کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں یومِ آزادی کے موقع پر سیاسی تشدد کے دو الگ الگ واقعات میں دو خاندانوں کو شدید صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نادیہ ضلع میں کانگریس کے ایک سینئر رہنما اور ان کے 24 سالہ بیٹے کو مبینہ طور پر گولی مارنے کے بعد تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کرکے قتل کر دیا گیا، جبکہ بانکوڑہ ضلع میں ایک سیاسی مہم سے وابستہ رضاکار کے والد بھی مبینہ طور پر حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے۔ دونوں واقعات نے ریاست میں سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کی سلامتی پر ایک بار پھر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
نادیہ ضلع میں کانگریس لیڈر انیس الرحمن اور ان کے 24 سالہ بیٹے ابو سفیان کو ہفتہ کی رات مبینہ طور پر اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ بیتوآدہری سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ناگادی ریلوے گیٹ کے قریب کچھ افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر فائرنگ کے بعد دونوں پر تیز دھار ہتھیاروں سے بھی حملہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔
انیس الرحمن بنگال کانگریس کمیٹی کے رکن اور نادیہ ضلع کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری تھے۔ وہ ناکاشی پارہ علاقے میں کانگریس کے ایک اہم رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے اور طویل عرصے سے پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں میں فعال تھے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
کرشن نگر پولیس ضلع کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سورجیت کمار ڈے نے کہا ہے کہ معاملے کی تفصیلی تفتیش کی جا رہی ہے اور فی الحال اس سے زیادہ کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔
سابق ریاستی کانگریس صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے انیس الرحمن اور ان کے بیٹے کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مغربی بنگال پردیش کانگریس اس واقعے کے خلاف اتوار کو ریاست بھر میں ’’یومِ سیاہ‘‘ منا رہی ہے۔
مقامی کانگریس کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے جیل میں بند ترنمول کانگریس کے مقامی رہنما جبّار شیخ کا ہاتھ ہے اور مبینہ طور پر جیل سے ہی حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ تاہم یہ ایک سیاسی الزام ہے اور پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دوسرا واقعہ مغربی بنگال کے بانکوڑہ ضلع کے اندس علاقے کے کاری سندا گاؤں کا ہے، جہاں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ سے وابستہ رضاکار عبدال کے والد حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ عبدال نے سرکاری اسکولوں کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک مہم کے تحت مقامی پرائمری اسکول کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر بی جے پی کارکن اس کے گھر پہنچے اور عبدال اور اس کے اہل خانہ پر حملہ کیا۔
الزام کے مطابق عبدال کے والد کے سر پر شدید چوٹ آئی اور حالت بگڑنے کے بعد جمعہ کی رات ان کا انتقال ہوگیا۔ سیاسی مہم سے وابستہ افراد نے پولیس پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ شکایت کے باوجود مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم پولیس نے بتایا ہے کہ اسے اس معاملے میں ابھی تک باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
پولیس کی تحقیقات اور باضابطہ شکایت کے بعد ہی واقعے کی مکمل تصویر سامنے آسکے گی۔ تاہم یہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر ایک شخص شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ جائے تو کیا پولیس کو باضابطہ شکایت کا انتظار کیے بغیر ازخود تحقیقات شروع نہیں کرنی چاہیے؟
مغربی بنگال میں سیاسی تشدد ایک بار پھر بحث کا موضوع
مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ انتخابی سیاست، مقامی سیاسی رقابت اور حکمران و اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے واقعات ماضی میں بھی ریاست کی سیاست کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ سیاسی اختلاف کو تشدد میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے انتظامیہ اور سیاسی جماعتیں کس حد تک مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
کانگریس کا الزام ہے کہ اپوزیشن اور اقلیتی طبقات سے وابستہ آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد الزامات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ نادیہ اور بانکوڑہ کے حالیہ واقعات میں بھی حتمی ذمہ داری کا تعین پولیس تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
مغربی بنگال میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ترنمول کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں پر حملوں کے بعض واقعات کو بی جے پی کی جانب سے عوامی ناراضگی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ سیاسی تشدد کے الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو اپنی ناراضگی کے اظہار کے لیے سرِ راہ کسی شخص کے ساتھ مارپیٹ کرنے یا اس پر انڈے پھینکنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اگر کسی سیاسی مخالف یا عوامی نمائندے کے خلاف ناراضگی کا اظہار تشدد، حملے یا تضحیک کی صورت اختیار کر لے تو کیا اسے محض ’’عوامی غصہ‘‘ قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کہیں ’’عوامی ناراضگی‘‘ کی اصطلاح سیاسی تشدد کو جواز فراہم کرنے یا اسے معمول کا واقعہ بنانے کی کوشش تو نہیں؟ جمہوریت میں حکومت سے ناراضگی، احتجاج اور اختلاف رائے شہریوں کا حق ہے، لیکن اس حق کی حدود قانون اور دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعین ہوتی ہیں۔ سیاسی اختلاف کا جواب تشدد نہیں بلکہ سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔
