چارج شیٹ میں شامل 45 افراد میں سے 44 ضمانت پر رہا، جبکہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت آج تک شروع نہیں ہو سکی
جوہانا دیکشا
کلکتہ:
وزیرِ اعظم کی یقین دہانی اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد پیپر لیک کے خلاف ککروچ جنتا پارٹی (CJP) کا احتجاج ختم ہو گیا ہے۔
23 جولائی کی نصف شب کے قریب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام (Reel) جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ پیپر لیک کا مسئلہ لاکھوں طلبہ کے لیے “انتہائی تکلیف دہ” ہے۔
مودی نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ذمہ دار افراد کو جیل بھیجنا اور طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر دوبارہ امتحان کا انعقاد شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت پیپر لیک کے مقدمات کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرے گی۔
اسی روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ان عدالتوں کے ذریعے پیپر لیک کے ذمہ دار افراد کو جلد اور سخت سزا دلائی جائے گی۔
تاہم پیپر لیک مقدمات میں فوری سماعت کی اس یقین دہانی نے 2024 کے NEET پیپر لیک سمیت پرانے مقدمات کی پیش رفت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بہت سے لوگوں نے اس اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا، خصوصاً اس لیے کہ اسی روز سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے اس مقدمے کے ایک اہم ملزم سنجیو مکھیا کو یہ کہتے ہوئے کلین چٹ دے دی کہ اس کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا۔
اس تضاد پر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی سخت تنقید کی۔ عام آدمی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“آپ کہتے ہیں کہ فاسٹ ٹریک عدالتیں بنائیں گے، مگر اگر سی بی آئی ثبوت ہی پیش نہیں کرے گی اور ملزمان کو بچایا جائے گا تو پھر فاسٹ ٹریک عدالتیں آخر کریں گی کیا؟”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک فاسٹ ٹریک عدالتوں کا اعلان محض ایک ڈراما اور عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔
مئی 2024 میں NEET امتحان کے انعقاد کے فوراً بعد ہی مختلف شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر یہ الزامات گردش کرنے لگے کہ امتحان سے پہلے ہی سوالیہ پرچہ لیک ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ امتحانی بدانتظامی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جن میں بعض امیدواروں کو ان کی منتخب کردہ زبان کے بجائے دوسری زبان کا پرچہ دیے جانے اور بعض طلبہ کو مقررہ وقت سے کم وقت ملنے جیسے معاملات شامل تھے۔
ابتدائی مرحلے میں حکومت اپنے مؤقف پر قائم رہی۔ 14 جون تک وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مسلسل اس بات سے انکار کرتے رہے کہ کوئی پیپر لیک ہوا ہے۔ تاہم، صرف دو دن بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض مقامات پر “بے ضابطگیاں” ہوئی ہیں اور کچھ امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑے گا۔
اسی دوران تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا اور بہار کے پٹنہ، جھارکھنڈ کے ہزاری باغ اور گجرات کے گودھرا میں سامنے آنے والے معاملات کے ذریعے پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے لگیں۔ ابتدائی تحقیقات مقامی پولیس نے کیں، جنہیں بعد میں سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا۔
سی بی آئی نے بہار اور جھارکھنڈ میں ہونے والے پیپر لیک کے روابط ہزاری باغ کے ایک اسکول سے جوڑے، جہاں امتحانی پرچے محفوظ رکھے گئے تھے۔ ایک پریس ریلیز میں ایجنسی نے بتایا کہ امتحان کی صبح NEET UG 2024 کے سوالیہ پرچوں پر مشتمل ٹرنک اسکول میں پہنچائے گئے تھے اور “اسکول کے پرنسپل اور وائس پرنسپل نے غیر قانونی طور پر اور بغیر کسی مجاز اجازت کے اس کمرے تک رسائی فراہم کی جہاں پرچے رکھے گئے تھے۔”
سی بی آئی کے مطابق سوالات حل کرنے والے ماہرین (solvers) کے ایک گروپ کو ان پرچوں تک رسائی دی گئی، جس کے بعد حل شدہ پرچے ان امیدواروں کو فروخت کیے گئے جنہوں نے امتحان کے لیے رجسٹریشن کرایا تھا۔ ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ تمام سالورز، جو ملک کے معروف میڈیکل کالجوں کے ایم بی بی ایس طلبہ تھے، کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان میں سے بیشتر کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
نومبر 2024 تک سی بی آئی نے 45 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی تھی۔
تاہم، دو سال گزرنے کے باوجود اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت (ٹرائل) شروع نہیں ہو سکی۔ اخبار “بھاسکر انگلش” کی ایک رپورٹ کے مطابق چارج شیٹ میں شامل 45 افراد میں سے 44 ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف ایک ملزم، امیت پرساد مہارانا، جو اڈیشہ کے ایک کوچنگ سینٹر سے وابستہ تھا، اب بھی جیل میں ہے۔
سی بی آئی نے یہ بھی کہا کہ لیک شدہ پرچے حاصل کرنے والے طلبہ اور جعلی امیدواروں (dummy candidates) کی فہرست نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) اور وزارتِ تعلیم کو فراہم کر دی گئی ہے۔
پیپر لیک کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے بعد متعدد طلبہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ بعض درخواست گزاروں نے تمام امیدواروں کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا مطالبہ کیا، لیکن عدالت نے یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ دستیاب مواد کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لیک “منظم، وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا یا پورے امتحانی نظام کو متاثر کرنے والا” تھا۔
سینئر وکیل میتھیوز جے نیڈمپارا، جنہوں نے 2024 میں NEET دینے والے کئی طلبہ کی نمائندگی کی تھی، نے کہا کہ مقدمات میں سست رفتاری ان کے لیے حیران کن نہیں۔ ان کے بقول:
“میرے پاس 2006 کے ایسے مقدمات بھی موجود ہیں جو آج تک ٹرائل کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکے، اس لیے یہ غیر معمولی بات نہیں کہ اس مقدمے میں بھی ابھی تک باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہوئی۔”
البتہ انہوں نے وزیرِ اعظم کے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے اعلان پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“اس سے مقدمات کی رفتار میں یقیناً کچھ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ میتھیوز جے نیڈمپارا نے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے اعلان کا خیر مقدم کیا، تاہم بعض مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی عدالتیں اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتیں۔
2024 کے ایک تجزیے کے مطابق، مئی 2024 تک دہلی کی فاسٹ ٹریک عدالتوں نے زیرِ التوا 4,369 مقدمات میں سے صرف 1,049 مقدمات نمٹائے تھے، جو مقررہ اہداف کے مقابلے میں نمایاں تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ ان عدالتوں نے بعض مخصوص نوعیت کے مقدمات کی نسبتاً جلد سماعت میں مدد دی، تاہم مجموعی نظام کو بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ناکافی انفراسٹرکچر، معاون عملے کی کمی اور مقدمات کے بوجھ میں مسلسل اضافے کے باعث ججوں پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے۔ نتیجتاً، خصوصی عدالتوں میں بھی مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کی رفتار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پاتی۔
میتھیوز جے نیڈمپارا نے اگرچہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کو مثبت قدم قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے اعلان میں احتجاج کے بنیادی مطالبات کو پوری طرح نہیں سنا گیا۔ ان کے مطابق، ملک بھر کے نوجوان صرف پیپر لیک کے خلاف نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں بنیادی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق 2026 کے پیپر لیک کیس میں سی بی آئی اب تک 13 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی سے وابستہ دو اساتذہ، مہاراشٹر میں کوچنگ اداروں کے ایک بڑے نیٹ ورک کا سربراہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ایک خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔
ایک جانب حکومت پر مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جن میں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بھی شامل تھا، جبکہ دوسری جانب ماہرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس بحران کا حل صرف چند گرفتاریاں یا عدالتی کارروائیاں نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات ہیں۔
تمل ناڈو کے ڈاکٹر اور سماجی کارکن ڈاکٹر جے املور پاوناتھن کا کہنا ہے کہ کا موجودہ نظام بنیادی طور پر خامیوں کا شکار ہے اور اس سے سب سے زیادہ فائدہ ان طلبہ کو پہنچتا ہے جو مہنگی کوچنگ کلاسوں کی فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک داخلہ امتحانات مرکزی سطح پر اسی انداز میں منعقد ہوتے رہیں گے، کوچنگ انڈسٹری پھیلتی رہے گی اور لاکھوں طلبہ ایک ہی امتحان میں شریک ہوتے رہیں گے، اس وقت تک پیپر لیک جیسے واقعات کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا:
“ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ نظام پر ازسرِنو غور کیا جائے۔ یہ امتحان ایسے باصلاحیت طلبہ کو بھی پیچھے دھکیل دیتا ہے جو صرف اس لیے کوچنگ حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس اس کی فیس ادا کرنے کے وسائل نہیں ہوتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج اب صرف تک محدود نہیں رہا۔
“مظاہرین صرف MBBS کے امیدوار نہیں ہیں بلکہ مختلف شعبوں کے طلبہ سڑکوں پر ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک امتحان کا نہیں بلکہ مجموعی تعلیمی نظام میں موجود گہری خامیوں کا ہے۔”
