انصاف نیوز نیٹ ورک
سلچر: آسام کے کچھار کالج کی مسلم طالبات نے الزام عائد کیا ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشدکے ارکان نے ان کا حجاب چھیننے کی کوشش کی، انہیں دھکے دیے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کالج انتظامیہ کی جانب سے ایک یکساں ڈریس کوڈ نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت حجاب پر بھی پابندی عائد ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سلچر میں واقع کچھار کالج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر اعتراضات، مبینہ نفرت انگیز مہم اور اے بی وی پی ارکان کے مبینہ حملے کے بعد ادارہ ایک یکساں ڈریس کوڈ نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ منگل کے روز کالج کیمپس میں اے بی وی پی اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا سے وابستہ طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی، جس میں متعدد طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق، تنازع اس وقت شروع ہوا جب اے بی وی پی کے کچھ ارکان نےاین ایس یو آئی کے رکنیت سازی کیمپ میں موجود مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر اعتراض کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بحث نے ہاتھا پائی کی شکل اختیار کر لی۔مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مسلم طالبہ نے الزام عائد کیا کہ اے بی وی پی کے ارکان نے ابتدا میں ان سے کہا کہ “کچھار کالج ایک تعلیمی ادارہ ہے، جہاں مذہب کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
طالبہ کے مطابق، اس کے بعد انہی افراد نے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔طالبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر کالج میں مذہب کی کوئی جگہ نہیں ہے تو پھر مذہبی نعروں پر اعتراض کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس نے کہاکہ انہوں نے کہا کہ آج تم حجاب پہن کر آئی ہو، کل یہاں نماز پڑھنا شروع کر دو گی۔ جب یہاں پوجا ہوتی ہے تو ہم نے کبھی سوال نہیں اٹھایا کہ یہ کیوں ہو رہی ہے۔ پھر وہ ہمارے حجاب پر سوال کیوں اٹھا رہے ہیں۔
طالبہ نے مزید الزام لگایا کہ اے بی وی پی کے ارکان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مسلم طالبات اپنے حجاب کے نیچے ہیڈ فون پہنتی ہیں۔ اس کے جواب میں طالبہ نے کہا کہ اگر کالج انتظامیہ کو امتحانات کے دوران نقل یا کسی اور مسئلے کا خدشہ ہے تو طالبات کی جانچ کے لیے ایک مناسب اور یکساں نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔اس کے مطابق این ایس یو آئی کی رکنیت سازی مہم کالج کے پرنسپل کی اجازت سے چل رہی تھی۔ تاہم، مہم کے دوسرے روزاے بی وی پی کے ارکان نے کیمپ میں موجود این ایس یو آئی کارکنوں پر اعتراض کیا اور انہیں وہاں سے جانے کے لیے کہا۔طالبہ نے الزام لگایا کہاے بی وی پی کے ارکان نے رکنیت سازی کا رجسٹر چھیننے کی کوشش کی۔ اس نے کہا:”جب انہیں معلوم ہوا کہ اس مہم کے لیے پرنسپل کی اجازت حاصل ہے تو انہوں نے ہمارا حجاب چھیننے کی کوشش کی، ہمیں دھکے دیے اور ہمارے ساتھ نامناسب طریقے سے چھوا۔
انہوں نے لڑکوں کو بھی شدید زدوکوب کیا۔”یہ واقعہ طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے کچھار کی ضلعی انتظامیہ کو ایک یادداشت پیش کیے جانے کے ایک دن بعد پیش آیا۔ اس یادداشت میں کالج کیمپس کے اندر حجاب اور ٹوپی سمیت مسلم مذہبی لباس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب، کچھار کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اپرتیم ناگ نے کہا ہے کہ ادارہ اپنے طے شدہ ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ان کے مطابق، مجوزہ ڈریس کوڈ کے تحت طلبہ کے لیے پینٹ اور شرٹ جبکہ طالبات کے لیے مقررہ انداز میں دوپٹے کے ساتھ شلوار قمیض یا چُڑی دار قمیض پہننا لازمی ہوگا۔
دریں اثنا، این ایس یو آئی نے الزام عائد کیا ہے کہاے بی وی پی کے ارکان نے اس کے کارکنوں پر حملہ کیا اور معاملے کو دبانے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کیا۔واقعے کے دو روز بعد، الگاپور-کٹلی چیرا کے رکن اسمبلی اور آسام پردیش یوتھ کانگریس کے صدر زبیر انعام مَظوم دار نے کالج کیمپس کے اندر اور اطراف میں طلبہ کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا۔مظوم دار نے کہا کہ ڈریس کوڈ کے قواعد کا اطلاق تمام طلبہ پر یکساں طور پر ہونا چاہیے اور اس کے ذریعے کسی مخصوص طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے یوتھ کانگریس کے نمائندوں کے ساتھ کچھار کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پی. پی. داس سے ملاقات کی اور جمعرات کو ایک یادداشت بھی پیش کی۔ یادداشت میں کالج کیمپس اور اس کے اطراف طلبہ کے لیے سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔واقعے نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس، ڈریس کوڈ، طلبہ کی آزادی اور کیمپس میں سیاسی تنظیموں کی سرگرمیوں سے متعلق سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔
