اے پی سی آر کا وفد اکبر منڈل کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے
نور اللہ جاوید
کلکتہ:
مغربی بنگال کے ضلع بانکوڑہ کے اونڈا پولیس اسٹیشن کے تحت واقع ‘پنی سول’ ایک بڑا اور گنجان آبادی والا قصبہ ہے۔ یہاں کی کل آبادی لگ بھگ 80 سے 90 ہزار ہے، جس میں 90 فیصد مسلم آبادی شامل ہے۔ اسی بستی کے رہائشی اکبر علی منڈل کو گزشتہ 9 جون کو پڑوسی ضلع پرولیا کے بندوان پولیس اسٹیشن کے تحت ایک گاؤں میں بے رحمی سے مار مار کر قتل کر دیا گیا۔ پرولیا کے ایس پی (SP) کے مطابق، اکبر علی منڈل کے مبینہ قاتل بسواجیت مہتو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ تاہم، اس واقعے کو ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد جب میں خود پنی سول گاؤں پہنچا، تو ہر طرف خوف، سہم اور مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ دراصل، اس بستی کے 70 سے 80 فیصد مسلم نوجوان بنگال، جھارکھنڈ اور بہار کے مختلف علاقوں میں پھیری (عام اشیاء کی دکان داری) لگا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں، اور مقتول اکبر علی منڈل بھی انہی محنت کشوں میں شامل تھے۔
آخری ملاقات اور دل دہلا دینے والا واقعہ
اکبر علی منڈل پرولیا ضلع اور جھارکھنڈ کی سرحد کے قریب اپنے 24 سالہ بیٹے ذوالفقار علی کے ساتھ رہ کر پھیری کا کام کرتے تھے۔ دونوں باپ بیٹا الگ الگ علاقوں میں پھیری کے لیے نکلتے تھے۔ واقعے کے روز بھی دونوں معمول کے مطابق اپنے کام پر نکلے، مگر انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ملاقات ہوگی۔ مقتول کے بیٹے ذوالفقار نے بتایا کہ 9 جون کی صبح تقریباً 11 بجے انہیں فون پر اطلاع ملی کہ ان کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، اس لیے وہ جلد سے جلد ہسپتال پہنچیں۔ جب ذوالفقار ہسپتال پہنچے تو وہاں ان کے والد کی لاش پڑی تھی، جسے درندوں نے بری طرح مسخ کر دیا تھا۔
ذوالفقار علی اپنے مقتول والد کی تصاویر دکھاتے ہوئے رو پڑے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ان کے والد کے ساتھ یہ درندگی کیوں کی گئی۔ اکبر علی منڈل کے پسماندگان میں ان کی بیوہ اور ایک چھوٹی بیٹی ہے، جن کی پرورش کی تمام تر ذمہ داری اب اکیلے نوجوان ذوالفقار کے کندھوں پر آ گئی ہے۔ مقتول کے گھر کی مالی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور ان کا چھوٹا سا گھر بھی کچا بنا ہوا ہے۔
نفرت انگیز جرم، سیاسی دباؤ اور قانونی پیچیدگیاں
اکبر علی منڈل پر جس وحشیانہ طریقے سے حملہ کیا گیا، مقامی لوگوں کے مطابق وہ خالصتاً مذہبی نفرت یعنی ‘ہیٹ کرائم’ (Hate Crime) کا معاملہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب ملزم بسواجیت مہتو اکبر پر جان لیوا حملہ کر رہا تھا، تو وہاں موجود مقامی لوگ خاموش تماشائی بنے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش تک نہیں کی۔ اس پورے حملے کی ویڈیو قریب ہی رہنے والی ایک خاتون نے اپنے موبائل کیمرے میں قید کر لی تھی، جو اب پولیس کے قبضے میں ہے اور اسے تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ گرچہ یہ پورا معاملہ صاف طور پر ہیٹ کرائم کا نظر آتا ہے، لیکن مبینہ طور پر اسے بسواجیت نامی نوجوان کی عام غنڈہ گردی اور آپسی تنازع سے جوڑ کر پورے کیس کو ہلکا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مقتول کے بیٹے ذوالفقار نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگ صرف ہماری داڑھی دیکھ کر ہمیں زبردستی ‘جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتے تھے اور دھمکیاں دیتے تھے کہ اب ہمیں یہاں پھیری لگا کر روزی کمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم مسلسل ڈر اور خوف کے سائے میں کام کر رہے تھے۔”
مقتول کے اہل خانہ نے جہاں ایک طرف منصفانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کی اپیل کی ہے، وہیں دوسری طرف ان پر مسلسل یہ سیاسی دباؤ بھی بنایا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی یا سماجی کارکنوں کو اپنے یہاں نہ آنے دیں۔ سیاسی حلقوں کی طرف سے جملے کسے جا رہے ہیں کہ “یہاں اب ڈبل انجن کی سرکار ہے، اس لیے سوچ سمجھ کر ہی اس معاملے میں آگے بڑھیں”۔
اس پورے معاملے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ ہولناک قتل جہاں پیش آیا، وہ بانکوڑہ کے پنی سول گاؤں سے تقریباً 90 کلومیٹر دور پرولیا ضلع کا علاقہ ہے۔ ایسے میں اس غریب اور بے سہارا خاندان کے لیے اتنی دور جا کر مقدمے کی پیروی کرنا اور قانونی چارہ جوئی کا حصہ بننا اپنے آپ میں ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
ماضی کے واقعات اور مقامی لوگوں میں بڑھتا خوف
پنی سول کے ‘منڈل پاڑہ’ کے ایک معمر دیہاتی خلافت حسین منڈل نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا:
“ہمارے گاؤں کے لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں بغیر کسی خوف اور پریشانی کے پھیری لگا رہے ہیں، لیکن حالیہ عرصے میں مسلمانوں پر حملوں اور ہراسانی کے واقعات میں اچانک تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ پنی سول کے زیادہ تر لوگ غریب اور مزدور پیشہ ہیں، جو اب روزانہ شدید تشویش اور سہمے ہوئے دل کے ساتھ کام کے لیے گھر سے نکلتے ہیں۔”
مقامی باشندوں نے یاد دلایا کہ چند ماہ قبل اسی گاؤں کے ایک اور پھیری والے پر بانکوڑہ شہر کے کانکاٹا علاقے کے پاس چاقو سے حملہ کیا گیا تھا، کیونکہ اس نے بھی مبینہ طور پر ‘جے شری رام کا نعرہ لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس واقعے نے پہلے ہی مقامی لوگوں میں خوف پھیلا دیا تھا، اور اب اکبر کے بہیمانہ قتل نے ان کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کی تصویر
پنی سول گاؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مغربی بنگال کے سب سے بڑی آبادی والے دیہاتوں میں سے ایک ہے، مگر یہاں کے باشندے معاشی اعتبار سے انتہائی پسماندگی کا شکار ہیں۔ اسٹیٹ ہائی وے سے جیسے ہی پنی سول جانے والی شاہراہ پر قدم رکھیں، تو سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں پر گٹھڑیاں لادے پھیری والے عام نظر آنے لگتے ہیں، جو اس گاؤں کی بنیادی شناخت یعنی ‘پھیری والوں کی بستی’ کو ظاہر کرتے ہیں۔
تقریباً ایک لاکھ کی آبادی والی اس بستی میں محض دو ہائی اسکول اور 8 سے 9 پرائمری اسکول ہیں، جن میں اساتذہ کی تعداد بھی ناکافی ہے۔ انتہائی کم آمدنی کے باعث یہاں کے زیادہ تر بچے آٹھویں یا گیارہویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ گاؤں والوں کے مطابق، پوری بستی میں گریجویٹ (Graduate) افراد کی تعداد محض 30 سے 40 ہے، جبکہ سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ظاہر ہے کہ 80 سے 90 ہزار کی آبادی والے اس بڑے گاؤں کے لیے یہ تعلیمی گراف انتہائی مایوس کن ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اور سماجی ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد مسلم دشمنی اور نفرت انگیز واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں پھیری والوں کے سامنے اب یہ بڑا سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے گھر کا چولہا کیسے جلائیں۔ ایک مقامی دکاندار نے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تک کبھی نہیں سنا کہ کسی مسلم بستی میں کسی ہندو پھیری والے کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہو یا انہیں زبردستی ‘اللہ اکبر’ کہنے پر مجبور کیا گیا ہو، لیکن مسلمانوں کے خلاف ایسے واقعات لگاتار بڑھ رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا دورہ اور قانونی امداد کا یقین
اس افسوس ناک واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیم ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس’ (APCR) کی ایک ٹیم سماجی کارکن عمر اویس کی قیادت میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچی۔ اس وفد میں جمعیۃ علمائے ہند (کلکتہ) کے سکریٹری مولانا اشرف علی قاسمی اور سید امتیاز احمد بھی شامل تھے۔ عمر اویس نے متاثرین کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سن کر حیران ہیں کہ ایک غریب شخص پر سرِعام حملہ ہوتا رہا اور پورا گاؤں خاموش تماشائی بنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ مقتول کے اہل خانہ شدید خوف کے ماحول میں ہیں اور ان پر سیاسی دباؤ بھی بنایا جا رہا ہے۔ اے پی سی آر (APCR) کی ٹیم اکبر علی منڈل کے خاندان کو مکمل قانونی امداد فراہم کرے گی تاکہ ان کی دوری کی مشکل آسان ہو اور قاتل کو سخت سے سخت سزا دلائی جا سکے۔
جمعیۃ علمائے ہند کے رہنما مولانا اشرف علی قاسمی نے گاؤں کی ابتر معاشی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا:
“اس نفرت انگیز ماحول نے گاؤں والوں کے سامنے روزی روٹی کا سنگین بحران کھڑا کر دیا ہے۔ ہم نہ صرف اس وحشیانہ واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ ریاست میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ ہم اس معاملے کو اعلیٰ حکام تک لے جائیں گے اور پولیس و انتظامیہ کو جوابدہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔”
شدید معاشی بحران اور بقا کی لڑائی
اس واقعے نے مقتول کے گھرانے کو اچانک معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ذوالفقار نے بتایا کہ ان کی بہن کو بھی انتہائی غربت کی وجہ سے گیارہویں جماعت کے بعد اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑنی پڑی تھی۔ اکبر کے بڑے بھائی نور محمد منڈل، جو مرغی بیچ کر گزر بسر کرتے ہیں، نے انتہائی رنجیدہ دل کے ساتھ کہا:
“پرولیا میں کام کرنے والے ہمارے بہت سے پھیری والے بھائی خوف کے مارے گھر لوٹ رہے ہیں، لیکن اس چھوٹے سے گاؤں میں روزگار کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ آپ ہی بتائیں، ہم اب کیسے زندہ رہیں اور کہاں جائیں؟”
