نئی دہلی، 3 اگست: سپریم کورٹ نے پیر کے روز کہا کہ نوجوانوں کی تحریک میں شریک مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز کو ریاستی حکومتیں قانون کے مطابق واپس لینے یا بند کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ یہ وہی تحریک تھی جس کے نتیجے میں سابق مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اپنے 28 جولائی کے حکم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
“دہلی حکومت (این سی ٹی) اور دیگر تمام ریاستیں قانون کے مطابق مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینے یا بند کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ ہمارے 28 جولائی کے حکم میں استعمال ہونے والی اصطلاح ‘مجرمانہ سابقہ ریکارڈ’ (Criminal Antecedents) سے مراد صرف سنگین اور گھناؤنے جرائم ہیں۔”
عدالت نے 28 جولائی کے اپنے عبوری حکم میں ایسے طلبہ کے خلاف کسی بھی جبری کارروائی پر روک لگا دی تھی جن کا کوئی سنگین مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
یہ ریمارکس سپریم کورٹ نے نیٹ (NEET) پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد اور 20 جولائی کے “چلو پارلیمنٹ” مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔
ایک جانب درخواست گزاروں نے مظاہرین پر مبینہ پولیس زیادتیوں کی تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ دوسری جانب بعض درخواستوں میں پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے کے الزام میں طلبہ کے خلاف کارروائی کی اپیل کی گئی۔
پولیس اور مظاہرین دونوں کے کردار کی جانچ ہوگی
چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا:
“ہمارے ذہن میں دو تجاویز زیر غور ہیں؛ یا تو پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے، یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے۔”
ان کے مطابق مجوزہ نظام کا مقصد پولیس اور مظاہرین، دونوں کے خلاف عائد الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا:
“جو پولیس افسر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے میں ملوث پائے جائیں، انہیں غیر ضروری تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ لیکن اسی طرح کوئی خطرناک مجرم بھی طالب علم احتجاج کی آڑ میں قانونی تحفظ حاصل نہ کرے۔”
پیلٹ گن کے استعمال پر سپریم کورٹ پروٹوکول تیار کرے گی
سینئر وکیل ورندا گروور نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دہلی پولیس کے کسی مستقل حکم نامے میں پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ پولیس اپنے دفاع کے لیے کوئی ذریعہ استعمال نہ کرے، لیکن پیلٹ گن اس مقصد کے لیے موزوں ہتھیار نہیں ہے۔”
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق ایک واضح پروٹوکول مرتب کرے گی۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 18 اگست کو ہوگی۔
زخمی مظاہرین کے علاج کا حکم
30 جولائی کو سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 20 جولائی کے ‘چلو پارلیمنٹ’ مظاہرے کے دوران پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے مظاہرین کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
یہ حکم عوامی مفاد کی ایک درخواست (PIL) پر دیا گیا تھا، جسے پرشانت کمار سنگھ اور شیخ ارشاد منصوری نے دائر کیا تھا۔ دونوں پیلٹ گن سے زخمی ہوئے تھے۔ سابق انٹیلی جنس بیورو کے اسپیشل ڈائریکٹر اور سابق مرکزی اطلاعاتی کمشنر یشووردھن آزاد بھی اس درخواست میں شریک تھے۔
عدالت نے اپنے عبوری حکم میں کہا تھا کہ غیر معمولی حالات میں پولیس ضوابط پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں، اور جب تک ان ضوابط کو چیلنج نہیں کیا جاتا، محض اس کے استعمال کو چیلنج کرنا شاید قابلِ سماعت نہ ہو۔
ایف آئی آرز واپس لینے کے طریقۂ کار پر بحث
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت احتجاجی طلبہ کے خلاف مقدمات واپس لینے کے اپنے وعدے پر قائم ہے، تاہم فوجداری قانون میں ایف آئی آر کو براہِ راست “واپس لینے” کی کوئی قانونی شق موجود نہیں، اسی لیے طریقۂ کار پر کچھ قانونی ابہام ہے۔
انہوں نے کہا:
“سنگین مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کے علاوہ حکومت طلبہ کے مقدمات حل کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن کچھ عناصر اس معاملے کو مسلسل زندہ رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے قانونی احتیاط ضروری ہے۔”
اس پر ورندا گروور نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ مقدمات واپس لیے جائیں گے یا عدالت کے ذریعے کالعدم (Quash) قرار دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا:
“یہ نوجوان تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے خلاف دہلی، بہار، مغربی بنگال، آسام اور اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں مقدمات درج ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں نامعلوم افراد کے خلاف درج اجتماعی ایف آئی آرز مستقبل میں کسی بھی شخص کو پھنسانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
“مجرمانہ سابقہ ریکارڈ” کی وضاحت ضروری
سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت سے کہا کہ “Criminal Antecedents” کی اصطلاح بہت وسیع اور مبہم ہے۔
انہوں نے کہا:
“یہ طلبہ ہیں۔ کسی کے خلاف ٹریفک قانون کی خلاف ورزی، معمولی جرم یا سیاسی احتجاج سے متعلق مقدمہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس اصطلاح کا اطلاق صرف قتل، عصمت دری یا دیگر سنگین جرائم تک محدود ہونا چاہیے۔”
چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے تمام ایف آئی آرز کی تعداد معلوم کی جائے گی، پھر سنگین مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کو الگ کیا جائے گا۔
جسٹس جوی مالیا باغچی نے کہا کہ عدالت ایف آئی آرز کو کالعدم قرار دینے کے لیے ایک مناسب قانونی طریقۂ کار وضع کر سکتی ہے۔
پولیس کے خلاف بھی جوابدہی کا مطالبہ
سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ دہلی پولیس کمشنر اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے ڈائریکٹر سے وضاحت طلب کی جائے کہ آخر پیلٹ گن اور لاٹھی چارج کی اجازت کس نے دی۔
انہوں نے کہا:
“پولیس کو اس طرح کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کی ذمہ داری ضرور طے ہونی چاہیے۔”
چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوال
سینئر وکیل این ہری ہرن نے عدالت کو بتایا کہ خدشہ ہے حکومت نے مظاہرین کی شناخت کے لیے فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کی ہے۔
انہوں نے کہا:
“ہم نے اپنی بایومیٹرک معلومات کے استعمال کی کوئی رضامندی نہیں دی۔ اس معاملے کی بھی تحقیقات ہونی چاہییں۔”
وکیل کے ساتھ مبینہ بدسلوکی
سینئر وکیل کولن گونزالویس نے دہلی کے وکیل مانک گپتا کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے اٹھایا۔ مانک گپتا نے الزام لگایا ہے کہ 23 جولائی کو نظام الدین پولیس اسٹیشن میں احتجاجی طلبہ کی رہائی کے لیے جانے پر دہلی پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی۔
