سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی منعقدہ تقریب میں حالیہ انتخابی اور تنظیمی جھٹکوں کے باوجود عوام کا بھاری ہجوم امڈ آیا۔انڈیا اتحاد پر زور دیا، بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور باغیوں کو خبردار کیا کہ “ان کے نقاب اتر جائیں گے
کلکتہ :انصاف نیوز نیٹ ورک
؎ لیکن حریف ترنمول دھڑوں کو عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کانگریس نے ایک بہت بڑے اجتماع سے مبصرین کو حیران کر دیا۔
برلا تارامنڈل کے قریب ممتا کی ریلی میں دوپہر کے وقت ہزاروں حامی سڑکوں پر امڈ آئے۔ وہاں سے کچھ ہی فاصلے پر میو روڈ پر، اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رت برت بنرجی کی قیادت والے باغی ترنمول دھڑے کی بھیڑ نسبتاً کافی کم نظر آئی۔ دوسری طرف دہلی میں، سدیپ بنرجی اور کاکولی گھوش دستی دار کی قیادت میں 20 لوک سبھا اراکینِ پارلیمنٹ پر مشتمل ایک اور علیحدگی پسند گروپ—جو اب نیشنلسٹ سیٹیزنز پارٹی آف انڈیا (NCPI) میں ضم ہو چکا ہے—نے راج گھاٹ پر یومِ شہداء منایا۔
1993میں پولس کی لاٹھی چارج کی یاد میں منعقد ہونے والا ’’شہید دیوس‘‘ پر پہلی مرتبہ کانگریس اپنی دعویداری کو ثابت کرنے میں کامیاب نظر آئی ۔21 جولائی ریلی 1993 میں اس وقت کے ریاستی سکریٹریٹ ‘رائٹرز بلڈنگ’کے مارچ کے دوران پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے یوتھ کانگریس کے 13 کارکنوں کی یاد میں شہید دیوس منائی جاتی ہے۔
ترنمول کے اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً دو دہائیوں تک، یہ تقریب کلکتہ کی سب سے بڑی سیاسی تحرک میں سے ایک رہی، جس سے شہر کے مرکزی علاقے مکمل طور پر جام ہو جاتے تھے۔تاہم اس سال یہ تقاریب مختلف مقامات پر تقسیم ہو گئیں۔ اسپلانیڈ (Esplanade) میں کلکتہ پولیس کی جانب سے عائد کردہ ممنوعہ احکامات کے بعد، کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کو برلا تارامنڈل کے قریب اپنا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی۔
رتو برتا بنرجی کی قیادت والے باغی دھڑے کو دھرم تلہ میدان کے قریب مہاتما گاندھی کے مجسمے کے پاس پروگرام منعقد کرنے کی اجازت ملی، جبکہ کانگریس نے شہید مینار گراؤنڈ میں اپنی ریلی کا اہتمام کیا۔
حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بی جے پی اور باغی دھڑوں دونوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپوزیشن الائنس ‘انڈیاانڈیا کا ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ میرا ماننا ہے کہ جو لوگ یہاں جمع ہوئے ہیں، وہی بنگال کی اصل دولت ہیں۔ وہ ہماری تحریک کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ان کے عزم اور ہمت کو پیسے یا طاقت سے نہیں تولا جا سکتا۔ ان ہی کی وجہ سے ہر چیلنج کے باوجود یہ تحریک آگے بڑھ رہی ہے۔ کوئی بھی دھمکی، ہراسانی یا سیاسی دباؤ ہمارے عزائم کو کمزور نہیں کر سکتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور آگے بھی ہمت کے ساتھ کرتے رہیں گے۔ جب تک عوام متحد ہیں، کوئی بھی طاقت ہماری جدوجہد کو نہیں روک سکتی اور نہ ہماری آواز کو دبا سکتی ہے۔ لاتعداد لالچ، پیسوں کی پیشکش، ذلت اور محرومی کے باوجود انہوں نے کبھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پورے صوبے کا دورہ جاری رکھیں گی اور عوام کے درمیان رہیں گی۔
دہلی میں حال ہی میں ہونے والی سیاسی کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ حکومت چلانے کے لیے نظم و ضبط اور جمہوری اقدار کی پاسداری ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہلی کے حالیہ واقعات نے دکھایا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی کے دوران حالات کتنی جلدی بگڑ سکتے ہیں۔ میں نے پارلیمنٹ سے ایسی رپورٹیں سنی ہیں کہ حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ وزیر اعظم (نریندر مودی) کو بھی اپنے منصوبے بدلنے پڑے۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ استحکام اور جمہوری رویے کی ہمیشہ حفاظت کی جانی چاہیے۔ اگر ناانصافی اور دھونس دھمکی جاری رہی، تو ہماری تحریک سڑکوں پر رہے گی۔”
اپوزیشن کے ‘انڈیا الائنس سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہاکہ جس کے ساتھ ان کے تعلقات میں ابھار و ڈھال آتا رہا ہے—ممتا نے کہاکہ رابندر جینتی پر میں نے واضح کر دیا تھا کہ میری کسی سے کوئی ذاتی انا یا تلخی نہیں ہے۔ پورے بھارت میں ہم ‘انڈیا الائنس کے حصے کے طور پر مل کر لڑتے ہیں، اور بنگال میں بھی ہم یہی کر رہے ہیں۔ میری ترجیح کبھی ذاتی دشمنی نہیں رہی؛ میری ترجیح ہمیشہ جمہوریت اور آئینی اقدار کی حفاظت رہی ہے۔
نام لیے بغیر ممتا نے اپنے سابق پارٹی ساتھیوں پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ میں ان لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں جنہوں نے سالہا سال ترنمول میں گزارے اور بعد میں اپنا موقف بدل لیا کہ ایک دن سب کے نقاب اتر جائیں گے۔ بہت سے لوگ ایجنسیوں کے خوف سے پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔ ہمارے پارٹی کارکنوں کے خلاف تقریباً 40,000مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ یہ بے مثال ہے۔
ایک طرف ممتا نے اپنے سابق ساتھیوں پر تنقید کی، تو دوسری طرف میو روڈ پر باغی ترنمول کے اسٹیج سے ان کے سابق قریبی مدن مترا نے ممتا کے بھتیجے ابھشیک بنرجی پر شدید حملہ کیا۔ابھشیک کا نام لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بنگال کی وزیر اعلیٰ نے آپ کو سیلیبریٹی نہیں بنایا۔ لاکھوں ترنمول کارکنوں اور حامیوں نے آپ کو سیلیبریٹی بنایا ہے۔ جس پیسے سے ابھشیک چارٹرڈ فلائٹس میں سفر کرتے ہیں، وہ لاکھوں ترنمول کارکنوں کا پیسہ ہے۔ آپ پیدل آئیے، ہم اپنے مفلر آپ کے قدموں میں بچھا دیں گے۔
مترا نے ممتا سے بھی ایک اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ میں ممتا بنرجی کو ایک مہینے کا وقت دے رہا ہوں۔ ابھشیک کا ہاتھ چھوڑیں اور گراس روٹ (زمینی) ترنمول کارکنوں کا ہاتھ تھامیں۔ آپ کی پارٹی گراس روٹ کی پارٹی ہے۔ یہ ابھشیک کی پارٹی نہیں ہے۔
ترنمول کانگریس کی صدر چندریما بھٹاچاریہ نے بھی ممتا دھڑے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ ان (ممتا دھڑے) کو ہمارا اجتماع دیکھ کر شرم آنی چاہیے۔ ہمارے یہاں آنے والے لوگوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن اگر ان کی تعداد25,00سے تجاوز کر گئی تو وہ عدالت کی توہین کے مرتکب ہوں گے۔

اسی دوران، شہید مینار پر کانگریس کی ریلی دن بھر کا ایک اور اہم موضوع بحث بنی رہی، جہاں ریاست کے مختلف اضلاع سے ہزاروں حامی پہنچے۔ اس عظیم الشان اجتماع نے خود پارٹی رہنماؤں کو حیران کر دیا۔سابق کانگریس ایم پی ادھیر رنجن چودھری نے کہاکہ بھیڑ شہید مینار کی حدوں سے باہر نکل گئی ہے۔ پولیس پارٹی کارکنوں کو اندر نہیں آنے دے رہی۔ اتنا بڑا اجتماع کانگریس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ تو صرف ٹریلر ہے؛ تبدیلی یقیناً آئے گی۔
ریاستی کانگریس صدر شبھانکر سرکار نے بتایا کہ ریلی میں آتے ہوئے 11 پارٹی کارکن زخمی ہوئے جنہیں آر جی کر ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے 9 اگست سے 14 اگست تک متعدد پروگراموں کا بھی اعلان کیا، جن میں اسٹریٹ میٹنگز، یومِ آزادی کی آدھی رات کو پرچم کشائی، اور 15 جنوری سے 15 فروری کے درمیان بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑی ریلی شامل ہے، جس میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی شرکت کی توقع ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب نے ترنمول پر بی جے پی کی ‘بی ٹیم ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی ترنمول کو کنٹرول کر رہی ہے۔ ہم (وزیر داخلہ) امیت شاہ سے نہیں ڈرتے۔ ہم سڑکوں پر اتریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔
