کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
اتر پردیش میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانب داری پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ تحقیقاتی صحافتی ادارے ’’دی رپورٹرز کلیکٹو‘‘ کی 9 اور 14 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی دو رپورٹوں کے مطابق، الیکشن کمیشن آف انڈیا کے انتخابی سافٹ ویئر نے 85,854ووٹروں کے اخراج کے لیے ایسے فارم تیار کیے جن میں ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوئی واضح وجہ درج نہیں تھی۔ ان میں سے بیشتر فارم انتخابی افسران کے ڈیجیٹل دستخط کے ساتھ تیار ہوئے اور انہیں منظوری کے لیے اعلیٰ حکام کو بھیج دیا گیا۔
رپورٹوں میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اتر پردیش کے دو اسمبلی حلقوں، تراب گنج اور پیلی بھیت میں ووٹروں کے اخراج کے لیے دائر کیے گئے اعتراضات میں تقریباً 90 فیصد مسلم ووٹروں کے خلاف تھے۔ تراب گنج میں ’ریشما‘ نام سے 188 اعتراضات درج کیے گئے، جن کے بارے میں تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ ایک ہی دن اور ایک ہی پولنگ بوتھ کے ووٹروں کے خلاف دائر کیے گئے تھے۔
ان انکشافات نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ کیا ووٹر لسٹوں کی اصلاح کے نام پر چلائے جانے والے عمل میں تکنیکی خامیاں، انتظامی بے ضابطگیاں اور اجتماعی اعتراضات کا طریقہ کار بعض طبقات، بالخصوص مسلمانوں، کے حق رائے دہی کو متاثر کر رہا ہے؟
85,854 فارم میں اخراج کی کوئی واضح وجہ نہیں
دی رپورٹرز کلیکٹو نے اپنی پہلی رپورٹ 9 اکتوبر کو شائع کی، جس میں اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر کی ویب سائٹ پر دستیاب فارم 7 کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ فارم 7 ووٹر لسٹ میں درج کسی شخص کے نام کے اخراج کے لیے اعتراض داخل کرنے کا مقررہ طریقہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ریاست میں ایس آئی آر کے دوران مجموعی طور پر4.3لاکھ سے زائد فارم 7 جمع کرائے گئے۔ تحقیقاتی ادارے نے ڈیٹا تجزیہ کاروں کی مدد سے ان فارموں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے87127درخواستیں انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) اور اسسٹنٹ انتخابی رجسٹریشن افسران (اے ای آر اوز) کے ذریعے داخل کی گئی تھیں۔
ان87127درخواستوں میں سے85854یعنی تقریباً 98فیصد فارموں میں ووٹر کا نام حذف کرنے کی کوئی وجہ درج نہیں تھی۔ مزید 62 فارموں میں وجہ کے خانے میں صرف انگریزی کے حروف ’A‘، ’N‘، ’H‘ یا ’E‘ درج تھے، جبکہ 1,211فارموں میں ’غیر حاضر یا منتقل شدہ‘ ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔
یہ تمام درخواستیں87127درخواستیں 15 مارچ سے 2 اپریل 2026 کے درمیان محض 19 دن میں داخل کی گئی ہیں۔
تحقیق کے مطابق، ان میں سے 85854فارموں میں وجہ کا اندراج نہ ہونا محض کسی ایک درخواست گزار کی غلطی کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق الیکشن کمیشن کے انتخابی سافٹ ویئر ای آر او نیٹ کے کام کرنے کے طریقے سے تھا۔
سافٹ ویئر نے افسران کے نام سے فارم کیسے تیار کیے؟
تحقیقاتی ادارے نے اسمبلی سطح کے چار انتخابی رجسٹریشن افسران سے بات کی۔ ان افسران کے مطابق، ایس آئی آر کی سماعت کے دوران جب کسی ووٹر کی تصدیق نہیں ہو پاتی تھی اور اسے منظوری نہیں دی جاتی تھی تو سافٹ ویئر خودکار طور پر اس ووٹر کے اخراج کے لیے فارم 7 تیار کر دیتا تھا۔
ایک افسر نے دی رپورٹرز کلیکٹو کو بتایا کہ جب سماعت کے دوران کسی ووٹر کو منظور نہیں کیا جاتا تھا تو نظام خود ہی اس کی جانب سے فارم تیار کر دیتا تھا۔ چونکہ کارروائی متعلقہ افسر کی سرکاری اسناد کے ذریعے انجام پاتی تھی، اس لیے فارم پر اس کے ڈیجیٹل دستخط بھی خود بخود درج ہو جاتے تھے۔

اس طرح وہ افسر، جس کا کام ووٹر کے دعوے کی جانچ اور اس پر فیصلہ کرنا تھا، اسی ووٹر کے اخراج کی درخواست کا باضابطہ دستخط کنندہ بھی بن جاتا تھا۔
یہ صورت حال اس لیے اہم ہے کہ انتخابی رجسٹریشن افسران کو عوامی نمائندگی قانون، 1950 کے تحت نیم عدالتی اختیارات حاصل ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے کا جائزہ لے کر شواہد اور مقررہ قانونی طریقہ کار کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔اگر سافٹ ویئر کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کی کارروائی میں خودکار طور پر ایسا فارم تیار کرے جس میں اخراج کی وجہ درج نہ ہو، تو اس
سے فیصلے کی شفافیت، جواب دہی اور قانونی جواز پر سوال اٹھتے ہیں۔

قانون اور الیکشن کمیشن کے قواعد کیا کہتے ہیں؟
دی رپورٹرز کلیکٹوکی رپورٹ کے مطابق، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار میں اخراج کی وجہ بتانا ضروری ہے۔ فارم 7 میں اعتراض کرنے والے شخص کو اخراج کے لیے مقررہ بنیادوں میں سے متعلقہ وجہ منتخب کرنا ہوتی ہے۔ ان وجوہات میں ووٹر کی موت، عمر کی مقررہ حد پوری نہ ہونا، مستقل طور پر منتقل ہو جانا، ایک سے زیادہ جگہ اندراج یا ہندوستانی شہری نہ ہونا شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق انتخابی حکام کو جاری کردہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی افسر اپنی جانب سے کارروائی شروع کرکے کسی ووٹر کا نام حذف کرنا چاہتا ہے تو اسے تحریری حکم میں اس فیصلے کی وجہ بیان کرنا ہوتی ہے۔ قانونی اصطلاح میں اسے ’اسپیکنگ آرڈر‘ کہا جاتا ہے، یعنی ایسا حکم جس میں فیصلے کی وجوہات واضح طور پر درج ہوں۔
رپورٹ کے مطابق، رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 بھی مقررہ طریقے اور شرائط کے مطابق اعتراض داخل کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس، سافٹ ویئر نے افسران کو ایسے فارموں پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جن میں اخراج کی واضح وجہ موجود نہیں تھی۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ فارم دعووں اور اعتراضات کی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد داخل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش میں مسودہ ووٹر لسٹ 6 جنوری 2026 کو شائع ہوئی تھی، جبکہ حتمی فہرست 10 اپریل کو جاری کی گئی۔ اس دوران ووٹروں کو فہرست میں اپنے نام اور اندراج کی جانچ کرنے اور اعتراضات داخل کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔
تحقیق کے مطابق، انتخابی افسران کے ذریعے داخل کی گئی87127درخواستیں اسی مقررہ مدت کے آخری مرحلے میں، 15 مارچ سے 2 اپریل کے درمیان جمع ہوئیں۔ اس کے علاوہ، افراد کی جانب سے نام حذف کرنے کی 1,10,476درخواستیں بھی قانونی مدت گزرنے کے بعد داخل کی گئیں اور الیکشن کمیشن نے انہیں قبول کیا۔
یہ انکشاف اس لیے اہم ہے کہ انتخابی فہرست میں کسی شہری کا نام حذف کرنے کا معاملہ محض انتظامی کارروائی نہیں، بلکہ اس کے آئینی حق رائے دہی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔

دو اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹروں کے خلاف اجتماعی اعتراضات
دی رپورٹرز کلیکٹو کی تحقیق کا دوسرا اہم پہلو مسلم ووٹروں کے خلاف بڑی تعداد میں اعتراضات داخل کیے جانے کا ہے۔رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش کے تراب گنج اور پیلی بھیت اسمبلی حلقوں میں فارم 7 کے ذریعے دائر کیے گئے اعتراضات میں تقریباً 90 فیصد مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستیں شامل تھیں۔تراب گنج میں ’ریشما‘ نام سے 188 اعتراضات دائر کیے گئے۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق، مزید جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ تمام اعتراضات ایک ہی دن اور ایک ہی پولنگ بوتھ کے ووٹروں کے خلاف داخل کیے گئے تھے۔یہ صورت حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا انفرادی اعتراضات کے قانونی طریقے کو اجتماعی طور پر بڑی تعداد میں ووٹروں کے اندراج کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
تاہم، رپورٹ میں ایک اہم وضاحت بھی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے دستیاب ڈیٹا میں اعتراض داخل کرنے والوں کی شناخت سے متعلق مکمل تفصیلات موجود نہیں تھیں؛ صرف ان کے نام درج تھے۔ اس لیے شہریوں کے لیے ان درخواست گزاروں کی آزادانہ طور پر شناخت اور ان کے کردار کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان اعداد و شمار کو انتخابی عمل کی جانچ اور شفافیت کے مطالبے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر ہر درخواست کو بدنیتی پر مبنی قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن ایک ہی نام سے بڑی تعداد میں اعتراضات اور کسی مخصوص حلقے میں مسلم ووٹروں کی غیر معمولی طور پر زیادہ تعداد میں نشاندہی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
چیف الیکٹورل افسر کا جواب: رپورٹ کو گمراہ کن کہا، لیکن اعداد و شمار کی تصدیق بھی کی
9 اکتوبر کو رپورٹ شائع ہونے کے فوراً بعد اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر نویدیپ رنوا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ کو ’غلط بیانیوں اور بے ضابطہ معلومات‘ پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے اسی روز اس کی تردید جاری کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بعد ازاں جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیا۔ تاہم، دی رپورٹرز کلیکٹو کی 14 اکتوبر کو شائع ہونے والی دوسری رپورٹ کے مطابق، ان کے بیان میں اس بنیادی انکشاف کی تردید نہیں کی گئی کہ الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر نے85,854ووٹروں کے اخراج کے ایسے فارم تیار کیے تھے جن میں کوئی واضح وجہ درج نہیں تھی۔
چیف الیکٹورل افسر نے یہ وضاحت بھی نہیں کی کہ ان فارموں میں اخراج کی وجہ کیوں درج نہیں تھی، یا بعض فارموں میں صرف ایک حرف کو وجہ کے طور پر کیوں لکھا گیا تھا۔رنوا نے مسلم ووٹروں کے خلاف اجتماعی طور پر اعتراضات داخل کیے جانے کے معاملے کو بھی تسلیم کیا، لیکن اسے غیر معمولی یا سنگین صورت حال قرار دینے کے بجائے اس کی تعداد کو مجموعی ووٹروں کے مقابلے میں کم بتایا۔
ان کے مطابق، اجتماعی طور پر نام حذف کرنے کی شکایات کے تحت تقریباً4 ,700ووٹروں کے ناموں کے خلاف متعدد فارم 7 داخل کیے گئے تھے، جبکہ ریاست میں ووٹروں کی مجموعی تعداد13.39کروڑ ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ اس بڑے حجم کے مقابلے میں ایسے ووٹروں کی تعداد بہت کم ہے۔
لیکن کسی مخصوص گروہ کے خلاف اجتماعی اعتراضات کی اہمیت کا تعین صرف مجموعی ووٹروں کی تعداد سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اعتراضات کہاں، کس بنیاد پر اور کن لوگوں کے خلاف داخل کیے گئے، نیز متعلقہ ووٹروں کو اپنا دفاع کرنے کا مناسب موقع ملا یا نہیں۔
الیکشن کمیشن نے 30 اعتراضات کی حد کیوں مقرر کی؟
14 اکتوبر کی رپورٹ میں دی رپورٹرز کلیکٹو نے یہ بھی بتایا کہ 9 اکتوبر کو ہی الیکشن کمیشن نے ایک نئی ہدایت جاری کی، جس کے تحت کوئی شخص ایک ماہ میں ووٹروں کے اخراج کے لیے 30 سے زیادہ اعتراضات داخل نہیں کر سکے گا۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق، اس سے پہلے ایس آئی آر کے ضابطے میں اجتماعی طور پر بڑی تعداد میں درخواستیں داخل کرنے کی حد ختم کر دی گئی تھی۔ نئی پابندی کو اسی طریقہ کار میں ایک اور تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اجتماعی اعتراضات کے اندراج کا موجودہ طریقہ کار مناسب اور محفوظ تھا تو اس پر دوبارہ حد مقرر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر اس میں غلط استعمال کا امکان تھا تو پہلے یہ پابندی کیوں ختم کی گئی تھی؟
تاہم، صرف نئی حد مقرر کیے جانے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ الیکشن کمیشن نے تحقیقاتی رپورٹ کے تمام الزامات کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے باوجود، رپورٹ کی اشاعت کے فوراً بعد اس ضابطے میں تبدیلی انتخابی انتظامیہ کے طریقہ کار، اس کی نگرانی اور جواب دہی سے متعلق مزید وضاحت کا تقاضا کرتی ہے۔
اتر پردیش میں ایس آئی آر کے دوران کتنے ووٹر مشتبہ قرار دیے گئے؟
اتر پردیش میں ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن نے بڑی تعداد میں ووٹروں کو اضافی جانچ کے لیے نشان زد کیا تھا۔
دی رپورٹرز کلیکٹو کی 9 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، ریاست میں3 .26کروڑ ووٹروں کو ’منطقی تضادات‘ یا ’غیر مربوط اندراج کی بنیاد پر جانچ کے لیے نشان زد کیا گیا تھا۔ ایسے ووٹروں کو اپنی شناخت اور اندراج کی تصدیق کے لیے سماعت میں حاضر ہونے کو کہا گیا۔
اس سے قبل، ابتدائی مرحلے میں 2 .89کروڑ ووٹروں کے نام غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا دوہری رجسٹریشن جیسے زمروں کے تحت جانچ کے لیے نشان زد کیے گئے تھے۔
10 اپریل 2026 کو شائع ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ میں تقریباً 13.4 کروڑ ووٹر درج تھے۔ لیکن تحقیقاتی ادارے کے مطابق، حتمی فہرست جاری کرتے وقت چیف الیکٹورل افسر نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ سماعتوں کے بعد کتنے ووٹروں کے نام حذف کیے گئے اور کتنے ووٹروں کو ’غیر مربوط اندراج‘ یا ’منطقی تضادات‘ کے زمروں میں رکھا گیا تھا۔
14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، چیف الیکٹورل افسر نے اپنے تازہ بیان میں بھی ان دونوں زمروں کے تحت حذف کیے گئے ووٹروں کی الگ الگ تعداد فراہم نہیں کی۔
یہ معلومات اس لیے ضروری ہیں کہ ان کے بغیر شہریوں، سیاسی جماعتوں اور آزاد مبصرین کے لیے یہ جانچنا مشکل ہے کہ کتنے حقیقی ووٹروں کے نام حذف ہوئے، کتنے فیصلوں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے اور کیا کسی مخصوص طبقے پر اس عمل کا غیر متناسب اثر پڑا۔
اتر پردیش میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران سامنے آنے والے یہ انکشافات انتخابی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال، انتظامی جواب دہی اور قانونی تحفظات پر وسیع تر بحث کا تقاضا کرتے ہیں۔
اگر سافٹ ویئر کسی افسر کے نام سے اخراج کی درخواست خود تیار کرتا ہے، اس پر ڈیجیٹل دستخط بھی خودکار طور پر درج ہو جاتے ہیں اور درخواست میں اخراج کی واضح وجہ موجود نہیں ہوتی، تو اس عمل کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین کون کرے گا؟ کیا متعلقہ ووٹر کو مؤثر طور پر یہ معلوم ہو سکے گا کہ اس کا نام کیوں حذف کیا جا رہا ہے؟ اور اگر وہ اس فیصلے کو چیلنج کرنا چاہے تو اسے کن بنیادوں پر اپیل کرنی ہوگی؟
اسی طرح، اگر کسی حلقے میں بڑی تعداد میں مسلم ووٹروں کے خلاف اعتراضات دائر کیے جاتے ہیں تو اس کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔ انتخابی ادارے کی ذمہ داری صرف ووٹر لسٹ تیار کرنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ کسی شہری کو قانونی وجوہات اور منصفانہ طریقہ کار کے بغیر حق رائے دہی سے محروم نہ کیا جائے۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ دی رپورٹرز کلیکٹو کی تحقیقات میں سامنے آنے والے اعداد و شمار بذات خود ہر حذف شدہ ووٹر کے اہل ہونے یا ہر اعتراض کے بدنیتی پر مبنی ہونے کا قطعی ثبوت نہیں ہیں۔ لیکن بڑی تعداد میں بغیر وجہ فارموں کی تیاری، مسلم ووٹروں کے خلاف اجتماعی اعتراضات اور حذف کیے گئے ناموں کی مکمل تفصیلات جاری نہ کرنے کے معاملات ایسے سوالات ہیں جن کے جواب الیکشن کمیشن کو شفاف انداز میں دینے چاہئیں۔
اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات فروری اور مارچ 2027 کے آس پاس متوقع ہیں۔ ایسے میں ووٹر لسٹوں کی درستگی اور غیر جانب داری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب ہر ووٹر کے اندراج اور اخراج کا فیصلہ واضح وجوہات، قابل تصدیق ریکارڈ اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیا جائے۔
