شمالی 24 پرگنہ کی رہائشی شاہدہ فقیر کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
انسانی حقوق کی تنظیم بنگلار مانبادھیکار سرکشا منچ نے شمالی 24 پرگنہ کی رہائشی شاہدہ فقیر کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری اور حراست کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ شاہدہ فقیر کے پاس بھارتی شہریت ثابت کرنے والی متعدد سرکاری دستاویزات موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں ’’بنگلہ دیشی‘‘ قرار دے کر حراست میں لیا گیا۔
کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجی گئی شکایت میں تنظیم کے سکریٹری اور پروگرام اگینسٹ کسٹوڈیل ٹارچر اینڈ امپیونٹی کے قومی کنوینر کیریتی رائے نے عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مغربی بنگال پولیس اور سی آئی ڈی پر آئینی ضمانتوں اور قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
شاہدہ فقیر کون ہیں؟
شکایت کے مطابق شاہدہ فقیر، زوجہ جمن فقیر، ضلع شمالی 24 پرگنہ کے سوروپ نگر تھانہ علاقے کے تحت واقع بیتھاری حاکم پور گرام پنچایت کے گاؤں سوروپ دہ کی رہائشی ہیں۔
تنظیم کے مطابق شاہدہ تقریباً بیس سال قبل اپنے شوہر کے ساتھ روزگار کی تلاش میں ممبئی منتقل ہوئی تھیں۔ وہ وہاں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں جبکہ ان کے شوہر گاڑیاں صاف کر کے روزی روٹی کماتے ہیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ شاہدہ کے والد امان الدین غازی اور والدہ ماجدہ بی بی شمالی 24 پرگنہ کے گوپال پور گاؤں کے رہائشی تھے۔ ان دونوں کے نام سوروپ نگر اسمبلی حلقے کی 2002 کی ووٹر فہرست میں شامل تھے، جسے درخواست گزار نے خاندان کی بھارتی شہریت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔
شہریت سے متعلق دستاویزات
شکایت کے مطابق شاہدہ فقیر کی پیدائش 12 اکتوبر 1995 کو ہوئی تھی اور ان کی پیدائش بیتھاری حاکم پور گرام پنچایت میں رجسٹریشن نمبر 6382 کے تحت درج ہے۔تنظیم نے عدالت کو بتایا ہے کہ شاہدہ کے پاس متعدد سرکاری دستاویزات موجود ہیں، جن میں:الیکٹورل فوٹو آئیڈینٹیٹی کارڈ پین کارڈ )سرکاری طور پر جاری شدہ برتھ سرٹیفکیٹزمین کی ملکیت سے متعلق دستاویزشامل ہیں۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام ریکارڈ مجموعی طور پر شاہدہ فقیر کی بھارتی شہریت اور شناخت کی تائید کرتے ہیں۔
گرفتاری کا الزام
شکایت کے مطابق 19 جولائی 2026 کی شام شاہدہ فقیر مقامی بازار جا رہی تھیں کہ پولیس نے انہیں روک لیا اور بعد ازاں انہیں ایک ایسے مرکز میں منتقل کر دیا جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی غیر ملکیوں یا مشتبہ افراد کو رکھا جاتا ہے۔
تنظیم کا الزام ہے کہ کسی عدالتی حکم، مجاز اتھارٹی کی جانچ یا قانونی کارروائی کے بغیر پولیس اور سی آئی ڈی نے شاہدہ کو ’’بنگلہ دیشی شہری‘‘ قرار دے کر حراست میں لے لیا۔
شکایت میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ شاہدہ کو طویل مدت تک جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں گرفتاری کی وجوہات سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں وکیل سے رابطے یا اہل خانہ سے بات کرنے کا مناسب موقع بھی نہیں دیا گیا۔
آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں کا الزام
درخواست گزار تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر شکایت میں بیان کردہ حقائق درست ہیں تو یہ آئین کے آرٹیکل 21 اور آرٹیکل 22 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، جن کے تحت ہر گرفتار شخص کو مقررہ مدت کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
شکایت میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا 2023 کی متعلقہ دفعات اور گرفتاری سے متعلق قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
تنظیم نے اپنی عرضی میں سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں، جن میں ڈی کے باسو بنام ریاست مغربی بنگال (1997)، جوگندر کمار بنام ریاست اتر پردیش (1994) اور ارنیش کمار بنام ریاست بہار (2014) شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہر گرفتاری قانونی، شفاف اور عدالتی نگرانی کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
شہریت کے تعین کا اختیار کس کے پاس؟
شکایت میں کہا گیا ہے کہ کسی فرد کو غیر ملکی قرار دینا محض پولیس یا انتظامیہ کا اختیار نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق شہریت سے متعلق تنازعات کا فیصلہ متعلقہ قوانین، بشمول شہریت ایکٹ 1955 اور فارنرز ایکٹ 1946، کے تحت مقررہ قانونی عمل اور عدالتی نگرانی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ محض شبہے یا شناختی پروفائلنگ کی بنیاد پر کسی شہری کو غیر ملکی قرار دینا قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔
ہائی کورٹ سے کیا مطالبہ کیا گیا؟
بنگلار مانبادھیکار سرکشا منچ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ شاہدہ فقیر کو فوری طور پر متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔اگر ان کے خلاف کوئی قانونی حراستی حکم موجود نہیں ہے تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔پولیس اور سی آئی ڈی کی کارروائی کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور وقت مقررہ تحقیقات کرائی جائیں۔حراست سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج، جنرل ڈائری اندراجات، گرفتاری کے ریکارڈ، حراستی رجسٹر اور اسٹیشن ڈائریاں محفوظ رکھنے کی ہدایت دی جائے۔اگر کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانونی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔شاہدہ فقیر کے بنیادی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی، غیر قانونی حراست، ذہنی اذیت اور وقار کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے مناسب معاوضہ دیا جائے۔ریاستی حکومت کو ایسے حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت دی جائے جن کے ذریعے کسی بھی بھارتی شہری کو مناسب قانونی عمل کے بغیر غیر ملکی قرار دینے یا حراست میں لینے سے روکا جا سکے۔تنظیم نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ محض ایک انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ شخصی آزادی اور آئینی حقوق سے متعلق ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر عدالت کی فوری مداخلت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ خبر لکھے جانے تک مغربی بنگال پولیس یا سی آئی ڈی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
