21 سے 23 اگست تک سپریم کورٹ میں خصوصی لوک عدالت “سمادھان سماروہ” منعقد ہوگی، مگر دونوں فریقوں نے قانونی بنیادوں پر مقدمات کے فیصلے کو ترجیح دی
نئی دہلی:
ملک کے تین انتہائی حساس مذہبی تنازعات وارانسی کی گیان واپی مسجد، متھرا کی کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ مسجد اور سنبھل کی شاہی جامع مسجدکو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی سپریم کورٹ کی کوشش کو ابتدائی مرحلے میں ہی دھچکا لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان تینوں مقدمات میں شامل مسلم اور ہندو فریقوں نے ثالثی (Mediation) کے ذریعے تصفیے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور مقدمات کا فیصلہ عدالت میں قانونی دلائل اور آئینی بنیادوں پر کرانے کو ترجیح دی ہے۔
سپریم کورٹ نے انتظامی سطح پر ان مقدمات کے فریقین کو ایک خصوصی لوک عدالت ’’سپریم کورٹ ایکشن فار میڈی ایٹڈ ایڈجوڈیکیشن اینڈ ڈسپیوٹس ہارمونائزیشن اکراس نیشن سمادھان سماروہ 2026میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ یہ خصوصی مصالحتی اجلاس 21 سے 23 اگست 2026 تک سپریم کورٹ کے احاطے میں منعقد ہوگا۔
عدالت عظمیٰ کا مقصد یہ ہے کہ ملک کے حساس اور طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات میں اگر ممکن ہو تو باہمی رضامندی کے ذریعے کوئی قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سمجھوتے کا انحصار مکمل طور پر متعلقہ فریقین کی رضامندی پر ہوگا اور کسی پر بھی مصالحت قبول کرنے کا دباؤ نہیں ہوگا۔
گیان واپی مسجد کمیٹی نے دعوت مسترد کردی
گیان واپی مسجد مقدمے میں مسلم فریق انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے سپریم کورٹ کی مصالحتی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ نے ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں زیر التوا لاکھوں مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے سمادھان سماروہ کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت ضلعی عدالتوں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کو باہمی رضامندی سے خصوصی لوک عدالت کے ذریعے نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ چونکہ گیان واپی مسجد کا مقدمہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور عام مسلمانوں میں بھی اس حوالے سے گہری دلچسپی پائی جاتی ہے، اس لیے انجمن انتظامیہ مسجد نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس مصالحتی عمل میں کسی بھی سطح پر شریک نہیں ہوگی۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجی گئی دعوت لازمی نہیں بلکہ اختیاری تھی۔اطلاعات کے مطابق ہندو فریق نے بھی ثالثی کے بجائے عدالت کے ذریعے قانونی فیصلہ حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
سنبھل شاہی جامع مسجد تنازع کیا ہے؟
سنبھل کی شاہی جامع مسجد سے متعلق مقدمہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، جہاں الہ آباد ہائی کورٹ کے 19 مئی 2025 کے فیصلےکو چیلنج کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ شاہی جامع مسجد سے متعلق دائر دیوانی مقدمہ **عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون 1991 (Places of Worship Act, 1991)کی وجہ سے ناقابل سماعت نہیں ہے، لہٰذا اس کی سماعت جاری رہ سکتی ہے۔
اس مقدمے میں آٹھ ہندو مدعیوں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مسجد 1526 میں ایک قدیم کلکی مندرکو جزوی طور پر منہدم کرکے تعمیر کی گئی تھی۔ وہ اس مقام تک رسائی اور اپنے دعووں کی عدالتی جانچ چاہتے ہیں۔
قبل ازیں ٹرائل کورٹ نے مسجد کا مقامی سروے کرانے کے لیے ایک ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کیا تھا، جس کے بعد نومبر 2024 میں سنبھل میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے مقدمے کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی اور فی الحال ہندو فریق کے دعووں پر اسٹیٹس کو (Status Quo) برقرار رکھنے کا حکم نافذ ہے۔
گیان واپی مسجد مقدمہ
وارانسی کی گیان واپی مسجد سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ اس سوال پر سماعت کر رہی ہے کہ آیا عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون 1991ان مقدمات کی سماعت پر پابندی عائد کرتا ہے یا نہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اس قانون کے باوجود گیان واپی سے متعلق دیوانی مقدمات جاری رہ سکتے ہیں اور 15 اگست 1947 کو اس مقام کی مذہبی حیثیت کیا تھی، اس کا فیصلہ وارانسی کی دیوانی عدالت کرے گی۔
اسی مقدمے کے دوران آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI)کو گیان واپی کمپلیکس کا سائنسی سروے کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد ازاں اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ مسجد کی تعمیر سے قبل اس مقام پر ایک مندر موجود تھا۔
اس کے بعد ٹرائل کورٹ نے گیان واپی مسجد کے جنوبی تہہ خانے **ویاس تہ خانہ** میں ہندو عبادت (پوجا) کی اجازت دی، جس پر سپریم کورٹ نے بعد میں مسجد میں نماز اور تہہ خانے میں پوجا دونوں کے حوالے سے اسٹیٹس کوبرقرار رکھنے کا حکم دیا۔
کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ تنازع
متھرا کے کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ تنازع میں ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پر قائم قدیم مندر کو منہدم کرکے شاہی عیدگاہ مسجد تعمیر کرائی تھی۔
مدعیان 1968 کے اس سمجھوتے کو بھی چیلنج کر رہے ہیں، جس کے تحت مسجد کو اس مقام پر برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔اس تنازع سے متعلق مجموعی طور پر 18 مقدمات زیر سماعت ہیں، جنہیں الہ آباد ہائی کورٹ اپنے پاس منتقل کر چکی ہے۔ ان میں ایک مقدمہ بھگوان شری کرشن وراجمان کی جانب سے ان کے “نیکسٹ فرینڈ” کے ذریعے بھی دائر کیا گیا ہے۔
مصالحت کی کوشش یا عدالتی فیصلہ؟
سپریم کورٹ کی جانب سے ان حساس مذہبی تنازعات کو مصالحت کے ذریعے حل کرنے کی یہ ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے، لیکن ابتدائی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق اس معاملے میں سمجھوتے کے بجائے عدالت سے قانونی اور آئینی بنیادوں پر حتمی فیصلہ چاہتے ہیں۔
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سمادھان سماروہکے دوران کسی بھی مقدمے میں فریقین اپنے موقف میں نرمی دکھاتے ہیں یا یہ تمام تنازعات حسب سابق عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی اپنے منطقی انجام تک پہنچتے ہیں۔
