اجین : انصاف نیوز نیٹ ورک
مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے لیے ہٹانے کے معاملے پر گزشتہ کئی دنوں سے کشیدگی تھی ۔اس درمیا ن مقامی مسلمانوں نے انتظامیہ سے معاہدہ کے بعد خود مسجد کا تین فٹ حصہ منہدم کردیا ۔اس درمیان مسجد کے اطراف جمع مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بعض افراد کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
یہ تنازع سنگھستھ مہاکمبھ 2028 کی تیاریوں کے تحت اجین میں جاری سڑکوں کی توسیع کے منصوبے سے متعلق ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کرنے کے لیے متعدد تعمیرات کے متاثر ہونے کا امکان ہے اور شاہی مسجد کا بھی ایک حصہ مجوزہ سڑک کی حدود میں آ رہا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 9 ستمبر کو مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے سے متعلق درخواستیں خارج کرتے ہوئے انتظامیہ کو کارروائی آگے بڑھانے کی اجازت دی تھی۔
مسجد کے معاملے پر گزشتہ چند دنوں سے مقامی مسلمان مسجد کے اندر اور باہر جمع تھے اور مجوزہ انہدام کی مخالفت کر رہے تھے۔ اتوار کی رات مسجد کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان بات چیت کے بعد ایک سمجھوتے کی اطلاع سامنے آئی۔ مقامی افراد کے مطابق طے پایا کہ مسجد کے اندرونی حصے میں موجود تقریباً تین فٹ کے لٹکتے ہوئے سلیب کو کمیٹی کے رضاکار خود ہٹا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حصہ نماز کی جگہ کا حصہ نہیں ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق فجر کی نماز کے بعد بیشتر افراد اپنے گھروں کو چلے گئے تھے، لیکن پیر کی صبح تقریباً آٹھ بجے یہ اطلاع پھیلی کہ انتظامیہ نے مسجد کے اطراف بیریکیڈ لگا دیے ہیں اور بھاری پولیس فورس کے ساتھ مشینیں بھی پہنچ گئی ہیں۔ اس کے بعد لوگ دوبارہ مسجد کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے۔
ایک مقامی شہری نے کہا، ’’جب یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ ہم خود متفقہ حصہ ہٹا دیں گے تو پھر بلڈوزر کیوں لائے گئے؟ ہمیں محسوس ہوا کہ انتظامیہ طے شدہ بات پر عمل نہیں کر رہی۔‘‘
ایک اور مقامی شخص کے مطابق، ’’میٹنگ میں ہم نے کہا تھا کہ ہم آٹھ فٹ کا علاقہ نہیں دیں گے، جیسا کہ مطالبہ کیا جارہا تھا، بلکہ تین فٹ کا وہ حصہ ہٹا دیں گے جہاں نماز نہیں ہوتی اور جو نیچے موجود دکانوں کے اوپر ہے۔ ہم نے یہ حصہ خود ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔‘‘
مقامی افراد نے مسجد کے مینار کے حوالے سے بھی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ پہلے متبادل مینار تعمیر کیا جائے گا اور اس کے بعد موجودہ مینار کو ہٹانے پر غور کیا جائے گا۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ اس تجویز پر رضامند نہیں تھی۔
پیر کی صبح حالات اس وقت مزید کشیدہ ہوگئے جب مسجد کے قریب لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ پولیس اور مقامی افراد کے درمیان جھڑپ کے دوران پتھراؤ کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔
بعد ازاں مسجد کمیٹی کے رضاکاروں نے انتظامیہ کے ساتھ طے شدہ حصے کو خود ہٹانے کا عمل شروع کردیا۔ مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رضاکار تقریباً تین فٹ کے لٹکتے ہوئے سلیب کو دستی طور پر ہٹا رہے تھے، جبکہ مسجد کے اندر اور اطراف لوگ موجود رہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ مسجد کے اندر اس خدشے کے باعث موجود ہیں کہ انتظامیہ بعد میں بلڈوزر کے ذریعے مسجد کے مزید حصے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایک رہائشی نے کہا، ’’ہم متفقہ حصے کو خود ہٹا رہے ہیں، لیکن ہمیں اب بھی خدشہ ہے کیونکہ مسجد کے اطراف مشینیں موجود ہیں۔‘‘
دوسری جانب اجین کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پردیپ شرما نے کہا کہ مسلم برادری اور مسجد کمیٹی کی رضامندی اور تعاون سے سڑک کی کشادگی کے دائرے میں آنے والے حصے کو ہٹایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق ایک گروپ نے صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، جس کے بعد تعینات فورس نے کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔
ایس پی نے یہ بھی کہا کہ علاقے کو محفوظ بنا لیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ضلع سے باہر سے آنے والے پانچ افراد کو امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے مبینہ طور پر افواہیں اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والے بعض مواد تخلیق کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی بات کہی ہے۔
اجین انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی توسیع کا منصوبہ سنگھستھ 2028 کی تیاریوں کا حصہ ہے اور اس منصوبے کے تحت متعدد تعمیرات متاثر ہورہی ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے تاہم شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کے طریقۂ کار اور انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
فی الحال مسجد کے متنازع حصے کو رضاکاروں کے ذریعے ہٹانے کا عمل جاری ہے، جبکہ مسجد کے اطراف پولیس کی بھاری تعیناتی برقرار ہے اور صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔
