ہائی اسکول کی ٹیچر ملائیکا لورا اینریلو نے کہا کہ سیاست دان یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی تفرقہ انگیز بیان بازی کے پیچھے بھی انسان موجود ہوتے ہیں۔ [فیڈیریکا مارسی/الجزیرہ]
میلان : انصاف نیوز نیٹ ورک
اٹلی کی حکومت نے اسکولوں میں چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، جن میں برقع اور نقاب بھی شامل ہیں، پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اس اقدام کو صنفی مساوات سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول آنے والی طالبات کا چہرہ کھلا ہونا چاہیے۔
حکومت کے مطابق اسکولوں میں ایسے لباس پر پابندی کا مقصد طلبا کی شناخت یقینی بنانا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ’آنسا‘ کے مطابق اٹلی میں اس وقت تقریباً 500 سے 600 طالبات ہی مکمل چہرہ ڈھانپنے والا لباس استعمال کرتی ہیں۔
میلان کی الواحد مسجد کے امام یحییٰ پالّیویچینی نے حکومتی فیصلے کو ایک ’’غلط مسئلے‘‘ پر توجہ مرکوز کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ برقع اور نقاب استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے، اس کے باوجود اس معاملے کو نمایاں کرکے اسلام کے بارے میں عوامی تاثر کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
مسجد میں موجود ہائی اسکول کی ریاضی کی استاد مولائیکا لورا اینریئلو نے بھی کہا کہ انہوں نے اپنے تدریسی کیریئر کے دوران کسی طالبہ کو چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے والا لباس پہنے نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق بعض طالبات حجاب ضرور پہنتی ہیں، لیکن اس پر اسکول میں عام طور پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔
حکومتی حکم نامے میں براہِ راست ’’برقع‘‘ یا ’’نقاب‘‘ کا ذکر نہیں بلکہ اسکول میں ایسے کسی بھی لباس کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جس سے کسی فرد کی شناخت ممکن نہ رہے۔
یونیورسٹی آف بولوگنا کے قانونی مطالعات کے محقق نیکو تونتی کے مطابق اس حکم نامے پر پارلیمان اس بات کا جائزہ لے سکتی ہے کہ آیا یہ اقدام اپنے مقررہ مقاصد کے لحاظ سے متناسب ہے اور مذہبی آزادی کے حقوق سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
اٹلی میں پہلے ہی ایسے لباس پر پابندی سے متعلق قوانین موجود ہیں جن سے عوامی مقامات پر کسی شخص کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے، تاہم مذہبی عمل کو بعض حالات میں ’’جائز وجہ‘‘ تسلیم کیا گیا ہے۔
اسلامی مطالعات کی ماہر اور یونیورسٹی آف پیسا کی پروفیسر ریناتا پیپی چیلی کے مطابق حجاب اور پردے کا معاملہ طویل عرصے سے یورپ میں مذہب، شناخت اور سماجی غلبے کی بحث کا حصہ رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ پابندی کو اسی وسیع سیاسی ماحول کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی پابندی کے وقت پر توجہ دلائی ہے۔ اٹلی میں 2027 کے انتخابات کی تیاری کے دوران وزیر اعظم میلونی کو دائیں بازو کی جانب سے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ لوئس یونیورسٹی کے پروفیسر لورینزو کاسٹیلانی کے مطابق حکومت کی پالیسی میں امیگریشن، سلامتی اور سیاسی استحکام اہم انتخابی موضوعات ہوسکتے ہیں۔
میلونی کی حکومت دوسری عالمی جنگ کے بعد اٹلی کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والی حکومت بن چکی ہے۔
