کلکتہ میں حقوق انسانی کےتین کارکنان کے ٹھکانوں پر این آئی اے کے چھاپے۔ایس آئی آر کے خلاف بھی سرگرم رہ چکے ہیں

stuNia

کولکاتا: انصاف نیوز نیٹ ورک

قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے جمعرات کی صبح مغربی بنگال میں انسانی حقوق کے تین کارکنوں اور محققین سے وابستہ مقامات پر بیک وقت تلاشی کی ۔ متاثرہ کارکنوں کے مطابق یہ کارروائیاں صبح تقریباً 4-30بجے شروع ہوئیں۔یہ خبر پھیلنےکے بعد شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوامی تحریکوں سے وابستہ کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔

این آئی اے کی جانچ کے دائرے میں آنے والے تینوں شخصیات مقامی سطح پر عوامی تنظیم سازی، بے دخلی مخالف مہمات اور طلبا سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ تلاشی کی یہ کارروائیاں 2022 کے رانچی کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں، اس کا تعلق مشرقی بھارت میں ماؤ نواز سرگرمیوں کے مبینہ احیاء سے ہے۔ یہ معاملہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) اور تعزیراتِ ہند (IPC) کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

تلاشی کی کارروائیاں کلکتہ اور اس سے ملحقہ اضلاع میں انجام دی گئی ہیں۔ متاثرہ کارکنوں اور شہری حقوق کے گروپوں کا دعویٰ ہے کہ نشانے پر آنے والے افراد حالیہ دنوں میں ’’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘‘ (SIR) کے تحت ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے خلاف سرگرم رہے ہیں اور عوامی سطح پر تحریک چلائی

جن افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ان میں محقق اور سماجی کارکن جہلم رائےبھی شامل ہیں، جو ’’فیمینن اِن ریزسٹنس‘‘ نامی تنظیم سے وابستہ ہیں۔ وہ کلکتہ کے پارک سرکس علاقے میں SIR مہم کے تحت ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر من مانے اخراج کے خلاف جاری احتجاجی سرگرمیوں کی نمایاں منتظمین میں شمار ہوتی ہیں۔

این آئی اے کے تقریباً 12 اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم نے جنوبی کوکتہ میں واقع اس اپارٹمنٹ کی تلاشی لی جہاں جہلم رائے رہتی ہیں۔ تقریباً اسی وقت ایک دوسری ٹیم نے ’’ریولیوشنری اسٹوڈنٹس فرنٹ‘‘ (RSF) کے جنرل سکریٹری، 24 سالہ تتھاگتا رائے چودھری کی رہائش گاہ پر بھی تلاشی کی کارروائی انجام دی۔

انگلش اینڈ فارن لینگویجز یونیورسٹی (EFLU) سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے والے محقق تتھاگتا رائے چودھری نے کہاکےیہ مغربی بنگال میں بی جے پی کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ اختلافِ رائے کی آوازوں کو دبانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو کس قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ایسے کئی کارکن آج بھی جیلوں میں قید ہیں۔

دریں اثنا، ضلع ندیا کے جاگولی علاقے میں این آئی اے نے سرکاری اسکول کے استاد سوکمار کیال کے گھر بھی تلاشی لی۔ کیال ’’سنگرامی کرشک منچ‘‘ (SKM) کے منتظم ہیں، جو کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک عوامی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم حال ہی میں قائم ہونے والے ’’سارا بنگلہ بچارادھین ووٹر منچ‘‘ کے پلیٹ فارم کے تحت ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے خلاف سرگرم رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے سوکمار کیال سے ان کے اسکول میں طویل وقت تک پوچھ گچھ بھی کی۔

کتابیں، رسائل اور رسید بک ضبط

جہلم رائے اور تتھاگتا رائے چودھری نے بتایا کہ تلاشی کے دوران ضبط کی جانے والی بیشتر اشیاء قانونی دستاویزات اور عوامی سطح پر دستیاب مطبوعات پر مشتمل تھیں۔

ضبطی کی فہرست کے مطابق، تتھاگتا رائے چودھری کے گھر سے بنگالی رسائل ’’مانوی ایکھون‘‘ اور ’’اسٹوڈنٹ فورس‘‘ کی کاپیاں، SIR اور NRC سے متعلق پمفلٹس، اور رانچی کیس سے متعلق عدالتی دستاویزات کی نقول ضبط کی گئیں۔

جہلم رائے کے مطابق اہلکار تین کتابیں اور سیاسی قیدیوں کی حمایت میں فنڈ جمع کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک رسید بک ساتھ لے گئے۔ یہ تمام کتابیں عام مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور ان پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔ جب میں نے اس بارے میں سوال کیا تو تفتیشی افسر نے کہا کہ یہ مواد انہیں مشکوک معلوم ہوتا ہے۔تتھاگتا رائے چودھری نے کہا کہ ضبط شدہ کاغذات میں زیادہ تر رسائل، پمفلٹس اور اسی مقدمے سے متعلق عدالتی دستاویزات شامل تھیں۔
ان کے بقول:جن کاغذات کو ضبط کیا گیا ہے ان میں اسی مقدمے سے متعلق عدالتی ریکارڈ بھی شامل ہے، جس کی تحقیقات این آئی اے خود کر رہی ہے۔تلاشی مکمل ہونے کے بعد این آئی اے نے تتھاگتا رائے چودھری کو ایک باضابطہ سمن جاری کیا، جس میں انہیں مزید تفتیش کے لیے رانچی میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دریں اثنا، ’’ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس‘‘ (APDR) نے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

تنظیم کے رکن رنجیت سور نے کہاکہ ’’مغربی بنگال میں عوامی تحریکیں مسلسل مضبوط ہو رہی ہیں۔ فٹ پاتھ دکانداروں کی بے دخلی، ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور زیرِ سماعت قیدیوں کے ساتھ مبینہ غیر انسانی سلوک کے خلاف حالیہ احتجاج اسی رجحان کی مثال ہیں۔ حکومت ان تحریکوں کے بڑھتے ہوئے اثر سے پریشان دکھائی دیتی ہے۔

این آئی اے کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔اگر این آئی اے کا بیان آتا ہے تو انصاف نیوز نیٹ ورک پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *