انصاف نیوز نیٹ ورک
انترا سوانکر
جنوبی 24 پرگنہ کے باروئی پور میں 11 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے بعد پورا علاقہ خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ متاثرہ بچی کو انصاف دلانے کے مطالبے سے شروع ہونے والی عوامی تحریک اب ایک بڑے پولیس کریک ڈاؤن میں تبدیل ہو چکی ہے۔ مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ موب لنچنگ کی تحقیقات کی آڑ میں ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے جن کا نہ تو تشدد سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی وہ جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ مسلسل چھاپوں اور گرفتاریوں کے خوف سے کئی دیہات کے مرد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ خواتین اور بچے شدید ذہنی دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ایک پریس کانفرنس میں 35 سالہ اندرجیت منڈل کی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت (موب لنچنگ) کو “بنیاد پرست عناصر”، “قوم دشمن طاقتوں” اور ایس آئی آر سے حذف شدہ افراد کی کارروائی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقتول کو اس کی ہندو شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔اس بیان کے بعد باروئی پور پولیس نے متعدد دیہات میں آدھی رات کے وقت چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے کئی ایسے تھے جو نہ جائے وقوعہ پر موجود تھے اور نہ ہی ہنگامہ آرائی میں شریک تھے۔علی پور مہاجن پاڑہ، بھاٹ پاڑہ، پودوجھولا، کادم تلا، موگرا ہاٹ اور دیگر دیہات میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ متعدد محلوں سے مرد نقل مکانی کر گئے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق، پولیس کارروائی کے خوف نے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔مچھلی فروش، درزی، پولٹری دکانوں کے مالکان، کنٹریکٹ ورکرز اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں سمیت کئی عام شہریوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی مختلف دفعات اور پبلک پراپرٹی ڈیمیج پریوینشن ایکٹ، 1984 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ رات کے اندھیرے میں گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، لوگوں کو دھمکایا جا رہا ہے اور گرفتار افراد کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات یا قانونی رسائی بھی نہیں دی جا رہی، جو قانونی حقوق سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
انکاؤنٹر پر اٹھتے سوالات
باروئی پور کے سورجیا پور میں 4 جولائی کو 11 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے بعد شروع ہونے والی تحقیقات کے دوران متعدد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اطلاعات کے مطابق بچی اپنی سالگرہ کے لیے تحفہ خریدنے گھر سے نکلی تھی، جہاں سے اسے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں قتل کر دیا گیا۔ اس کی مسخ شدہ لاش، جس کے سر پر شدید چوٹوں کے نشانات تھے، پلاسٹک اور بوری میں بند حالت میں سورجیا پور ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک دلدلی تالاب سے برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جب بچی کو پانی میں پھینکا گیا، اس وقت اس کی سانسیں چل رہی تھیں۔
مقامی افراد کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پربھاس منڈل اور دیگر مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس کی ابتدائی سست روی کے باعث مقامی لوگوں نے خود تلاش شروع کی، جس کے بعد لاش برآمد ہوئی۔ اس واقعے کے خلاف 5 جولائی کو ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کو بلاک کیا گیا، جھڑپیں ہوئیں، پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور اسی دوران 35 سالہ اندرجیت منڈل کو مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔
ریپ اور قتل کے مقدمے میں پولیس نے پربھاس منڈل، آنند سرکار، دیباکر سردار اور کبیر ملا کو گرفتار کیا۔ ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعات 63 (زنا بالجبر)، 70(2) (اجتماعی زنا بالجبر)، 103(1) (قتل)، 238 (ثبوت مٹانا) اور پوسکو ایکٹکی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
تاہم، معاملہ اس وقت مزید متنازع ہو گیا جب مرکزی ملزم پربھاس منڈل پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ پلاش چندر دھالی کے مطابق، کرائم سین ری کنسٹرکشن سے قبل ملزم نے ایک پولیس اہلکار کا ہتھیار چھین کر فائرنگ کی اور فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے جواب میں پولیس کی فائرنگ سے وہ زخمی ہوا اور بعد میں باروئی پور اسپتال میں دم توڑ گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے بیانات کی بنیاد پر مزید دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم وکلا، اپوزیشن رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے انکاؤنٹر کے وقت، حالات اور اس کی ضرورت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اسے ایک اہم ملزم اور ممکنہ گواہ کے خاتمے سے تعبیر کیا ہے۔
اسی دوران سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد لاحق علی کو 12 جولائی کی شام ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ لاحق علی نے اس سے قبل مقتولہ کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور 5 اور 6 جولائی کو ہونے والے احتجاج میں بھی شریک رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صبح تقریباً ساڑھے دس بجے موقع پر پہنچے تھے، جہاں مقامی لوگ بچی کی لاش رکھ کر باروئی پور۔جوئے نگر روڈ پر پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، سینئر پولیس افسران نے ابتدائی مرحلے میں مشتعل ہجوم کو پُرامن رکھنے کی کوشش کی تھی۔
باروئی پور کے قریب رہنے والے کلکتہ ہائی کورٹ کے وکیل آزاد منڈل نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ ان کے گھر سے چار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ ان کے مطابق، جب وہ صبح تقریباً ساڑھے دس بجے وہاں پہنچے تو احتجاج مکمل طور پر پُرامن تھا اور پولیس بھی موجود تھی، لیکن بعد میں جب موب لنچنگ اور ہنگامہ آرائی ہوئی تو پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی، جو انتظامی غفلت کی نشاندہی کرتی ہے۔
آزاد منڈل کے مطابق، “پربھاس منڈل اس مقدمے کا مرکزی ملزم ہونے کے ساتھ ایک اہم گواہ بھی تھا۔ انکاؤنٹر میں اس کی موت سے ثبوت ضائع ہونے یا اہم معلومات سامنے نہ آ سکنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایسے ملزم سے مکمل تفتیش کے بعد ہی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے تھی۔”**
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال نے پورے علاقے میں خوف اور دباؤ کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ان کے بقول، **”جو لوگ متاثرہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے، اب وہی کارروائیوں کی زد میں آ رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احتجاج اور اختلافِ رائے کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سی پی آئی (ایم) کے سابق رکن راجیہ سبھا اور سینئر وکیل بکاس رنجن بھٹاچاریا نے بھی انکاؤنٹر پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ **”یہ کارروائی نہ آئینی اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے، نہ قانونی تقاضوں سے اور نہ ہی اخلاقی معیار پر پوری اترتی ہے۔ کسی اہم ملزم یا گواہ کی اس طرح موت ثبوت کے ضائع ہونے سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدالتی کارروائی کے دوران پولیس مؤثر ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے تو مقدمہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، موب لنچنگ ہر صورت قابل مذمت ہے، لیکن اس کے پس منظر، انتظامی ناکامیوں اور عوامی غصے کے اسباب کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
تحقیقات کے دوران صرف بارہ دن کے اندر تین تحقیقاتی افسر (IO) تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ پہلے انسپکٹر دگانت منڈل، پھر باروئی پور تھانے کے سابق انچارج جینت پوڈار، جبکہ اب تحقیقات کی ذمہ داری ڈی ایس پی شانتنو مکھرجی کے سپرد کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق، مختلف ایف آئی آرز کے تحت 35 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے 7 جولائی کو متاثرہ بچی کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت کسی بھی ملزم کو بخشے گی نہیں۔ ان کے مطابق، پولیس نے ہنگامہ آرائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ریلوے ٹریک کو متاثر کرنے کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث تقریباً 200 افراد کی شناخت کر لی ہے اور ان کی نقل و حرکت اور کال ریکارڈز کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے باروئی پور ڈسٹرکٹ پولیس کی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو ریاست کے مختلف علاقوں، بشمول بکش خالی اور دیگھا، سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے لنچنگ میں ہلاک ہونے والے اندرجیت منڈل کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور 25 لاکھ روپے کی مالی امداد، ان کے بڑے بھائی کو سول والنٹیئر کی ملازمت، والد کے لیے بڑھاپا پنشن اور والدہ کو اناپورنا بھنڈار اسکیم کے تحت امداد دینے کا اعلان کیا۔
