکس، جب اکثریتی برادری کے بڑے مذہبی جلوسوں، ہفتوں چلنے والی کانوڑ یاتراؤں، مہینوں چلنے والے میلوں اور مذہبی پروگراموں کے لیے ملک کی بڑی بڑی قومی شاہراہیں (National Highways) اور سڑکیں کئی کئی دن تک بند کر دی جاتی ہیں، سرکاری ملازمین ان پر پھول برساتے ہیں اور تمام سرکاری سہولیات و فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، تو مسلمانوں کی چند منٹ کی نماز پر اس طرح کا سخت انتظامی کریک ڈاؤن اور ایف آئی آر کا اندراج ’’قوانین کے غیر مساوی نفاذ‘‘ (Selective Enforcement) اور ریاستی تعصب کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ 
ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر سڑک پر نماز کو لے کر گھنٹوں وقت ضائع کرنے والے، زہر اگلنے والے اینکرز اور وہاں جا کر دفاعی پوزیشن لینے والے مسلم دانشور اور نام نہاد رہنما کبھی یہ بنیادی سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ آخر بھارت کی کتنی فیصد مساجد میں جمعہ کی نماز کے دوران نمازی سڑک پر آتے ہیں؟ حقیقت کا اوسط نکالا جائے تو سال کے 365 دن، دن میں پانچ وقت کی پنجگانہ نمازوں کے لیے کوئی بھی مسلمان کبھی سڑک کا رخ نہیں کرتا۔ تمام پنجگانہ نمازیں مساجد، خانقاہوں، گھروں، دکانوں یا کام کی جگہوں کے اندر ہی ادا کی جاتی ہیں۔ ٹریفک یا پبلک اسپیس کا اس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔صرف جمعہ کی نماز کے لیے، وہ بھی انتہائی قلیل فیصد اور شدید مجبوری کے تحت، کچھ انتہائی گنجان آباد یا پرانے تجارتی علاقوں میں، جہاں انگریزوں کے زمانے کی یا تقسیم سے پہلے کی مساجد بہت چھوٹی ہیں اور آس پاس اب توسیع کے لیے کوئی دوسری جگہ دستیاب نہیں ہے، نمازی مسجد کے صحن سے باہر یا اس سے متصل سڑک کے ایک چھوٹے سے حصے پر چند منٹوں کے لیے صفیں بچھا لیتے ہیں۔ یہ کل بھارتی مسلم آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہوتا، اور یہ عمل بھی خطبے سمیت محض 15 سے 20 منٹ کے اندر مکمل کر کے سمیٹ لیا جاتا ہے۔جہاں تک عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کا تعلق ہے، تو سال میں صرف دو دن ایسے ہوتے ہیں جب عیدگاہوں یا شہر کی بڑی مساجد میں گنجائش ختم ہونے کی وجہ سے نمازی مجبوراً باہر سڑکوں تک آتے ہیں۔ یہ بھی کسی ضد، ہٹ دھرمی یا طاقت کے مظاہرے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عید کی نماز کا وقت پورے شہر میں تقریباً ایک ہی ہوتا ہے اور ایک ساتھ لاکھوں لوگوں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ وہاں بھی نظم و ضبط کا یہ عالم ہوتا ہے کہ نماز ختم ہوتے ہی چند منٹوں میں سڑکیں بالکل صاف اور خالی کر دی جاتی ہیں۔اصل مسئلہ فیصد یا ٹریفک کا ہے ہی نہیں، بلکہ ’’بیانیے‘‘ (Narrative) کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 95 فیصد سے زائد مسلمان کبھی سڑک پر نماز نہیں پڑھتے۔ وہ یا تو اپنے محلے کی مسجد جاتے ہیں یا اپنے گھروں اور دکانوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔ لیکن جو چیز سال میں صرف دو بار ایک متبادل نہ ہونے کی وجہ سے مجبوری کے تحت ہوتی تھی، اسے گودی میڈیااور مخصوص ہندوتوا سیاسی بیانیے کے ذریعے ایسے مبالغہ آمیز طریقے سے پیش کیا گیا جیسے یہ مسلمانوں کا روز کا معمول ہو اور وہ جان بوجھ کر ہندو سماج کو پریشان کرنے کے لیے پبلک راستوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ سب سے المناک اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ جمعہ اور عیدین کا اجتماع، جو خالص مذہبی، روحانی اور اللہ کے سامنے بندگی کا اظہار ہے، ہندوتوا کے حامی دانشور اور سیاستدان اس عبودیت کے اجتماع کو مسلمانوں کی طرف سے اپنی عددی طاقت کا مظاہرہ (Show of Strength) اور زمین پر قبضے کی مشق کے طور پر پیش کر کے اکثریتی سماج میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔
اس پورے گھمبیر منظر نامے میں ملک کی عدالتوں کا رویہ انتہائی مایوس کن اور افسوس ناک رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں نچلی عدالتوں سے لے کر ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ تک کئی ایسے فیصلے اور مشاہدات سامنے آئے ہیں جہاں قانون کے محض فنی پہلوؤں (Technicalities) کو تو باریکی سے دیکھا گیا، لیکن اقلیتوں کے تحفظ، ان کی مذہبی آزادی اور ان کے خلاف ہونے والے یکطرفہ انتخابی کریک ڈاؤن (Selective Enforcement) کے وسیع تر سماجی و سیاسی اثرات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔کئی بار ایسا لگا کہ عدالتیں بھی اکثریتی مائنڈ سیٹ یا حکومت کے دباؤ کے تحت فیصلے کر رہی ہیں یا حساس معاملات کو لٹکا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم کمیونٹی میں یہ مایوس کن تاثر گہرا اور پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کے لیے قانونی اور آئینی راستے بھی بے اثر اور بے سود ہوتے جا رہے ہیں۔ اس نازک موڑ پر، جب جمہوریت کے تمام ستون اور ادارے بھی امید کے مطابق کام نہ کر رہے ہوں، تو ایک عام شہری یا مجموعی طور پر مسلم سماج کے پاس اپنے وجود، بقا اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اب کیا راستے باقی رہ جاتے ہیں؟یہ بات گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’سماجی امن اور مصلحت‘ کی خاطر حکمتِ عملی اختیار کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن فاشسٹ طاقتوں کے جارحانہ مطالبات کے سامنے اپنے بنیادی دستوری اور آئینی حقوق سے رضاکارانہ دست برادری امن نہیں، بلکہ بتدریج مٹ جانے کا ایک شرمناک سودا ہے۔ فاشزم کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ کبھی بھی مظوم طبقے کی رضاکارانہ پسپائی یا معذرت خواہانہ رویے سے مطمئن نہیں ہوتا، بلکہ وہ آپ کی ہر اگلی پسپائی کو آپ کی کمزوری سمجھتا ہے اور اسے آپ کی غلامی کی ایک نئی حد مقرر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آج آپ سڑک پر نماز کو لے کر معذرت خوانہ رویہ اختیار کریتں گے سڑک پر نماز چھوڑیں گے، کل وہ آپ کو گھروں میں باجماعت نماز پڑھنے سے روکیں گے، پرسوں مساجد کے لاؤڈ اسپیکر اور پھر آپ کے لباس و داڑھی پر حملے ہوں گے (جیسا کہ اب شروع ہو چکا ہے)۔لہٰذا، مصالحت کے نام پر گھٹنے ٹیکنے اور میدان چھوڑنے کے بجائے، آئین کے دائرے میں رہ کر قانون، تعلیم، میڈیا اور سماجی اتحاد کے بل بوتے پر اپنی بقا کی ایک منظم دستاویزی اور سیاسی لڑائی لڑنے کی بنیادی اور فوری ضرورت ہے۔ مسلمان ہی نہیں، بلکہ اس ملک کے ہر ایک انصاف پسند شہری کے لیے اب بھی بھارت کا آئین (Constitution of India) سب سے بڑا اور سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ اگر بی جے پی حکومتیں مختلف ریاستوں میں یکساں سول کوڈ یا قربانی پر من مانی اور غیر آئینی پابندیاں لگا رہی ہیں، تو مسلم قیادت، دانشوروں، سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین کو ان تمام ریاستی بائی لاز (By-laws) اور غیر آئینی قوانین کو اعلیٰ عدالتوں اور سپریم کورٹ میں پوری طاقت سے چیلنج کرنا ہوگا۔ پسپائی اور خوف کے بجائے عدالتی اور آئینی محاذ پر ایک ‘جارحانہ دفاع (Aggressive Defense) وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ 
یہ صرف ایک مذہبی یا فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل جمہوریت کےتحفظ اور فاشزم کے خلاف جنگ ہے۔ ملک کا دلت، آدیواسی، پسماندہ طبقات، کسان، اور کروڑوں ترقی پسند و سیکولر ہندو دانشور بھی اس اکثریت پسندی اور فاشسٹ نظام کے اتنے ہی خلاف ہیں جتنے کہ مسلمان۔ کیونکہ یہ نظام سب کو نگل جانا چاہتا ہے۔ لہٰذا، مسلمانوں کو اپنی سیاسی تنہائی (Political Isolation) کو توڑنا ہوگا اور ملک کی دیگر مظلوم، پسماندہ اور حاشیے پر کھڑی برادریوں کے ساتھ مل کر ‘شہری حقوق (Civil Rights) کا ایک وسیع اور مشترکہ محاذ بنانا ہوگا، تاکہ اس سنگدل نظام کو انتخابی اور سیاسی طور پر سخت چیلنج کیا جا سکے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) اور دیگر چند گنے چنے ادارے ہیٹ کرائم اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی متعصبانہ کارروائیوں کا دستاویزی ریکارڈ (Documentation) جمع کر رہے ہیں اور اس کے خلاف عالمی و قومی رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ بات کافی اہم ہے کہ فاشزم کا مقابلہ جذباتی نعروں یا جذباتی سیاست سے نہیں، بلکہ آئین کے آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی) اور آرٹیکل 14 (مساوات کا حق) کی مضبوط، جدید اور کاٹ دار قانونی تشریح سے ہی ممکن ہے۔
ان تمام تاریک اور کٹھن حالات کے باوجود، افق پر ایک امید افزا اور شاندار پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ موجودہ دور کے ڈیجیٹل انقلاب کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی تعداد میں مسلم نوجوان صحافی، یوٹیوبرز اور کانٹینٹ کریٹرز میدان میں سامنے آئے ہیں۔ ان ہونہار اور مخلص نوجوانوں نے ڈیجیٹل میڈیا، یوٹیوب، پوڈ کاسٹ اور آزاد صحافت (Independent Journalism) کو ایک جدید ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے، مین اسٹریم ‘گودی میڈیا کے جھوٹے اور یکطرفہ بیانیے کے پرخچے اڑا دیے ہیں اور ان کے مقابلے میں قوم کی حقیقی ترجمانی پر مبنی ایک سچا اور متبادل بیانیہ پیش کیا ہے۔یہ مسلم نوجوان کسی اسٹوڈیو میں بیٹھ کر فرضی کہانیاں نہیں بناتے، بلکہ وہ تمام تر خطرات کے باوجود گراؤنڈ زیرو پر جا کر حقائق پر مبنی لائیو رپورٹس تیار کر رہے ہیں، متاثرین کے انٹرویوز کر رہے ہیں، بہترین اور بین الاقوامی معیار کی دستاویزی ویڈیوز (Documentaries) بنا رہے ہیں اور اقلیتوں و مظلوموں کے مسائل کو انگریزی، ہندی، اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں پیش کر کے بیانیے (Narrative) کی اس عالمی جنگ کو پورے عزم کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے گودی میڈیا کے اربوں روپے کے پروپیگنڈا مشینری کو اپنے چھوٹے سے کیمرے اور سچائی کے زور پر دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔مگر یہاں ایک دوسرا اور انتہائی تلخ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم کمیونٹی، اس کے متمول تاجر، اس کے ادارے اور اس کی قیادت ان مسلم نوجوان صحافیوں کی معاشی، قانونی، اخلاقی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کر رہی ہے؟ بطور صحافی اور گزشتہ کئی برسوں تک خود ڈیجیٹل میڈیا کے اس پرخطر میدان میں سرگرم رہنے کی بنیاد پر، میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ انتہائی مایوس کن، دردناک اور تلخ رہا ہے۔ اس تلخ حقیقت کا ادراک ہونے کے باوجود کہ موجودہ دور مکمل طور پر بیانیے (Narrative) کی جنگ کا ہے، مسلم سماج کے عام لوگ اور اس کے متمول طبقے اب بھی اسی کاہلانہ امید میں رہتے ہیں کہ ان کی ترجمانی کوئی اور (کوئی سیکولر ہندو میڈیا یا غیر ملکی میڈیا) کرے گا۔وہ اپنے نوجوانوں کو تیار کرنے، ان کی میڈیا کمپنیوں کو اشتہارات یا فنڈز کے ذریعے تعاون کرنے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں، یہاں تک کہ مسلم رہنما، علما اور دانشور ان مخلص مسلم صحافیوں کو انٹرویو دینے سے بھی کتراتے ہیں اور آسانی سے وقت نہیں دیتے، جبکہ وہی رہنما گودی میڈیا کے اسٹوڈیوز میں جا کر ذلیل ہوتے ہیں ۔یہی وہ غلامانہ اور احساسِ کمتری پر مبنی رویہ ہے جس کی وجہ سے آج تک صحافت اور میڈیا کے میدان میں مسلمان مکمل طور حاشیے پر ہیں، اور اس بھیانک تاریخی کوتاہی کے لیے کوئی دوسرا نہیں، بلکہ خود ہماری مسلم قیادت اور ملت کا صاحبِ ثروت طبقہ براہِ راست ذمہ دار ہے۔ 
بدلتے ہوئے جدید ترین سیاسی اور تکنیکی منظرنامے میں مسلمانوں کی روایتی قیادت بالکل ناکام، ناکارہ اور ہائی ٹیک بیانیے (High-Tech Narrative) اور اس کے ساتھ جڑی قانونی پیچیدگیوں سے مکمل طور پر ناواقف نظر آتی ہے۔ ہمارے روایتی رہنما اب بھی 1980ء اور 90ء کے دہاکے کے پرانے طرز کی جذباتی سیاست، جلسے جلوسوں، ناکام پریس ریلیزوں اور اخبارات میں بے اثر بیانات چھپوانے تک محدود ہیں۔ وہ جدید میڈیا کے پروپیگنڈے، الگورتھم کی سیاست، اور فاشسٹوں کی گہری سازشوں کا ان ہی کی جدید زبان اور تکنیک میں جواب دینے سے بالکل قاصر اور عاجز ہیں۔بھارت میں مسلمانوں کے پاس وسائل (Resources)، فنڈز یا پیسے کی اتنی کمی نہیں ہے، جتنی کہ ایک منظم نیٹ ورکنگ (Organized Networking) اور وژن کی ہے۔ انفرادی سطح پر مسلمان نے اچھے اسکول، شاندار کالج،چھوٹے فلاحی ادارے تو چلا رہے ہیں، لیکن قومی یا ریاستی سطح پر مسلمانوں کا کوئی ایک بھی ایسا مضبوط، مربوط اور مرکزی نیٹ ورک یا کارپوریٹ ادارہ نہیں ہے جو مصیبت، فساد یا یو اے پی اے (UAPA) اور بلڈوزر کارروائی کے وقت کسی بھی مظلوم خاندان یا حکومتی عتاب کے شکار اداروں کو فوری طور پر چوبیس گھنٹے کے اندر قانونی، معاشی یا نفسیاتی تحفظ (Legal, Financial & Psychological Aid) فراہم کر سکے۔
اس روایتی قیادت کے جمود، نااہلی اور سرد مہر رویے کے نتیجے میں ہماری نئی اور ہونہار مسلم نسل کے نوجوانوں میں ایک گہری مایوسی، شدید گھٹن اور سمت کا فقدان واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اگرچہ ہمارے نوجوان ملت اور ملک کے لیے کچھ بڑا کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے اندر جذبہ ہے، لیکن قیادت کی طرف سے کسی واضح سیاسی، سماجی، معاشی یا نظریاتی سرپرستی کے نہ ہونے کی وجہ سے ان نوجوانوں میں شدید فرسٹریشن (Frustration) اور غصہ پھیل رہا ہے۔دوسری طرف عدالتوں کے متعصبانہ رویے، پولیس کے یکطرفہ کریک ڈاؤن، اور کارپوریٹ سیکٹر میں مسلمانوں کے لیے روزگار کے مسلسل سکڑتے ہوئے مواقع نے بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہونہار نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس ملک میں اب ان کا کوئی مستقبل، کوئی عزت اور کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے۔ اس بھیانک نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے ہمارے لاکھوں قابل نوجوان یا تو کسی بھی طرح ملک چھوڑ کر خلیجی ممالک، یورپ یا امریکہ فرار ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں، یا پھر شدید ذہنی تناؤ (Depression) کا شکار ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر رہے ہیں اور اپنے ہی خول میں بند ہو رہے ہیں۔ یہ برین ڈرین (Brain Drain) اور مایوسی ملت کے مستقبل کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ان دباؤ اور نازک حالات میں اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دانشور، تاجر، کارپوریٹ ماہرین، قانونی ماہرین اور یہ ڈیجیٹل نوجوان روایتی قیادت کے کسی معجزے کا انتظار کرنے کے بجائے، خود آگے بڑھیں اور ‘متبادل قیادت کا خلا پُر کریں۔ اب ہمیں جذباتی نعروں، روایتی پریس کانفرنسوں اور سڑکوں پر احتجاج کی ناکام سیاست سے نکل کر ایک ‘خاموش، منظم، پیشہ ورانہ اور تعمیری اسٹریٹیجی (Constructive Strategy) اپنانی ہوگی۔یہودی کمیونٹی کی ADL (اینٹی ڈیفیمیشن لیگ) کی طرز پر ایک ایسا آزاد ادارہ وقت کی ضرورت ہے جو نہ صرف ہیٹ کرائمز کا ڈیٹا رکھے، بلکہ گودی میڈیا کے ایک ایک جھوٹ پر قانونی چارہ جوئی کر کے انہیں معاشی اور عدالتی طور پر پسپائی پر مجبور کرے۔ جنگ اب سڑکوں کی نہیں، بیانیے اور قانون کی ہے، اور اسے جدید ترین ہتھیاروں سے ہی جیتا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *