سچیتنا چٹوپادھیائے
مظفر احمد (5 اگست 1889ء – 18 دسمبر 1973ء) برصغیر کے اولین کمیونسٹ رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1921ء اور 1922ء کے دوران وہ بنگال میں ابھرتی ہوئی سوشلسٹ اور کمیونسٹ تحریک کے نمایاں قائد کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی زندگی ایک غیر معمولی فکری اور سیاسی ارتقا سے عبارت ہے۔ انہوں نے قوم، برادری، مذہب اور نسلی شناخت پر مبنی روایتی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے طبقاتی سیاست کو سماجی انصاف اور حقیقی آزادی کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا۔
مظفر احمد اور ان کے رفقا نے ہندو بھدرلوک (اشرافیہ) کی جاگیردارانہ بالادستی پر استوار قوم پرستی، مسلم انفرادیت کے تصورات پر مبنی سیاسی رجحانات، اور نسلی و لسانی شناختوں کی برتری کے محدود دائروں سے نکل کر ایک نئے سیاسی افق کی تلاش کی۔ ان کے نزدیک نچلی سطح سے ابھرنے والی طبقاتی سیاست ہی حقیقی آزادی، مساوات اور سماجی انصاف کی بنیاد فراہم کر سکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے شناخت پر مبنی سیاست کے بجائے طبقاتی شعور کو اپنی فکری اور عملی جدوجہد کا محور بنایا۔
ایک تارکِ وطن
مظفر احمد 1889ء میں خلیجِ بنگال کے دور افتادہ ساحلی جزیرے ساندویپ میں پیدا ہوئے۔ وہ ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے نوآبادیاتی دور میں جدید تعلیم کے حصول کے لیے دیہی ماحول کو چھوڑ کر شہر کا رخ کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ تعلیم حاصل کر کے شہری دانشور طبقے کا حصہ بنیں اور ایک باوقار فکری زندگی اختیار کریں۔
ان کا آبائی گاؤں موساپور اپنے ہفتہ وار ہاٹ (دیہی بازار) کے علاوہ ہر اعتبار سے دوسرے دیہات کی مانند تھا۔ انیسویں صدی کے آخری عشروں اور بیسویں صدی کے آغاز کے معاشی اور سماجی حالات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جزیرے کی محدود زندگی نے بہت سے نوجوانوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا۔ تعلیم اور روزگار کے مواقع نہایت محدود تھے، اس لیے معزز خاندانوں کے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں جزیرہ چھوڑنے پر مجبور ہوتے تھے۔ اس زمانے میں دیہی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے بلوغت کا مطلب اکثر اپنی آبائی سرزمین سے دائمی جدائی بھی ہوتا تھا۔
مظفر احمد اپنے والدین، منصور علی اور چونا بی بی، کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ 1910ء میں وہ نوآکھالی ڈسٹرکٹ اسکول منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم مکمل کی۔ ان کی شہری زندگی کی طرف پیش رفت دراصل اس حقیقت کی مظہر تھی کہ اضلاع میں نوآبادیاتی اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہایت محدود تھے اور اعلیٰ تعلیم کے خواہش مند طلبہ کو لازماً بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔
1913ء میں مظفر احمد کولکاتا پہنچے اور ایک کالج میں داخلہ لیا، لیکن پری گریجویشن امتحان میں ناکامی کے بعد انہوں نے باقاعدہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اگرچہ ان کا کالج میں قیام مختصر رہا، تاہم کالج اسٹریٹ اور اس کے گرد و نواح کا علمی اور سیاسی ماحول ان کی شخصیت کی تشکیل میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ یہ علاقہ اس زمانے میں روشن خیال دانشوروں، انقلابی تنظیموں، زیرِ زمین سیاسی کارکنوں اور مختلف نظریاتی تحریکوں کا مرکز تھا، اور مظفر احمد نے جلد ہی اسی فضا کو اپنا مستقل فکری مسکن بنا لیا۔
1910
کی دہائی کے دوران وہ بنگیا مسلمان ادب کمیٹی اور اس کے ادبی جریدے ’’بنگیا مسلمان ادب پتریکا‘‘ سے وابستہ ہوئے۔ ابتدا میں ان کی خواہش تھی کہ وہ اسلامی تہذیب، تاریخ اور ثقافت کے موضوعات پر تحقیقی اور فکری مضامین تحریر کریں، لیکن رفتہ رفتہ وہ سیاسی سرگرمیوں کی طرف مائل ہوتے گئے، کیونکہ اس دور میں ادب، ثقافت اور سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر مربوط تھے۔
معاشرے کے حاشیے پر موجود ایک فرد ہونے کے ناطے ان کے ذاتی تجربات نے انہیں سامراج مخالف جدوجہد اور سماجی مساوات و عدم مساوات کے بنیادی سوالات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر آمادہ کیا۔ 1920ء اور 1921ء کے دوران کولکاتا اور اس کے نواحی علاقوں میں مزدور تحریکیں مسلسل مضبوط ہو رہی تھیں اور صنعتی کارکن پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم انداز میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اس بدلتی ہوئی سیاسی فضا نے مظفر احمد کی فکر پر گہرا اثر ڈالا۔
انقلابی صحافت کی طرف ان کے رجحان نے انہیں مزدوروں اور کسانوں کی سیاسی تحریکوں کے بارے میں لکھنے کی ترغیب دی۔ جلد ہی ان کے روابط ان کتاب فروشوں سے قائم ہو گئے جو خفیہ طور پر سوشلسٹ اور مارکسی لٹریچر فروخت کرتے تھے۔ اسی عرصے میں انہوں نے اردو اور بنگلہ زبان سے وابستہ متعدد مسلم سامراج مخالف کارکنوں سے قریبی تعلقات استوار کیے، جو مزدور تحریکوں، ہڑتالوں کی تنظیم اور تحریکِ خلافت و تحریکِ عدم تعاون کو منظم کرنے میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔
1920
ء میں ان کا انقلابی صحافت کی طرف رخ کرنا دراصل ان کی فکری زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ 1921ء کے اختتام تک وہ واضح طور پر بائیں بازو کی سیاست کے ساتھ اپنی وابستگی قائم کر چکے تھے۔
بائیں بازو کی جانب رخ (The Left Turn)
پہلی جنگِ عظیم کے اختتام کے بعد سرمایہ داری اور سامراج کے خلاف عالمی سطح پر ابھرنے والی تحریکوں نے کلکتہ کے شہری دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کے ایک ایسے حلقے کو، جس میں مسلمانوں کی نمایاں تعداد شامل تھی، ایک ابتدائی سوشلسٹ مرکز قائم کرنے پر آمادہ کیا۔ 1922ء سے 1924ء کے درمیان اس مرکز نے منظم شکل اختیار کرنا شروع کی۔ اسی زمانے میں تحریکِ عدم تعاون اور تحریکِ خلافت کی ناکامی نے بہت سے نوجوان کارکنوں کو قومی اور فرقہ وارانہ سیاست سے بدظن کر دیا۔ اس مایوسی نے طبقاتی بنیادوں پر استوار سامراج مخالف سیاست کے فروغ کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا۔
ہندوستانی معاشرے اور سامراج مخالف تحریک کا مارکسی اور لیننی نقطۂ نظر سے پہلا منظم تجربہ یم۔ این۔ رائےاور ابانی مکھرجی نے اپنے معروف پمفلٹ
the 36th Indian National Congres Manifesto to Ahmeda Bad
میں پیش کیا۔ یہ پمفلٹ خفیہ طور پر ہندوستان پہنچایا گیا اور ایم۔ این۔ رائے کے رابطوں کے ذریعے مختلف سیاسی کارکنوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس میں پہلی مرتبہ ’’مکمل آزادی‘‘ کو ہندوستانی عوام کا بنی اور ناگزیر سیاسی مطالبہ قرار دیا گیا۔
اس منشور میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کانگریس کو محض متوسط طبقے یا تعلیم یافتہ اشرافیہ کی جماعت کے بجائے مزدوروں اور کسانوں، یعنی ہندوستان کی اکثریتی آبادی، کا حقیقی نمائندہ پلیٹ فارم بننا چاہیے۔ ایم۔ این۔ رائے نے ہندوستانی مزدور طبقے کی سیاسی حیثیت، ٹریڈ یونین تحریک میں اصلاح پسند رجحانات، اور سامراجی و سامراج مخالف حکمتِ عملیوں کا تفصیلی تجزیہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے قوم پرستی، حتیٰ کہ اس کے انتہا پسندانہ رجحانات، پر بھی تنقید کی، کیونکہ ان کے نزدیک یہ ہندو احیاء پسندی سے گہرا تعلق رکھتی تھی اور مزدوروں اور کسانوں کے بنیادی مطالبات کو ثانوی حیثیت دیتی تھی۔
کلکتہ اور بنگال میں سوشلسٹ تنظیم سازی کے عمل کو اس وقت نئی رفتار ملی جب ایم۔ این۔ رائے کے نمائندے لینی گپتاکلکتہ پہنچے۔ غالباً انہیں مظفر احمد اور قاضی نذرالاسلام کے سوشلسٹ رجحانات کے بارے میں پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی۔ چنانچہ دسمبر 1921ء کے آخری ہفتے میں انہوں نے ان دونوں سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے بعد مظفر احمد کو پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ 1920ء میں ایم۔ این۔ رائے کی قیادت اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کی سرپرستی میں تاشقند میں جلاوطن ہندوستانیوں نے ایک کمیونسٹ پارٹی قائم کی تھی۔ نلینی گپتا نے اندازہ لگایا کہ کلکتہ میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کے رابطے کے لیے مظفر احمد سب سے موزوں شخصیت ثابت ہو سکتے ہیں، اور اسی بنیاد پر انہیں اس ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔
سوشلسٹ نظریات اور مارکسی لٹریچر کی اشاعت و ترویج مظفر احمد کی اولین ترجیحات میں شامل تھی۔ چونکہ وہ کلکتہ کے وسیع تر سامراج مخالف ادبی حلقوں سے وابستہ تھے اور مختلف اخبارات و رسائل تک ان کی رسائی موجود تھی، اس لیے وہ متعدد انقلابی بنگالی مسلم جرائد کو بھی بائیں بازو کی فکر سے متاثر کرنے میں کامیاب رہے۔
1922ء اور 1923ء کے دوران ایم۔ این۔ رائے کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت میں انہیں ’’مسلم جگت‘‘ (Moslem Jagat)کا انتظام سنبھالنے اور اسے ایک کمیونسٹ اخبار کی شکل دینے کی ترغیب دی گئی۔ اگرچہ یہ اخبار زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکا اور مظفر احمد کی ادارت بھی چند ماہ سے زیادہ برقرار نہ رہی، تاہم اس مختصر عرصے میں ان کی کوششوں نے قابلِ ذکر اثرات مرتب کیے۔ دوسری طرف ایم۔ این۔ رائے کی بھدرلوک انقلابیوں کے ساتھ خط و کتابت نے بھی اس نظریاتی سرگرمی کو تقویت دی۔ اس کے نتیجے میں برطانوی انٹیلی جنس کی رپورٹوں میں یہ شکایت درج ہونے لگی کہ **”انتہا پسند اخبارات بالشویک نظریات کی اشاعت میں سرگرم ہیں۔
اسی دوران مظفر احمد نے مستقل طور پر مارکسی اور لیننی نظریات کو اختیار کر لیا۔ اگرچہ 1921ء کے اختتام سے قبل ان کا کمیونسٹ انٹرنیشنل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا، لیکن اس وقت تک برطانوی حکومت بالشویک نظریات کے پھیلاؤ کے خلاف ایک منظم نگرانی کا نظام قائم کر چکی تھی، جس کی بنیادیں پہلی جنگِ عظیم کے آخری برسوں ہی میں رکھ دی گئی تھیں۔
1922ء میں پولیس نے ایم۔ این۔ رائے کے ساتھ مظفر احمد کی خط و کتابت کی نگرانی شروع کر دی، اور 1923ء میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مئی 1924ء میں سینٹرل انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر کرنل سیسل کے (Colonel Cecil Kaye) نے کانپور بالشویک سازش کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے پر بنگال پولیس کی انٹیلی جنس برانچ کو خصوصی مبارک باد دی۔
اس مقدمے میں نامزد چار اہم ملزمان میں سے دو، یعنی نلینی گپتا اور مظفر احمد، بنگال سے تعلق رکھتے تھے۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران پولیس افسران نے استغاثہ کے گواہوں کی حیثیت سے جو بیانات دیے، انہوں نے نوآبادیاتی حکومت کو ان دونوں رہنماؤں کے خلاف سزا حاصل کرنے میں فیصلہ کن مدد فراہم کی۔
جیل سے رہائی کے بعد مظفر احمد نے دسمبر 1925ء میں کانپور میں منعقد ہونے والی پہلی کمیونسٹ کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس نے ہندوستان بھر میں کمیونسٹ کارکنوں کو ایک منظم نیٹ ورک میں مربوط کرنے کی بنیاد رکھی۔
کانفرنس کے بعد وہ کلکتہ واپس آئے اور 1926ء میں اپنے بائیں بازو کے رفقا کے ساتھ مل کر پیزنٹس اینڈ ورکرز پارٹی (Peasants and Workers Party)قائم کی، جس کا نام بعد میں ورکرز اینڈ پیزنٹس پارٹی (Workers and Peasants Party) رکھ دیا گیا۔ یہ دراصل کالعدم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیاکی ایک کھلی، قانونی اور عوامی تنظیم تھی، جس کے ذریعے کمیونسٹ نظریات کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی تھی۔
اس جماعت کا ترجمان اخبار لانگل (Langal) تھا، جو بعد میں گنابانی (Ganabani، یعنی ’’عوام کی آواز‘‘) کے نام سے دوبارہ شائع ہوا۔ اس اخبار نے نہایت شعوری انداز میں بائیں بازو کے نظریات، سیاسی تجزیوں اور انقلابی ادب کو فروغ دیا۔ اس کے صفحات پر سیاسی تبصرے، تنقیدی رپورٹیں، افسانے، غیر افسانوی مضامین، شاعری اور ادبی تحریریں شائع ہوتی تھیں، جن کا بنیادی مقصد سماجی ناانصافیوں اور ان ادارہ جاتی ڈھانچوں کو بے نقاب کرنا تھا جو ان ناانصافیوں کو برقرار رکھتے تھے۔
1920ء کی دہائی کے دوسرے نصف میں بنگال کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ بیشتر مورخین نے اس دور کی تبدیلیوں کو نوآبادیاتی آئینی اصلاحات کے تناظر میں دیکھا، جنہوں نے فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کیا اور جداگانہ انتخابی حلقوں کے نظام کو مضبوط بنایا۔ تاہم بہت کم مورخین نے ان سیاسی تحریکوں کا جائزہ لیا جو نچلی سطح سے ابھریں اور جنہوں نے مساوات، معاشی انصاف اور طبقاتی شعور کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا۔
اسی دور میں مظفر احمد اور ان کے رفقا نے معاصر سماجی تنازعات کا طبقاتی نقطۂ نظر سے باقاعدہ تجزیہ کرنا شروع کیا۔ اس نظریاتی سمت نے انہیں صرف کلکتہ تک محدود رہنے کے بجائے پورے بنگال کے معاشی اور سماجی مسائل کو اپنے مطالعے اور جدوجہد کا حصہ بنانے پر آمادہ کیا، اگرچہ کلکتہ بدستور ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔
ایک مصنف (A Writer)
1913ء میں جب مظفر احمد دیہی بنگال سے کولکاتا پہنچے تو وہ ان بے شمار نوجوان تارکینِ وطن میں سے ایک تھے جو بہتر تعلیم اور روشن مستقبل کی امید لے کر شہر کا رخ کرتے تھے۔ اس وقت ان کی سب سے بڑی خواہش ایک مصنف بننے کی تھی، لیکن شہری زندگی کے انقلابی سیاسی ماحول نے ان کی زندگی کا رخ یکسر بدل دیا اور وہ ایک ایسے سیاسی سفر پر گامزن ہوئے جس کا انہوں نے خود بھی ابتدا میں تصور نہیں کیا تھا۔
1920ء کی دہائی کے دوسرے نصف میں مظفر احمد ایک کمیونسٹ نظریہ ساز اور مناظرانہ مصنف کے طور پر ابھرے۔ یہ ان کی ابتدائی ادبی دلچسپیوں سے ایک واضح فکری انحراف تھا۔ ان کی نثر ایک منفرد جدید اسلوب کی حامل تھی، جو انقلابی جدیدیت کے تصورات سے تشکیل پائی تھی۔ اس زمانے میں اس نوع کی زبان اور اسلوب کم ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ اگرچہ ابتدا میں ان کی تحریریں بائیں بازو کے نسبتاً محدود حلقے تک ہی محدود رہیں، تاہم بعد کے زمانے میں متعدد ادیبوں اور ناقدین نے ان کے اسلوب کی ادبی اہمیت کو تسلیم کیا۔
بنگالی مسلم ادبی اور ثقافتی حلقوں سے وابستہ رہتے ہوئے مظفر احمد نے اسلامی موضوعات اور تہذیبی روایت کی حمایت کی، لیکن وہ زبان اور اسلوب کی مصنوعی اسلامائزیشن کے سخت مخالف تھے۔ اسی طرح وہ بنگلہ زبان کی غیر ضروری عربی سازی یا سنسکرتائزیشنکو بھی درست نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک زبان کو کسی مخصوص مذہبی یا فرقہ وارانہ شناخت کا پابند بنانا اس کی فطری ارتقائی قوت کو محدود کر دیتا ہے۔
جوں جوں ان کی سیاسی فکر میں پختگی آتی گئی، بنگلہ زبان کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششوں کے خلاف ان کا موقف مزید واضح اور دوٹوک ہوتا گیا۔ وہ اس تصور کے مخالف تھے کہ ہندو اور مسلمان الگ الگ زبانیں اختیار کریں یا ایک ہی زبان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔
انہوں نے ان عربی اور فارسی الفاظ کو ترک کرنے سے انکار کیا جو صدیوں کے استعمال کے نتیجے میں بنگلہ زبان کے ذخیرۂ الفاظ کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ اسی طرح وہ ایسے املا کے بھی مخالف تھے جو ان الفاظ کو ان کی اصل عربی یا فارسی بنیاد سے الگ کر دیتے تھے۔ ان کے نزدیک زبان کی تاریخی تشکیل اور تہذیبی وراثت کا احترام ضروری تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید بنگالی نثر کے اس اسلوب کو بھی اختیار کیا جس کی بنیاد انیسویں صدی کے ممتاز ہندو بھدرلوک ادیبوں نے رکھی تھی۔ اس طرح ان کی زبان ایک ایسے امتزاج کی نمائندہ بن گئی جس میں بنگال کی مختلف تہذیبی روایتیں فطری طور پر یکجا ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
مظفر احمد کو جملوں کی ساخت کے ذریعے نہایت لطیف، سنجیدہ اور بامعنی طنز پیدا کرنے پر بھی غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ ان کے یہاں طنز محض ادبی آرائش نہیں بلکہ سماجی تنقید اور فکری مزاحمت کا ایک مؤثر وسیلہ تھا۔ انہوں نے اپنی نثر کو اس انداز میں تشکیل دیا کہ وہ معاشرے کے نچلے اور محروم طبقات کے مفادات کی نمائندگی کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں صرف اپنے نظریاتی مضامین کے باعث نہیں بلکہ اپنے منفرد اسلوب اور اظہار کی وجہ سے بھی ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔
ان کے نزدیک طبقاتی سیاست تک پہنچنے کا ایک بنیادی ذریعہ آزادی کے مفہوم کو نئے سرے سے متعین کرنا اور اس کے حقیقی دشمنوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی محض نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے کا نام نہیں، بلکہ اس سماجی اور معاشی نظام کی تبدیلی بھی ضروری ہے جو اکثریت کو استحصال کا شکار بنائے رکھتا ہے۔
اسی تصور کی وضاحت انہوں نے اپنی معروف تحریر بھارت کیوں آزاد نہیں ہے؟ میں کی۔ اس مضمون میں انہوں نے ان طبقاتی قوتوں کا تجزیہ پیش کیا جو کسانوں اور مزدوروں کی عظیم اکثریت کے لیے حقیقی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ ان کے نزدیک جب تک معاشی استحصال کا خاتمہ نہیں ہوتا، سیاسی آزادی بھی نامکمل رہتی ہے۔
1950ء کی دہائی کے اواخر میں مظفر احمد نے اپنی زندگی کے تجربات قلم بند کرنا شروع کیے اور خود نوشت نگاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے 1960ء کی پوری دہائی میں مسلسل لکھنا جاری رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کمیونسٹ تحریک کے اندر شدید نظریاتی اختلافات پیدا ہو چکے تھے اور انہی اختلافات کے باعث انہیں بارہا جیل جانا پڑا اور پھر رہائی ملی۔
ان داخلی کشمکشوں کا نتیجہ بالآخر 1964ء میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے قیام کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ نئی جماعت ماسکو اور بیجنگ، دونوں کے اثر سے نسبتاً آزاد اپنی سیاسی سمت متعین کرنا چاہتی تھی۔ مظفر احمد اس نئی جماعت کے بانی اور بزرگ ترین رہنماؤں میں شامل تھے اور انہیں اس تحریک کے فکری معماروں میں شمار کیا جاتا تھا۔
ان کی یادداشتوں نے ادبی اور سیاسی حلقوں میں خاصی بحث کو جنم دیا۔ ان میں انہوں نے نہ صرف اپنی سیاسی زندگی بیان کی بلکہ اس عہد کی ادبی اور فکری دنیا کی بھی ایسی جھلک پیش کی جس کے مرکز میں قاضی نذرالاسلام سمیت متعدد نمایاں شخصیات موجود تھیں۔ اس اعتبار سے ان کی خود نوشت محض ذاتی یادداشت نہیں بلکہ اپنے عہد کی فکری اور سیاسی تاریخ کا بھی ایک اہم ماخذ ہے۔
ان کی اہم ترین تصنیف ’’آمار جیبن او بھارتیر کمیونسٹ پارٹی‘‘ (میری زندگی اور ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی) سمیت متعدد یادداشتیں اور تاریخی تحریریں ان کی زندگی کے آخری عشرے، یعنی 1963ء سے 1973ء کے درمیان مکمل ہوئیں اور شائع ہوئیں۔ یہ کتاب آج بھی ہندوستان میں کمیونسٹ تحریک کی تاریخ کے بنیادی مراجع میں شمار کی جاتی ہے۔
مظفر احمد اپنے مؤقف کی تائید کے لیے تاریخی دستاویزات، خطوط اور دیگر مستند شواہد پیش کرنے پر غیر معمولی زور دیتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیانیہ صرف شخصی یادداشت نہ رہے بلکہ ایک معتبر تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کرے۔ اس کے باوجود وہ بارہا اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ ان کی تحریروں کا مقصد بنیادی طور پر اپنے ماضی کو یاد کرنا اور اسے قلم بند کرنا ہے، نہ کہ خود کو تاریخ کا واحد مستند راوی ثابت کرنا۔
ان کی خود نوشت کی زبان میں بھی وہی جدید، امتزاجی اور متوازن اسلوب نمایاں ہے جو بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں بنگال کے علمی اور ادبی حلقوں میں پروان چڑھا تھا۔ ان کی تحریر میں ایک طرف فکری استدلال کی مضبوطی دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف زبان کی سادگی، روانی اور تہذیبی گہرائی بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی خصوصیات ان کی نثر کو اپنے عہد کی ممتاز ادبی اور فکری تحریروں میں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔
شہر میں (In the City)
مظفر احمد کی خودنوشت کا بیشتر حصہ کولکاتا کے گرد گھومتا ہے۔ ان کی زندگی کی یادیں اسی شہر سے وابستہ ہیں۔ وہ کبھی اس سے دور جاتے ہیں، مگر ہر بار اسی شہر کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ 1910ء کی دہائی سے لے کر 1970ء کی دہائی کے اوائل تک انہوں نے کولکاتا اور بنگال میں رونما ہونے والی سیاسی ہلچل، سماجی تغیرات اور تاریخی اتھل پتھل کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ ان میں سرگرم کردار بھی ادا کیا۔مظفر احمد اور ان کے دیگر ابتدائی کمیونسٹ ساتھی گمنامی کے اندھیروں سے نکل کر ایسے انقلابی رہنما بنے جنہوں نے بعد ازاں ایک منظم عوامی جماعت اور وسیع سیاسی تحریک کی بنیاد رکھی۔ ان کی ابتدائی جدوجہد نے ہندوستان میں کمیونسٹ سیاست کے لیے وہ فکری اور تنظیمی بنیادیں فراہم کیں جن پر بعد کی نسلوں نے اپنی سیاسی عمارت استوار کی۔
تقسیمِ ہند کے بعد مشرقی بنگال، جہاں مظفر احمد کی پیدائش ہوئی تھی، ان کے اپنے الفاظ میں ’’صرف ایک غیر ملکی سرزمین ہی نہیں بلکہ ایک دور افتادہ غیر ملکی سرزمین‘‘ بن گیا۔ نئی سیاسی سرحدوں نے ان کے آبائی وطن کو ان سے جدا کر دیا۔ اس کے نتیجے میں عزیز و اقارب سے معمول کا رابطہ بھی دشوار سے دشوار تر ہوتا گیا۔1972 میں، بنگلہ دیش کے قیام کے بعد، انہیں ایک مرتبہ پھر اپنے آبائی علاقے جانے کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے اپنے پرانے دوستوں، عزیزوں، بیٹی، پوتے اور دیگر اہلِ خاندان سے ملاقات کی۔ یہ محض ایک خاندانی ملاقات نہیں تھی بلکہ اس سرزمین سے ایک جذباتی اور تاریخی وداعی بھی تھی جہاں ان کی زندگی کا آغاز ہوا تھا۔ گویا وہ اپنی جائے پیدائش کو آخری بار دیکھنے اور اسے الوداع کہنے گئے تھے۔اس کے اگلے ہی سال، یعنی 1973ء میں، کولکاتا میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح ان کی زندگی کا سفر اسی شہر میں اختتام پذیر ہوا جہاں چھ دہائیاں قبل وہ ایک طالب علم اور ایک ادیب بننے کے خواب کے ساتھ آئے تھے۔
زندگی کے آخری برسوں میں مظفر احمد نے اپنی فکری وابستگی کے بارے میں نہایت واضح الفاظ میں لکھاکہ ’’الحاد پر مبنی مادیت سے میری وابستگی ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عمر ڈھلنے کے ساتھ انسان روح اور روحانیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے، لیکن میرے معاملے میں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ میں مادی دنیا سے پہلے سے زیادہ گہرا تعلق محسوس کرتا ہوں۔یہ اقتباس ان کی پوری زندگی کے فکری سفر کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔ جس شخص نے نوجوانی میں مذہبی اور تہذیبی مباحث سے اپنی فکری زندگی کا آغاز کیا تھا، وہ عمر کے آخری حصے تک پہنچتے پہنچتے تاریخی مادیت اور مارکسی فکر کا ایک پختہ اور غیر متزلزل ترجمان بن چکا تھا۔
منشی علیم الدین، جن کا انتقال مظفر احمد کے کولکاتا آنے سے بہت پہلے ہو چکا تھا، اگرچہ ان کی زندگی میں موجود نہ تھے، لیکن انیسویں صدی کے اس ممتاز اردو ادیب کا ایک خاموش اور دیرپا اثر مظفر احمد کی زندگی پر نمایاں رہا۔1910ء کی دہائی میں مظفر احمد نے ایک ہاؤس ٹیوٹر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور منشی علیم الدین کے خاندان کے مکان میں قیام کیا۔ 1920ء کی دہائی کے اوائل میں جب بھی انہیں مالی تنگی یا بے گھری کا سامنا کرنا پڑتا، وہ اسی مکان میں پناہ لیتے تھے۔ ان کے لیے یہ جگہ صرف ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک ایسا محفوظ ٹھکانہ تھی جہاں وہ فکری اور معاشی مشکلات کے دوران سہارا پاتے تھے۔یہ تعلق کئی دہائیوں بعد ایک دلچسپ تاریخی صورت میں دوبارہ سامنے آیا۔ کولکاتا کی علیم الدین اسٹریٹ میں کمیونسٹ پارٹی کا ایک اجتماعی دفتر اور کمیونیٹی قائم کیا گیا، جس کا نام اسی مرحوم ادیب کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔ 1960ء کی دہائی سے یہی مقام مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کا مرکزی دفتر بن گیا۔مظفر احمد کی وفات کے بعد پارٹی کا مرکزی دفتر اسی گلی میں ان کے نام سے منسوب ایک نئی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ اس طرح جس شہر میں وہ ایک گمنام طالب علم کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے، اسی شہر نے آخرکار ان کے نام کو اپنی سیاسی اور تاریخی یادداشت کا مستقل حصہ بنا لیا۔
1913ء میں جب مظفر احمد پہلی مرتبہ کولکاتا پہنچے تھے تو ان کی خواہش صرف اتنی تھی کہ وہ ایک کامیاب مصنف بنیں۔ انیسویں صدی میں منشی علیم الدین نے جس ادبی مقام کو حاصل کیا تھا، مظفر احمد شاید اسی روایت کا حصہ بننے کا خواب دیکھتے تھے۔ لیکن تاریخ نے ان کے لیے ایک بالکل مختلف راستہ منتخب کر رکھا تھا۔ان کے سماجی وجود، طبقاتی تجربات، سیاسی شعور اور اپنے عہد کے انقلابی حالات نے مل کر ان کی شخصیت کو ایک ایسے رخ پر استوار کیا جس کا وہ خود بھی اپنے ابتدائی ایام میں تصور نہیں کر سکتے تھے۔ وہ صرف ایک ادیب نہیں رہے بلکہ برصغیر کی کمیونسٹ تحریک کے اولین معماروں میں شامل ہو گئے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ انسان کی ذاتی خواہشات سے زیادہ اس کے عہد کے تاریخی، سماجی اور معاشی حالات اس کی فکری اور سیاسی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
مصنفہ کا تعارف سچیتنا چٹوپادھیائے جادوپور یونیورسٹی، کولکاتا کے شعبۂ تاریخ کی پروفیسر ہیں۔ وہ جدید بنگال، نوآبادیاتی سیاست، کمیونسٹ تحریک اور فکری تاریخ پر متعدد تحقیقی تصانیف کی@ مصنفہ ہیں۔ ان کی معروف کتابAn Early Communist Muzaffar Ahmed in Calcuttaمظفر احمد کی ابتدائی سیاسی زندگی اور کلکتہ میں کمیونسٹ تحریک کے ارتقا پر ایک مستند تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔
