نریندر مودی کی وزارتِ عظمیٰ کے 12 برسوں میں عوامی دباؤ کے باعث کسی مرکزی وزیر کا یہ پہلا استعفیٰ
نئی دہلی:
ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج اور ملک بھر میں نوجوانوں کی تحریک کے بعد آخرکار مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے ہفتہ کی دوپہر سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک خط کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔ نریندر مودی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران عوامی دباؤ کے نتیجے میں کسی بھی مرکزی وزیر کا یہ پہلا استعفیٰ بتایا جا رہا ہے۔
پردھان نے اپنے خط میں لکھا:
“جنتر منتر اور ملک بھر کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک دشمن عناصر ان حالات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، قومی یکجہتی برقرار رہے، کسی بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں کا شکار نہ ہو، اور ہمارے بچے اپنی تعلیم اور کیریئر کی تعمیر پر پوری توجہ مرکوز کر سکیں۔ میں نے اپنا استعفیٰ معزز وزیرِ اعظم کو پیش کر دیا ہے۔
میں معزز وزیرِ اعظم کی رہنمائی، اعتماد اور مسلسل تعاون پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں کابینہ کے اپنے تمام معزز ساتھیوں، وزارت کے افسران و ملازمین اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا۔ قوم کی خدمت ہمیشہ میری زندگی کی اولین ترجیح رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔
بھگوان جگن ناتھ کے بابرکت آشیرواد سے، میں مادرِ ہند، اڈیشہ کے عوام کی خدمت اور اپنے ملک کے نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے خود کو وقف رکھوں گا۔”
دوسری جانب، کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے نمائندوں اور مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے درمیان تیسری دور کی بات چیت کے بعد تحریک واپس لینے اور جنتر منتر کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
حکومت نے دہلی پولیس اور سی آر پی ایف کی ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کی کارروائی پر معذرت کرنے کے ساتھ طلبہ کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ سی جے پی کا الزام ہے کہ 20 جولائی کو طلبہ کے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہ اعلان سی جے پی کے ترجمان سورو داس اور آشوتوش رنکا نے جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
استعفیٰ سے چند گھنٹے قبل سی جے پی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی دونوں نے واضح کر دیا تھا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ یا کابینہ سے برطرفی سے کم کوئی بھی اقدام ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
استعفیٰ کے بعد ابھیجیت دیپکے نے کہا:
“یہ جمہوریت ہے، اس نے استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن ہمارے دو مزید مطالبات باقی ہیں، اس لیے ہم ابھی واپس نہیں جائیں گے۔ دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے، مگر خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ تمام متاثرہ خاندانوں کو یہ معاوضہ ملنا چاہیے۔ دوسرا، 20 جولائی کو کارروائی کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔”
اس سے قبل 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے بعد پولیس کی جانب سے کیے گئے سخت کریک ڈاؤن کے بعد مودی حکومت کے تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل ہو گیا تھا۔ مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد سی جے پی نے جمعہ (24 جولائی) کو اعلان کیا تھا کہ اگر دھرمیندر پردھان ایک یا دو دن کے اندر مستعفی نہ ہوئے تو ملک گیر احتجاج کی نئی کال دی جائے گی۔
اگرچہ استعفیٰ دیتے ہوئے دھرمیندر پردھان نے حالات کا ذمہ دار “ملک دشمن عناصر” کو قرار دیا، لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان کے استعفیٰ کا مطالبہ ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ یہ تحریک ابتدا میں ابھیجیت دیپکے اور کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے شروع کی گئی ایک آن لائن مہم سے اٹھی، مگر بعد میں یہ ایک ایسی عوامی لہر میں تبدیل ہو گئی جس نے ملک بھر کے طلبہ، نوجوانوں، ان کے خیرخواہوں اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا۔
پیر (20 جولائی) کو طلبہ کے پرامن احتجاج پر دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی کارروائی کے بعد عوامی غم و غصہ مزید بڑھ گیا تھا۔
مرکزی حکومت سی جے پی کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کر رہی تھی، تاہم تحریک کی قیادت نے واضح کر دیا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ایک ایسی شرط ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ اگر پردھان ایک یا دو دن کے اندر مستعفی نہ ہوئے تو ملک بھر میں پہلے سے بھی زیادہ بڑے احتجاج شروع کیے جائیں گے۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ وہ پارلیمنٹ میں پیپر لیکس اور تعلیمی مسائل پر سنجیدہ بحث چاہتی ہیں، لیکن یہ بحث دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔
