نئی دہلی: انصاف نیوز نیٹ ورک
سپریم کورٹ نے جمعرات، 15 اکتوبر کو مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والا کوئی شخص اپنی سابقہ ذات کی بنیاد پر مسلم پسماندہ طبقے کے لیے مختص ریزرویشن کا حق دار نہیں ہو سکتا۔
جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس شری چندرشیکھر پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے تمل ناڈو حکومت کی اس اپیل کو خارج کر دیا جس میں مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض اسلام قبول کرنے سے کوئی شخص تمل ناڈو کی جانب سے پسماندہ مسلم برادریوں کے طور پر نوٹیفائی کی گئی سات برادریوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔ کسی شخص کی تبدیلیٔ مذہب سے پہلے کی ذات یا برادری کا درجہ خود بخود نئی مذہبی برادری میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح، کوئی مذہبی ادارہ بھی محض اپنے طور پر کسی شخص کو اس درجے کا قانونی حق دار قرار نہیں دے سکتا۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ریزرویشن اور تبدیلیٔ مذہب سے متعلق کئی اہم نکات واضح کیے۔
1۔ سابقہ ذات کی بنیاد پر ریزرویشن کا حق نہیں
عدالت نے کہا کہ ہندو سماجی نظام سے کسی دوسرے مذہبی و سماجی نظام میں جانے والا شخص محض اپنی سابقہ ذات کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 16(4) کے تحت ریزرویشن کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے متعلقہ قانونی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔
2۔ سابقہ سماجی پسماندگی خود بخود منتقل نہیں ہوتی
عدالت کے مطابق، کسی شخص کو اپنے سابقہ سماجی نظام میں جس پسماندگی کا سامنا تھا، اس کی بنیاد پر اسے نئے سماجی نظام میں کسی پسماندہ برادری کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔
3۔ شیڈولڈ کاسٹ کے درجے سے متعلق آئینی پابندی
عدالت نے آئین کے شیڈولڈ کاسٹس آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ہندو، سکھ یا بدھ مت کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو ماننے والا شخص شیڈولڈ کاسٹ کا رکن نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس لیے اسلام، عیسائیت یا کسی دوسرے ایسے مذہب کو قبول کرنے کے بعد، جسے مذکورہ آرڈر میں شامل نہیں کیا گیا ہے، محض سابقہ ذات کی بنیاد پر شیڈولڈ کاسٹ کے درجے سے وابستہ فوائد کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
4۔ اسلام قبول کرنے سے مسلم پسماندہ برادری کی رکنیت نہیں ملتی
عدالت نے واضح کیا کہ اسلام قبول کرنے سے کسی شخص کو تمل ناڈو کی کسی مخصوص نوٹیفائیڈ مسلم پسماندہ برادری کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔ اس کی سابقہ ذات یا برادری کا درجہ خود بخود نئی برادری میں منتقل نہیں ہوتا۔
5۔ سابقہ پسماندگی نئی برادری کی رکنیت کا قانونی جواز نہیں
عدالت کے مطابق، تبدیلیٔ مذہب سے پہلے کی سماجی پسماندگی بذاتِ خود اس بات کے لیے کافی نہیں کہ کسی شخص کو مذہب تبدیل کرنے کے بعد کسی دوسری نوٹیفائیڈ پسماندہ برادری کا رکن تسلیم کر لیا جائے۔
6۔ دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کی صورت میں الگ جانچ ضروری
عدالت نے کہا کہ اگر کوئی شخص ہندو مذہب چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنے کے بعد دوبارہ ہندو مذہب میں واپس آتا ہے تو اس کے ریزرویشن کے حق کا فیصلہ صرف اس کی سابقہ ذات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں حقائق کی بنیاد پر جانچ ضروری ہوگی تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا اس کی اصل ذات یا سماجی شناخت بحال ہوئی ہے اور کیا وہ متعلقہ آئینی و قانونی شرائط پوری کرتا ہے۔
7۔ ریزرویشن کا حق متعلقہ قانونی شرائط سے مشروط ہے
عدالت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 16(4) کے تحت ریزرویشن یا دیگر فوائد کا دعویٰ اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب متعلقہ قانونی شرائط پوری ہوں۔ کسی مخصوص سماجی برادری کی رکنیت پر منحصر فائدہ صرف اس بنیاد پر حاصل نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ شخص کبھی اس برادری سے تعلق رکھتا تھا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
مدراس ہائی کورٹ نے 2024 میں تمل ناڈو حکومت کے اس حکم کو غیر قانونی قرار دیا تھا جس کے تحت ہندو مذہب سے اسلام قبول کرنے والے افراد کو، ان کی سابقہ برادری کی بنیاد پر، مسلم پسماندہ طبقے کی سات نوٹیفائیڈ برادریوں میں سے کسی ایک کا کمیونٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ حکم ان افراد سے متعلق تھا جو پہلے بیکورڈ کلاسز، موسٹ بیکورڈ کلاسز، ڈی نوٹیفائیڈ کمیونٹیز یا شیڈولڈ کاسٹس سے تعلق رکھتے تھے اور بعد میں اسلام قبول کر چکے تھے۔
تمل ناڈو بیکورڈ کلاسز، شیڈولڈ کاسٹس اینڈ شیڈولڈ ٹرائبس (تعلیمی اداروں میں نشستوں اور ریاستی ملازمتوں میں عہدوں کے لیے ریزرویشن) ایکٹ، 1993 کے تحت ریاست میں سات مسلم برادریوں کو پسماندہ طبقے میں شامل کیا گیا ہے۔
ان برادریوں میں انصار، دکنی مسلم، دوبے کُلا، لبائی (بشمول روتھر اور مراکائر)، ماپلا، شیخ اور سید شامل ہیں۔
جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور جسٹس پی بی بالاجی پر مشتمل مدراس ہائی کورٹ کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریاستی حکومت کا یہ حکم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے مطابق نہیں ہے۔ ان فیصلوں میں تبدیلیٔ مذہب کے بعد کسی شخص کی سماجی حیثیت اور ریزرویشن کے حق سے متعلق اصول واضح کیے گئے تھے۔
سمیر احمد نے عدالت سے رجوع کیوں کیا؟
یہ معاملہ سمیر احمد کی درخواست سے شروع ہوا تھا، جنہوں نے 2015 میں ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔ 2016 میں ان کی تبدیلیٔ مذہب سے متعلق گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا تھا۔ بعد میں انہوں نے اسلامی رسم و رواج کے مطابق شادی کی اور ان کے دو بچے ہوئے۔
سمیر احمد نے مسلم لبائی برادری کا کمیونٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی، لیکن تحصیلدار نے اسے مسترد کر دیا۔
اس کے بعد انہوں نے مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مارچ 2024 کو تمل ناڈو حکومت کے محکمۂ پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کردہ حکومتی حکم کے تحت انہیں یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔
ہائی کورٹ نے حکومتی حکم کا جائزہ لیا تو اسے قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں پایا۔ اس کے بعد عدالت نے ریاستی حکومت کو بھی مقدمے میں فریق بنایا تاکہ اس حکم کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کیا جا سکے۔
تمل ناڈو حکومت کا کیا موقف تھا؟
ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ میں دلیل دی تھی کہ یہ حکم من مانے طریقے سے جاری نہیں کیا گیا تھا۔ حکومت کے مطابق، تمل ناڈو بیکورڈ کلاسز کمیشن نے 6 فروری 2024 کو ایک خط کے ذریعے سفارش کی تھی کہ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو کمیونٹی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں جو اسلام قبول کرنے کے بعد ریاست کی سات نوٹیفائیڈ مسلم برادریوں میں سے کسی ایک سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہیں۔
حکومت کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد ایسے افراد کو ریزرویشن کے فوائد سے محروم ہونے سے بچانا تھا، جو مذہب تبدیل کرنے کے بعد اپنی سابقہ برادری کی بنیاد پر ان فوائد کے حق دار رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ریاست نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ ایسے افراد کو ریزرویشن دینے سے سماجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔
تاہم، مدراس ہائی کورٹ نے حکومت کی ان دلیلوں کو قبول نہیں کیا اور اس کے حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے تمل ناڈو حکومت نے 6 جولائی کو سپریم کورٹ میں اسپیشل لیو پٹیشن (ایس ایل پی) دائر کی تھی۔ یہ عرضی ایڈووکیٹ بی کروناکرن کے ذریعے داخل کی گئی تھی۔
اب سپریم کورٹ نے بھی ریاستی حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
