کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب دہلی کی سرحدوں سے نکل کر ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔ ممبئی، پٹنہ اور شمال مشرقی ریاستوں تک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آج کولکاتا میں نوجوانوں کے ایک سیلاب نے اس احتجاج کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا۔ سیالدہ سے دھرم تلہ تک ہر طرف نوجوانوں کا سمندر نظر آیا۔ شام کے وقت کچھ دیر کے لیے ہنگامہ آرائی ہوئی، تاہم بعد میں حالات معمول پر آ گئے۔ ایک طرف پولیس نے مظاہرین پر الزامات عائد کیے، تو دوسری طرف مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے خود حالات خراب کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلوس میں ‘کسی بیرونی شخص کے شامل ہونے’ کے شک اور الزام کے تحت مظاہرین نے آپس میں ہی مارپیٹ شروع کر دی تھی، جس کی وجہ سے صورتحال کشیدہ ہوئی۔
دوپہر سے ہی کولکاتا کی سڑکوں پر طلبہ کا ایک بہت بڑا جلوس دیکھا گیا۔ میڈیکل داخلہ امتحان جیسے امتحانات میں شفافیت لانے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر بائیں بازو کی طالب علم تنظیموں نے سیالدہ سے دھرم تلہ تک مارچ نکالا۔ جلوس شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد صورتحال تناؤ پرور ہو گئی۔ حالانکہ اس جھڑپ میں پولیس، انتظامیہ یا مظاہرین میں سے کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں، اس کی حتمی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کے درمیان آپس میں ہی جھگڑا شروع ہو گیا تھا اور پولیس نے صرف انہیں سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس کو مظاہرین کی طرف لاٹھیاں اٹھا کر بڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔
یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ بنگال کا میڈیا، جس نے اچانک اپنا رخ بدل لیا ہے، اس عوامی بھیڑ کو خاص اہمیت دینے کے موڈ میں نظر نہیں آ رہا۔ بیشتر میڈیا آؤٹ لیٹس جلوس کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کی یکطرفہ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کئی میڈیا آؤٹ لیٹس اس دھرنے کو بنگلہ دیش سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں کے کچھ انتہا پسند عناصر اس احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، ریاستی وزیر تاپس رائے کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ ہندوؤں کے قتل کا واقعہ اٹھا کر اس دھرنے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر شمک بھٹاچاریہ نے بھی اس ریلی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔
