الہ آباد/بریلی: الہ آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2025 میں اتر پردیش کے بریلی میں ہونے والے احتجاج اور اس کے بعد پیش آنے والے تشدد کے معاملے میں اسلامی عالم مولوی توقیر رضا خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں احتجاج کی کال، مظاہرین کے مارچ، پولیس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے بعد مولوی توقیر رضا کی جانب سے کی گئی تقریر سمیت متعدد پہلوؤں پر سخت مشاہدات کیے۔
یہ احتجاج ریاستی حکومت کے خلاف مسلمانوں پر مبینہ مظالم اور مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیے جانے کے الزامات کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔
احتجاج کی کال پر عدالت کا سخت تبصرہ
ہائی کورٹ کی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ استغاثہ کے مطابق مولوی توقیر رضا نے احتجاج کی کال دی تھی اور عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ یہ کال ان کے مذہبی اور ذاتی سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے دی گئی تھی۔
عدالت کے مطابق احتجاج کے لیے انتظامیہ سے اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ انتظامیہ نے کالج گراؤنڈ میں اجتماع کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد وہاں ہونے والا پروگرام منسوخ کر دیا گیا۔
تاہم عدالت نے کہا کہ پروگرام منسوخ ہونے کے باوجود مظاہرین نے مقررہ مقام کی جانب مارچ کیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔
بنچ کے مطابق ہجوم پر ہنگامہ آرائی، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے کے الزامات ہیں۔
عدالت نے ان واقعات کو ضمانت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے اہم عوامل میں شمار کیا۔
مولوی توقیر رضا موقع پر موجود نہیں تھے
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ واقعے کے وقت مولوی توقیر رضا مبینہ طور پر جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے۔ عدالتی حکم کے مطابق وہ ایک شریک ملزم کے گھر پر موجود تھے۔
تاہم عدالت نے کہا کہ تشدد کے بعد ان کی جانب سے کی گئی تقریر بھی قابلِ نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ بنچ کے مطابق اس تقریر میں انہوں نے بھیڑ کا شکریہ ادا کیا اور اس کے اقدامات کی تعریف کی۔
عدالت نے اس طرز عمل کو بھی ضمانت دینے کے حق میں نہ جانے والا ایک اہم پہلو قرار دیا۔
’سر تن سے جدا‘ نعرے پر عدالت کا تبصرہ
فیصلے کا ایک اہم حصہ اس مبینہ نعرے سے متعلق ہے جسے احتجاج کے دوران لگائے جانے کا الزام ہے:
“گستاخِ نبی کی ایک ہی سزا، سر تن سے جدا”
عدالت نے اس نعرے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا نعرہ قانون کی عملداری اور ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کے لیے چیلنج کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ یہ نعرہ لوگوں کو مسلح بغاوت کے لیے اکسانے کے مترادف ہے، جو قانون کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔
یہی قانونی تشریح عدالت پہلے بھی اسی کیس کے ایک شریک ملزم کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کر چکی ہے۔
مذہبی نعروں سے موازنہ بھی مسترد
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں مبینہ ’سر تن سے جدا‘ نعرے کو بعض دوسرے مذہبی نعروں کے برابر قرار دینے کی دلیل بھی قبول نہیں کی۔
عدالت نے مثال کے طور پر:
- “نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر”
- “جو بولے سو نہال، ست سری اکال”
- “جے شری رام”
- “ہر ہر مہادیو”
جیسے نعروں کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں دیوتا یا مذہبی رہنما کے احترام کے اظہار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے مبینہ ’سر تن سے جدا‘ نعرے کو ان کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 152 کا حوالہ
عدالت نے اپنے سابقہ مشاہدات کا بھی حوالہ دیا، جب دسمبر میں اسی معاملے کے ایک شریک ملزم کو ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
اس وقت بھی عدالت نے مبینہ ’سر تن سے جدا‘ نعرے کے بارے میں کہا تھا کہ یہ لوگوں کو مسلح بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہو سکتا ہے اور اسے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 152 کے تحت قابلِ سزا جرم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
دفعہ 152 ایسے اقدامات سے متعلق ہے جو ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق ہیں۔
پولیس نے 1,700 نامعلوم افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا
احتجاج کے بعد پولیس نے اس معاملے میں 25 شناخت شدہ افراد اور تقریباً 1,700 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔
پولیس کی کارروائی میں تشدد، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس اہلکاروں پر حملے اور دیگر مبینہ جرائم سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں۔
مولوی توقیر رضا کی جانب سے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے اسے مسترد کر دیا۔
احتجاج کا پس منظر کیا تھا؟
بریلی میں یہ احتجاج ریاستی حکومت کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے مبینہ مظالم اور مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیے جانے کے الزامات کے خلاف بلایا گیا تھا۔
احتجاج کے منتظمین اور حامیوں کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں اور مقدمات کے معاملے میں حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
دوسری جانب پولیس اور ریاستی حکام نے احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال، مبینہ تشدد اور قانون و نظم کی خلاف ورزیوں کو بنیاد بناتے ہوئے کارروائی کی۔
یوں یہ معاملہ اب صرف احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں مذہبی نعروں، اظہارِ رائے، احتجاج کے حق، قانون و نظم اور قومی سلامتی سے متعلق قانونی دفعات بھی شامل ہو گئی ہیں۔
ضمانت مسترد ہونے کا مطلب کیا ہے؟
ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ مولوی توقیر رضا کو ان الزامات میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت کا موجودہ فیصلہ بنیادی طور پر ضمانت کی درخواست سے متعلق ہے۔
مقدمے کی حتمی سماعت اور شواہد کی بنیاد پر جرم یا بے گناہی کا فیصلہ بعد کے عدالتی مرحلے میں ہونا ہے۔
یہ کیس اس لیے بھی اہم ہے کہ عدالت نے مبینہ مذہبی نعرے کو بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 152 کے تناظر میں دیکھا ہے، جس سے احتجاج کے دوران دیے جانے والے نعروں اور قومی سالمیت سے متعلق قوانین کی تشریح پر بھی بحث پیدا ہو سکتی ہے۔
اہم نکات ایک نظر میں
واقعہ: ستمبر 2025، بریلی، اتر پردیش
معاملہ: احتجاج کے بعد تشدد
درخواست گزار: مولوی توقیر رضا خان
عدالت: الہ آباد ہائی کورٹ
فیصلہ: ضمانت کی درخواست مسترد
پولیس کا مقدمہ: 25 شناخت شدہ اور تقریباً 1,700 نامعلوم افراد
اہم قانونی حوالہ: بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 152
عدالت کے اہم مشاہدات: احتجاج کی کال، مبینہ تشدد، عوامی املاک کو نقصان، پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور مبینہ اشتعال انگیز نعرے
یہ معاملہ اب آئندہ عدالتی کارروائی میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر اس سوال کے حوالے سے کہ احتجاج کے دوران دیے گئے مذہبی یا سیاسی نعروں کو قومی سالمیت اور بغاوت سے متعلق فوجداری دفعات کے تحت کس حد تک لایا جا سکتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کا YouTube کے لیے زیادہ مضبوط SEO headline، thumbnail headline، اور اردو + ہندی + بنگالی + انگریزی description مع hashtags اور tags بھی بنا سکتا ہوں۔
