کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے 144 وارڈوں کو بڑھا کر 200 کرنے اور وارڈوں کی ازسرِ نو حد بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد کلکتہ میونسپل کارپوریشن نے حد بندی کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی حد بندی کے نتیجے میں جہاں میونسپل کارپوریشن میں 56 نئے وارڈ شامل ہوں گے، وہیں شہر کے کئی علاقوں کا آبادیاتی اور انتخابی توازن بھی تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے سیاسی اثرات خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں پر مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
چالیس برس بعد پہلی بڑی حد بندی
کلکتہ میں آخری مرتبہ وارڈوں کی حد بندی 1984 میں ہوئی تھی۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران شہر کی آبادی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ بعض علاقوں میں آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔
شمالی کلکتہ کے بڑا بازار اور وسطی کلکتہ کے متعدد وارڈوں میں آبادی کم ہوئی ہے، جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں، جیسے وارڈ نمبر 41، 43، 44، 54، 61، 62، 64، 65 اور 66 کے علاوہ خضرپور اور مٹیا برج میں آبادی نسبتاً زیادہ مرتکز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال شہری آبادی کے مخصوص علاقوں میں محدود ہونےکی عکاسی کرتی ہے، جبکہ مسلمانوں کی نئی رہائشی بستیاں بہت کم وجود میں آئی ہیں۔
کیا مسلم نمائندگی بڑھے گی یا کم ہوگی؟
ان حالات میں ایک اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر مسلم اکثریتی وارڈ تقسیم کیے جاتے ہیں تو کیا اس سے میونسپل کارپوریشن میں مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوگا یا اس کے برعکس سیاسی اثرورسوخ کم ہو جائے گا؟
انتخابی حد بندی کے سابقہ تجربات کی بنیاد پر بعض مبصرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر نئی حد بندی کے دوران مسلم اکثریتی علاقوں کو مختلف وارڈوں میں تقسیم کر دیا گیا، یا انہیں غیر مسلم اکثریتی محلوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا، تو مسلم ووٹروں کا انتخابی اثر کمزور ہو سکتا ہے۔
حکومت نے ہر وارڈ کی مجوزہ آبادی 16 ہزار سے 18 ہزار کے درمیان مقرر کی ہے۔ اگر اسی فارمولے پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو آبادی کے اعتبار سے بڑے مسلم اکثریتی وارڈوں کی تقسیم تقریباً یقینی مانی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں غیر مسلم آبادی پہلے ہی 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ اگر نئی حد بندی میں ان علاقوں کو اس انداز سے جوڑا گیا کہ مسلم ووٹ مختلف وارڈوں میں تقسیم ہو جائیں، تو انتخابی نتائج پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ خدشات ہیں، اور حتمی اثرات کا انحصار مجوزہ نقشہ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا۔
میونسپل انتظامیہ کے مطابق حد بندی کمیٹیوں کو 27 جولائی تک اپنی سفارشات جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے بعد 31 جولائی کے آس پاس مسودہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے بعد عوام سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی جائیں گی، جن کا جائزہ لینے کے بعد اگست کے تیسرے یا آخری ہفتے میں حتمی نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات نومبر میں کرائے جا سکتے ہیں تاکہ دسمبر میں موجودہ ایڈمنسٹریٹرز کی مدت ختم ہونے سے پہلے نئی منتخبہ بورڈ تشکیل دی جا سکے۔
وقت پر حد بندی مکمل کرنے کے لیے کلکتہ میونسپل کارپوریشن نے دو سطحی نظام قائم کیا ہے۔ اس میں ایک 10 رکنی مرکزی حد بندی کمیٹی اور 16 بورو سطح کی کمیٹیاں شامل ہیں۔
بورو کمیٹیاں وارڈوں کی حدود، آبادی کی تقسیم، جغرافیائی تسلسل اور انتظامی سہولت کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرکزی کمیٹی کو بھیجیں گی، جو حتمی مسودہ تیار کرے گی۔
پراپرٹی ریکارڈ متاثر نہیں ہوں گے
میونسپل انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ نئی حد بندی کا شہریوں کی جائیداد، میوٹیشن سرٹیفکیٹس یا دیگر میونسپل ریکارڈز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پہلے سے جاری تمام میوٹیشن سرٹیفکیٹس بدستور مؤثر رہیں گے اور شہری خدمات و جائیداد کی خرید و فروخت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔
