بانکوڑہ/کولکاتا، 17 اگست:
مغربی بنگال کے بانکوڑہ ضلع میں سرکاری اسکول کی خستہ حالی کو اجاگر کرنے کی مہم کے دوران مبینہ حملے میں جان گنوانے والے شیخ محمد مافک کے بیٹے عبدالحفیظ نے حکومت سے مالی معاوضہ لینے سے انکار کرتے ہوئے اپنے والد کے نام پر ایک عالمی معیار کا اسکول تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عبدالحفیظ نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’میرے والد اب نہیں رہے۔ میں سرکاری معاوضے کا کیا کروں گا؟ میں چاہتا ہوں کہ حکومت میرے مرحوم والد کے نام پر ایک عالمی معیار کا اسکول تعمیر کرے۔‘‘
حفیظ کے والد شیخ محمد مافک کی 15 اگست کو بردوان میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں علاج کے دوران موت ہوگئی تھی۔ خاندان کا الزام ہے کہ 13 اگست کو بانکوڑہ کے انداس بلاک کے کاری سندا گاؤں میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا، جس میں حفیظ اور ان کے والد کو نشانہ بنایا گیا۔ حفیظ کا کہنا ہے کہ جب حملہ آور ان پر حملہ کر رہے تھے تو ان کے والد انہیں بچانے کے لیے آگے آئے، جس کے بعد انہیں بھی شدید چوٹیں آئیں۔
عبدالحفیظ حال ہی میں دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے ککروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شرکت کے بعد اپنے گاؤں واپس آئے تھے۔ واپسی کے بعد انہوں نے ککروچ جنتا پارٹی کی’’اسکو ل ٹھیک کرو‘‘مہم میںکا حصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔اس مہم کا مقصد سرکاری اسکولوں کی خراب حالت اور تعلیمی سہولیات کی کمی کو اجاگر کرنا تھا۔

حفیظ اپنے گاؤں کے کاری سندا پرائمری اسکول گئے، جہاں انہوں نے خود تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول میں بیت الخلا، کلاس روم کی چھت اور دیگر بنیادی سہولیات کی حالت تشویش ناک ہے۔خاندان کے مطابق، حفیظ نے اسکول کی حالت کی ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اسی رات مبینہ طور پر کچھ افراد ان کے گھر پہنچے اور ان پر حملہ کردیا۔حفیظ اور ان کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے ان کا موبائل فون بھی چھین لیا اور اس میں موجود تصاویر اور ویڈیوز حذف کردیاخاندان کے مطابق، جب حفیظ پر حملہ کیا جا رہا تھا تو ان کے والد مافک نے انہیں بچانے کی کوشش کی۔ اس دوران مافک پر بھی حملہ کیا گیا اور انہیں سر پر شدید چوٹ آئی۔ابتدائی طور پر انہیں انداس کے ایک طبی مرکز لے جایا گیا، جہاں سے بعد میں بردوان میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ خاندان کے مطابق، 15 اگست کو علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔
واقعے کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی اور اب پولیس نے مافک کے خاندان کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرتے ہوئے اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔گرفتار افراد میں شیخ آزاد، سری کانت ماجھی، پرشانت روئیداس، روہت ماجھی، ببلو ماجھی، سنتو ماجھی، ٹنکو کیوڑا اور اشٹم ماجھی شامل ہیں۔خاندان کی جانب سے درج ایف آئی آر میں شیخ آزاد، سری کانت ماجھی اور اشٹم ماجھی کے نام بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔
مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اشٹم ماجھی بی جے پی کے مقامی لیڈر ہیں، جبکہ بعض دیگر ملزمان بھی بی جے پی کے کارکن یا حامی بتائے جاتے ہیں۔تاہم بی جے پی نے ملزمان کو پارٹی کارکن ماننے سے انکار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ ملزمان مجرم ہیں اور ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پولیس کی تحقیقات میں سیاسی وابستگی اور حملے کے محرکات سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
’میرے والد نے تعلیم کے لیے جان دی، معاوضے کا کیا کروں گا؟
عبدالحفیظ نے کہا کہ ان کے والد کی موت کو محض مالی معاوضے تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ’میرے والد نے تعلیمی نظام کی خراب حالت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اپنی جان گنوائی۔ میرے والد اب نہیں رہے۔ میں سرکاری معاوضے کا کیا کروں گا؟‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’میں چاہتا ہوں کہ حکومت میرے والد کے نام پر ایک عالمی معیار کا اسکول تعمیر کرے۔‘‘حفیظ کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی حکومت سے مالی مدد کے بجائے اپنے علاقے کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں بہتری چاہتے ہیں۔
حفیظ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اسکول ٹھیک کرومہم سے ہٹنے والے نہیں ہیں ان کا کہنا تھاکہ ’’ملک کے طلبہ اور نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ لڑائی نہیں رکے گی۔ ہم تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘‘
ککروچ جنتا پارٹی کے رہنما آشوتوش رنکا نے پیر کو مافک کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی پولیس نے خاندان کو مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا اور بعض ملزمان کے خلاف کارروائی میں سستی برتی گئی۔رنکا نے دعویٰ کیا کہ خاندان نے حملے میں ملوث مزید افراد کی شناخت کی ہے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ککروچ جنتا پارٹی ریاستی پولیس کو کارروائی کے لیے 10 دن کی مہلت دے گی۔ اگر تنظیم کو محسوس ہوا کہ پولیس نے مناسب کارروائی نہیں کی تو ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔
رنکا نے کہاکہے ’’بی جے پی یہ سمجھ سکتی ہے کہ وہ تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے ہماری آواز خاموش کر دے گی، لیکن ہم ایسی دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ککروچ جنتا پارٹی تعلیم، بے روزگاری اور روزگار سے متعلق مسائل کو اٹھاتی رہے گی۔رنکا نے یہ بھی اعلان کیا کہ تنظیم عبدالحفیظ کے خاندان کی مدد کے لیے چندہ جمع کرے گی اور جمع شدہ رقم خاندان کے حوالے کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ عبدالحفیظ اب پورے مغربی بنگال میں اسکول ٹھیک کرو مہم کی قیادت کریں گے۔
واقعے کے بعد مختلف اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے مافک کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔پیر کوککروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کے علاوہ سی پی آئی (ایم) کے رہنما شترُوپ گھوش، میوک بسواس اور دیگر افراد نے حفیظ کے گھر پہنچ کر خاندان سے ملاقات کی۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھی خاندان سے فون پر بات کی اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ لبریشن نے 17 اور 18 اگست کو ریاست گیر ’احتجاجی دن‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے ذمہ دار افراد کو سزا دینے، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے الزام لگایا کہ حملہ حفیظ کی جانب سے مقامی اسکول کی خراب حالت کے خلاف چلائی جانے والی مہم سے منسلک تھا۔کے رہنماؤں نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور انصاف اور ذمہ دار افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پولیس کارروائی کے باوجود سیاسی سوالات برقرار
اس واقعے میں پولیس کی جانب سے آٹھ افراد کی گرفتاری کے بعد تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، لیکن حملے کے سیاسی محرکات اور ملزمان کی مبینہ سیاسی وابستگی پر تنازع برقرار ہے۔خاندان اور بعض سیاسی و طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ حملہ حفیظ کی جانب سے سرکاری اسکول کی حالت کو اجاگر کرنے اور ککروچ جنتا پارٹی سے وابستگی کے باعث کیا گیا۔دوسری جانب بی جے پی نے ملزمان کو پارٹی کارکن ماننے سے انکار کیا ہے۔
واقعے کے مبینہ فرقہ وارانہ پہلو پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حفیظ کی مسلم شناخت بھی حملے کے محرکات میں شامل ہوسکتی ہے، تاہم اس پہلو کی بھی پولیس تحقیقات کے ذریعے تصدیق ہونا باقی ہے۔
